कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آسمانی آفت اور انسانی غفلت۔نیپال کے سیلاب کی المناک داستان

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

اگست کے آخری ہفتے میں نیپال اور تبت کی سرحد پر ایک تباہ کن سیلاب نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی۔ 26 اگست کی صبح ایک بڑا گلیشیئر کا حصہ اچانک ٹوٹ کر گرا جس سے پیدا ہونے والی لہر نے راسووا، نواکوٹ اور آس پاس کے اضلاع میں تباہی مچا دی۔ ابتدائی طور پر اسے زلزلے سے جوڑا گیا کیونکہ سیسمک سٹیشنز نے تقریباً 5.2 میگنی ٹیوڈ کی لہر ریکارڈ کی تھی، مگر بعد میں سائنسدانوں نے واضح کیا کہ یہ لہر اصل میں گلیشیئر کے گرنے اور ملبے کے تیز بہاؤ سے پیدا ہوئی تھی۔ اس آفت میں نیپال میں 579 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ تقریباً 2000 لوگ لاپتا قرار پائے جن میں سیکڑوں غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔ درجنوں پل بہہ گئے، تقریباً 40 کلومیٹر سڑکیں تباہ ہو گئیں اور متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے شدید متاثر ہوئے۔ یہ واقعہ محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی اور انسانی غفلت کا دردناک مظہر تھا۔
نیپال، ہمالیہ کی گود میں بسا ایک چھوٹا سا مگر قدرتی حسن سے مالا مال ملک، اپنی بلند چوٹیوں، سرسبز وادیوں اور مقدس دریاؤں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ ملک چین اور ہندوستان کے درمیان واقع ہے اور اس کا تقریباً دو تہائی حصہ پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے۔ 2026 میں اس کی کل آبادی تقریباً 2 کروڑ 96 لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے جن میں سے زیادہ تر لوگ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں آباد ہیں۔ آبادی طبقہ وار دیکھی جائے تو سب سے بڑی تعداد کشتری اور پہاڑی برہمن طبقے کی ہے، اس کے بعد مگر، تھارو، تامانگ، بیشوکرما، مسلمان، نیوار اور یادو جیسے گروہ آتے ہیں۔ پہاڑی اور ہمالیائی اضلاع میں تامانگ اور دیگر جن جاتی گروہ نمایاں ہیں جبکہ میدانی علاقوں میں تھارو اور مدیشی طبقات کی اکثریت ہے۔ شہری آبادی کل کا تقریباً 25 فیصد ہے جبکہ دیہی آبادی اب بھی اکثریت رکھتی ہے۔ راسووا ضلع جو اس حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا اس کی آبادی تقریباً 46689 ہے جن میں تامانگ اکثریت میں ہیں جبکہ نواکوٹ ضلع کی آبادی 263000 کے قریب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیپال دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں 8000 میٹر سے اونچی چوٹیاں موجود ہیں اور یہاں کے گلیشیئر ایشیا کی کئی بڑی ندیوں کا منبع ہیں جن میں گنگا اور برہم پترا جیسی ندیاں بھی شامل ہیں۔
نیپال کی قومی آمدنی کے اہم ذرائع زراعت، سیاحت، غیر ملکی ترسیلات زر اور ہائیڈرو پاور ہیں۔ زراعت اب بھی بڑی آبادی کا ذریعہ معاش ہے مگر پہاڑی علاقوں میں زمین محدود اور خطرے سے دوچار ہے۔ سیاحت ملک کی معیشت کا اہم ستون ہے کیونکہ ہزاروں غیر ملکی سیاح ہر سال ٹریکنگ، پہاڑوں اور مذہبی مقامات کے لیے آتے ہیں۔ ہائیڈرو پاور نہ صرف ملکی برقی کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ ہندوستان کو برآمد بھی کیا جاتا ہے اور یہ قومی آمدنی کا بڑھتا ہوا ذریعہ بن چکا ہے۔ غیر ملکی ترسیلات زر بھی کئی خاندانوں کی بنیاد ہیں۔ مگر ہر سال آنے والے سیلاب ان تمام ذرائع کو بار بار نقصان پہنچاتے ہیں۔ زراعت کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، سیاحت کے راستے اور ریزورٹس بہہ جاتے ہیں، ہائیڈرو پاور پلانٹس نقصان اٹھاتے ہیں اور معیشت کو بار بار جھٹکا لگتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سیلاب ہمیشہ آتے رہے ہیں مگر آج کی تباہی کی شدت بڑھنے کی بڑی وجہ انسانی غفلت ہے، جس سے مراد وہ ترقیاتی منصوبے ہیں جو بغیر مناسب خطرے کے جائزے کے چلائے جا رہے ہیں۔ ان میں غیر منصوبہ بند ہائیڈرو پاور پراجیکٹس، بغیر انجینئرنگ کے سڑکوں کی تعمیر، دریاؤں کے کناروں اور سیلاب زدہ علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات، جنگلات کی کٹائی اور کان کنی شامل ہیں۔ ان منصوبوں نے قدرتی ڈھلوانوں کو کمزور کر دیا، نکاسی آب کے نظام کو تباہ کیا اور معمولی قدرتی واقعے کو بھی بڑی تباہی میں بدل دیا۔
ماحولیاتی ماہرین اس تباہی کو موسمیاتی تبدیلی سے جوڑتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل سنٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کے ماہرین بشمول فاروق اعظم کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے ہمالیائی گلیشیئروں اور پرما فراسٹ کو غیر مستحکم کر دیا ہے جس سے ڈھلوانیں کمزور پڑ رہی ہیں اور اچانک گرنے یا پھٹنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق گلیشیئر کا پگھلاؤ دوگنا ہو چکا ہے اور یہ حالات ایسے تباہ کن سیلابوں کے لیے سازگار بناتے ہیں۔ کچھ ماہرین اسے کمپاؤنڈ ایونٹ قرار دیتے ہیں جس میں موسمیاتی اثرات کے ساتھ مقامی جغرافیائی کمزوریاں مل کر تباہی پیدا کرتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر بروقت نگرانی اور تیاری نہ کی گئی تو مستقبل میں ایسے واقعات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئل جھیلوں کے پھٹنے کا میکانزم کچھ یوں ہوتا ہے کہ گلیشیئر کے پگھلنے سے پانی جمع ہو کر بڑی جھیلیں بناتا ہے جو برف یا موریین کی کمزور دیوار سے بند ہوتی ہیں۔ جب اوپر سے برف یا پتھروں کا تودہ گرتا ہے، زلزلہ آتا ہے، شدید بارش ہوتی ہے یا برف کا حصہ الگ ہو کر گرتا ہے تو یہ دیوار اچانک ٹوٹ جاتی ہے اور لاکھوں کیوبک میٹر پانی چند منٹوں میں نیچے کی طرف تیز رفتار سے بہہ نکلتا ہے جسے GLOF کہا جاتا ہے۔ یہ پانی مٹی، پتھر اور ملبہ ساتھ لے کر تنگ وادیوں میں تباہی کا طوفان بن جاتا ہے۔ ہمالیہ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خاص طور پر شدید ہیں کیونکہ یہاں درجہ حرارت عالمی اوسط سے تیزی سے بڑھ رہا ہے، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، پرما فراسٹ پگھلنے سے ڈھلوانیں کمزور ہو رہی ہیں، شدید بارشوں کی تعدد بڑھ رہی ہے اور پانی کے وسائل غیر متوازن ہو رہے ہیں۔
ہر سال مانسون کے آنے کے ساتھ ہی یہاں سیلاب اور لینڈ سلائیڈز کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ستمبر 2024 کی شدید بارشوں نے کھٹمنڈو ویلی کو ڈبو دیا تھا جس میں تقریباً 250 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جنگلات کی کٹائی، دریاؤں کے کناروں پر تجاوزات اور تیز شہریانہ نے قدرتی نظام کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ جب مٹی گیلی ہو جاتی ہے اور بارش کا پانی جذب نہیں ہو پاتا تو تنگ وادیوں میں بہتا ہوا پانی تباہی کا طوفان بن جاتا ہے۔ نیپال کی معیشت میں ہائیڈرو پاور کا کردار بہت اہم ہے۔ ملک اپنی برقی کی تقریباً تمام ضروریات ہائیڈرو پاور سے پوری کرتا ہے اور اضافی بجلی ہندوستان کو برآمد بھی کرتا ہے۔ درجنوں بڑے اور چھوٹے ہائیڈرو پاور منصوبے پہاڑی ندیوں پر قائم ہیں جو نہ صرف ملکی برقی فراہم کرتے ہیں بلکہ معیشت کا اہم سہارا ہیں۔ 2026 کے سیلاب میں کئی اہم ہائیڈرو پاور پلانٹس تباہ یا شدید متاثر ہوئے جس سے برقی پیداوار میں بڑی کمی آئی اور علاقائی توانائی کے نظام پر دباؤ پڑا۔ یہی منصوبے اگر بغیر گلیشیئر اور سیلاب کے خطرات کو مدنظر رکھے بنائے جائیں تو خود تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔
سیلاب کی وجوہات قدرتی اور انسانی دونوں عوامل پر مشتمل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہمالیہ میں گلیشیئر غیر مستحکم ہو چکے ہیں اور ان کا گرنا یا جھیلوں کا پھٹنا اچانک سیلاب پیدا کر دیتا ہے۔ مانسون کی شدید اور مسلسل بارشیں پہلے سے گیلی مٹی پر پڑتی ہیں جس سے لینڈ سلائیڈز اور تیز بہاؤ شروع ہو جاتا ہے۔ مگر تباہی کو اتنا بڑا بنانے میں انسانی غفلت کا کردار بہت ٹھوس اور واضح ہے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے قدرتی رکاوٹوں کو ختم کر دیا ہے جو پانی کے بہاؤ کو روکتی تھیں۔ غیر منصوبہ بند کان کنی نے پہاڑی ڈھلوانوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ دریاؤں کے کناروں اور سیلاب زدہ علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات نے لاکھوں لوگوں کو براہ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر اکثر بغیر مناسب انجینئرنگ اور ڈھلوانوں کی حفاظت کے کی جاتی ہے جس سے لینڈ سلائیڈز کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ درجنوں ہائیڈرو پاور منصوبے گلیشیئر اور سیلاب کے خطرات کو نظرانداز کر کے تنگ وادیوں میں بنائے جا رہے ہیں، جو نہ صرف خود متاثر ہوتے ہیں بلکہ آفت کی شدت بھی بڑھا دیتے ہیں۔ انتظامی سطح پر ابتدائی وارننگ سسٹم موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کمزور رہتا ہے اور عوام بروقت محفوظ مقامات پر نہیں پہنچ پاتے۔ شہری منصوبہ بندی میں سیلاب زدہ زونز کی پابندی صرف کاغذوں تک محدود ہے۔ سرحد پار تعاون کی کمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ بہت سی ندیاں اور گلیشیئر چین کی سرحد سے شروع ہوتے ہیں اور معلومات کے بروقت تبادلے کے بغیر تیاری نامکمل رہ جاتی ہے۔ یہ سب انسانی غفلت کی ٹھوس مثالیں ہیں جو قدرتی آفت کو انسانی المیے میں بدل دیتی ہیں۔
اس قسم کے سیلاب صرف نیپال تک محدود نہیں رہتے بلکہ پڑوسی ممالک خصوصاً ہندوستان کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ نیپال سے نکلنے والی کئی اہم ندیاں جیسے کوسی، گنڈک، کرنالی اور تریشولی براہ راست ہندوستان کے میدانی علاقوں میں داخل ہوتی ہیں۔ جب نیپال میں شدید سیلاب یا GLOF آتا ہے تو یہ پانی تیزی سے نیچے بہہ کر بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال اور آسام جیسے صوبوں میں سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔ ماضی میں بھی نیپال کے مانسون سیلابوں نے ہندوستان کے کئی اضلاع کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ نیپال کے ہائیڈرو پاور منصوبوں کو نقصان پہنچنے سے برقی کی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے جو ہندوستان کو برآمد کی جانے والی برقی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ چین کی طرف سرحدی علاقوں میں بھی تباہی ہوتی ہے۔ علاقائی تجارت، سیاحت اور توانائی کے تبادلے پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کا بروقت مقابلہ نہ کیا گیا تو پورے جنوبی ایشیا میں پانی کے بحران، زراعت کی تباہی اور نقل مکانی جیسے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
اس مشکل گھڑی میں پڑوسی ممالک نے بھی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔ ہندوستان نے فوری طور پر امدادی سامان کی کئی پروازیں بھیجیں جن میں دسیوں ٹن اشیائے ضروریہ، ادویات، خیموں، کمبلوں، جنریٹرز اور خوراک کے پیکٹ شامل تھے۔ طبی ٹیمیں اور سرنگوں سے بچاؤ کے ماہرین بھی بھیجے گئے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے نیپال کے وزیر اعظم سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے تعزیت کا اظہار کیا اور ہنگامی امدادی سامان بھیجنے کا اعلان کیا۔ چین نے بھی سرحدی علاقوں میں اپنے ریسکیو آپریشنز جاری رکھے۔ ان امدادی کوششوں نے کچھ حد تک تکلیف کم کی مگر تباہی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ مکمل بحالی میں کافی وقت لگے گا۔
نیپال کے لوگ صبر اور ہمت کی مثال ہیں مگر بار بار آنے والی ان آفات نے ان کے دل میں گہرا زخم چھوڑ دیا ہے۔ اگر ماحولیاتی حقائق کو سنجیدگی سے لیا جائے، جنگلات کی حفاظت کی جائے، منصوبہ بندی میں احتیاط برتی جائے اور ابتدائی وارننگ سسٹم کو مضبوط بنایا جائے تو شاید آنے والے سالوں میں یہ المیہ کچھ کم ہو سکے۔ ورنہ ہمالیہ کی یہ خوبصورت وادیاں ہرمانسون میں آنسوؤں سے بھرتی رہیں گی اور انسانیت کی یہ بے حسی تاریخ کے صفحات پر ایک سیاہ داغ بن کر رہ جائے گی۔ یہ سبق خاص طور پر ہندوستان کے لیے اہم ہے کہ نیپال میں ہونے والے سیلاب اور گلیشیئر آفات محض پڑوسی ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ خود ہمارے میدانی علاقوں، زراعت اور پانی کے نظام کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ سیلاب ہمیشہ آتے رہے ہیں مگر آج کی تباہی کی اصل وجہ انسانی غفلت ہے — وہ ترقیاتی منصوبے جو بغیر خطرے کے جائزے کے چلائے جا رہے ہیں اور قدرتی نظام کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے