कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پیغامِ رحمتِ عالمﷺ:چار سلگتے سماجی مسائل پر ممبئی میں فکر انگیز سمپوزیم

ضمیر کی بیداری کے بغیر قانون بے اثر ہے : محمد ضیاء الدین صدیقی
میں خود دختر کشی کی ایک زندہ مثال ہوں: سنیتا ارالیکر
نوخیزی کا دور اور نشے کا بڑھتا ہوا خطرہ :ڈاکٹر علی اکبر گھبرانی
محض علم کافی نہیں، ہدایت بھی ضروری ہے : ڈاکٹر محمد انیس
زمین بھی امانت ہے : ڈاکٹر الیاس خان
مایوسی کے مقابلے میں امید : پروفیسر ابراہیم خلیل عابدی

ممبئی: 30؍اگست (راست) عصرِ حاضر میں سائنسی ترقی اور بے پناہ معلومات کے باوجود خودکشی، دختر کشی، نشہ آوری اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل پوری انسانیت کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ قوانین اور انتظامی اقدامات کے باوجود ان مسائل پر قابو نہ پانے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ کیا محض قانون کافی ہے یا انسان کے ضمیر، ایمان، اخلاق اور احساسِ جواب دہی کو بیدار کرنا بھی ضروری ہے؟
اسی سوال کو مرکز بنا کر وحدتِ اسلامی ہند، ممبئی کی جانب سے اسلام جِم خانہ میں ایک خصوصی سمپوزیم منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام وحدتِ اسلامی ہند کی دس روزہ کل ہند مہم "پیغامِ رحمتِ عالم ﷺ” کی اختتامی کڑی تھا، جس میں سینکڑوں مرد و خواتین اور خصوصاً ہم وطنوں نے شرکت کی۔ مقررین نے چاروں سماجی مسائل کا قرآن و سنّت کی روشنی میں جائزہ لیتے ہوئے ان کے اسباب اور حل پیش کیے۔
وحدتِ اسلامی ہند کے کل ہند امیر محمد ضیاء الدین صدیقی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے قوانین ضروری ہیں، لیکن جب تک انسان کے اندر ضمیر بیدار نہ ہو، قانون محدود اثر رکھتا ہے۔ انہوں نے دختر کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی لڑکی کو بوجھ سمجھنے والی ذہنیت موجود ہے اور پورے خاندان بعض اوقات اسقاطِ حمل کے فیصلے میں شریک ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عورت مخالف ذہنیت کو بدلنے کے لیے رسول اللّٰہﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنا ہوگی۔ نبی اکرمﷺ نے بیٹی کو بوجھ کے بجائے رحمت اور عورت کو عزّت و وقار عطا کرنے والی تہذیب قائم کی۔
انہوں نے "پیغامِ رحمتِ عالمﷺ” مہم کے چار موضوعات—دختر کشی، خودکشی، نشہ آوری اور ماحولیاتی آلودگی—کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کا حقیقی حل انسان کے اندر اخلاقی احساس اور خدا کے سامنے جواب دہی پیدا کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا: "محمد ﷺ پر ایمان لانے والا ہی عورتوں کا سچا محافظ ہوسکتا ہے”۔
پروگرام کی مہمانِ خصوصی محترمہ سنیتا ارالیکر لاتور سے تشریف لائیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کی دردناک داستان بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود دختر کشی کی ایک زندہ مثال ہیں۔ ان کے مطابق ان کے والد نے انہیں زمین میں زندہ دفن کردیا تھا، لیکن ان کے نانا نے انہیں بچا لیا اور غربت کے باوجود ان کی پرورش کی۔
انہوں نے کہا کہ آج وہ اسی تجربے کو اپنی زندگی کا مشن بنا کر دختر کشی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔ سونوگرافی کے غلط استعمال، جنس کی بنیاد پر اسقاطِ حمل اور بیٹی کو معاشی بوجھ سمجھنے والی ذہنیت پر انہوں نے سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے گھر میں دختر کشی نہیں ہوتی تو بھی ہم اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتے۔ اگر ہمارے شہر یا ملک میں یہ جرم ہورہا ہے تو اسے روکنا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ کونسلنگ، سماجی بیداری اور اجتماعی جدوجہد کو ضروری قرار دیا۔ اپنی جدوجہد کے دوران پونے کی یروڑا جیل میں تقریباً گیارہ ماہ قید کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشکلات ان کے عزم کو کم نہیں کرسکیں۔
وحدتِ اسلامی ہند کے معتمدِ عمومی ڈاکٹر محمد انیس نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ دنیا کے دکھ اور انتشار کی ایک بڑی وجہ اللّٰہ کی ہدایت سے دوری ہے۔ محض علم انسان کو صالح نہیں بناتا؛ علم کے ساتھ ایمان اور ہدایت ضروری ہے۔
ہیروشیما و ناگاساکی اور جدید مہلک ہتھیاروں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علم اگر ہدایت اور اخلاق سے محروم ہوجائے تو انسانیت کی خدمت کے بجائے تباہی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کے ساتھ انسان کے باطن کی اصلاح ضروری ہے اور رسول اللّٰہﷺ کی تعلیمات ضمیر کو زندہ کرنے کا ذریعہ ہیں۔
ڈاکٹر الیاس خان نے ماحولیاتی آلودگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سائنسی یا انتظامی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی مسئلہ بھی ہے۔ متعدد قوانین کے باوجود آلودگی پر مکمل قابو نہ پانے کی بنیادی وجہ انسانی نفس پرستی، مادہ پرستی اور منافع پرستی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زمین، پانی، ہوا اور قدرتی وسائل انسان کی ملکیتِ مطلق نہیں بلکہ اللّٰہ کی عطا کردہ امانت ہیں۔ رسول اللّٰہﷺ کی تعلیمات انسان کو فطرت کے ساتھ ذمّہ دارانہ اور معتدل رویہ اختیار کرنے کا شعور دیتی ہیں۔
پروفیسر ابراہیم خلیل عابدی نے خودکشی کے موضوع پر کہا کہ اسلام انسان کو مایوسی کے حوالے نہیں کرتا۔ انسان سے کتنی ہی بڑی غلطی کیوں نہ ہوجائے، توبہ اور اللّٰہ کی رحمت کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ آخرت کا تصور زندگی کو مقصد، معنی اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ انہوں نے انسانی جان کو اللّٰہ کی عطا اور امانت قرار دیتے ہوئے خودکشی سے بچنے کی اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر علی اکبر گھبرانی نے نشہ خوری کے موضوع پر کہا کہ 13 سے 19 سال کی عمر شخصیت سازی کا نہایت حساس دور ہے اور اسی مرحلے میں نوجوان غلط صحبت، تجسس اور جذباتی دباؤ کے باعث نشے کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو محض نصیحت کی نہیں بلکہ اچھے رول ماڈل کی ضرورت ہے۔ والدین کا عملی کردار سب سے مؤثر تربیتی ذریعہ ہے اور رسول اللّٰہﷺ پوری انسانیت کے لیے بہترین اسوہ ہیں۔
پروگرام کا آغاز یحییٰ امروز صدیقی کی تلاوتِ قرآن سے ہوا، جب کہ احمد ابراہیم خان نے جگن ناتھ آزاد کا لکھا ہوا سلام پیش کیا۔ اسلام جِم خانہ کے چیئرمین ایڈووکیٹ یوسف ابراہانی نے مہمانِ خصوصی سنیتا ارالیکر کی گل پوشی کی۔
پروگرام کے دوران دختر کشی کے حوالے سے سنیتا ارالیکر کی جدوجہد پر ویڈیو پیش کی گئی اور چاروں موضوعات سے متعلق اہم اعداد و شمار اسکرین پر دکھائے گئے۔ تقریباً تین گھنٹے جاری رہنے والا یہ علمی و اصلاحی پروگرام دعا اور عشائیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
سمپوزیم کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ خودکشی، دختر کشی، نشہ آوری اور ماحولیاتی آلودگی بظاہر الگ الگ مسائل ہیں، لیکن ان کی جڑ میں اخلاقی زوال، بے مقصدیت، خواہش پرستی، عدمِ جواب دہی اور انسانی قدر و احترام سے دوری کارفرما ہے۔
ان مسائل کا پائیدار حل صرف قوانین میں نہیں بلکہ انسان کے باطن کی اصلاح اور ضمیر کی بیداری میں ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں رسول اللّٰہﷺ کی سیرت و تعلیمات انسان کو امید، رحمت، ذمہ داری، اعتدال اور انسانیت کا راستہ دکھاتی ہیں۔ "پیغامِ رحمتِ عالمﷺ” محض ایک مہم نہیں، بلکہ انسان کو پھر سے انسان بنانے کی دعوت ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے