कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پروفیسر سے پرنسپل تک: ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی کی متاثر کن تعلیمی داستان

قلم کار: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ عربی، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

انسان کی حقیقی عظمت محض اس عہدے یا منصب سے متعین نہیں ہوتی جس پر وہ فائز ہو، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے منصب کو کس قدر وقار، دیانت داری، علمی قابلیت، احساس ذمہ داری اور اخلاص کے ساتھ نبھاتا ہے۔ بعض افراد عہدوں سے پہچانے جاتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی صلاحیت، کردار، محنت اور خدمات کے ذریعے اپنے منصب کو وقار عطا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی اسی کی باصلاحیت، سنجیدہ اور قابل احترام علمی شخصیت ہیں، جن کا سفر تحقیق و تدریس سے شروع ہو کر تعلیمی قیادت اور ادارہ جاتی ترقی تک پہنچا ہے۔
ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی کا علمی سفر بنیادی طور پر کیمسٹری کے میدان سے وابستہ رہا ہے۔ انہوں نے کیمسٹری میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے ماسٹر آف سائنس (M.Sc) کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں Physical Chemistry جیسے اہم شعبوں میں تحقیق کے ساتھ Ph.D مکمل کی۔ تحقیق کے دوران ان کی دلچسپی کیمیائی تحقیق کے میدان میں رہی، بلکہ انہوں نے سائنسی تحقیق کو اپنی عملی زندگی کا اہم حصہ بنایا۔ ان کی تحقیقی سرگرمیوں میں ماحول دوست کیمیکل انڈیکیٹرز، دواسازی کے تجرباتی طریقوں اور پائیدار سائنسی اختراعات جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔
2004ء کے بعد ان کی تحقیقی سرگرمیوں میں مزید وسعت آئی اور انہوں نے مختلف سائنسی فورمز سے وابستہ ہو کر کیمسٹری کے شعبے میں تحقیق اور پائیدار سائنسی اختراعات کے لیے کام کیا۔ ان کے کئی سفر کے دوران بین الاقوامی سائنسی جرائد میں متعدد تحقیقی مقالات بھی شائع ہوئے، جوان کی تحقیقی دلچسپی اور علمی کاوشوں کا مظہر ہیں۔
تدریس کے میدان میں بھی ڈاکٹر فاروقی نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے نزدیک تعلیم محض نصاب کی تکمیل کا نام نہیں، بلکہ طلبہ فکری، علمی اور عملی تربیت کا ایک جامع عمل ہے۔ ایک استاد کی حیثیت سے ان کی کوشش رہی کہ طلبہ میں تحقیق، غور و فکر، سوال کرنے کی صلاحیت اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہو۔ یہی تدریسی تجربہ بعد میں ان کی انتظامی و تعلیمی قیادت کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوا۔
ان کے تعلیمی و انتظامی سفر کا ایک اہم سنگ میل 2019ء میں سامنے آیا، جب انہیں مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔ یہ ذمہ داری ان کی شخصیت کے ایک نئے مرحلے کا آغاز تھی، کیونکہ ایک استاد کی حیثیت سے جہاں وہ جوش و جذبے سے طلبہ کو پروان چڑھاتے تھے، وہیں پرنسپل کی حیثیت سے پورے ادارے کے تعلیمی، انتظامی اور تنظیمی امور کی نگرانی ان کے ذمہ داریوں میں شامل ہو گئی۔
ڈاکٹر فاروقی نے اس نئی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ قیادت کو ایک معیار عطا کیا۔ ان کی قیادت میں بھی معیارِ تعلیم کو بلند کرنے، روزگار کے مواقع اور ادارے کے مجموعی فروغ کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا تصور ایک ایسے ادارے کا ہے جہاں صرف ادارہ نہیں بلکہ ایک علمی اور تربیتی فضا ہو جہاں اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ باہمی تعاون کے ذریعے ترقی کی طرف بڑھتے ہیں۔
تعلیمی ادارے کی ترقی صرف انتظامی فیصلوں سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے لیے واضح تعلیمی وژن، مضبوط منصوبہ بندی، باصلاحیت اساتذہ، محنتی طلبہ اور ذمہ دار انتظامیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فاروقی کی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے تدریسی تجربے کو انتظامی بصیرت کے ساتھ جوڑ کر ادارے کی مجموعی ترقی کے لیے کام کیا۔
ان کی انتظامی صلاحیتوں اور تعلیمی خدمات کی بنا پر انہیں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کی ایک کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا۔ اس ذمہ داری کے ذریعے نئی تعلیمی پالیسی (NEP-2020)، 2020 کے نفاذ سے متعلق امور میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ یہ اعزاز اس بات کی علامت ہے کہ ان کی خدمات کو وسیع تعلیمی سطح پر بھی اہمیت دی گئی۔
ڈاکٹر فاروقی کی قیادت میں ادارے کی خدمات اور تعلیمی سطح کو مزید وسعت ملی ہے۔
2024ء میں طلبہ کے لیے اسکالرشپ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں بھی اہم اقدامات کیے گئے۔ ڈاکٹر فاروقی کی قیادت میں مختلف شعبوں میں طلبہ کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے اور انہیں تعلیمی زندگی کے بعد عملی میدان کے لیے تیار کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس سے ان کا یہ وسیع تعلیمی تصور عیاں ہوتا ہے جس میں تعلیم اور زندگی کی ضروریات سے مربوط ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
2026ء میں بھی ان کی رہنمائی میں سائنسی تحقیق اور پائیدار سائنسی اختراعات کے موضوعات پر مختلف سرگرمیوں کو فروغ دیا گیا۔ مختلف کانفرنسوں میں تحقیقی مقالوں کی پیش کش اور تعلیمی و صنعتی ماحولیات میں شرکت کے بارے میں تحقیق اور اس کی ذمہ داری کے بارے میں بھی اہم گفتگو کی۔ یہ امر اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ ڈاکٹر فاروقی کے نزدیک جدید تعلیم کا مقصد صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ تحقیق، اختراع، ماحول دوست سوچ اور معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کرنا بھی ہے۔
کسی بھی تعلیمی ادارے کی کامیابی کا اصل پیمانہ اس کے طلبہ کی علمی ترقی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ادارے میں پیدا ہونے والی مثبت علمی فضا ہے۔ اس اعتبار سے ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی کی کوششیں قابل تقدیر ہیں۔ وہ تعلیم کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور جدید تعلیمی ضروریات کو سمجھتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب تعلیمی ادارے صرف روایتی طریقہ کار کو اپنانے کے بجائے علمی، اخلاقی اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہونا چاہتے ہیں، ان کی رہنمائی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر فاروقی کی شخصیت میں تدریسی تجربہ، تحقیقی بصیرت، انتظامی فہم اور قیادت کا امتزاج انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ ان کے تجربے نے انہیں یہ سکھایا ہے کہ مسائل کو قریب سے سمجھنے کا موقع دیا جائے، تحقیق نے ان کے اندر جستجو اور تجزیاتی فکر کو مضبوط کیا، جبکہ انتظامی ذمہ داری نے انہیں پورے ادارے کے وسیع تر تقاضوں کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کیا۔
ایک تعلیمی قائد کے لیے صرف انتظامی صلاحیت کافی نہیں ہوتی، بلکہ انسانی نفسیات کو سمجھنے، مختلف مزاج رکھنے والے افراد کے ساتھ تعاون کرنے اور ادارے اور افراد کے مفاد کو ساتھ لے کر چلنے کی معاونت ضروری ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فاروقی کے طویل تعلیمی و انتظامی تجربے نے ان میں یہ بصیرت پیدا کی ہے کہ ادارے کی ترقی کے لیے باہمی احترام، تعاون، نظم و ضبط اور مثبت ماحول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
آج تعلیم کے میدان میں متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ طلبہ میں مطالعے کی کم ہوتی ہوئی عادت، سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر، بدلتے تقاضے، مسابقتی ماحول، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی تعلیمی اداروں کی ذمہ داری پہلے کہیں زیادہ بڑھا رہی ہے۔ ایسے حالات میں ایک تعلیمی قائد کو صرف انتظامی امور کے بجائے طلبہ میں تحقیق، تخلیقی فکر، اخلاقی شعور اور عملی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش بھی کرنی پڑتی ہے۔
ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی کا سفرِ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ کامیابی کی ایک دن یا ایک عہدے کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ برسوں کی محنت، تحقیق، تجربے، مطالعے، مشاہدے اور مسلسل سیکھنے کے عمل کا حاصل ہوتی ہے۔ ایک محقق سے استاد اور پھر ایک مؤثر تعلیمی منتظم و قائد تک ان کا سفر نئی نسل اور تعلیمی کارکنوں کے لیے اس اعتبار سے قابل تقلید ہے کہ انسان اگر اپنے کام سے مخلص ہو، اپنی صلاحیتوں کو مسلسل نکھارتا رہے، اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھائے اور خدمت کا جذبہ کارفرما رکھے تو وہ ادارے اور معاشرے پر دیرپا اثر مرتب کر سکتا ہے۔
ان کی خدمات کا اعتراف دراصل اس علمی معاشرے کی تقدیر کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے، جس میں استاد ایک اچھا استاد تسلیم ہوتا ہے، جبکہ ایک اچھا تعلیمی قائد پورے ادارے کی سمت متعین کرکے سیکڑوں اور ہزاروں طلبہ کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر فاروقی نے ان دونوں ذمہ داریوں کا تجربہ حاصل کیا ہے، جو ان کے تعلیمی سفر کو مزید قابل ذکر بناتا ہے۔
ان کی علمی و انتظامی زندگی اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ تعلیم صرف ملازمت یا پیشہ نہیں بلکہ قوم اور معاشرے کی تعمیر کا اہم ذریعہ ہے، انتظام اور قیادت کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی نے اپنے حصے کی چراغ روشن رکھنے کی کوشش کی ہے۔
بلاشبہ ان کی بھی شخصیت کی خدمات کا یہی فیصلہ وقت کرتا ہے، لیکن جو لوگ اپنے منصب کو ذاتی مفاد کے بجائے علمی، تعلیمی اور ادارہ جاتی خدمت کا ذریعہ بناتے ہیں، ان کی کاوشیں ہمیشہ قابل احترام رہتی ہیں۔ ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی کا تدریس سے تعلیمی قیادت تک کا سفری احساس ذمہ داری، مسلسل جدوجہد، تحقیق، تعلیمی خدمت اور خدمت کے جذبے کی ایک قابل تحسین مثال ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر مظہر احمد فاروقی کو صحت، عافیت، مزید علمی و انتظامی بصیرت اور خدمت تعلیم کے لیے توانائیاں عطا فرمائے، ان کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کے ذریعے تعلیمی میدان میں مزید مفید خدمات انجام دینے کا موقع عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے