कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

چینی سب کے لیے مہنگی ہے:غریب کی پریشانی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا

از قلم محمد سرور شریف یوسف شریف
معلم مؤیدالمسلمین پرائمری اسکول و ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز پربھنی

قارئین کیا کبھی ہم نے سوچا ہے ؟ کہ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت صرف بازار کی ایک خبر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے اُن غریب خاندانوں کی خاموش تکلیف بھی ہے جو اپنی معمولی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں؟
آج ہمارے آس پاس ایسے بے شمار گھرانے موجود ہیں جہاں بچے صبح سویرے اسکول جانے سے پہلے ناشتہ تو کرتے ہیں، مگر وہ ناشتہ بھی اکثر صرف چائے اور توس، ڈبل روٹی یا بریڈ تک محدود ہوتا ہے۔ ان معصوم بچوں کی آنکھوں میں بھی خواہشیں ہوتی ہیں، وہ بھی اپنے دوستوں کی طرح خوشیاں منانا چاہتے ہیں، مگر گھر کے حالات انہیں اپنی خواہشات کا اظہار کرنے سے پہلے ہی خاموش کر دیتے ہیں۔
وہ بھی رنگ برنگی مٹھائیاں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، ان کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوتی ہے ان کے گھر میں میٹھے پکوان بنیں، دسترخوان پر مٹھائی آئے اور وہ بھی کبھی ان مٹھائیوں کا مزہ چکھے؛ مگر غربت اور مہنگائی کی حقیقت ان معصوم خواہشوں کو زبان پر آنے سے پہلے ہی روک دیتی ہے۔مٹھائی کی فرمائش تک نہیں کر سکتے، کیونکہ آج بھی یہ بچے صرف چاۓ بنانے کے لیے شکر لاتے ہیں اور وہ شکر چاۓ کی مٹھاس کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کے قن کے والدین کےلیے آٹا، دال، تیل اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا ہی مشکل ہے، میٹھا بنانا تو دور کی بات ہے۔
یہ منظر ہم سب کے لیے ایک سوال ہے۔
کیا ہماری خوشیاں صرف ہمارے اپنے گھروں تک محدود رہنی چاہئیں؟
سیاسی لیڈران انتخابات کے موسم میں ووٹ مانگنے کے لیے ذات، برادری، مذہب اور مختلف شناختوں کا سہارا لیتے ہیں اور جیت جاتے ہیں ، لیکن بازار میں مہنگائی کسی سے اس کی ذات یا مذہب نہیں پوچھتی۔ چینی سب کے لیے مہنگی ہے، مشکلات سب کے لیے حقیقی ہیں اور یاں غریب کی پریشانی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
ایسے حالات میں ہمیں اسلام کی ان عظیم تعلیمات کو یاد کرنا چاہیے جو ہمیں رحم، ایثار، سخاوت، پڑوسیوں کی خبرگیری، یتیموں اور محتاجوں کی مدد اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہیں۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرے کے کمزور، ضرورت مند اور پریشان حال انسانوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔
آج ضرورت ہے کہ ہم ان تعلیمات کو صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ عملی زندگی میں اپنائیں ۔ایسے وقت میں ہمارے علاقوں میں کام کرنے والی ملی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کے ذمہ داران، مخیر حضرات اور اہلِ ثروت سے ایک عاجزانہ اپیل ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی عملی ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔
اگر استطاعت ہو تو ضرورت مند اور غریب خاندانوں میں مفت چینی تقسیم کی جائے، تاکہ اُن گھروں کے بچے بھی میٹھی خوشیوں کا حصہ بن سکیں جہاں مہنگائی نے خوشیوں کو محدود کر دیا ہے۔
قارئین یاد رکھیں ہمارا یہ عمل صرف چینی تقسیم کرنا نہیں ہوگا ، بلکہ
یہ کسی بچے کی معصوم خواہش پوری کرنا ہوگا۔
یہ کسی ماں کی پریشانی کم کرنا ہوگا۔
یہ کسی باپ کے بوجھ کو ہلکا کرنا ہوگا۔
اور سب سے بڑھ کر یہ انسانیت کو زندہ کرنے کا عمل ہوگا۔
آج جب کچھ فرقہ پرست عناصر مذہب اور فرقے کے نام پر دلوں میں دوریاں، نفرتیں اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو ہمیں محبت، خدمت اور انسانیت کے ذریعے اس نفرت کا جواب دینا یوگا بھلے ہی ہمارے ایک ہاتھ سے دی گئی چینی کی تھیلی شاید معمولی لگے، لیکن کسی غریب گھر میں وہی تھیلی ایک انمول خوشی، بچوں کی مسکراہٹ اور دلوں کی دعائیں بن سکتی ہیں۔
آئیے، ہم اپنے اپنے دائرے میں ضرورت مندوں کا خیال رکھیں۔
مذہب کی بنیاد پر نہیں، انسانیت کی بنیاد پر۔
ذات کی بنیاد پر نہیں، ضرورت کی بنیاد پر۔ اور الحمدللہ مسلمانان ہند نے ہمیشہ مصیبت کی گھڑیوں میں بڑھ چڑھ کر انسانیت کی خدمت کی ہے اور آج بھی
ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام برادریاں اگر ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، ایک دوسرے کی خوشیوں میں شامل ہوں اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کا سہارا بنیں تو نفرت کی دیواریں خود بخود کمزور پڑ جائیں گی۔
تو آئیے چینی کی مٹھاس سے صرف چائے اور پکوان ہی نہیں، بلکہ دلوں کے رشتے بھی میٹھے کریں۔
کیونکہ ایک مضبوط اور خوبصورت ملک وہی ہوتا ہے جہاں کسی غریب بچے کو خوشی کے موقع پر مٹھائی مانگنے سے پہلے اپنے والدین کی مجبوری کا خیال نہ کرنا پڑے۔
آئیے، اس بار اپنی خوشیوں میں کسی غریب گھر کو بھی شامل کریں—شاید ہماری تھوڑی سی فراخ دلی کسی کے پھیکی اور ادھوری خوشیوں کو میٹھا بنا دے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے