कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سنتِ نبوی ﷺ اور صحت — ایک خوبصورت طرزِ زندگی

تحریر: ڈاکٹر مِرزا اطیب بیگ
BAMS, CCH, CSD, PGCEMS
پوسد، ضلع ایوت محل

صحت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ انسان جب تک صحت مند رہتا ہے، اسے اس نعمت کی حقیقی قدر کا احساس نہیں ہوتا۔ نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے ہماری زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فرمائی، اور آپ ﷺ کی سنت میں صفائی، اعتدال، پاکیزگی، خوراک، آرام اور جسمانی صحت کے حوالے سے بھی نہایت خوبصورت اصول ملتے ہیں۔
اسلام میں جسم کو نظر انداز کرنا پسندیدہ نہیں۔ انسان کا جسم اللہ کی امانت ہے، اس لیے اس کی حفاظت بھی ایک ذمہ داری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔”
(صحیح البخاری)
یہ مختصر فرمان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عبادت کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
اعتدال — صحت کا بنیادی اصول:
آج دنیا بھر میں موٹاپا، ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں غیر متوازن غذا اور زیادہ کھانے کا بڑا کردار ہے۔ نبی کریم ﷺ نے صدیوں پہلے کھانے میں اعتدال کی تعلیم دی:
"آدمی نے کوئی برتن پیٹ سے بدتر نہیں بھرا۔ آدمی کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں، اور اگر زیادہ کھانا ہی ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے۔”
(سنن ترمذی)
یہ تعلیم صرف ایک غذائی اصول نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کی طرف اشارہ ہے۔ ضرورت سے زیادہ کھانا جسم پر بوجھ بن سکتا ہے، جبکہ مناسب مقدار میں غذا انسان کو ہلکا پھلکا اور فعال رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
صفائی اور پاکیزگی:
سنتِ نبوی ﷺ میں صفائی کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ وضو، غسل، مسواک، ناخن تراشنا، لباس اور جسم کی صفائی—یہ سب اسلامی زندگی کا حصہ ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"پاکیزگی نصف ایمان ہے۔”
(صحیح مسلم)
صفائی صرف بیماریوں سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک باوقار اور صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی ہے۔
روزمرہ زندگی میں سادگی:
نبی کریم ﷺ کی زندگی میں کھانے پینے اور رہن سہن میں سادگی نمایاں تھی۔ آج ہم اکثر صحت کو مہنگی مصنوعات اور پیچیدہ ڈائٹ پلانز سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ بنیادی صحت مند عادات بہت سادہ ہیں: مناسب غذا، مناسب آرام، صفائی، جسمانی سرگرمی اور اعتدال۔
اسلام ہمیں اسراف سے بھی روکتا ہے:
"کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو۔”
(الاعراف: 31)
یہ اصول آج کے دور میں خاص طور پر اہم ہے، جہاں ضرورت سے زیادہ کیلوریز، میٹھے مشروبات اور غیر متوازن غذائیں صحت کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔
ذہنی اور روحانی سکون:
صحت صرف جسم کا نام نہیں۔ انسان کے ذہنی اور روحانی سکون کا بھی اس کی مجموعی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔”
(الرعد: 28)
نماز، ذکر، دعا، صبر اور اللہ پر توکل انسان کو مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے اندرونی قوت فراہم کرتے ہیں۔
نتیجہ:
سنتِ نبوی ﷺ کو صرف چند ظاہری عادات تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں ایک متوازن زندگی کا تصور موجود ہے—صفائی، اعتدال، سادگی، مناسب غذا، جسم کے حقوق، روحانی سکون اور دوسروں کے حقوق۔
ہم اگر سنتِ نبوی ﷺ کے ان بنیادی اصولوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کرلیں تو نہ صرف اپنی صحت کی بہتر حفاظت کرسکتے ہیں بلکہ ایک متوازن اور باوقار زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔
صحت اللہ کی امانت ہے، اور سنتِ نبوی ﷺ ہمیں اس امانت کی حفاظت کا خوبصورت طریقہ سکھاتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے