कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہوگئی میلادالنبی؟

تحریر:ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد
9642571721
27th August, 2026

میلادالنبی منانے والوں سے بھی اور نہیں منانے والوں دونوں سے ایک سوال ہے کہ حوضِ کوثر کےبارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ اس موضوع پر بخاری اور مسلم میں تقریباً پچاس حدیثیں موجود ہیں، ان کو ضرور پڑھئے ، اندازہ ہوجائے گا کہ کل قیامت میں حوضِ کوثر پرشائد انہی میلادالنبی کے جلوسوں جیسا ایک منظر ہوگا۔ لیکن فرق یہ ہوگا کہ اسٹیج پر لیڈر، علما یا ہرے، پیلے یا زعفرانی پگڑیوں والے مشائخین نہیں ہوں گے بلکہ شافع محشر آقائے دوجہاں محمد مصطفیٰ ﷺ خود رونق افروز ہوں گے، اور آج کے اسٹیج کے سارے سیلیبریٹیز شفاعت کی بھیک مانگنے والوں کے اس ہجوم میں شامل ہوں گے۔ سارے ہیبت میں ہوں گے کہ اب ان کا نامہ اعمال ان کے ہاتھوں میں آئے گا اور ساری دنیا کے سامنے ان کے ہر چھپے گناہ کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ ایسے بے بسی اور خوف کے ماحول میں ایک آواز آئے گی ’’یا امّتی‘‘۔ یہ آواز رحمۃ للعلمین سید المرسیلن احمد مجتبیٰﷺ کی ہوگی۔ پوری امت اُن کا دامنِ شفاعت پکڑ لینے دوڑے گی، لیکن فرشتے رسول اللہاور لوگوں کے بیچ ایک پارٹیشن کھڑی کردیں گے اور رسول اللہ ﷺ کے وجہ پوچھنے پر جواب دیں گے کہ یا رسول اللہ، اِن لوگوں نے آپ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آپ کے دین میں نئی نئی چیزیں داخل کردی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ سخت ناراض ہوجائیں گے اور کہیں گے ’’سحقاً سحقاً بدّل بعدی‘‘ یعنی دور ہوجاو، دفع ہوجاو تم نے میرے بعددین کو بدل دیا۔ اور اس کے بعدآپ جس طرح آج میلاد کے جلوس کے بعد گھرلوٹ جاتے ہیں، وہاں سے کوئی گھر نہیں جاسکے گابلکہ سیدھے جہنّم میں جائے گا، کیونکہ اس کی وارننگ پہلے ہی سے رسول اللہ ﷺ نے دے دی تھی کہ ’’کل بدعۃ ضلالہ و کل ضلالۃ فی النار‘‘، یعنی ہر بدعت یعنی دین میں نئی چیز کی ایجاد گمراہی ہے اور گمراہی کا صلہ صرف جہنم کی آگ ہے‘‘۔ کوئی جمعہ کا خطبہ ایسا نہیں ہوتا تھا جب یہ وارننگ دوہرائی نہیں جاتی تھی۔
ہر قوم میں اپنے اپنے مذہبی رہنماؤں کی سالگرہ منانے کا چلن ہوتا ہے جیسے رام نومی، ہنومان جینتی، کرسمس،اور گرونانک جینتی وغیرہ۔ اسی طرح میلاد النبی بھی ہے جس کا ایک جمہوری ملک میں منانے کا سب کو اختیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام کی برتھ ڈیز منانے اور بے پناہ پیسہ بہانے کا انسانیت کو کیا فائدہ ہے سوا ئے ایک مذہبی رسم یا تیوہار کے ہنگامے کے؟ لیکن باریکی سے دیکھا جائے تو میلاد النبی کا معاملہ دوسروں کی سالگرہوں سے قطعی مختلف ہے۔ اگر مسلمان میلادالنبی کو کل ہونے والے حوضِ کوثر کے معاملے کی ایک ریہرسل کے طور پر استعمال کرے تو آج کی مرتی ہوئی انسانیت دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے، زمانے سے ناانصافی، ظلم، انسانو ں کی انسانوں ہی کے آگے غلامی ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکتی ہے۔
میلادالنبی منانے والے اور نہیں منانے والے دونوں یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہی سچّے عاشقِ رسول ہیں۔ لیکن دونوں پر اب بھی حوضِ کوثر کا سوال باقی ہے۔ اگر آپ واقعی عاشقِ رسول ہیں تو اپنا احتساب کیجئے کل ایک عام آدمی سے حوضِ کوثر پر رسول اللہ پوچھیں گے کہ تم نے کتنی نئی چیزوں کو دین میں داخل کیا تھا۔ شادیوں میں یہ منگنی، جہیز، بارات کےکھانے ، شکرانے وغیرہ کیا یہ میری سیرت میں یا قرآن میں کہیں تھے؟ علما، مفتیوں اور مشائخین سے جنہوں نے ایسی دعوتوں میں شرکت کو مباح، عرف، رواج کہہ کر جائز کردیا، آپ ﷺ پوچھیں گے کہ تم نے میری کس شادی سے یا میری کس بیٹی کی شادی سے یا میرے کس صحابی کی شادی سے ان رسموں کا جواز نکالا، یہ میرے دین کا طریقہ تھا یا مشرکین کا طریقہ تھا؟ امیروں سے سوال پوچھا جائیگا کہ تمہاری دولت میں حرام اور حلال کا کیا تناسب تھا؟ کس طرح تم نے زمینوں پر قبضوں، دھوکے اور جھوٹ اور سود کو کاروبار میں داخل کرکے مسلمانوں کے لیڈر بن گئے؟ اور ہر فرقے سے یہ سوال تو ضرور ہوگا کہ میں سنی تھا یا شیعہ ؟ حنفی یا شافعی تھا؟ دیوبندی، یا سلفی تھا؟ صوفی یا مجاور تھا،؟تم نے فرقے ایجاد کیئے اور ہر ایک نے اپنے اپنے فرقے کو میرے نام سے جوڑ دیا۔ اس طرح کیا تم نے مجھے بھی اور میرے دین کو بدل کر نہیں رکھ دیا؟
اگر میلاد النبی کے دن کو اپنے اپنے احتساب کا دن بنادیں، ہر شخص اپنے اپنے اعمال میں کون کون سا عمل دین میں ایجاد کردہ ہے اس کونکال کر پھینکنے کا عزم کرے تو اصل میلاد کے دن یعنی حوضِ کوثر کے دن ہر شخص نہ صرف اپنا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں پائیگا بلکہ آج کی دنیا میں بھی یہ جتنی دوسری قومیں ہیں وہ اقرار کریں گی کہ اسلام واقعی سلامتی کا دین ہے۔ جس طرح آج ہمارے معصوم بچے جو کچھ بھی دین نہیں جانتے لیکن میلاد کے جھنڈے لے کر سڑکوں پر چل رہے ہیں، دوسری ساری قومیں جن کو آج آپ دشمن سمجھتے ہیں، جو آج آپ کی لنچنگ، بلڈوزنگ اور انکاؤنٹر کررہی ہیں، وہ خود میلاد کا جھنڈا لے کر ہوسکتا ہے ہمارے آگے چلیں گی۔ ورنہ وہ دن آنے والا ہے جب آپ کی مسجدوں کے صحن میں ہنومان چالیسہ پڑھا جائیگا، ہر مسجد اور ہر درگاہ کے نیچے سے شیو لِنگ نکلے گا اور پھر وہ وقت بھی آرہا ہے جب آپ کے قبرستان اتنے تنگ کردئے جائیں گے کہ آپ کو اپنی ہی قبر کے لئے جگہ نہ ملے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے