कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرآن میں ایک ہی مقام پر اٹھارہ انبیاءِ کا تذکرہ

ازقلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل نمبر: 9325217306

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ آخری آسمانی کتاب ہے جو قیامت تک پوری انسانیت کیلئے سرچشمۂ ہدایت، منبعِ حکمت اور کامل دستورِ حیات ہے۔ اس کی ہر سورت اپنے اندر بے شمار علمی، فکری، تربیتی اور روحانی اسرار سموئے ہوئے ہے۔ انہی عظیم سورتوں میں “سورۃ الأنعام” کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس سورت میں عقیدۂ توحید، رسالت، آخرت، دعوتِ حق اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کے مبارک تذکروں کو نہایت حکیمانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
سورۃ الأنعام کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی مقام پر اٹھارہ عظیم انبیاءِ کرام علیہم السلام کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ…”
(سورۃ الأنعام: 83 تا 86)
ان آیاتِ مبارکہ میں جن انبیاءِ کرام علیہم السلام کا ذکر آیا ہے، وہ یہ ہیں:
حضرت نوح، ابراہیم، اسحاق، یعقوب، داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، الیاس، اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط علیہم السلام۔
قرآن کریم کا یہ انداز محض تاریخی بیان نہیں بلکہ ایک عظیم فکری، روحانی اور دعوتی پیغام ہے، جس میں پوری انسانیت کیلئے رہنمائی کے خزانے پوشیدہ ہیں۔
اٹھارہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کا مختصر تعارف:
1۔ حضرت نوح علیہ السلام :
آپ اولین عظیم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی قوم کو تقریباً ساڑھے نو سو برس تک توحید کی دعوت دی اور صبر واستقامت کی بے مثال تاریخ رقم کی۔
2۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام :
آپ “خلیل اللہ” کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ نے شرک کے خلاف عظیم جدوجہد کرکے توحید، قربانی اور کامل اطاعتِ الٰہی کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔
3۔ حضرت اسحاق علیہ السلام :
آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند اور جلیل القدر نبی تھے۔ آپ کی نسل میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور ہدایت کا مبارک سلسلہ جاری فرمایا۔
4۔ حضرت یعقوب علیہ السلام :
آپ حضرت اسحاق علیہ السلام کے فرزند اور “اسرائیل” کے لقب سے معروف تھے۔ آپ صبر، حکمت اور بہترین تربیتِ اولاد کے عظیم نمونے تھے۔
5۔ حضرت داؤد علیہ السلام :
آپ عظیم نبی، عادل بادشاہ اور زبور کے حامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکومت، دانائی اور خوش الحانی کی خاص نعمت عطا فرمائی۔
6۔ حضرت سلیمان علیہ السلام :
آپ حضرت داؤد علیہ السلام کے فرزند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی عظیم سلطنت عطا فرمائی جس پر انسان، جنات، پرندے اور ہوائیں بھی مسخر تھیں۔
7۔ حضرت ایوب علیہ السلام :
آپ صبر ورضا کی لازوال مثال ہیں۔ شدید بیماری اور آزمائشوں کے باوجود آپ نے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید نہیں چھوڑی۔
8۔ حضرت یوسف علیہ السلام :
آپ حسن، عفت، حکمت اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر تھے۔ قید وابتلاء کے باوجود آپ نے پاکدامنی اور صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔
9۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام :
آپ “کلیم اللہ” تھے۔ آپ نے فرعون جیسے جابر حکمران کے سامنے حق کی آواز بلند کی اور بنی اسرائیل کی رہنمائی فرمائی۔
10۔ حضرت ہارون علیہ السلام :
آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی اور معاون تھے۔ آپ نرم مزاج، فصیح اللسان اور اصلاحِ قوم میں نمایاں کردار ادا کرنے والے نبی تھے۔
11۔ حضرت زکریا علیہ السلام :
آپ نہایت عبادت گزار اور اللہ کے مقرب نبی تھے۔ بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسا صالح بیٹا عطا فرمایا۔
12۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام :
آپ زہد، تقویٰ اور پاکیزگی کے اعلیٰ نمونے تھے۔ کم عمری ہی میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم، حکمت اور نبوت عطا فرمائی۔
13۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام :
آپ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول اور معجزاتی طور پر پیدا ہونے والے نبی تھے۔ آپ نے محبت، رحمت، زہد اور روحانیت کی عظیم تعلیم دی۔
14۔ حضرت الیاس علیہ السلام :
آپ نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روک کر توحید کی دعوت دی۔ آپ حق پر ثابت قدم رہنے والے عظیم داعی تھے۔
15۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام :
آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عظیم فرزند تھے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر قربانی کیلئے خود کو پیش کرکے کامل وفاداری اور اطاعت کا ثبوت دیا۔
16۔ حضرت الیسع علیہ السلام :
آپ اللہ تعالیٰ کے نیک اور برگزیدہ نبی تھے۔ آپ نے اپنی قوم کی اصلاح اور دعوتِ حق کا عظیم فریضہ انجام دیا۔
17۔ حضرت یونس علیہ السلام :
آپ “ذوالنون” کے لقب سے معروف ہیں۔ مچھلی کے پیٹ میں تسبیح واستغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نجات عطا فرمائی۔
18۔ حضرت لوط علیہ السلام :
آپ نے اپنی قوم کو بے حیائی اور بدکاری سے روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ آپ اخلاقی پاکیزگی اور حق گوئی کے عظیم داعی تھے۔
ایک مقام پر اتنے انبیاء کے ذکر کی حکمتیں:
1۔ تمام انبیاء کی دعوت ایک تھی:
ان تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کی بنیادی دعوت “توحید” تھی۔ ان سب نے انسان کو ایک اللہ کی عبادت اور شرک سے اجتناب کی تعلیم دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام آسمانی مذاہب کی اصل بنیاد ایک ہی ہے۔
2۔ حضور اکرم ﷺ کو تسلی دینا:
جب کفارِ مکہ حضور اکرم ﷺ کی مخالفت میں حد سے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے سابقہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کا ذکر کرکے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی دی کہ مخالفت، آزمائش اور تکالیف انبیاء کی سنت رہی ہے۔
3۔ انسانیت کیلئے مکمل نمونہ:
ہر نبی کی زندگی کسی نہ کسی عظیم صفت کی نمائندگی کرتی ہے:
حضرت ایوب علیہ السلام صبر کے،
حضرت یوسف علیہ السلام پاکدامنی کے،
حضرت موسیٰ علیہ السلام جرأت کے،
حضرت سلیمان علیہ السلام عدل وحکمت کے،
اور حضرت ابراہیم علیہ السلام قربانی اور توحید کے عظیم نمونے ہیں۔
گویا اللہ تعالیٰ نے ایک ہی مقام پر انسانی کردار سازی کا مکمل نصاب جمع فرمادیا۔
4۔ قومیت اور نسل پرستی کی نفی:
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ فضیلت کا معیار نسل، قوم یا خاندان نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی ہے۔ آج کے دور میں جبکہ انسان لسانیت، علاقائیت اور قوم پرستی میں مبتلا ہے، قرآن کا یہ پیغام انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
5۔ دعوتِ دین کے مختلف اسالیب:
ہر نبی نے اپنی قوم کے حالات کے مطابق دعوت دی:
کسی نے حکمت سے،
کسی نے صبر سے،
کسی نے مناظرے سے،
اور کسی نے عملی نمونے سے اصلاح کی۔
یہ داعیانِ حق کیلئے عظیم رہنمائی ہے کہ دعوت میں حکمت، صبر اور حالات کی رعایت ضروری ہے۔
علمی اور فکری نکات:
1۔ قرآن کا اعجازِ اختصار:
قرآن مجید نے چند آیات میں ہزاروں برس کی تاریخ، بے شمار واقعات اور عظیم پیغامات کو سمو دیا۔ یہ اس کے ادبی اور علمی اعجاز کی روشن دلیل ہے۔
2۔ ہدایت ہی اصل کامیابی ہے:
ان انبیاءِ کرام علیہم السلام کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ”
یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، پس آپ بھی انہی کے راستے پر چلئے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اصل کامیابی مال، طاقت یا شہرت نہیں بلکہ ہدایتِ الٰہی ہے۔
3۔ نبوت انسانیت کی رہنمائی کیلئے ہے:
انبیاءِ کرام علیہم السلام کوئی افسانوی کردار نہیں بلکہ عملی زندگی کے حقیقی رہنما تھے، جنہوں نے انسانیت کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف بلایا۔
4۔ تربیتِ امت کا عظیم نظام:
قرآن مجید صرف واقعات نہیں سناتا بلکہ انسان کے عقیدہ، فکر، اخلاق، کردار اور معاشرت کی تربیت کرتا ہے۔ ان آیات میں امت کیلئے صبر، استقامت، توکل، دعوت اور اخلاق کا مکمل درس موجود ہے۔
عصرِ حاضر کیلئے پیغام:
آج امتِ مسلمہ فکری انتشار، اخلاقی زوال، مادہ پرستی اور دینی کمزوری کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں سورۃ الأنعام کی یہ آیات ہمیں دوبارہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے مبارک راستے کی طرف بلاتی ہیں۔
یہ آیات ہمیں سکھاتی ہیں:
توحید پر مضبوطی سے قائم رہو،
صبر واستقامت اختیار کرو،
اخلاق سنوارو،
دعوت واصلاح کا کام جاری رکھو،
اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔
اگر مسلمان انبیاءِ کرام علیہم السلام کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرلیں تو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عظیم انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔
اختتامیہ:
سورۃ الأنعام میں ایک مقام پر اٹھارہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کا ذکر دراصل پوری انسانیت کیلئے ایک جامع درسگاہ ہے۔ یہ آیات عقیدہ، دعوت، صبر، اخلاق، حکمت، توکل اور ہدایت کا عظیم خزانہ ہیں۔ قرآن کریم انسان کو ماضی کے ان روشن کرداروں سے جوڑ کر یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیا وآخرت کی حقیقی کامیابی صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کے مبارک راستے کی پیروی میں ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب نہ سمجھیں بلکہ اس کے پیغام، حکمت اور تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یقیناً انبیاءِ کرام علیہم السلام کے مبارک نقوشِ قدم ہی انسانیت کی حقیقی کامیابی اور فلاح کا راستہ ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے