कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

محبتِ رسولﷺ ۔ دعوائے عقیدت سے عملی اتباع تک

Love for the Messenger ﷺ — From the Claim of Devotion to the Practice of Following His Sunnah

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

محبت ایک ایسا لطیف جذبہ ہے جو انسان کے باطن کو بدل دیتا ہے، اس کی ترجیحات کو نئی ترتیب دیتا ہے، اس کے افکار کو جِلا بخشتا ہے اور اس کے کردار میں ایک نئی روشنی پیدا کرتا ہے۔ لیکن اگر یہی محبت رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰﷺ سے وابستہ ہوجائے تو یہ محض ایک جذباتی کیفیت نہیں رہتی، بلکہ ایمان کی روح، زندگی کی سمت اور کردار کی بنیاد بن جاتی ہے۔ محبتِ رسولﷺ وہ نور ہے جو دل میں اتر جائے تو انسان کی سوچ، گفتگو، معاملات، عبادات، تعلقات اور ترجیحات سب پر اس کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
رسول اللہﷺ سے محبت دراصل اللہ تعالیٰ سے محبت کا راستہ ہے۔ قرآن مجید نے صاف اعلان فرمایا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ "کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا” (آل عمران: 31)۔ گویا محبت کا دعویٰ اپنی جگہ، مگر محبت کی سب سے معتبر شہادت اتباعِ رسولﷺ ہے۔ زبان محبت کا اعلان کرسکتی ہے، جذبات محبت کی شدّت کا اظہار کرسکتے ہیں، لیکن زندگی کا طرزِ عمل ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ محبت کتنی حقیقی، کتنی گہری اور کتنی مؤثر ہے۔
محبتِ رسولﷺ: ایمان کا لازمی تقاضا:
رسول اکرمﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں”۔ یہ ارشاد محبتِ رسولﷺ کی عظمت اور اس کے ایمانی مقام کو واضح کرتا ہے۔ یہاں محبت کسی رسمی عقیدت یا محض زبانی وابستگی کا نام نہیں، بلکہ ایسی قلبی ترجیح کا نام ہے جس کے نتیجے میں رسول اللہﷺ کی تعلیمات انسان کے لیے اپنی خواہشات، مفادات اور معاشرتی دباؤ سے زیادہ اہم ہوجائیں۔ محبتِ رسولﷺ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان صرف آپﷺ کا ذکر سن کر جذباتی ہوجائے؛ بلکہ اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ آپﷺ کی رضا کو اپنی خواہش پر، آپﷺ کی سنّت کو اپنے رواج پر، آپﷺ کے اخلاق کو اپنے مزاج پر اور آپﷺ کی ہدایت کو اپنی رائے پر ترجیح دی جائے۔
• پہلی علامت: اتباع و اطاعت:
محبت کی پہلی اور سب سے بڑی علامت اتباع ہے۔ جس شخصیت سے حقیقی محبت ہو، انسان اس کے نقشِ قدم تلاش کرتا ہے، اس کے طریقے کو اختیار کرتا ہے اور اس کی پسند و ناپسند کا لحاظ رکھتا ہے۔ رسول اللہﷺ کی محبت کا سب سے روشن ثبوت یہی ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کو سنّتِ نبویﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔ نماز سے معاملات تک، عبادت سے معاشرت تک، گھر سے بازار تک، گفتگو سے خاموشی تک—زندگی کا کوئی گوشہ سنّت کی رہنمائی سے خالی نہ رہے۔ محبت یہ نہیں کہ ہم سیرت پڑھیں مگر سیرت کا مزاج ہماری زندگی میں نہ اترے؛ محبت یہ ہے کہ سیرت ہمارے کردار کا آئینہ بن جائے۔
• دوسری علامت: ذکرِ رسولﷺ سے قلبی وابستگی:
محبت کا ایک فطری تقاضا یہ ہے کہ محبوب کا ذکر دل کو خوشی، سکون اور شادمانی عطا کرے۔ چنانچہ ایک عاشقِ رسولﷺ کے لیے نبی کریمﷺ کا ذکر محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ روحانی غذا ہے۔ آپﷺ کا نام آئے تو درود و سلام کے ساتھ زبان تر ہوجائے۔ آپﷺ کی سیرت کا تذکرہ ہو تو دل متوجہ ہوجائے۔ آپﷺ کی تعلیمات کا ذکر ہو تو انسان اپنے عمل کا جائزہ لینے لگے۔ قرآن مجید اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔ محبتِ رسولﷺ کی ایک حسین علامت یہ ہے کہ انسان کثرت سے درود و سلام پڑھے اور اپنے دل کو آپﷺ کی یاد سے آباد رکھے۔
• تیسری علامت: سنّت سے محبت:
محبتِ رسولﷺ کا ایک اہم مظہر سنّتِ نبویﷺ سے محبت ہے۔ سنّت صرف چند ظاہری عادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ رسول اللہﷺ کے پورے طرزِ زندگی، اخلاق، عبادت، معاملات، معاشرت اور انسانوں سے برتاؤ کا نام ہے۔ سنّت سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اسے بوجھ نہیں بلکہ سعادت سمجھے؛ اسے ماضی کی روایت نہیں بلکہ آج کی زندگی کے لیے ہدایت سمجھے۔ ایک سچا عاشقِ رسولﷺ یہ سوال نہیں کرتا کہ "سنّت پر چلنے سے مجھے کیا ملے گا؟” بلکہ وہ یہ سوچتا ہے کہ "میرے محبوبﷺ کا طریقہ کیا ہے؟”
• چوتھی علامت: اخلاقِ نبویﷺ کو اختیار کرنا:
رسول اللہﷺ کی سیرت کا سب سے نمایاں پہلو آپﷺ کا عظیم اخلاق ہے۔ قرآن نے فرمایا: وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ۔ "اور بے شک آپﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں” (القلم: 4)۔ محبتِ رسولﷺ کی حقیقی آزمائش انسان کے اخلاق میں ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص نبی کریمﷺ کا نام تو محبت سے لیتا ہو لیکن زبان سے دوسروں کو زخمی کرتا ہو، معاملات میں خیانت کرتا ہو، کمزوروں پر سختی کرتا ہو، غریبوں کو حقیر سمجھتا ہو، گھر والوں سے بدسلوکی کرتا ہو اور اختلاف میں تہذیب کھو دیتا ہو تو اسے اپنے دعوائے محبت کا جائزہ لینا چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی اخلاق، عدل اور رحم کا معاملہ کیا۔ فتحِ مکّہ کے موقع پر وہ لوگ بھی آپﷺ کے سامنے تھے جنہوں نے برسوں تک ظلم و ستم کیا تھا، لیکن طاقت ملنے کے بعد انتقام کے بجائے عفو و درگزر کا راستہ اختیار کیا گیا۔ لہٰذا محبتِ رسولﷺ کا ایک بڑا نشان یہ ہے کہ انسان کا وجود دوسروں کے لیے رحمت بن جائے۔
• پانچویں علامت: آپﷺ کی تعلیمات کو زندگی کے مسائل کا حل سمجھنا:
محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان رسول اللہﷺ کی تعلیمات کو صرف مسجد یا مذہبی مجلس تک محدود نہ کرے، بلکہ زندگی کے ہر میدان میں ان سے رہنمائی حاصل کرے۔ گھر میں محبت و شفقت، بازار میں دیانت، سیاست میں عدل، عدالت میں انصاف، معاشرے میں خیر خواہی، معیشت میں امانت، تعلیم میں اخلاق، اختلاف میں تحمل، کمزوروں کے ساتھ ہمدردی اور طاقتوروں کے سامنے حق گوئی—یہ سب نبوی تعلیمات کے عملی مظاہر ہیں۔ رسول اللہﷺ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ دین زندگی سے فرار کا نام نہیں بلکہ زندگی کی اصلاح کا نام ہے۔
• چھٹی علامت: آپﷺ کے مشن اور دعوت سے وابستگی:
رسول اکرمﷺ نے اپنی پوری زندگی انسانوں کو اللہ کی طرف بلانے، ظلم کو ختم کرنے، انسان کو انسان کی غلامی سے نکالنے، اخلاق کو بلند کرنے اور عدل و خیر کا معاشرہ قائم کرنے میں صرف کردی۔ اس لیے محبتِ رسولﷺ کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان خیر کے پیغام کو آگے بڑھانے والا بنے۔ وہ اپنے گھر، خاندان، محلے، ادارے اور معاشرے میں خیر، اصلاح اور بھلائی کا ذریعہ بنے۔ محبت صرف دل میں چھپی ہوئی کیفیت نہیں؛ محبت انسان کو متحرک کرتی ہے۔ عاشق اپنے محبوب کے پیغام کو اپنے تک محدود نہیں رکھتا۔
• ساتویں علامت: انسانیت کے لیے رحمت بننا:
رسول اکرمﷺ کی بعثت کا ایک عظیم وصف قرآن نے یہ بیان کیا: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔ "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا” (الانبیاء: 107)۔ یہاں "العالمین” کا لفظ محبتِ رسولﷺ کے دائرے کو وسیع کردیتا ہے۔ آپﷺ کی رحمت صرف ایک فرد، خاندان، قبیلے یا قوم تک محدود نہیں؛ بلکہ انسانیت، بلکہ تمام جہانوں کے لیے ہے۔ لہٰذا جو شخص رسولِ رحمتﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے، اس کے وجود سے بھی رحمت، خیر خواہی، نرمی، عدل اور انسان دوستی کا ظہور ہونا چاہیے۔ اسے یتیم کے آنسو دکھائی دیں، بیوہ کی ضرورت محسوس ہو، مزدور کی تھکن کا احساس ہو، غریب کی بے بسی سمجھ میں آئے، بیمار کے درد کا ادراک ہو اور مظلوم کی آہ دل کو بے چین کرے۔ محبتِ رسولﷺ انسان کو صرف عبادت گزار نہیں بناتی؛ اسے انسانوں کا خیر خواہ بھی بناتی ہے۔
• آٹھویں علامت: والدین، اہلِ خانہ اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک:
رسول اللہﷺ کی سیرت میں گھر کے اندر حسنِ اخلاق کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ آپﷺ اہلِ خانہ کے ساتھ محبت، شفقت اور تعاون کا معاملہ فرماتے تھے۔ اس لیے محبتِ رسولﷺ کی حقیقت یہ بھی ہے کہ انسان اپنے قریب ترین لوگوں کے لیے اچھا انسان بنے۔ بعض اوقات انسان دنیا کے سامنے نرم خو اور گھر کے اندر سخت مزاج ہوتا ہے۔ یہ نبوی مزاج کے خلاف ہے۔ محبت کا پہلا امتحان گھر سے شروع ہوتا ہے۔ اگر رسول اللہﷺ کی محبت دل میں ہے تو اس کے اثرات سب سے پہلے والدین، شریکِ حیات، اولاد، بہن بھائی، رشتہ دار، پڑوسی اور زیرِ دست افراد کے ساتھ رویے میں ظاہر ہونے چاہییں۔
• نویں علامت: عدل اور امانت:
نبوی سیرت کا ایک بنیادی ستون عدل ہے۔ محبتِ رسولﷺ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے دوست کے لیے بھی وہی انصاف پسند کرے جو اپنے لیے چاہتا ہے اور مخالف کے ساتھ بھی ظلم نہ کرے۔ حقیقی عاشق وہ ہے جو تجارت میں دھوکا نہ دے، امانت میں خیانت نہ کرے، وعدہ پورا کرے، کسی کا حق نہ مارے، عہد کی پاسداری کرے اور اپنی طاقت کو دوسروں کے استحصال کا ذریعہ نہ بنائے۔ محبت اگر کردار میں امانت پیدا نہیں کرتی تو اس محبت کے عملی ثمرات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
• دسویں علامت: آپﷺ کی ناموس و حرمت سے قلبی وابستگی—اور اس کا نبوی طریقہ:
مسلمان کے دل میں رسول اللہﷺ کی محبت اور تعظیم بنیادی ایمانی جذبہ ہے۔ آپﷺ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں بے ادبی یا گستاخی اہلِ ایمان کے دلوں کو فطری طور پر شدید رنج پہنچاتی ہے۔ لیکن محبتِ رسولﷺ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس محبت کا اظہار آپﷺ کے اپنے اسوۂ حسنہ کے مطابق ہو۔ قرآن ہمیں حکمت، عدل، صبر، حسنِ گفتگو اور اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے ناموسِ رسالتﷺ کا دفاع علم، حکمت، قانونی و پُرامن ذرائع، اخلاقی قوت اور سیرتِ نبویﷺ کے بہترین تعارف کے ذریعے کرنا محبت کا زیادہ مؤثر اور دیرپا اظہار ہے۔ رسول اللہﷺ کی محبت کا دفاع اگر رسول اللہﷺ کے اخلاق ہی کو پامال کرکے کیا جائے تو مقصد اور طریقۂ کار کے درمیان ایک خطرناک تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ محبتِ مصطفیٰﷺ کی سب سے خوب صورت ترجمانی یہ ہے کہ ہم مصطفیٰﷺ کے اخلاق کو اپنے عمل میں زندہ کردیں۔
• گیارہویں علامت: آپﷺ کی سیرت کا مطالعہ:
جس سے محبت ہو، انسان اس کی زندگی جاننا چاہتا ہے۔ اس کے حالات پڑھتا ہے، اس کے اقوال یاد کرتا ہے، اس کے معمولات کو سمجھتا ہے اور اس کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ اس لیے محبتِ رسولﷺ کا ایک لازمی تقاضا سیرت کا مسلسل مطالعہ ہے۔ صرف ربیع الاوّل میں سیرت پڑھ لینا کافی نہیں؛ سیرت کو سال بھر کی فکری و عملی تربیت کا حصّہ بنانا چاہیے۔ ہمیں مکّی زندگی کے صبر، دعوت اور استقامت سے بھی سیکھنا ہے؛ مدنی زندگی کے نظم، عدل اور اجتماعی تعمیر سے بھی؛ طائف کے واقعے سے عفو و رحمت سیکھنی ہے؛ فتحِ مکّہ سے اقتدار میں اخلاق سیکھنا ہے؛ مواخاتِ مدینہ سے اخوت سیکھنی ہے؛ میثاقِ مدینہ سے شہری ذمّہ داری اور اجتماعی نظم کے اصول سمجھنے ہیں۔
• بارہویں علامت: اپنی خواہشات پر سنّت کو مقدم رکھنا:
محبت کی سب سے مشکل مگر سب سے معتبر علامت یہ ہے کہ جب انسان کی خواہش ایک طرف ہو اور رسول اللہﷺ کی ہدایت دوسری طرف، تو وہ اپنی خواہش کو چھوڑ کر سنّت کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں محبت دعوے سے حقیقت بن جاتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ۔ "پس آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو حَکم نہ مان لیں” (النساء: 65)۔ یعنی محبت صرف وہاں نہیں جہاں سنّت ہماری طبیعت کے مطابق ہو؛ بلکہ محبت وہاں بھی ہے جہاں سنّت ہماری خواہش کے خلاف ہو، مگر ہم محبوبِ خداﷺ کی ہدایت کو ترجیح دے دیں۔
محبتِ رسولﷺ اور عصرِ حاضر:
آج کا انسان معلومات کی کثرت مگر حکمت کی کمی، رابطوں کی فراوانی مگر حقیقی تعلقات کی کمزوری، مادی ترقی مگر روحانی اضطراب، اظہار کی آزادی مگر اخلاقی ذمّہ داری کے فقدان جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے دور میں محبتِ رسولﷺ کا پیغام محض ایک مذہبی جذبہ نہیں بلکہ ایک انسانی، اخلاقی اور تہذیبی ضرورت بھی ہے۔ دنیا کو ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو طاقت رکھتے ہوئے عادل ہوں، اختلاف رکھتے ہوئے مہذب ہوں، دولت رکھتے ہوئے فیاض ہوں، علم رکھتے ہوئے متواضع ہوں، اقتدار رکھتے ہوئے جواب دہ ہوں اور مذہبی وابستگی رکھتے ہوئے انسانیت کے لیے رحمت بنیں۔ یہی وہ نبوی کردار ہے جس کی آج کے انسان کو شدید ضرورت ہے۔
محبت اگر فرد کے اندر چراغ روشن کرتی ہے تو اس چراغ کی روشنی معاشرے تک بھی پہنچنی چاہیے۔ محبتِ رسولﷺ کا اجتماعی تقاضا یہ ہے کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کریں جہاں کمزور محفوظ ہو، مظلوم کو انصاف ملے، غریب کی عزّت محفوظ ہو، عورت کو احترام حاصل ہو، بچّے محبت پائیں، پڑوسی سکون سے رہیں، اقلیتیں اپنے حقوق کے ساتھ زندگی گزاریں اور اختلاف دشمنی میں تبدیل نہ ہو۔ رسول اللہﷺ نے مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جس میں ایمان کے ساتھ عدل، عبادت کے ساتھ خدمت، اخوت کے ساتھ ذمّہ داری اور حقوق کے ساتھ فرائض کا شعور موجود تھا۔ لہٰذا اگر ہم واقعی آپﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنے معاشرے میں نبوی اخلاق کی اجتماعی ترجمانی بھی کرنی ہوگی۔
ہر شخص کو کبھی نہ کبھی اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے:
کیا میری نماز میں نبوی خشوع کی کوئی جھلک ہے؟
کیا میرے معاملات میں نبوی امانت ہے؟
کیا میری گفتگو میں نبوی شائستگی ہے؟
کیا میرے گھر میں نبوی شفقت ہے؟
کیا میرے اختلاف میں نبوی تحمل ہے؟
کیا میرے فیصلوں میں نبوی عدل ہے؟
کیا میرے کمزوروں کے ساتھ رویے میں نبوی رحمت ہے؟
کیا میری زندگی میں سنّت میرے مفاد سے بلند ہے؟
اگر ان سوالات کا جواب تلاش کرتے ہوئے ہمیں اپنے اندر کمزوریاں نظر آئیں تو یہی لمحہ محبت کو مزید حقیقی بنانے کا نقطۂ آغاز ہے۔
محبتِ رسولﷺ ایک ایسی دولت ہے جس کی قیمت دنیا کی کسی نعمت سے ادا نہیں کی جاسکتی۔ یہ دل کا وہ چراغ ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے؛ یہ وہ تعلق ہے جو انسان کو اپنے نفس کی غلامی سے نکال کر اسوۂ مصطفیٰﷺ کی پیروی عطا کرتا ہے۔ لیکن محبت کا کمال صرف آنکھوں کے آنسو، زبان کے نعرے اور دل کی کیفیات میں نہیں؛ محبت کا اصل حسن زندگی کے بدل جانے میں ہے۔ اگر رسول اللہﷺ سے محبت ہے تو ہماری زبان میں نرمی آئے، ہمارے دل میں رحم پیدا ہو، ہمارے معاملات میں دیانت آئے، ہمارے گھروں میں سکون آئے، ہمارے معاشرے میں خیر بڑھے، ہمارے اختلاف میں اخلاق باقی رہے اور ہماری زندگی انسانیت کے لیے نفع بخش بن جائے۔
محبتِ رسولﷺ کا سب سے خوب صورت ثبوت یہی ہے کہ انسان جہاں جائے وہاں سیرتِ مصطفیٰﷺ کی خوشبو محسوس ہو؛ اس کی گفتگو میں خیر، اس کے کردار میں صدق، اس کے معاملات میں امانت، اس کے دل میں رحمت اور اس کے عمل میں سنّت کی روشنی دکھائی دے۔ کیونکہ سچا عاشق صرف یہ نہیں کہتا کہ "مجھے رسول اللہﷺ سے محبت ہے”؛ اس کی پوری زندگی خاموشی سے گواہی دیتی ہے کہ "میں اپنے محبوبﷺ کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتا ہوں”۔ اور یہی محبت کا وہ مقام ہے جہاں عقیدت کردار بنتی ہے، جذبات عمل بنتے ہیں، سیرت زندگی بنتی ہے اور محبت انسان کو خود بھی رحمت کا پیکر بنا دیتی ہے۔
🗓 (24.08.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے