कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اورنگ آباد کی ادبی فضا میں ایک روشن نام: ڈاکٹر شہاب افسر

تحریر : خان افراء تسکین (اورنگ آباد)
فون نمبر: 9545857089

شہرِ اورنگ آباد کو اگر اہلِ ادب و دانش کی بستی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس شہر کی تہذیبی و ادبی فضا نے ہر دور میں ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنے علم، فکر، فن اور قلم سے نہ صرف اردو ادب کی آبیاری کی بلکہ شہرِ عزیز اورنگ آباد کو ادبی دنیا میں ایک منفرد شناخت بھی عطا کی۔ جب اہلِ قلم اور اربابِ ادب کا ذکر چھڑے تو شہرِ اورنگ آباد کی معروف علمی و ادبی شخصیت، ممتاز افسانہ نگار اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر شہاب افسر کا نام بھلا کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر شہاب افسر اُن اہلِ علم و قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی ہمہ جہت علمی، تعلیمی اور ادبی خدمات کے ذریعے شہرِ اورنگ آباد کی شناخت کو مزید مستحکم کیا۔ گزشتہ پچاس برس سے تدریس، تعلیم، تربیت اور تنظیمی سرگرمیوں سے وابستہ ڈاکٹر شہاب افسر نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ نئی نسل کی علمی و فکری تربیت میں صرف کیا ہے۔ ملک و بیرونِ ملک مختلف تعلیمی اداروں میں بحیثیت پرنسپل اپنی ذمہ داریاں نہایت حسنِ خوبی سے نبھانے کے بعد شہرِ عزیز میں بھی انگریزی میڈیم تعلیم کے میدان میں ایک نمایاں مقام پیدا کیا۔
اسی سلسلے کی ایک روشن کڑی ونچسٹر انٹرنیشنل انگلش اسکول ہے، جس کی بنیاد رکھ کر ڈاکٹر شہاب افسر نے علم و تعلیم کا جو چراغ روشن کیا، وہ گزشتہ نو برس سے نہ جانے کتنے نو نہالوں کے مستقبل کو منور کر رہا ہے۔ بحیثیت ڈائریکٹر اور پرنسپل وہ آج بھی اپنی تعلیمی ذمہ داریاں پوری دل جمعی سے انجام دے رہے ہیں۔ تاہم قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ تدریس و انتظامی مصروفیات کی کثرت بھی ان کے قلم کی روانی کو ماند نہ کر سکی۔ انہوں نے علم کی شمع کے ساتھ اپنے قلم کی لو بھی ہمیشہ روشن رکھی اور اپنے افکار و احساسات کی روشنی قارئین تک پہنچاتے رہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ڈاکٹر شہاب افسر کی متعدد تصانیف منظرِ عام پر آئیں، جن میں ’’میرے افسانے‘‘، ’’دلِ ناداں‘‘، ’’ایسا کہاں سے لاؤں تجھ سا کہیں جسے‘‘ اور ’’بہت نکلے میرے ارماں‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ان تصانیف کے ذریعے انہوں نے اردو افسانے میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کی کتاب ’’میرے افسانے‘‘ کو مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے سال 2022ء کی کتب کے لیے انعام کے انتخاب میں شامل کیا جانا بھی ان کی ادبی کاوشوں کا اعتراف ہے۔ اسی طرح ان کی تیسری کتاب ’’ایسا کہاں سے لاؤں تجھ سا کہیں جسے‘‘ کو مضامین کے زمرے میں مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ کے لیے منتخب کیے جانے کا اعلان کیا گیا، جو ان کے ادبی مقام اور تخلیقی صلاحیتوں کا روشن ثبوت ہے۔
ڈاکٹر شہاب افسر کی تازہ تصنیف ’’بہت نکلے میرے ارماں‘‘ محض افسانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے گوناگوں رنگوں، جذبات، احساسات اور نفسیاتی کیفیات کا ایک خوب صورت مرقع ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف نے زندگی کے مختلف تجربات، مشاہدات اور احساسات کو موتیوں کی طرح چن کر ایک لڑی میں پرو دیا ہو۔ اس کتاب میں شامل 26 افسانے دراصل 26 ایسے موتی ہیں جو مل کر ایک حسین ادبی ہار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
ڈاکٹر شہاب افسر کے افسانوں کی سب سے نمایاں خوبی ان کی سادگی، برجستگی اور فطری اندازِ بیان ہے۔ وہ مشکل اور ثقیل الفاظ کے بجائے روزمرہ زندگی سے قریب زبان اختیار کرتے ہیں، جس کے باعث قاری خود کو افسانے کے کرداروں اور واقعات کے بہت قریب محسوس کرتا ہے۔ ان کے افسانوں میں انسانی نفسیات کی باریکیاں، رشتوں کی نزاکتیں، جذبات کی شدت، احساسات کی لطافت اور زندگی کے نشیب و فراز نہایت سادگی مگر گہری معنویت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
ان کے افسانے محض واقعات بیان نہیں کرتے بلکہ انسان کے باطن میں اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہیں باپ اور بیٹے کا رشتہ اپنی تمام تر محبت و شفقت کے ساتھ سامنے آتا ہے، کہیں دادا جان کی شخصیت ماضی کی خوشبو لیے دل کو چھو جاتی ہے، کہیں رشتوں کی حرارت محسوس ہوتی ہے تو کہیں زندگی کی تلخیوں اور محرومیوں کا عکس دکھائی دیتا ہے۔
کتاب کے افسانوں میں ’’ایوارڈ‘‘، ’’فلائٹ‘‘، ’’مرد‘‘، ’’پاپا‘‘، ’’بیٹا‘‘ اور ’’دادا جان‘‘ جیسے عنوانات اپنے اندر زندگی کے مختلف پہلو سموئے ہوئے ہیں۔ یہ افسانے قاری کو صرف پڑھنے پر مجبور نہیں کرتے بلکہ اسے رک کر سوچنے، اپنے گردوپیش کو نئے زاویے سے دیکھنے اور اپنے اندر جھانکنے پر بھی آمادہ کرتے ہیں۔
ڈاکٹر شہاب افسر نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور مشاہدات کو جس خوب صورتی سے افسانوی قالب میں ڈھالا ہے، وہ ان کی تخلیقی بصیرت کا مظہر ہے۔ ان کے ہاں ذاتی تجربہ محض ذاتی تجربہ نہیں رہتا بلکہ افسانے کی صورت اختیار کرکے ایک اجتماعی انسانی تجربہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو ایک اچھے افسانہ نگار کو محض واقعہ نگار سے ممتاز کرتا ہے۔
’’بہت نکلے میرے ارماں‘‘ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنے دل کی تہوں میں چھپے ان احساسات اور ارمانوں کو لفظوں کا لباس عطا کیا ہے جنہیں شاید زندگی کی مصروفیات نے کبھی اظہار کا موقع نہیں دیا تھا۔ یہ کتاب گویا مصنف کے اندرون کا آئینہ ہے، جس میں کہیں محبت کا عکس ہے، کہیں جدائی کی کسک، کہیں رشتوں کی خوشبو، کہیں یادوں کی دھند اور کہیں زندگی کی حقیقتوں کا بے ساختہ اعتراف۔
ڈاکٹر شہاب افسر کی تحریر کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ قاری پر اپنا نقطۂ نظر مسلط نہیں کرتے۔ وہ ایک منظر پیش کرتے ہیں، ایک احساس جگاتے ہیں اور پھر فیصلہ قاری کے سپرد کر دیتے ہیں۔ یہی آزادیِ فکر ان کے افسانوں کو مزید مؤثر بناتی ہے۔
بلاشبہ ’’بہت نکلے میرے ارماں‘‘ ڈاکٹر شہاب افسر کی ادبی کاوشوں میں ایک اہم اضافہ ہے۔ یہ مجموعہ ان کے وسیع مطالعے، گہرے مشاہدے، انسانی نفسیات سے واقفیت اور زندگی کے تجربات کا آئینہ دار ہے۔ ان کے افسانے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ادب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی دل کی آواز، زندگی کا عکس اور احساسات کی ترجمانی بھی ہے۔
شہرِ اورنگ آباد کے علمی و ادبی افق پر ڈاکٹر شہاب افسر کا نام ایک ایسے صاحبِ قلم کی حیثیت سے روشن ہے جو نصف صدی سے تعلیم و تربیت کے چراغ روشن کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے قلم کی شمع بھی فروزاں رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی ادبی تخلیقات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اگر دل میں کچھ کہنے کی تڑپ اور معاشرے کو سمجھنے کی نگاہ موجود ہو تو مصروف ترین زندگی میں بھی قلم اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔
’’بہت نکلے میرے ارماں‘‘ دراصل اُنہی بکھرے ہوئے احساسات کا ایک خوب صورت مجموعہ ہے جو ڈاکٹر شہاب افسر نے اپنے قلم کے ذریعے موتیوں کی طرح سمیٹ کر قارئین کی نذر کر دیے ہیں۔ یہ کتاب صرف پڑھی نہیں جاتی، بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر شہاب افسر کی پانچویں کتاب ’’سو افسانچے‘‘ طباعت ہو کر تیار ہے اور جلد ہی منظرِ عام پر آنے والی ہے۔ یہ ان کے مسلسل تخلیقی سفر کی ایک اور خوب صورت کڑی ہے اور بلاشبہ ان کے قارئین کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔
مجموعی طور پر یہ مضمون نہایت عمدہ اور مؤثر ہے اور ڈاکٹر شہاب افسر کی علمی، تعلیمی اور ادبی خدمات کو خوب صورت انداز میں اجاگر کرتا ہے۔
دعا ہے کہ ڈاکٹر شہاب افسر کا قلم اسی طرح رواں رہے، ان کے تخلیقی سفر میں مزید وسعت آئے اور وہ اپنی علمی، تعلیمی اور ادبی خدمات کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے اسی طرح چراغِ راہ بنے رہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے