कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایس آئی آر ‘ تلنگانہ میں سب سے زیادہ رائے دہندے حذف

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کا اینومریشن مرحلہ 10 اگست کو ختم ہوا اور 17 اگست کو مسودہ انتخابی فہرست شائع کر دی گئی ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے کل 3,38,26,448 ووٹروں میں سے 2,64,87,213 (78.30 فیصد) کے اینومریشن فارم جمع اور ڈیجیٹائز ہو کر مسودہ فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس 73,39,235 (21.70 فیصد) نام مسودہ فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں جن میں 45,18,963 مستقل طور پر منتقل شدہ، 11,25,546 غائب یا ناقابلِ تلاش، 9,22,229 متوفی، 6,70,203 پہلے سے دوسری جگہ رجسٹرڈ اور 1,02,294 دیگر زمرے میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 92.87 لاکھ ووٹروں کو اینوملیز یا 2002 کی فہرست سے میپنگ نہ ہونے کی وجہ سے نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں (تقریباً 60.5 لاکھ اینوملی کیسز اور 32.3 لاکھ ان میپڈ)۔ دعوے اور اعتراضات 17 اگست سے 16 ستمبر تک داخل کیے جا سکتے ہیں جبکہ حتمی فہرست 19 اکتوبر کو شائع ہوگی۔حیدرآباد میں صورتحال سب سے خراب رہی جہاں 19,41,444 نام خارج کیے گئے اور مسودہ فہرست میں صرف 27,95,225 ووٹر رہ گئے۔ میڈچل ملکاجگری میں 10.71 لاکھ اور رنگاریڈی میں 12.87 لاکھ نام حذف ہوئے جبکہ دیہی اضلاع میں نسبتاً کم حذف ہوا جہاں یادادری بھونگیر میں صرف 26 ہزار کے قریب نام نکلے۔ 8 اگست دوسرا ہفتہ، 9 اگست اتوار اور 10 اگست بونال تہوار کے مسلسل تین دن تعطیلات نے آخری دنوں میں کام کو مزید متاثر کیا تھا۔
اگر دیگر ریاستوں سے موازنہ کیا جائے تو تلنگانہ میں حذف کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ آندھرا پردیش میں 44.89 لاکھ (10.78 فیصد)، ہریانہ میں 33.83 لاکھ (16.38 فیصد) اور اڈیشہ میں 20.12 لاکھ (6.02 فیصد) نام حذف ہوئے۔ مہاراشٹر میں اینومریشن کے اختتام پر تقریباً 7.69 کروڑ (78.64 فیصد) فارم ڈیجیٹائز ہوئے جبکہ 2.08 کروڑ (21.25 فیصد) ان کلیکٹ ایبل رہے۔ کرناٹک میں تقریباً 4.46 کروڑ (80.46 فیصد) فارم ڈیجیٹائز ہوئے اور 1.08 کروڑ (19.54 فیصد) ASDDO زمرے میں آئے۔ تلنگانہ کا 21.70 فیصد تناسب بڑی ریاستوں میں سب سے بلند ہے۔
ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن نے اس عمل کے دوران شعور بیداری کے لیے کئی اقدامات کیے۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے شہری علاقوں بالخصوص جھگی بستوں، بلند عمارتوں اور گیٹڈ کمیونٹیز میں وسیع پیمانے پر آگاہی مہمات چلانے کی ہدایات جاری کیں۔ ریاست بھر میں ہوڈنگز لگائی گئیں، عوامی اعلانات کیے گئے اور ہیلپ لائنز قائم کی گئیں۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کانگریس رہنماؤں کو 10 دن کی انتباہی مدت دے کر شعور بیداری مہمات تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اگر کوئی قصوروار پایا گیا تو انچارج تبدیل کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے وزراء اور ایم ایل ایز کو ہدایت کی کہ ہر حلقے میں آگاہی پروگرام منظم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے آخری مرحلے میں فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ متعارف کرایا جو می سیوا کے ذریعے جاری کیا جا رہا ہے۔این جی اوز اور سول سوسائٹی تنظیموں نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ مونٹ فورٹ سوشل انسٹی ٹیوٹ، نیشنل ورکرز ویلفیئر ٹرسٹ اور تلنگانہ ووٹر رائٹس فورم جیسی تنظیموں نے غیر رسمی مزدوروں، گھریلو ملازموں اور پسماندہ طبقات میں شعور بیداری سیشنز منعقد کیے، متعدد اضلاع میں جا کر آگاہی پھیلائی اور حکومت و الیکشن کمیشن کو کثیر لسانی مہمات، ہیلپ ڈیسکس اور وقت میں توسیع کی سفارشات پیش کیں۔ سیاسی جماعتوں نے بھی ہیلپ ڈیسکس قائم کیے۔اس کے باوجود آن لائن ڈیٹا اندراج کے دوران لاکھوں ووٹروں کے ریکارڈ میں غلطیاں اور اینوملیز پائی گئیں جبکہ غائب، منتقل شدہ، متوفی اور ڈپلیکیٹ زمرے میں 73 لاکھ سے زائد نام حذف کے لیے نشان زد ہو چکے ہیں۔ حیدرآباد میں ہی تقریباً 19 لاکھ ووٹر اس زمرے میں آئے۔
مسودہ فہرست پر سیاسی حلقوں سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ کانگریس، بی آر ایس اور اے آئی ایم آئی ایم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جائز ووٹرز، خاص طور پر حیدرآباد اور پرانے شہر کے علاقوں میں، متاثر ہو سکتے ہیں۔ بی جے پی نے اس عمل کو فہرستوں کی ضروری صفائی قرار دیا ہے اور مخالفین پر سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا ہے۔ملک بھر میں بھی ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔ جن 12 ریاستوں میں مسودہ فہرستیں شائع ہو چکی ہیں وہاں کل 13.77 کروڑ ووٹروں میں سے 1.58 کروڑ یعنی 11.51 فیصد نام حذف کیے گئے ہیں۔ آندھرا پردیش میں 44.89 لاکھ (10.78 فیصد) نام حذف ہوئے جبکہ کرناٹک میں تقریباً 1.11 کروڑ (20 فیصد) ووٹر نشان زد ہوئے ہیں۔ دہلی، مہاراشٹر اور کرناٹک میں اینومریشن کا مرحلہ حال ہی میں ختم ہوا ہے اور مسودہ فہرستیں 24 اگست کے آس پاس شائع ہونے والی ہیں۔
ووٹر لسٹوں کی درستگی کے مسائل کئی دہائیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ پرانی فہرستوں میں مردہ افراد کے نام برقرار رہتے تھے، ایک ہی شخص کے متعدد اندراجات ہوتے تھے، منتقل شدہ ووٹرز کی تفصیلات اپ ڈیٹ نہیں ہوتیں اور شہری علاقوں میں کرائے کے مکانات میں رہنے والے مزدوروں اور طلبہ کے پتے بار بار تبدیل ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تضادات پیدا ہوتے تھے۔ 2002 کی فہرست سے موجودہ فہرست کی میپنگ کے دوران لاکھوں ناموں میں تضاد سامنے آیا۔ ان مسائل نے انتخابات میں جعلی ووٹنگ اور غیر شفافیت کے خدشات کو جنم دیا تھا۔ ایس آئی آر کا مقصد انہی خرابیوں کو دور کرنا تھا مگر عملی طور پر شہری علاقوں میں سست روی، دستاویزات کی کمی اور آگاہی کی کمی نے نئے مسائل پیدا کر دیے۔
سیاسی طور پر ایس آئی آر پر بی جے پی اور غیر بی جے پی ریاستوں کے موقف میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ بی جے پی اور اس کی حکومت والی ریاستوں میں اسے ووٹر لسٹوں کی درستگی کا ضروری عمل قرار دیا جاتا ہے جس کا مقصد مردہ، ڈپلیکیٹ اور غیر قانونی تارکین وطن کے نام حذف کرنا ہے۔ بی جے پی رہنما اسے جمہوریت کو مضبوط بنانے اور بوگس ووٹنگ روکنے کا ذریعہ بتاتے ہیں۔ اس کے برعکس کانگریس، ٹی ایم سی اور دیگر مخالف جماعتیں اسے اقلیتی، غریب، مہاجر اور پسماندہ طبقات کے حق رائے دہی کو نشانہ بنانے کی سازش قرار دیتی ہیں۔ تلنگانہ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ یہ عمل سیکولر ووٹوں کو حذف کرنے کی کوشش ہے جبکہ کرناٹک کے چیف منسٹر نے بھی آگاہی مہم تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فہرستوں کی درستگی ضروری ہے مگر طریقہ کار میں شفافیت کی کمی اور مختصر مدت نے لاکھوں مستحق ووٹروں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کی رائے تھوڑی مختلف ہے سابق الیکشن کمشنرز اور آئینی ماہرین میں سے کچھ اسے ضروری بہتری کا عمل قرار دیتے ہیں جس سے فہرستوں کی درستگی بڑھتی ہے اور جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مردہ اور ڈپلیکیٹ ناموں کا حذف کرنا مناسب ہے کیونکہ غیر درست فہرستیں انتخابات کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ دوسری طرف سیاسی سائنسدان یوگیندر یادو، سابق آئی اے ایس افسران اور سول سوسائٹی کے گروپس جیسے کنسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ نے تنقید کی ہے کہ بڑے پیمانے پر حذف (ملک بھر میں 5 سے 6 کروڑ سے زائد) شمولیت کے بجائے اخراج کا آلہ بن گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کی معنویت یہ ہونی چاہیے کہ ہر اہل شہری شامل رہے اور نااہل باہر، مگر عملی طور پر دستاویزات کی سخت شرائط، 2002 کی فہرست سے میپنگ اور مختصر مدت نے غریب، مہاجر، خواتین اور اقلیتی طبقات کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی اقلیتوں کے ساتھ ممکنہ امتیاز کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ووٹرز کا حذف کرنا مناسب ہے یا نہیں۔ ماہرین کا متفقہ موقف یہ ہے کہ مردہ، ڈپلیکیٹ اور غیر موجود افراد کے نام حذف کرنا ضروری اور درست ہے، مگر جب لاکھوں جائز ووٹر دستاویزات کی کمی یا عمل کی سست روی کی وجہ سے باہر رہ جائیں تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصول یونیورسل ایڈلٹ فرنچائز کی خلاف ورزی بن جاتا ہے۔ تلنگانہ میں 73 لاکھ سے زائد حذف اور ملک بھر میں کروڑوں کی تعداد نے اس بحث کو تیز کر دیا ہے کہ صفائی کے نام پر اگر شمولیت متاثر ہو تو اقتدار کا توازن بگڑ سکتا ہے اور عوامی اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔
یہ صورتحال محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ جمہوریت کی جڑوں پر ضرب لگانے والی بات ہے۔ ووٹ صرف ایک کاغذ یا الیکٹرانک مشین کا بٹن نہیں ہوتا۔ یہ ہر شہری کی آواز ہے، اس کی طاقت ہے اور اس کے وجود کا ثبوت ہے۔ جمہوریت میں اقتدار عوام کے ہاتھ سے نکلتا ہے اور وہی اقتدار واپس عوام کے پاس آتا ہے جب وہ اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر لاکھوں جائز ووٹر لسٹ سے باہر رہ جائیں تو اقتدار کا توازن بگڑ جاتا ہے، نمائندگی ناقص ہو جاتی ہے اور حکمرانی کا حق چند ہاتھوں تک سمٹنے لگتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں ووٹ کی قدر کم ہوئی وہاں آمریت نے جنم لیا اور جہاں ووٹ کو مقدس سمجھا گیا وہاں جمہوریت مضبوط ہوئی۔
تلنگانہ جیسی ریاست میں جہاں مختلف طبقات، مذاہب اور علاقے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، ہر ووٹ کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ ایک غریب مزدور کا ووٹ، ایک خاتون کا ووٹ، ایک نوجوان کا ووٹ اور ایک بزرگ کا ووٹ سب مل کر ہی اس ریاست کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے بڑی تعداد محروم ہو جائے تو اقتدار کی عمارت کھوکھلی ہو جائے گی۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ مسلسل نگرانی، احتساب اور عوامی شرکت کا نام ہے۔ جب ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر حذف کا عمل چلتا ہے تو یہ نہ صرف حق رائے دہی پر حملہ ہے بلکہ اس بنیادی اصول پر بھی ضرب ہے کہ اقتدار عوام کا امانت ہے۔اب مسودہ فہرست شائع ہو چکی ہے۔ دعوے اور اعتراضات کے مرحلے کو لچکدار اور شفاف رکھا جائے تاکہ مستحق شہری دستاویزات کے ساتھ پیش ہو سکیں۔ بلاک لیول آفیسرز کی مدد اور آن لائن سہولت کو مزید آسان بنایا جائے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے نام چیک کریں (voters.eci.gov.in یا 1950 پر ایس ایم ایس کے ذریعے) اور اگر نام نہیں ہے تو دعویٰ داخل کریں۔ ریاستی حکومت، الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کو مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی مستحق ووٹر محروم نہ رہے۔
لمحہ فکر یہ ہے کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران بڑے پیمانے پر نام حذف ہونے کے بعد سیاسی منظر نامے میں شدید ہلچل دیکھی گئی تھی اور مخالفین نے اسے حکومتی تبدیلی کا سبب قرار دیا تھا۔ تلنگانہ میں حذف کا تناسب 21.70 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو بنگال سمیت کئی ریاستوں سے زیادہ ہے۔ اگر دعوے اور اعتراضات کے مرحلے میں بڑی تعداد میں جائز ووٹرز واپس نہ آ سکے تو یہ سیاسی توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم تلنگانہ میں کانگریس حکومت خود آگاہی مہمات چلا رہی ہے اور دعوے کے مرحلے میں مستحق ووٹرز کو شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لیے اب اصل امتحان یہ ہے کہ حتمی فہرست کتنی شفاف اور جامع بنتی ہے، کیونکہ صرف حذف کا زیادہ تناسب ہی حکومت تبدیل کرنے کا ضامن نہیں ہوتا بلکہ عوامی ردعمل، سیاسی تنظیم اور حق رائے دہی کی حفاظت کرنے والی کوششیں بھی فیصلہ کن ثابت ہوتی ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے