कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عمرخالداورشرجیل امام کی طویل حراست تشویشناک!

تحریر:سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

مقدمہ شروع کئے بغیر 6 برس سے شرجیل امام اورعمرخالدجیل میں ہیں،اس طرح مقدمے کی سماعت سے پہلےطویل مدت تک حراست میں رکھنا انتہائی سنگین اورتشویشناک ہے،جبکہ اسی قانونی فریم ورک کے تحت الزامات کا سامنا کرنے والے دیگر کئی ملزمان کو سپریم کورٹ پہلے ہی ضمانت دے چکی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ حکم میں یہ تسلیم کیا تھا کہ عمرخالد اورشرجیل امام کے خلاف استغاثہ کا پیش کردہ مواد،مختلف نوعیت، کاہے،اسی بنیاد پریو اے پی اے کے تحت عائد قانونی پابندی ان پر بدستور لاگورہتی ہے،فوجداری نظامِ انصاف کو ہرفرد کے لیے قانون کی پاسداری،قانونی مساوات اوربروقت انصاف کے اصولوں کو یقینی بنانا چاہیے،گزشتہ دنوں100 سے زائدمصنفین،اداکاروں،فلم سازوں،تاریخ دانوں،صحافیوں،ماہرین تعلیم،سماجی کارکنوں،ماہرین اقتصادیات اورممبران پارلیمنٹ نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کے نام 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کے مقدمے میں طلبہ کارکن عمرخالد اورشرجیل امام کی طویل حراست پر ایک کھلا خط لکھ کرتشویش کا اظہار کیا ہے۔خط پردستخط کرنے والوں نے چیف جسٹس سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خالد اورشرجیل امام مقدمے کی سماعت شروع ہونے کےانتظار میں تقریبا 6 برس سے جیل میں ہیں،ان کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت شروع ہوئے بغیراتنی طویل مدت تک زیرحراست رکھے جانے سے زندگی،شخصی آزادی اورفوری سماعت کےآئینی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں،یوم آزادی سے ایک روز قبل جاری کیے گئے اس کھلے خط میں غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کےقانون،یواے،پی اے کے استعمال پربھی تشویش ظاہر کی گئی ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ جب مقدمے کی کاروائی آگے ہی نہیں بڑھ رہی ہے تو ملزمین کوطویل عرصے تک جیل میں رکھنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتے ہیں،اس خط پردستخط کرنے والی ممتاز شخصیات میں اروندھتی رائے،امیتاگھوش،رام چندرگوہا،پرکاش راج،رعناایوب اورسوارا بھاسکر وغیرہ شامل ہیں،لیٹر میں چیف جسٹس سوریا کانت کی جانب سے سویڈن میں حالیہ لیکچر کے دوران سپریم کورٹ کے2021 کےفیصلے یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب کے حوالے سے دیے گئے ریمارکس کا بھی ذکر کیا گیا ہے،اس معاملے میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ ماناتھا کہ اگرمقدمے کی تکمیل کا معقول امکان نہ ہواور کسی شخص کو طویل عرصے تک جیل میں رکھا جائے تو سخت قوانین بشمول یو اے،پی اے کے تحت بھی اسے ضمانت دی جا سکتی ہے،عدالت نے کہا تھا کہ ایسی حراست، آئین کےآرٹیکل 21 کے تحت ملزم کے فوری سماعت کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرسکتی ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ آپ اس تاریخی تین رکنی بینچ کے فیصلے کا حصہ تھے،جس میں نجیب کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے،خالداورشرجیل امام تقریبا 6 برس سے حراست میں ہیں، تاہم مقدمے کی باقاعدہ سماعت ابھی تک شروع نہیں ہوئی ہے،استغاثہ نے اس معاملے میں تقریبا 900 گواہوں کو پیش کرنے کا حوالہ دیا ہے جس سے یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کاروائی مکمل ہونے میں مزید کتنا وقت لگ سکتا ہے،دستخط کنندگان نے جنوری 2026 میں دونوں ملزمین کی ضمانت کی درخواستیں سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کیے جانے کا بھی حوالہ دیا اور اس کے بعدانہوں نے 18 مئی 2026 کے سیدافتخار،اندرابی بنام نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی این آئی اے کے فیصلے کا حوالہ بھی دیاہے جوجسٹس بی وی ناگ رتنا اورجسٹس اجل بھویان پرمشتمل بنچ نے سنایا تھا،آئینی آزادیاں جمہوریت کی بنیاد ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی کمزوری جمہوری اور آئینی اصولوں سے وابستگی کومتاثر کرتی ہے۔
عمرخالد نے اپنی درخواست میں کہا کہ وہ تقریباً 6 سال سے عدالتی تحویل میں ہیں، حالانکہ ابھی تک ان کے خلاف فردِ جرم بھی عائد نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے ان خدشات کا اظہارکیا کہ مقدمے میں ملزمان، گواہوں اور استغاثہ کی دستاویزات کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے جلدسماعت شروع ہونے کا امکان کم ہے۔دوسری جانب،شرجیل امام نے اپنی درخواست میں کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کئے جانے کے 6 ماہ بعدبھی مقدمے کی کارروائی میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بغیرمقدمے کے تقریباً 6 سال سے حراست میں ہیں اوراس کیس میں ابھی تک فردِ جرم عائد ہونا باقی ہے۔یوم آزادی کے موقع پر اپریش کمارسنگھ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ نے پرچم کشائی کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عدلیہ اورنظام عدلیہ کومستحکم بناتے ہوئے انہیں جمہوری اصولوں کے مطابق چلانے کے اقدامات کیے جانے چاہیے،انہوں نے کہا کہ حصول انصاف کے عمل میں رکاوٹیں پیدا نہیں ہونی چاہیے اورجمہوری اداروں کو مستحکم بنائے رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آزادی کے ثمرات ہرشخص تک پہنچنے چاہیے،اگربینچ اور بار کونسل کی کوشش ہو تو ایسی صورت میں مقدمات کی سماعت عاجلانہ طور پرہو سکتی ہے اور ان کی یکسوئی کے اقدامات یقینی بنائے جا سکتے ہیں،چیف جسٹس اپریش کمارسنگھ نے ریاست میں نظام عدلیہ کو مستحکم بنانے،ریاست کے طلباء میں قانون کے متعلق شعوربیداری کے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں اورانہیں قوانین کے متعلق واقف کرواتے ہوئے ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اورمظالم کے متعلق انھیں واقف کروایا جارہا ہے،فوجداری مقدمات میں انصاف رسانی کے عمل کوبہتر بنانے کے علاوہ قیدیوں کے حقوق اور ان پرعمل آوری کے معاملات کو بہتر بنانے کے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہندوستانی آئین نے مساوات،مذہبی آزادی،اظہار رائے،زندگی اورشخصی آزادی کےحقوق ہرشخص کودئے ہیں لیکن آزادی کے 80 برس بعد خصوصا پچھلے 12سال کے واقعات اور تجربات نے ہندوستانی مسلمانوں کے ذہن میں ایک تلخ سوال پیدا کردیا ہے،2014 کے بعدمسلمانوں کے سامنے ایک ایسا سیاسی اورسماجی ماحول تیزی سے ابھرا،جس نے انکے اندر تحفظ اور امتیاز کے احساس کو بڑھایا، گزشتہ 12 سال میں حکومت کاتقریبا ہراقدام،مسلمانوں کے خلاف اٹھایاگیا جس سے مسلمان یکساں طور پر متاثر ہوا،اس عرصے میں ایسے متعدد قوانین،سیاسی بیانات،سماجی واقعات اور انتظامی کاروائیاں سامنے آئی،مسلمانوں کے شہری اورمذہبی حقوق کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا ہونےگے،اگرہم مسلمانوں پرہورہے 12 سالوں کے مظالم کودیکھیں تو تصویر خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ آزاد ملک میں مسلمانوں کو کس طرح اپنے حقوق سے محروم کیاجارہاہے،2019 میں شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے پارلیمنٹ سے منظورہوا،اس قانون نے افغانستان،بنگلہ دیش اورپاکستان سے آنے والے ہندو، سکھ،بدھ،جین،پارسی اورعیسائی افراد کے لیے شہریت حاصل کرنے کا ایک خصوصی راستہ بنایا،2024 میں اس متنازع قانون کو نافذکیاگیا اورشہریت کی سرٹیفیکیٹ بھی جاری کی جانے لگی،حکومت کے مطابق اس قانون کا مقصدپڑوسی ممالک میں مذہبی ظلم و ستم کا شکار،اقلیتوں کو تحفظ دینا ہے اور یہ قانون کسی ہندوستانی مسلمان کی شہریت نہیں چھینتا،لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مذہبی بنیاد پر کسی مخصوص گروہ کو خصوصی قانونی سہولت دی جا سکتی ہے توپھراسی خطے کے مظلوم مسلم فرقوں یا دیگر مذہبی گروہوں کو اس دائرے سے باہر رکھنے کی وجہ کیا ہے؟ قوام متحدہ اور انسانی حقوق سمیت دنیا بھر کے ناقدین نے اسی وجہ سے اس پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔
کانگریس ہیڈ کوارٹر میں یوم آزادی کے موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر کانگریس ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کی آواز سننا اور سوالوں کے جواب دینا ضروری ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ آج کا دن صرف آزادی کی جدوجہد کی تاریخ کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ یہ پوچھنے کا بھی موقع ہے کہ مجاہدین آزادی نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا وہ کتنا پورا ہوا؟کانگریس کی ایک 141سالہ تاریخ میں 62 سال غیرملکی حکومت کے خلاف جدوجہد میں گزرے،اس آزادی کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانی دی،انہوں نے کہا کہ مجاہدین آزادی نے انگریزی حکومت سے نجات کے ساتھ غریبی، بےروزگاری،چھوت نا انصافی اورخوف سے آزادی کا بھی خواب دیکھا تھا لیکن آج کی صورتحال بہت پریشان کن ہے،آج نوجوانوں کے خواب کچلے جا رہے ہیں اوراسی لئے مایوس نوجوان ملک بھر میں تحریکیں چھیڑنے پرمجبور ہورہے ہیں،ان پر مقدمہ بازی ہورہی ہے اور انہیں جیل میں ڈالاجارہا ہے۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج،جسٹس اجل بھویان نےاسی ماہ کے شروع میں ججس کےتقررات سے متعلق سپریم کورٹ کالجیم کے طریقہ کار پرسخت اعتراض کیا تھا،عدلیہ میں اصلاحات کے موضوع پر پیانل ڈسکشن میں حصہ لیتے ہوئے جسٹس اجل بھویان نے کہا تھا کہ ججس کے تقررات کے سلسلے میں کالجیم کی جانب سے کوئی وجہ بیان نہیں کی جارہی ہے،جس کے نتیجے میں غیرمستحق افراد کے ججس کے عہدے پر فائز ہونے کے امکانات بڑھ چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ تقررات کے سلسلے میں کالجیم کووضاحت کرنی چاہیے کہ کن بنیادوں پر ججس کے عہدے کے لیے ناموں کی سفارش کی جا رہی ہے،غیرمستحق افراد کے تقرر کے نتیجے میں ججس کے ذریعے کئی غیر دستوری ریمارکس منظر عام پرآرہے ہیں،اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ کوئی بھی جج عوام کو چیونٹی قراردے سکتا ہے،جسٹس بھویان نے کہا کہ وہ کالجیم کی گزشتہ تین قراردادوں کا جائزہ لے چکے ہیں، کالجیم کی قراردادوں میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی،جس کے نتیجے میں تقررات میں شفافیت ختم ہورہی ہے،جسٹس اجل بھویان کا ماننا ہے کہ ججس کے طور پرترقی کے وجوہات بیان نہ کرنے کی صورت میں غیرمعقول امیدواروں کے عدلیہ میں داخلے کی راہ ہموار ہوگی اور اس سےغیرموزوں افراد کے ججس بنائے جانے سے غیردستوری ریمارکس کا خطرہ برقراررہتا ہے،ایسے افراد کے داخلے کو روکنے کے لیے کالجیم میں کسی قدر مباحث ہونے چاہیے اور وجوہات کا جائزہ لیا جائے،جسٹس بھویان نے حال ہی میں ہائی کورٹ کے ایک جج کے ریمارک کا حوالہ دیا،واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج نے وشوا ہندو پریشد کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کوتنقید کا نشانہ بنایا تھا،انھوں نے کہا کہ ملک میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ کسی چھوٹے سے چھوٹے جانور کوبھی نقصان نہ پہنچائیں اورچیونٹی کو بھی مارنے کی اجازت نہیں ہے،جسٹس بھویان نے کہا کہ سپریم سپریم کورٹ کالجیم کے تین بیانات میں ججس کے طور پرترقی کے لیے کوئی وجوہات بیان نہیں کی گئی ہیں،اس طرح کی کاروائی کو کاپی پیسٹ کہا جاسکتا ہے،لہذا ججس کے طور پرترقی کے لیے کچھ تووجوہات بیان کی جانی چاہیے،جسٹس بھویان کی جانب سے سپریم کورٹ کالجیم کے طریقہ کار پر اعتراض نے عدلیہ کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑدی ہے،واضح رہے کہ چیف جسٹس سوریا کانت نے ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ قرار دیا تھا جس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی وجود میں آئی ہے۔
عدالتی تقرریوں میں شفافیت بڑھانے کے لیے 1993 میں جو کالجیم سسٹم بنایا گیا تھا آج یہ سوال کیا جارہا ہے کہ آخر اس سسٹم کے ذریعے ایسے ججوں کی تقرری کیسے ہوجاتی ہے؟ کیا تقرری سے پہلے ان کی ٹھیک سے چھان بین نہیں ہوتی؟ کیا ان کی غیرجانب داری کا امتحان نہیں لیاجاتا؟اس طرح کے کئی سوالات ہیں جو لوگوں کےدرمیان آج بھی پیدا ہورہے ہیں اور ان کا کوئی جواب نہیں دیا جارہا ہے،سسٹم میں خرابی کہاں ہے؟اس کا علاج تلاش کیوں نہیں کیاجاتا؟اس ملک میں انصاف کا حصول انتہائی مشکل اور مہنگا ہوچکاہے،طویل مقدمہ بازی اور وکیل کی فیس پر ہزاروں اور لاکھوں روپے خرچ کرنا پڑتا ہے،تب بھی انصاف نہیں مل پاتا یا پھر انصاف ملنے میں اتنی تاخیر ہوجاتی ہے کہ اسکا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتا،جب کسی جج کی میزپر آئین رکھا ہوتا ہے تو یہ محض ایک قانونی کتاب نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری کی یاد دہانی ہوتی ہے،ہرصفحہ، ہرشق اورہردفعہ انصاف کے ایک ایسے پیمانے کی نمائندگی کرتی ہے جو ہرشہری کےحقوق کا ضامن ہوتا ہے مگرجب فیصلہ سازی میں ذاتی رجحانات،سماجی دباؤ،آستھا یا قانونی موشگافیوں کو انصاف پرفوقیت دی جاتی ہے تو آئین کے الفاظ اپنی معنویت کھوبیٹھتے ہیں،ایمانداری اور غیرجانبداری سے فیصلے کرنے کی عزم کے ساتھ اٹھائے گئے جج کے حلف کی گونج عدالتی کمرے کے تاریک گوشوں میں تحلیل ہو جاتی ہے یہ رویہ نہ صرف عدالتی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کوبھی متزلزل کردیتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ انصاف کو رسمی کاروائی کے بجائے ایک زندہ حقیقت کے طور پر برتا جائے تاکہ آئین محض الفاظ کا مجموعہ نہ رہے بلکہ عدلیہ کے ہرفیصلے میں عملی طور پرنظر آئے۔ وقت آگیا ہے کہ عدلیہ خود کواس فرسودہ سوچ سے آزاد کرے اور انصاف کے بنیادی اصولوں کو پیش نظررکھتے ہوئے ایسے فیصلے صادر کرے جوواقعی مظلوموں کو ریلیف فراہم کرے،جب کسی جج کا قلم کسی مظلوم کی فریاد کو بے وقار کردے تو انصاف کے ترازو کا پلڑا ہمیشہ جھکتا ہی رہے گا عدالت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف صرف قانونی نقطہ بازی نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے جو مظلوموں کو ان کا حق دلانے کے لیے وجود میں آئی ہے نہ کہ ظالموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے۔عدلیہ کا فریضہ ہے کہ وہ قانون کی روح کو سمجھے،آج پوری دنیا میں انسانی حقوق،مذہبی رواداری اور اقلیتی تحفظات پرزور دیاجارہا ہے،ایسے میں یہ وقت ہے کہ عدلیہ اپنے اصل منصب کو پہچانے ورنہ وہ دن دورنہیں جب عدلیہ کی غیرجانبداری پرعوام کا اعتماد متزلزل ہوجائے اورجہاں عدلیہ سے بھروسہ اٹھ جائے وہاں جمہوریت کی عمارت محض کھوکھلا ڈھانچہ بن کررہ جاتی ہے،بھارت جیسے جمہوری ملک میں کیا مسلمانوں کو انصاف مل رہا ہے؟اگرنہیں تو کیا یہ جمہوریت اوریہاں کی عدلیہ کے شرمندگی کی بات نہیں ہے؟کیا اس قوم کے ہزاروں نوجوان جو برسوں سے قیدہیں انھیں انصاف ملے گا؟ کیا شرجیل امام اورعمرخالد کوبھی انصاف مل سکے گا؟یا ملک کے موجودہ حالات کے پس منظر میں علی سردارجعفری سے معذرت کے ساتھ یہی کہا جاسکتاہے کہ
تیغ مُنصف ہوں جہاں،دار و رَسن ہوں شاہد۔
بے گناہ کون ہے اُس ملک میں،مسلم کے سِوا۔
*(مضمون نگارمعروف صحافی اورکل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے