कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غرور وتکبر انسان کی ہلاکت کا خاموش آغاز

از قلم: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

انسان کی زندگی میں بعض ایسی بیماریاں ہوتی ہیں جو جسم کو نہیں بلکہ شخصیت، کردار اور روح کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک بیماری تکبر اور غرور ہے۔ تکبر بظاہر انسان کو بڑا دکھاتا ہے، مگر حقیقت میں اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت، بندوں کی محبت اور اپنی حقیقی حیثیت سے دور کر دیتا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں مختلف قرآنی کرداروں کے ذریعے تکبر کی جس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، وہ ہر انسان کے لیے ایک گہرا سبق اور اپنے احتساب کی دعوت ہے۔
قرآن مجید نے فرعون کے تکبر کو اس کے الفاظ میں محفوظ کر دیا ﴿أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى) یعنی ’’میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔‘‘ (النازعات: 24) یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا بلکہ اس ذہنی بیماری کا اظہار تھا جس میں انسان اپنی محدود طاقت کو لامحدود سمجھ بیٹھتا ہے۔ فرعون کے پاس اقتدار، لشکر، وسائل اور حکومت تھی، لیکن وہ یہ بھول گیا کہ جس جان، قوت اور سلطنت پر اسے ناز ہے، وہ بھی اسی رب کی عطا ہے جس کے سامنے پوری کائنات محتاج ہے۔ آخرکار وہی فرعون جس نے اپنی بڑائی کا اعلان کیا تھا، تاریخ میں عبرت کی علامت بن گیا۔
دوسری مثال ابلیس کی ہے۔ قرآن مجید میں اس کا قول نقل ہوا ہے: ﴿أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ﴾ یعنی ’’میں اس سے بہتر ہوں۔‘‘ (الأعراف: 12) غور کیجیے، ابلیس کی تباہی کا بنیادی سبب جہالت نہیں تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کو جانتا تھا، مگر اس کے اندر تکبر پیدا ہوگیا۔ اس نے اپنے مادۂ تخلیق کو بنیاد بنا کر حضرت آدم علیہ السلام پر برتری کا دعویٰ کیا۔ یہی خود پسندی اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تک لے گئی۔
یہاں انسان کے لیے نہایت اہم سبق پوشیدہ ہے کہ کبھی کبھی انسان اپنی عبادت، علم، دولت، خاندان، منصب، شہرت یا صلاحیت کو اپنی فضیلت کا مستقل معیار سمجھنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں کو کمتر سمجھنے لگتا ہے اور یہی احساسِ برتری رفتہ رفتہ اسے اخلاقی زوال کی طرف لے جاتا ہے۔
تیسری مثال قارون کی ہے۔ اس کے پاس بے پناہ دولت تھی۔ اس کا غرور اس حد تک بڑھ گیا کہ اس نے کہا: ﴿إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي﴾ یعنی ’’یہ سب کچھ مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔‘‘ (القصص: 78) قارون نے نعمت کو منعم کی عطا سمجھنے کے بجائے اپنی ذاتی قابلیت کا نتیجہ قرار دیا۔ اس نے دولت پائی، مگر شکر نہ پایا؛ اسباب پائے، مگر مسبب کو بھول گیا؛ وسائل پائے، مگر عاجزی کھو بیٹھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا۔
چوتھی مثال قرآن مجید میں صاحبِ جنتین یعنی دو باغوں والے شخص کی ہے۔ وہ اپنی دولت اور باغات پر ناز کرتے ہوئے کہتا ہے: ﴿أَنَا أَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا﴾ یعنی ’’میں تم سے مال میں زیادہ اور افراد کے اعتبار سے زیادہ طاقتور ہوں۔‘‘ (الکہف: 34) اس کا غرور صرف مال تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے مال کو اپنی سماجی برتری اور طاقت کا معیار بھی بنا لیا تھا۔ لیکن جس نعمت پر اسے ناز تھا، وہی نعمت ایک وقت میں اس سے چھین لی گئی۔
ان چاروں واقعات میں ایک مشترک حقیقت نمایاں ہوتی ہے: فرعون نے اقتدار کی بنیاد پر، ابلیس نے اپنی خود ساختہ فضیلت کی بنیاد پر، قارون نے دولت اور قابلیت کی بنیاد پر، جبکہ صاحبِ جنتین نے مال اور افراد کی کثرت کی بنیاد پر برتری کا دعویٰ کیا۔ لیکن انجام سب کا ایک ہی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ بن جائے، اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اس کی حیثیت بندۂ محتاج سے زیادہ نہیں۔
آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو تکبر کی یہ صورتیں مختلف لباس میں ہمارے درمیان موجود نظر آتی ہیں۔ کوئی اپنے منصب پر ناز کرتا ہے، کوئی دولت پر، کوئی خاندان پر، کوئی علم پر، کوئی شہرت پر، کوئی اپنی خوب صورتی پر اور کوئی اپنی مذہبی یا سماجی حیثیت پر۔ بعض اوقات انسان معمولی سی کامیابی کے بعد ان لوگوں کو بھول جاتا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا تھا۔
تکبر کی سب سے خطرناک علامت یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اسے نصیحت ناگوار گزرتی ہے، معذرت کرنا اپنی توہین محسوس ہوتا ہے اور دوسروں کو حقیر سمجھنا اسے اپنی بڑائی معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ حقیقی عظمت اس میں نہیں کہ انسان دوسروں کو چھوٹا ثابت کرے، بلکہ حقیقی عظمت یہ ہے کہ انسان اپنی طاقت کے باوجود عاجزی اختیار کرے۔
اسلام نے انسان کو عزت ضرور دی ہے، لیکن غرور کی اجازت نہیں دی۔ رسول اکرم ﷺ نے تکبر کی حقیقت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تکبر حق کو ٹھکرانے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔ یہ تعریف ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص حق بات صرف اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کے ماتحت، کم عمر، کم مالدار یا کم معروف شخص نے کہی ہے، تو اسے اپنے دل کا جائزہ لینا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عاجزی کا مطلب کمزوری نہیں۔ عاجزی یہ نہیں کہ انسان اپنی صلاحیتوں سے انکار کرے یا اپنی جائز عزت کو پامال ہونے دے۔ عاجزی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرے، غلطی پر رجوع کرے اور کسی انسان کو محض اس کی غربت، کم علمی، کم حیثیت یا ظاہری حالت کی وجہ سے حقیر نہ سمجھے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج کا منصب کل کسی اور کے پاس ہوسکتا ہے، آج کی دولت کل ختم ہوسکتی ہے، آج کی شہرت کل فراموش کی جاسکتی ہے اور آج کی طاقت وقت کے ایک معمولی فیصلے سے کمزور پڑ سکتی ہے۔ انسان کی اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے، اسے وہ اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھے اور اس نعمت کو خیر، خدمت اور بھلائی کے لیے استعمال کرے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کے عیوب تلاش کرنے سے پہلے اپنے دل کا محاسبہ کریں۔ اگر کسی کی کامیابی دیکھ کر دل میں جلن پیدا ہوتی ہے، اگر کسی غریب یا کمزور انسان سے بات کرتے ہوئے دل میں برتری کا احساس پیدا ہوتا ہے، اگر اپنی غلطی تسلیم کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے، یا اگر دوسروں کی تحقیر سے اپنی بڑائی محسوس ہوتی ہے تو یہ خود احتسابی کا وقت ہے۔
قرآن کریم کے یہ چار کردار دراصل چار بڑے آئینے ہیں۔ فرعون ہمیں اقتدار کے غرور سے، ابلیس خود پسندی سے، قارون دولت کے غرور سے اور صاحبِ جنتین وسائل و کثرت کے غرور سے خبردار کرتے ہیں۔ ان واقعات کا مقصد صرف تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ زندہ انسان کو اپنے انجام سے پہلے اپنا راستہ درست کرنے کی دعوت دینا ہے۔
انسان جتنا بڑا ہوتا جائے، اسے اتنا ہی زیادہ جھکنا چاہیے، کیونکہ درخت جب پھل سے بھر جاتا ہے تو اس کی شاخیں مزید جھک جاتی ہیں۔
ہمیں اپنے دل میں یہ یقین پیدا کرنا چاہیے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ علم ہے تو اس کا شکر، دولت ہے تو اس کا شکر، منصب ہے تو اس کا شکر، اولاد ہے تو اس کا شکر، عزت ہے تو اس کا شکر۔ نعمت جب شکر کے ساتھ آتی ہے تو رحمت بن جاتی ہے، اور جب غرور کے ساتھ آتی ہے تو آزمائش بن جاتی ہے۔
آخرکار انسان کو مٹی میں لوٹ جانا ہے۔ نہ منصب ساتھ جائے گا، نہ دولت، نہ شہرت اور نہ لوگوں کی تعریفیں۔ ساتھ جائے گا تو ایمان، عمل، اخلاق اور وہ انسانیت جس کا مظاہرہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ کیا۔
لہٰذا کامیابی کا حقیقی معیار یہ نہیں کہ لوگ ہمیں کتنا بڑا سمجھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہمارا مقام کیا ہے۔ اور اللہ کے نزدیک مقام پانے کا راستہ تکبر سے نہیں، عاجزی، تقویٰ، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق اور حق کی پیروی سے گزرتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے