कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جامعہ عربیہ سراج العلوم منڈولی میں جشن یومِ آزادی کی پروقار تقریب

دہلی ـ:17؍اگست: دارالحکومت دہلی کا مشہور و معروف قدیم دینی و تربیتی ادارہ جامعہ عربیہ سراج العلوم راجیو نگر منڈولی دہلی 93 میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ 15/اگست 2026ء بروز ہفتہ کو جشن یوم آزادی کی تقریب منعقد کی گئی صبح 10 بجے پرچم کشائی مہمان خصوصی نگر پارسد پونم نرمل کے شوہر پردیپ نرمل اور مفتی محمد شاکر حسین رحمانی کے ہاتھوں عمل میں آیا اس کے بعد متعلم محمد عادل مدہوبنی اور صاحب عالم درجہ حفظ نے قومی ترانہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا پیش کیا بعدہ جامعہ کے طلبہ نے ایک مختصر خوبصورت پروگرام پیش کیا پروگرام کا آغاز محمد ثناءاللہ دربھنگہ کی تلاوت قرآن اور محمد ضمیر غازی آباد کی نعت پاک سے ہوا محمد ریان عربی پنجم نے عربی زبان میں تقریر پیش کی ، جبکہ محمد سعادت عربی پنجم نے انگلش اور محمد ریاض مدہوبنی درجہ اعدادیہ نے اردو زبان میں تقریر پیش کیں
محمد سہیل ، ضمیر الدین،محمد فیض ، محمد حسنین وغیرہ نے مختلف عناوین پر نظم اور ثقافتی پروگرام پیش کیا اس کے بعد مولانا احمد رضا شمسی (ماسٹر ) صاحب نے پر مغز خطاب کرتے ہوئے طلبہ کے سامنے تاریخ آزادی پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جب ہمارے ملک عزیز پر انگریزوں کا ناپاک سایہ پڑا اور کئی سو سال تک کی جد و جہد کے باوجود کسی قسم کا ثمرہ ظاہر نہیں ہوا تو 1857 میں ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی سب ایک ساتھ مل کر اس ملک کو آزادی دلانے کی سعی کی اور بہار کی سرزمین سے ہندوستان چھوڑو تحریک چلائی جس میں گاندھی جی بھی شریک رہے ۔
نگراں تعلیمات مفتی محمد اخلاص قاسمی صاحب نےسامعین سے خطاب کرتے ہوئے جنگ آزادی میں علماء کا کردار اور تحریک آزادی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ دارالعلوم کاقیام 1866 میں عمل میں آیا جس کا مقصد ایک طرف جہاں ہندوستان میں شمع دین کو روشن رکھنا تھا وہیں قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والوں کے ہاتھوں میں پرچم آزادی دیکر میدان کارزار میں بھیجنا تھاچنانچہ روز اول سے دارالعلوم اپنے مقصد میں کامیاب رہا وہاں سے کسب فیض پانے والے طلباء اور علماء نے اپنے وطن عزیز کو آزاد کرانے کے لئے تحریک ریشمی رومال، جمعیت الانصار جیسی جماعتیں قائم کرکے تحریک آزادی مسلسل چلاتے رہے جس کے پاداش میں 15 اگست 1947 کو ہمارا ملک انگریز کےچنگل سے آزاد ہوا۔
بھائی پردیپ نرمل نے اپنے تاثراتی خطاب میں جامعہ کے بانی قاری محمد فاروق جامعی کو مبارک باد پیش کی اور یہ پیغام دیا کہ ہمارا یہ ملک پھولوں کا گلدستہ ہے جس میں ہر مذہب اور ہردھرم کے ماننے والے رہتے ہیں جب سب نے مل کر اس ملک کو آزاد کیا ہے تو سب برابر کے حقدار ہیں ہمارا بھائی چارہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا اور اسی طرح ایک دوسرے کا سمان کرکے اس ملک کو اور آگے لے جانا ہے محبت کا دیپ جلانا ہے نفرت کو مٹانا ہے مفتی محمد حسان رازی بانی المعہد امام الرازی اوکھلا نے اپنے تاثراتی خطاب میں بچوں کے پروگرام اور جامعہ کی تعلیم و تعلم کو سراہتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا جامعہ کے بانیان اساتذہ اور طلبہ کو مبارک باد پیش کیں مفتی محمد شاکر حسین رحمانی نے آنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شہداء آزدی کو خراج تحسین پیش کیا اور فرمایا کہ جنگ آزادی کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے اور نوجوان و نئی نسل کو صحیح تاریخ سے گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کیوں کہ جنگ آزادی کی بگل1772سے ہی بج چکی تھی نواب سراج الدولہ حضرت ٹیپو سلطان وغیرہ جیسے کتنے بہادر نے اس ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن آج ان کی قربانی کو فراموش کرنے اور پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
نظامت کے فرائض مفتی محمد عظمت علی قاسمی استاذ جامعہ ھذا نے انجام دی ۔
پروگرام میں بھائی محمد نوفل راجیو نگر، قاری محمد نعیم الدین ، قاری محمد افضل، مولوی محمد عثمان فاروق اور عبداللہ فاروق صاحبان جملہ اساتذہ و طلباء شریک رہے ۔
نگراں تعلیمات مفتی محمد اخلاص قاسمی کی رقت آمیز دعاء پر پروگرام کا اختتام ہوا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے