कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہندو مسلم اتحاد: گاندھی کے خواب سے آج کے ہندوستان تک

گاندھی جینتی کے موقع پر ایک فکری جائزہ

تحریر:شیخ عامر شیخ امان اللہ
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو

2 اکتوبر ہندوستانی تاریخ کا وہ دن ہے جب ملک ایک ایسی شخصیت کو یاد کرتا ہے جس نے سیاست کو محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے اخلاق، سچائی، عدم تشدد، انسان دوستی اور سماجی انصاف سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مہاتما گاندھی کی پیدائش کی یاد میں منایا جانے والا یہ دن محض ایک قومی تقریب نہیں بلکہ اپنے اجتماعی رویوں کا جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔
گاندھی جی کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں، لیکن ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ملک کے لیے ان کی ہندو مسلم یکجہتی اور مشترکہ قومیت کی فکر خاص اہمیت رکھتی ہے۔ آج جب دنیا کے مختلف حصوں میں مذہب، نسل، زبان اور شناخت کے نام پر اختلافات موجود ہیں، گاندھی کا یہ تصور دوبارہ توجہ کا طالب ہے کہ مختلف عقائد رکھنے والے لوگ ایک ہی وطن کے برابر شہری اور ایک دوسرے کے ہم وطن ہو سکتے ہیں۔
مذہب الگ، وطن ایک گاندھی کی فکر میں مذہب انسان کی روحانی زندگی سے متعلق معاملہ تھا، جبکہ وطن اور معاشرہ تمام باشندوں کی مشترکہ ذمہ داری تھے۔ وہ اس تصور کے قائل تھے کہ کسی ملک کی قومیت کو صرف ایک مذہب کے ساتھ وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔
ہندوستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں صدیوں سے مختلف مذہبی اور ثقافتی گروہ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ عبادت کے طریقے الگ ہو سکتے ہیں، زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، تہواروں کے رنگ جدا ہو سکتے ہیں، لیکن روزمرہ زندگی میں انسانوں کی ضروریات، خوشیاں، دکھ، محبت اور امیدیں ایک دوسرے سے بہت قریب ہوتی ہیں۔ اسی لیے گاندھی کی مشترکہ قومیت کا تصور آج بھی ایک اہم فکری سوال سامنے رکھتا ہے کیا اختلاف کا مطلب دشمنی ہے؟
اس سوال کا جواب تاریخ بھی دیتی ہے اور موجودہ معاشرتی زندگی بھی۔ اختلاف کے باوجود باہمی احترام ممکن ہے اور مختلف مذہبی شناختوں کے ساتھ ایک مشترکہ شہری شناخت بھی قائم رہ سکتی ہے۔
گاندھی کے لیے ہندو مسلم اتحاد محض سیاسی نعرہ نہیں تھا:
گاندھی کے ہاں ہندو مسلم اتحاد محض آزادی کی تحریک کے لیے سیاسی ضرورت نہیں تھا۔ ان کی متعدد تحریروں، تقریروں اور عملی سرگرمیوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مسئلہ نمایاں نظر آتا ہے۔ گاندھی ہیریٹیج پورٹل پر محفوظ ان کے اصل تحریری مجموعوں میں بھی فرقہ وارانہ اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی سے متعلق متعدد دستاویزات موجود ہیں۔ (Gandhi Heritage Portal)
1947 کے دوران کلکتہ میں گاندھی کی سرگرمیاں اس فکر کی عملی مثال ہیں۔ گاندھی ہیریٹیج پورٹل کے مطابق اگست 1947 میں انہوں نے کلکتہ میں ہندو مسلم اتحاد کے لیے مسلسل ملاقاتیں، دعائیہ اجتماعات اور امن کی کوششیں کیں۔ عید کے موقع پر بڑی تعداد میں مسلمان ان سے ملنے آئے اور انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان باہمی اعتماد پر زور دیا۔ (Gandhi Heritage Portal)
یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گاندھی کے نزدیک اتحاد کا مطلب صرف تقریر کرنا نہیں بلکہ مشکل وقت میں لوگوں کے درمیان کھڑا ہونا تھا۔
’پیدائشی دشمنی‘ کا تصور کیوں خطرناک ہے؟:
ہندو مسلم تعلقات کے بارے میں ہمارے معاشرے میں وقتاً فوقتاً ایسی باتیں سنائی دیتی ہیں جن میں دونوں مذہبی برادریوں کو ایک دوسرے کا فطری یا پیدائشی دشمن تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تصور نہ تاریخ کو مکمل طور پر سمجھتا ہے اور نہ انسانی معاشرے کی پیچیدگی کو۔
مذہب کسی شخص کی شناخت کا اہم حصہ ہو سکتا ہے، لیکن کسی پورے مذہبی گروہ کے ہر فرد کے رویے کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ہندوستانی معاشرے میں ایسے بے شمار خاندان، محلے، بازار، تعلیمی ادارے اور سماجی تعلقات ہیں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ روزانہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔
ایک مسلمان ڈاکٹر اپنے ہندو مریض کا علاج کرتا ہے، ایک ہندو استاد مسلمان طالب علم کو تعلیم دیتا ہے، مختلف مذاہب کے مزدور ایک ہی تعمیراتی منصوبے میں کام کرتے ہیں، کسان ایک ہی منڈی میں اپنی پیداوار فروخت کرتے ہیں اور کروڑوں شہری ایک ہی آئینی اور جمہوری نظام میں اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔
یہ روزمرہ کی حقیقتیں کسی بھی ’پیدائشی دشمنی‘ کے تصور کو بہت محدود بنا دیتی ہیں۔
تاریخ کو نفرت کے چشمے سے نہیں، تجربے کے آئینے سے دیکھنے کی ضرورت
ہندوستان کی تاریخ میں اختلافات بھی ہوئے، تنازعات بھی ہوئے اور المناک واقعات بھی پیش آئے۔ لیکن اسی تاریخ میں باہمی میل جول، مشترکہ تہذیب، ادبی تبادلے، زبان کی تشکیل، فنون کی ترقی اور سماجی اشتراک کی طویل روایت بھی موجود ہے۔
اردو زبان خود ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی زندگی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس کی تشکیل میں مختلف زبانوں، علاقوں اور ثقافتی روایتوں کا حصہ رہا۔ ہندوستانی موسیقی، فن تعمیر، لباس، کھانے، ادب اور روزمرہ زبان میں بھی تہذیبی اختلاط کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔
اس لیے تاریخ کو صرف تنازع کے واقعات کے ذریعے دیکھنا تصویر کا ایک حصہ دیکھنا ہے۔
آج کے ہندوستان میں گاندھی کی معنویت:
2 اکتوبر 2026 کو جب ملک گاندھی جینتی منا رہا ہے، دنیا بھی تشدد اور جنگ کے مختلف مسائل سے دوچار ہے۔ صدرِ جمہوریہ کے 1 اکتوبر 2026 کے پیغام میں بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگ اور تصادم کے ماحول میں گاندھی کا امن اور عدم تشدد کا پیغام مزید اہم ہو جاتا ہے۔ اسی پیغام میں ہمدردی، شمولیت اور سب کی فلاح کو گاندھی کے ’سروودیہ‘ کے تصور سے جوڑا گیا ہے۔ (Press Information Bureau)
یہ موجودہ تناظر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ گاندھی جینتی کو صرف پھول پیش کرنے، تقریریں کرنے یا سرکاری پروگرام منعقد کرنے تک محدود رکھا جائے یا اسے معاشرتی رویوں کی اصلاح کا موقع بھی بنایا جائے؟
اگر گاندھی کو حقیقی معنوں میں یاد کرنا ہے تو شاید اس کا آغاز اپنے روزمرہ رویے سے ہونا چاہیے۔
سوشل میڈیا کے دور میں نفرت کا نیا چیلنج:
آج کا ہندوستان گاندھی کے زمانے کے ہندوستان سے بہت مختلف ہے۔ اطلاعات چند سیکنڈ میں ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کو اظہار کی غیر معمولی آزادی دی ہے، لیکن اسی کے ساتھ غلط معلومات، افواہوں، اشتعال انگیز مواد اور مذہبی نفرت پھیلانے کا امکان بھی بڑھا ہے۔
ایک غیر مصدقہ پیغام بعض اوقات ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک ادھوری ویڈیو پورے واقعے کا غلط تاثر پیدا کر سکتی ہے اور ایک اشتعال انگیز جملہ دو برادریوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کر سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں گاندھی کے سچ، تحمل اور عدم تشدد کے اصول کو جدید زبان میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
آج کا ’ستیہ گرہ‘ شاید یہ بھی ہے کہ ہم کسی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی حقیقت جانچیں۔
آج کا ’عدم تشدد‘ یہ بھی ہے کہ اختلاف کے باوجود کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال نہ کی جائے۔
اور آج کی ’انسان دوستی‘ یہ بھی ہے کہ کسی مصیبت زدہ انسان کی مدد کرتے وقت اس کا مذہب نہ پوچھا جائے۔
مذہبی آزادی اور باہمی احترام:
ایک جمہوری معاشرے میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، لیکن مذہبی آزادی کے ساتھ دوسرے کے مذہبی جذبات اور آزادی کا احترام بھی ضروری ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے: اپنے مذہب سے محبت اور دوسرے مذہب سے نفرت ایک ہی چیز نہیں۔
انسان اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے بھی دوسرے کے عقیدے کا احترام کر سکتا ہے۔ دراصل یہی بالغ معاشرتی رویہ ہے۔
گاندھی کی مذہبی فکر میں بھی دوسرے مذاہب کے مطالعے اور احترام کا پہلو نمایاں تھا۔ ان کے لیے مذہب انسان کو اخلاقی طور پر بہتر بنانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کا ہتھیار۔
مشترکہ قومیت کا مطلب کیا ہے؟:
مشترکہ قومیت کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگ اپنے مذہب، زبان یا ثقافتی شناخت کو چھوڑ دیں۔ اس کے برعکس اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف شناختیں برقرار رہتے ہوئے شہری اور قومی زندگی میں مشترکہ ذمہ داری قبول کی جائے۔
ایک شخص بیک وقت مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی یا کسی اور مذہبی شناخت کا حامل ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی ہندوستانی شہری بھی ہو سکتا ہے۔
یہ دونوں شناختیں ایک دوسرے کی نفی ضروری نہیں کرتیں۔
ملک اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے شہری اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ مسائل پر اکٹھے کام کریں—تعلیم، صحت، روزگار، غربت، ماحول، خواتین کی ترقی، نوجوانوں کے مستقبل اور سماجی انصاف جیسے مسائل کسی ایک مذہب کے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مسائل ہیں۔
گاندھی جینتی: ایک دن نہیں، ایک ذمہ داری:
گاندھی جینتی کے موقع پر ہر سال ہم عدم تشدد، صفائی، سچائی اور امن کی بات کرتے ہیں۔ لیکن ان اصولوں کی حقیقی معنویت اس وقت سامنے آئے گی جب یہ ہماری عملی زندگی کا حصہ بنیں۔
اگر ایک شخص عبادت گاہ میں امن کی دعا کرے لیکن بازار، کلاس روم یا سوشل میڈیا پر دوسرے مذہب کے لوگوں کے خلاف نفرت پھیلائے تو گاندھی کی یاد محض رسمی رہ جائے گی۔
اگر ہم اپنے بچوں کو مختلف مذاہب کے بارے میں احترام کے ساتھ بتائیں، انہیں مشترکہ ہندوستانی تاریخ کے مختلف پہلو پڑھائیں اور اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھنے کی تربیت دیں تو شاید یہی گاندھی کے پیغام کو آگے بڑھانے کا زیادہ بامعنی طریقہ ہوگا۔
نئی نسل کے نام ایک پیغام:
آج کے نوجوانوں کے پاس وہ مواقع ہیں جن کا گاندھی کے زمانے میں تصور بھی مشکل تھا۔ ان کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، دنیا بھر کی معلومات تک رسائی ہے اور اظہار کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔
اسی لیے ذمہ داری بھی زیادہ ہے۔
نوجوان اگر مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کے بجائے علم، تحقیق، مکالمے اور سماجی خدمت کو ترجیح دیں تو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان سوال کریں، لیکن نفرت کے ساتھ نہیں؛ اختلاف کریں، لیکن تضحیک کے ساتھ نہیں؛ اپنے عقیدے پر قائم رہیں، لیکن دوسروں کے حقِ وجود سے انکار کیے بغیر۔
گاندھی کا اصل امتحان آج ہے:
گاندھی جی کے مجسمے ملک کے مختلف حصوں میں موجود ہیں، ان کے نام پر ادارے اور سڑکیں ہیں، ان کی تصاویر سرکاری دفاتر میں نظر آتی ہیں اور ہر سال 2 اکتوبر کو ان کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ لیکن کسی شخصیت کی حقیقی معنویت صرف اس کی یادگاروں سے نہیں بلکہ اس کے خیالات کے عملی اثر سے ظاہر ہوتی ہے۔
گاندھی کی زندگی ہمیں یہ سوال دیتی ہے کہ ہم اختلاف کے ساتھ کس طرح رہتے ہیں؟
کیا ہم دوسرے مذہب کے ماننے والے کو محض ’دوسرا‘ سمجھتے ہیں یا اپنے ہی ملک کا شہری اور ہم وطن؟
کیا ہم افواہ کو تحقیق پر ترجیح دیتے ہیں یا سچ کی تلاش کرتے ہیں؟
کیا ہم اختلاف کو دشمنی سمجھتے ہیں یا مکالمے کا موقع؟
یہ سوال صرف سیاست دانوں، دانش وروں یا سماجی کارکنوں کے لیے نہیں بلکہ ہر شہری کے لیے ہیں۔
گاندھی کی فکر کا سب سے اہم پہلو شاید یہی ہے کہ انہوں نے ہندوستان کو صرف جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ مختلف انسانوں کی مشترکہ زندگی کے طور پر دیکھا۔ ان کے لیے آزادی کا مقصد صرف غیر ملکی اقتدار کا خاتمہ نہیں تھا؛ اس میں ایسا معاشرہ بھی شامل تھا جہاں انسان دوسرے انسان کے ساتھ عزت اور امن سے رہ سکے۔
آج 2 اکتوبر 2026 کو گاندھی جینتی کے موقع پر اگر ہم ان کی یاد کو محض رسمی خراجِ عقیدت سے آگے لے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے معاشرتی رویوں پر غور کرنا ہوگا۔
ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے مذہب میں ضم ہوئے بغیر بھی ایک دوسرے کے اچھے ہم وطن بن سکتے ہیں۔ مذہبی اختلاف اپنی جگہ برقرار رہ سکتا ہے، لیکن انسانیت، شہری ذمہ داری اور ملک کی تعمیر مشترکہ ہو سکتی ہے۔گاندھی کی زندگی کا ایک بڑا سبق یہی ہے کہ امن صرف جنگ کی عدم موجودگی نہیں؛ امن وہ معاشرتی کیفیت ہے جس میں اختلاف رکھنے والے لوگ بھی ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔آج جب دنیا تشدد، جنگ اور عدم اعتماد کے مختلف مسائل سے گزر رہی ہے، گاندھی کا عدم تشدد اور باہمی احترام کا پیغام ہندوستان کی سرحدوں سے آگے بھی انسانی معاشرے کے لیے ایک قابلِ غور اخلاقی تصور بن کر سامنے آتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی 2 اکتوبر کو 2007 میں بین الاقوامی یومِ عدم تشدد کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ (Press Information Bureau)
لہٰذا گاندھی جینتی کا بہترین خراجِ عقیدت شاید یہ نہیں کہ ہم صرف گاندھی کو یاد کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم سچ کو اپنائیں، نفرت سے بچیں، اختلاف کا احترام کریں اور اپنے ہم وطن کو اس کی مذہبی شناخت سے پہلے ایک انسان سمجھنے کی کوشش کریں۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے