कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

درد سے وٹامن ڈی تک — حقیقت کیا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر مِرزا اطیب بیگ
BAMS, CCH, CSD, PGCEMS
پوسد، ضلع ایوت محل

آج کل جسم میں درد، تھکن، کمزوری یا ٹانگوں میں کھنچاؤ محسوس ہوتے ہی اکثر لوگ فوراً اسے وٹامن ڈی کی کمی سے جوڑ دیتے ہیں۔ بلاشبہ وٹامن ڈی ہماری صحت کے لیے نہایت اہم ہے، لیکن ہر درد کی وجہ وٹامن ڈی کی کمی کو سمجھنا درست نہیں۔
وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم اور فاسفورس کے توازن کو برقرار رکھنے اور ہڈیوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پٹھوں کے معمول کے کام اور مجموعی صحت میں بھی اس کی اہمیت ہے۔
وٹامن ڈی کی کمی کیوں ہوتی ہے؟:
جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ دھوپ سے کم واسطہ، گھر یا دفتر میں زیادہ وقت گزارنا، غذا میں وٹامن ڈی کی کمی اور بعض طبی مسائل اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ موٹاپا، عمر اور کچھ مخصوص ادویات بھی بعض افراد میں وٹامن ڈی کی کمی کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
علامات کیا ہو سکتی ہیں؟:
بعض افراد میں وٹامن ڈی کی کمی کے باوجود کوئی واضح علامت نہیں ہوتی۔ کمی زیادہ ہونے کی صورت میں ہڈیوں یا پٹھوں میں درد، پٹھوں کی کمزوری، تھکن اور جسمانی طاقت میں کمی محسوس ہو سکتی ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے:
ہر کمر درد، گھٹنوں کے درد یا جسمانی تھکن کی وجہ وٹامن ڈی کی کمی نہیں ہوتی۔
درد کی وجہ جوڑوں کی بیماری، پٹھوں کا کھنچاؤ، غلط نشست و برخاست، زیادہ وزن، اعصابی مسائل، خون کی کمی یا دیگر طبی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ اگر درد مسلسل رہے، جوڑوں میں سوجن ہو، صبح کے وقت دیر تک اکڑن رہے یا درد بڑھتا جائے تو صرف وٹامن ڈی کی دوا لینا کافی نہیں۔ ایسی صورت میں اصل وجہ جاننا ضروری ہے۔
کیا ہر شخص کو وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے؟:
ضروری نہیں۔ ہر شخص کے لیے بلاوجہ ٹیسٹ کروانا مناسب نہیں۔ مریض کی علامات، عمر، طرزِ زندگی اور دیگر طبی عوامل کو دیکھ کر ڈاکٹر یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وٹامن ڈی کی جانچ کی ضرورت ہے یا نہیں۔
کیا وٹامن ڈی کی دوا خود سے لی جا سکتی ہے؟:
وٹامن ڈی جسم کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کا زیادہ استعمال بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار لینے سے خون میں کیلشیم بڑھ سکتا ہے، جس سے متلی، کمزوری، پیاس اور بعض صورتوں میں گردوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس لیے ہائی ڈوز وٹامن ڈی یا اس کے انجیکشن خود سے استعمال کرنے کے بجائے طبی مشورہ لینا بہتر ہے۔
صحت مند غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور مناسب مقدار میں دھوپ مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں۔ تاہم ہر فرد کی ضرورت مختلف ہو سکتی ہے۔
آخرکار اہم بات یہ ہے کہ علامت کو دبانے کے بجائے اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ جسم میں درد ہو تو فوراً اسے وٹامن ڈی کی کمی قرار دینے کے بجائے مکمل صورتحال کو دیکھنا زیادہ درست طریقہ ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے