कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ریاست، انصاف اور خیرِ اُمّت

The State, Justice, and Khayr al-Ummah

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

جمہوری نظام کا حقیقی حسن صرف انتخابات، ووٹ اور اکثریت کے عددی غلبے میں نہیں، بلکہ انصاف، قانون کی بالادستی، انسانی وقار، شہری آزادی، مساوات اور جواب دہی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب ریاستی نظام ان بنیادی اصولوں سے دور ہونے لگے، تو جمہوری نظام اپنی روح کھونے لگتا ہے اور محض ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ عدل کس حد تک قائم ہے، قانون کس قدر غیر جانب دار ہے، اور انسان کی عزّت و حرمت کس درجے محفوظ ہے۔ اگر ایسا ماحول پیدا ہو جائے کہ جمہوری نظام کو بظاہر جمہوری طریقوں کے ذریعے ہی محدود کیا جانے لگے، اختلافِ رائے کو کمزور کیا جائے، خوف اور نفرت کی فضا قائم ہو، اور عوامی شعور کو مسلسل مخصوص سمت میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے، تو یہ کیفیت ہر صاحبِ فکر انسان کے لیے غور و فکر کا باعث بن جاتی ہے۔
جب ہجوم کا رویہ قانون کی جگہ لینے لگے، اور لوگوں کی جان و مال کا تحفّظ ریاست کی بنیادی ذمّہ داری ہونے کے باوجود کمزور محسوس ہونے لگے، تو معاشرے میں عدمِ تحفّظ بڑھتا ہے۔ کسی بھی مہذب ریاست میں جرم کا فیصلہ عدالت کرتی ہے، سزا قانون دیتا ہے، اور انصاف شواہد کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اگر ان اصولوں کی جگہ جذبات، تعصبات یا طاقت لے لے، تو سب سے پہلے قانون کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر عدالتیں عوام کے اعتماد کا مرکز نہ رہیں، انصاف میں غیر ضروری تاخیر ہو، یا عام لوگوں کو یہ احساس ہونے لگے کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں نہیں، تو قانون کی اخلاقی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ قرآنِ مجید عدل کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ انصاف کرتے ہوئے کسی قوم، گروہ یا اختلاف کو بھی عدل سے انحراف کا سبب نہ بننے دیا جائے۔ یہی وہ معیار ہے جو ایک صالح معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔
اگر ریاستی ادارے غیر جانب داری کے بجائے جانبداری کا تاثر دینے لگیں، قانون کے نفاذ میں دوہرا معیار محسوس ہونے لگے، اور انتظامی اقدامات میں مساوات کا اصول کمزور ہو جائے، تو شہریوں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ قانون کی اصل طاقت اس کے سخت ہونے میں نہیں بلکہ اس کے منصفانہ، شفاف اور سب کے لیے یکساں ہونے میں ہے۔ اسی طرح اگر قانونی عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی گھروں، تجارتی مراکز، مذہبی مقامات یا اوقافی املاک کے بارے میں ایسے اقدامات کیے جائیں جن پر قانونی یا آئینی سوالات اٹھیں، تو یہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قانون کی حکمرانی کے تصور سے متعلق ایک وسیع تر بحث بن جاتا ہے۔ ایک آئینی ریاست کی اصل پہچان یہی ہے کہ ہر کارروائی قانون، شواہد اور عدالتی نگرانی کے دائرے میں ہو۔
تعلیم بھی کسی قوم کا مستقبل تشکیل دیتی ہے۔ اگر تعلیمی ادارے آزاد فکری تربیت کے بجائے نظریاتی کشمکش کا میدان بن جائیں، تحقیق، تنقید اور علمی مکالمے کی جگہ یک رخا سوچ کو فروغ دیا جائے، تو آنے والی نسلیں سوال کرنے، دلیل سننے اور مختلف آراء کو برداشت کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتی ہیں۔ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنی نئی نسل کو آزاد فکر، اعلیٰ اخلاق، تحقیق اور علمی دیانت کی دولت عطا کرتی ہیں۔ اسی طرح جب معاشرے کے کمزور طبقات، کسان، مزدور، غریب، دلت، قبائلی یا دوسرے محروم افراد خود کو مساوی مواقع اور انصاف سے محروم محسوس کریں، تو سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ قرآن کا تصورِ عدل یہ ہے کہ معاشرے کے طاقتور اور کمزور، دونوں قانون کے سامنے برابر ہوں، اور ریاست کا جھکاؤ ہمیشہ انصاف کی طرف ہو، نہ کہ کسی مخصوص طبقے یا مفاد کی طرف۔
یہ تمام سوالات ایک اور بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں: اگر قانون سازی کا معیار صرف عددی اکثریت بن جائے، اور اخلاقی اصول، آئینی قدریں اور انصاف پس منظر میں چلے جائیں، تو کیا صرف اکثریت ہی حق و باطل کا معیار بن سکتی ہے؟
اسلامی فکر اس سوال کا جواب واضح اصولوں میں دیتی ہے۔ قرآنِ مجید بارہا اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ حق کا معیار محض اکثریت نہیں بلکہ عدل، حق، تقویٰ اور اخلاقی ذمّہ داری ہے۔ اکثریت اگر انصاف کے ساتھ ہو تو وہ خیر کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر اکثریت خود انصاف سے دور ہو جائے تو صرف تعداد کسی موقف کو حق ثابت نہیں کر سکتی۔ اسی لیے قانون سازی کی حقیقی بنیاد وقتی مفادات، جذباتی رجحانات یا عددی غلبہ نہیں، بلکہ انصاف، انسانی وقار، بنیادی حقوق اور اخلاقی اصول ہونے چاہییں۔ جہاں قانون مفاد کی حفاظت کرے مگر انصاف کی نہیں، وہاں ریاست اور معاشرہ دونوں اخلاقی بحران کا شکار ہونے لگتے ہیں۔
ایسے حالات میں ایک صاحبِ ایمان کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ قرآن مسلمانوں کو "خیرِ اُمّت” قرار دیتا ہے، لیکن اس اعزاز کے ساتھ ایک عظیم ذمّہ داری بھی وابستہ کرتا ہے: "تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے لیے برپا کی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللّٰہ پر ایمان رکھتے ہو” (آلِ عمران: 110)۔ یہ آیت محض ایک اعزاز کا اعلان نہیں بلکہ ایک مسلسل دعوتِ عمل ہے۔ خیرِ اُمّت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے معاشرے میں عدل، خیر، اصلاح، اخلاق، حق گوئی اور خیر خواہی کا علمبردار بنے۔ وہ ظلم، ناانصافی اور اخلاقی انحطاط پر خاموش تماشائی نہ بنے، بلکہ حکمت، صبر، قانون، اخلاق اور پُرامن ذرائع کے ذریعے اصلاح کی جدوجہد کرے۔
قرآن کا تصورِ اصلاح تصادم سے زیادہ تعمیر پر زور دیتا ہے، نفرت سے زیادہ حکمت پر، اور انتقام سے زیادہ انصاف پر۔ ایک مومن کی طاقت اس کی اخلاقی ساکھ، سچائی، کردار، علم اور استقامت میں ہوتی ہے۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بناتا، بلکہ دلیل، خیر خواہی اور عدل کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ آج کے دور میں خیرِ اُمّت کی ذمّہ داری صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اہلِ ایمان علم پیدا کریں، سچ بولیں، کمزوروں کے حقوق کی حمایت کریں، آئینی انصاف کے لیے آواز بلند کریں، انسانی وقار کا دفاع کریں، اور معاشرے میں امن، مکالمے، برداشت اور اخلاقی بیداری کو فروغ دیں۔
اسلامی سیاسی فکر کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے عدل، مساوات، قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کو محض نظری مباحث تک محدود نہیں رکھا، بلکہ انہیں تاریخ کے مختلف ادوار میں عملی صورت بھی عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب کی تاریخ میں ایسے متعدد روشن نمونے ملتے ہیں جو اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ریاست کی اصل بنیاد طاقت، نسل، مذہب یا اکثریت نہیں بلکہ عدل اور قانون ہے۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد رسول اللّٰہﷺ نے میثاقِ مدینہ کی صورت میں ایک ایسا سماجی و سیاسی معاہدہ مرتب فرمایا جسے دنیا کے اوّلین تحریری آئینی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے نے مدینہ میں آباد مختلف قبائل اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک مشترکہ شہری نظم کے تحت جمع کیا۔ ہر فریق کے مذہبی تشخص، جان و مال، بنیادی حقوق اور قانونی تحفّظ کو تسلیم کیا گیا، جب کہ انصاف اور اجتماعی ذمّہ داری کو سب کے لیے یکساں اصول قرار دیا گیا۔ یہ اس حقیقت کا تاریخی ثبوت ہے کہ اسلامی ریاست کا تصور مذہبی جبر پر نہیں بلکہ عدل، معاہدے کی پاسداری اور قانون کی برابری پر قائم ہے۔
خلافتِ راشدہ بالخصوص حضرت عمر بن خطابؓ کا دور بھی قانون کی بالادستی اور حکمران کی جواب دہی کا بے مثال نمونہ ہے۔ اسلامی روایت میں بارہا یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ خلیفہ خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتا تھا، بلکہ اپنے آپ کو بھی اسی قانون کا پابند تصور کرتا تھا جس کا وہ دوسروں سے مطالبہ کرتا تھا۔ یہی طرزِ حکمرانی اس اصول کو مستحکم کرتا ہے کہ اسلامی نظام میں حکمران کی عظمت اس کے اختیارات میں نہیں بلکہ اس کی جواب دہی، انصاف پسندی اور قانون کے سامنے مساوات میں ہے۔ اسی طرح صلاح الدین ایوبیؒ کی شخصیت اس امر کی روشن مثال ہے کہ طاقت کا حقیقی حسن اخلاق اور عدل کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ جنگوں کے سخت ترین حالات میں بھی انہوں نے مخالفین کے ساتھ انسانی وقار، رحم، عہد کی پابندی اور اخلاقی اصولوں کو مقدم رکھا۔ بیت المقدّس کی فتح کے موقع پر ان کا طرزِ عمل اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ اسلامی قوت کا مقصد انتقام نہیں بلکہ انصاف، امن اور انسانی عظمت کا تحفّظ ہے۔
اسلامی تہذیب کی علمی و تمدّنی تاریخ میں اندلس بھی ایک درخشاں مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہاں علم، تحقیق، عدل، تہذیبی رواداری اور فکری آزادی نے ایسی فضا پیدا کی جس نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذہبی و تہذیبی طبقات کو بھی علمی و تمدنی ترقی کے مواقع فراہم کیے۔ قرطبہ، غرناطہ اور اشبیلیہ جیسے مراکز علم، فلسفہ، طب، ریاضی اور فلکیات کی عالمی درسگاہیں بن گئے۔ اس تاریخی تجربے سے واضح ہوتا ہے کہ جب عدل، علم اور اخلاق ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں تو تہذیبیں عروج پاتی ہیں، اور جب ظلم، تعصب اور ناانصافی غالب آتے ہیں تو زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔
یہ تمام تاریخی مثالیں اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ اسلام نے عدل، مساوات، قانون کی حکمرانی اور انسانی احترام کو صرف نظری اصولوں کی صورت میں پیش نہیں کیا بلکہ انہیں عملی ریاستی اور تہذیبی تجربات میں ڈھال کر دنیا کے سامنے ایک قابلِ عمل نمونہ بھی رکھا۔ یہی تاریخی ورثہ آج بھی اُمّتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پائیدار ریاستیں محض اکثریت، طاقت یا سیاسی غلبے سے قائم نہیں ہوتیں، بلکہ انصاف، قانون کی غیر جانب دارانہ حکمرانی، اخلاقی قیادت اور انسانی وقار کے تحفّظ سے مضبوط اور مستحکم بنتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں، صرف اکثریت سے نہیں بلکہ اخلاقی عظمت سے زندہ رہتی ہیں، اور صرف اقتدار سے نہیں بلکہ کردار سے اپنا مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔ لہٰذا آج ہر صاحبِ شعور کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ وہ خاموش رہے یا بولے، بلکہ یہ ہے کہ وہ حق، عدل، دیانت، حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ اپنا کردار کیسے ادا کرے۔ قرآن کی دعوت یہی ہے کہ انسان حالات کا بے حس تماشائی نہ بنے بلکہ خیر، انصاف اور اصلاح کا ذمّہ دار گواہ بنے، کیونکہ یہی خیرِ اُمّت کی حقیقی شناخت اور اس کی دائمی ذمّہ داری ہے۔
(جولائی 2026ء)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے