कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

درد دل کا پیغام دختران ملت کے نام

تحریر:مفتی عبدالرافع قاسمی
(ناندیڑ مہاراشٹر)

تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ رجال کار کی ترقی و بلندی میں بنات اسلام کا بڑا اہم رول رہا ہے، اور جب یہ صنف نازک کسی کام کو اپنا لے تو تن من دھن سے اس کو پایہ تحصیل تک پہنچا کر ہی راحت کی سانس لیتی ہے اس لئے کسی نے کہا ، مرد پڑھا فرد پڑھا، عورت پڑھی خاندان پڑھا۔ اور عورتیں جب کامل ہوئیں تو ولیہ بنیں ، عورتوں میں سمجھداری آئی تو تصوف و سلوک کے مدارج طے کر لئے ، یہی عورت اسلام کی خدمت اور اسکی نشر واشاعت پر آجائے تو خاندان کے خاندان اسلامی حلقوں میں شامل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں دیکھئے ، شیدایان اسلام میں سے ایک خاتون ام المؤمنین سیدہ صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنھا ہیں، جن کا پوری امت پر احسان عظیم ہے، یہ محبوب خدا و رسول ہیں بڑے بڑے صحابہ کرام حضور ﷺ کے انتقال کے بعد حضرت عائشہ سے مسائل دریافت فرماتے تھے۔ حضرت خدیجہ کو دیکھیں حضور کے پر سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون حضرت خدیجہ الکبری ہیں اور جب ہمارے پیارے نبیﷺکو نبوت ملی، پہلی مرتبہ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور آپ گھبرا کر اپنی بیوی حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے ، بدن مبارک کانپ رہا تھا ، ایسے وقت میں وہ ایک خاتون ہی کا عمل تھا جس نے سید الاولین والآخرین محمد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی اور فرمایا خدا کی قسم آپ تو نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، کھانا کھلاتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں آپ مہمان نوازی کرتے ہیں آپ بے کاروں کو کام پر لگاتے ہیں آپ پر جادو نہیں ہو سکتا ۔ اسی پر بس نہیں ۔ امام الاخیاء سرور کونین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرماتے ہیں اور آپ تین دن تک غار ثور میں ٹھہرتے ہیں اُدھر مکہ میں سرداران مکہ نے یہ اعلان کیا کہ جو کوئی حضور کو یا حضرت ابوبکر ” کو زندہ پکڑ لائے یا تعوذ باللہ ان کا سر لائے اس کو سو سرخ اونٹوں کا انعام ملے گا ایسے وقت میں اسماء بنت ابی بکر ایک خاتون ہی تھی جو روزانہ اپنے غلام عامر بن غیرہ کے ہاتھوں غار ثور تک کھانا پو نچاتی اور اسکا راز ایسا گم ہوا کہ کانوں کان بھی کسی کو خبر نہ ہوئی ، پتہ چلا کہ اس کامیاب واقعہ کے پیچھے ایک دختر اسلام کا ہاتھ تھا۔ اسی ضمن اور ایک نیک ولیہ اور اللہ کی پیاری بندی کا واقعہ دل کے کانوں سے سنیں اور اس پروگرام سے سبق لیکر جائیں۔۔۔
جب حضرت رابعہ بصری رحمہ اللہ بچپن میں یتیم ہوئیں، تو بصرہ میں شدید قحط پڑا۔ اس افراتفری کے دور میں وہ اپنے خاندان سے بچھڑ گئیں اور ایک ظالم شخص نے انہیں پکڑ کر چند درہم کے عوض ایک آقا کے ہاتھ غلام کے طور پر بیچ دیا۔ان کا آقا ان سے دن بھر سخت مشقت لیتا تھا، لیکن اس شدید ترین آزمائش اور غلامی کی سختیوں کے باوجود ان کی دینی ثابت قدمی میں کوئی لغزش نہ آئی:دن بھر غلامی، رات بھر بندگی: وہ دن بھر آقا کی سخت غلامی کرتیں اور بھوک پیاس برداشت کرتیں، لیکن رات ہوتے ہی اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جاتیں۔شکر گزاری کا مقام: ایک بار وہ راستے سے گزر رہی تھیں کہ گر گئیں اور ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔ انہوں نے اس شدید تکلیف میں بھی کوئی شکایت نہیں کی، بلکہ مٹی پر سر رکھ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: "اے اللہ! میں بے سہارا ہوں، یتیم ہوں اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوں، اور اب میرا ہاتھ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ لیکن مجھے ان تکالیف کا کوئی غم نہیں، میں بس یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا تو مجھ سے راضی ہے؟”غیبی تسلی: اسی وقت انہیں غیب سے آواز آئی: "اے رابعہ! غم نہ کر، قیامت کے دن تیرا وہ مقام ہوگا کہ مقرب فرشتے بھی تیرے رتبے پر رشک کریں گے۔”اس سے سبق ملا کہ "عورتیں جب کامل ہوئیں تو ولیہ بنیں اور اور حیاء اور ایمان کا راستہ طے کرے تو یہ”، حضرت رابعہ بصری کا واقعہ اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جب ایک دخترِ اسلام دین پر ثابت قدم ہو جائے، تو دنیا کی کوئی سختی، غلامی یا تکلیف اسے صراطِ مستقیم سے نہیں ہٹا سکتی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے