कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مایوسی کے جزیرے سے امید کے ساحل تک

آزمائش کے اندھیروں میں رب کی رحمت پر یقین کی ایک بصیرت افروز داستان کے حوالے سے ایک چشم کشا دل پہ اثر انگیز ہوتی تحریر

از قلم:ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی
مولانا آزاد کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس اورنگ آباد
موبائل نمبر 9325217306

انسانی زندگی کی حقیقت اگر چند لفظوں میں بیان کی جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ راحت و رنج، امید و اندیشہ، کشادگی و تنگی، اور ملاپ و جدائی کے مسلسل تجربات کا نام ہے۔ کبھی زندگی اپنے دامن میں بہاروں کی خوشبو سمیٹے سامنے آتی ہے اور کبھی اچانک ایسے طوفان برپا ہوتے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو بے بس، تنہا اور شکستہ حال محسوس کرنے لگتا ہے۔ بسا اوقات حالات اس نہج تک پہنچ جاتے ہیں کہ آدمی کے دل سے امید کی آخری کرن بھی مدھم پڑنے لگتی ہے، زبان پر آہیں، آنکھوں میں نمی اور دل میں یہ احساس جاگزیں ہوجاتا ہے کہ شاید اب واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان، توکل، صبر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر کامل یقین انسان کو سنبھالتا ہے، اسے مایوسی کے گڑھے میں گرنے سے بچاتا ہے، اور بتاتا ہے کہ اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، صبح بہرحال طلوع ہوکر رہتی ہے۔
عربی ادب اور اسلامی روایت میں ایسی بے شمار حکایات ملتی ہیں جو انسان کو یہ سبق دیتی ہیں کہ زندگی کے سخت ترین لمحوں میں بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ زیرِ نظر واقعہ بھی اسی حقیقت کا نہایت بلیغ، دلنشیں اور سبق آموز اظہار ہے۔ روایت ہے کہ ایک شخص کی کشتی ٹوٹ گئی، وہ سمندر کے تھپیڑوں میں بہتا ہوا ایک جزیرے پر جاپہنچا۔ وہاں کئی دن تک وہ تنہا، بے سہارا اور بے یار و مددگار پڑا رہا۔ نہ کوئی انسان نظر آتا تھا، نہ نجات کی کوئی سبیل دکھائی دیتی تھی، نہ واپسی کی کوئی امید باقی رہ گئی تھی۔ اس تنہائی، خوف، بے بسی اور مایوسی کے عالم میں اس کی زبان سے بے ساختہ یہ شعر نکلا:
إذا شاب الغراب أتيت أهلي
وصار القار كاللبن الحليب
یعنی: میں اپنے گھر والوں کے پاس اس وقت لوٹوں گا جب کوا بوڑھا ہو کر سفید ہوجائے گا، اور جب تارکول دودھ کی طرح سفید ہوجائے گا۔
یہ دراصل عربی اسلوب میں انتہائی مایوسی کا اظہار ہے۔ شاعر یا متکلم کہنا یہ چاہتا ہے کہ اب واپسی ناممکن ہے، نجات کی کوئی صورت باقی نہیں رہی، اور امید کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ گویا اس شخص نے اپنے دل کی شکستگی کو ان ناممکن مثالوں کے ذریعے بیان کیا کہ جیسے کالے کوے کا سفید ہوجانا یا کالے تارکول کا دودھ بن جانا ممکن نہیں، اسی طرح میرا اپنے گھر لوٹنا بھی اب ممکن نہیں رہا۔
مگر قدرتِ الٰہی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ابھی وہ شخص مایوسی کے انہی خیالات میں ڈوبا ہوا تھا کہ اچانک اسے ایک آواز سنائی دی:
عسى الكرب الذي أمسيت فيه
يكون وراءه فرج قريب
یعنی: ممکن ہے کہ جس غم اور کرب میں تم اس وقت مبتلا ہو، اسی کے پیچھے قریب ہی کوئی راحت اور کشادگی چھپی ہوئی ہو۔
یہ آواز گویا آسمانی پیغام تھی، ایک روحانی دستک تھی، ایک الٰہی تنبیہ تھی کہ اے انسان! حالات خواہ کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ ابھی اس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی ہی تھی کہ ایک کشتی وہاں سے گزری، اس نے اسے دیکھ لیا، اور یوں وہ شخص نجات پا گیا۔ چند لمحے پہلے جو انسان خود کو تنہائی، مایوسی اور موت کے دہانے پر سمجھ رہا تھا، وہی اچانک رحمتِ خداوندی کے سایے میں امن و امان کے ساتھ نجات پالیتا ہے۔
یہ مختصر سا واقعہ محض ایک حکایت نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ایک ہمہ گیر سبق ہے۔ اس میں عقیدے کی حرارت بھی ہے، اخلاق کی روشنی بھی، نفسیات کی گہرائی بھی، اور تربیتِ حیات کا پیغام بھی۔ یہ واقعہ ہمیں سب سے پہلے یہ حقیقت سمجھاتا ہے کہ مایوسی انسان کی سب سے بڑی داخلی شکست ہے۔ بیرونی مصیبتیں اتنا نقصان نہیں پہنچاتیں جتنا دل کی شکستگی اور امید کے چراغ کا بجھ جانا پہنچاتا ہے۔ جب انسان امید ہار دیتا ہے تو وہ اپنے امکانات، اپنی ہمت، اپنی قوتِ ارادی اور اپنے رب سے تعلق سب کچھ کمزور کرلیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ حالات کی سنگینی کے باوجود دل میں امید کا چراغ روشن رکھے، تو یہی امید اس کے لیے راستہ بھی بن جاتی ہے، سہارا بھی، اور نجات کا ذریعہ بھی۔
اسلام نے مایوسی کو پسند نہیں کیا، بلکہ اسے ایمان کی روح کے خلاف قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم بار بار بندے کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "لا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ” یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ ایک اور مقام پر فرمایا: "لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ” یعنی اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو جاؤ۔ یہ آیات محض تسلی کے الفاظ نہیں، بلکہ ایک مؤمن کی فکری و روحانی تربیت کا بنیادی اصول ہیں۔ مؤمن وہ ہے جو گناہوں کے بوجھ تلے بھی اللہ کی رحمت کا امیدوار رہے، بیماری میں بھی شفا کی امید رکھے، غربت میں بھی رزقِ حلال کے دروازے کھلے دیکھے، ناکامی میں بھی کامیابی کی راہ تلاش کرے، اور ظلمتوں کے بیچ بھی روشنی کی سمت بڑھتا رہے۔
اس واقعے کا دوسرا اہم سبق توکل علی اللہ ہے۔ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسباب کو ترک کرکے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی بساط بھر کوشش کرے، اسباب اختیار کرے، اور پھر نتیجے کو اللہ کے سپرد کردے۔ جزیرے میں پھنسے اس شخص کے پاس بظاہر کوئی سبب نہ تھا، مگر اللہ کے یہاں اسباب کی کمی نہیں۔ بندہ ایک دروازہ بند دیکھتا ہے، جبکہ رب العالمین اس کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ زندگی میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی عقل، تدبیر اور حساب کے مطابق کسی معاملے کو ختم شدہ سمجھ لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اسی بند گلی سے کشادگی کی راہ نکال دیتا ہے۔ یہی توکل ہے، یہی ایمان ہے، یہی عبدیت ہے کہ بندہ حالات کو نہیں، اپنے رب کی قدرت کو دیکھے۔
یہ حکایت ہمیں صبر کی عظمت بھی سمجھاتی ہے۔ صبر محض خاموشی کا نام نہیں، نہ ہی بے حسی کا نام ہے، بلکہ صبر کا مفہوم یہ ہے کہ انسان مصیبت کے وقت اپنے دل کو شکوہ، زبان کو ناشکری اور عمل کو بے راہ روی سے محفوظ رکھے۔ وہ رنج کو محسوس کرے، تکلیف کو سمجھے، آنسو بھی بہائے، دعا بھی کرے، مگر اللہ کے فیصلے پر بدگمان نہ ہو۔ قرآن کہتا ہے: "إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا” یعنی بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ اس آیت میں کتنی بڑی بشارت پوشیدہ ہے کہ آسانی تنگی کے بعد نہیں، بلکہ تنگی کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ گویا مشکل کے بطن ہی میں راحت کا بیج موجود ہوتا ہے، آزمائش کی رات ہی میں رحمت کی سحر چھپی ہوتی ہے، اور کرب کے پیچھے ہی فرج کی آہٹ سنائی دے رہی ہوتی ہے۔
اس واقعے میں ایک نہایت باریک مگر اہم نکتہ حسنِ ظن باللہ کا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا مؤمن کی علامت ہے۔ جب بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ میرا رب میرے حال سے واقف ہے، میری آہوں کو سن رہا ہے، میری تنہائی کو جانتا ہے، میرے آنسو اس سے پوشیدہ نہیں، اور وہ میرے لیے خیر ہی کا فیصلہ فرمائے گا، تو اس کے دل میں ایک عجیب اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ یہی حسنِ ظن انسان کو اندر سے مضبوط کرتا ہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں۔ اس فرمان میں مؤمن کے لیے امید کا کتنا بڑا سامان ہے۔ بندہ اگر اپنے رب سے خیر کی امید رکھے، اس کی رحمت پر اعتماد کرے، اور دل میں یہ یقین بسائے کہ میرا رب مجھے ضائع نہیں کرے گا، تو یہی گمان اس کی زندگی کا سرمایہ بن جاتا ہے۔
آج کا انسان بھی کسی نہ کسی صورت میں اسی جزیرے کا مسافر ہے۔ کوئی معاشی تنگی کے جزیرے میں پھنسا ہوا ہے، کوئی گھریلو ناچاقی کے ساحل پر بے چین ہے، کوئی بیماری کے اندھیروں میں امید تلاش کر رہا ہے، کوئی بے روزگاری کے بوجھ سے دباہوا ہے، کوئی اولاد کے مستقبل کے لیے فکرمند ہے، کوئی تعلیمی ناکامیوں سے ٹوٹ چکا ہے، کوئی معاشرتی بے اعتنائی کا شکار ہے، اور کوئی روحانی خلا میں بھٹک رہا ہے۔ حالات مختلف ہیں مگر کیفیت ایک ہی ہے: تنہائی، بے بسی، خوف، اضطراب اور دل کا ٹوٹ جانا۔ ایسے میں یہ واقعہ ہمارے کان میں آہستہ سے کہتا ہے: ابھی فیصلہ نہ کرو، ابھی امید نہ چھوڑو، ابھی اپنے رب کی رحمت سے منہ نہ موڑو، کیونکہ عین ممکن ہے کہ جس غم نے تمہیں آج گھیر رکھا ہے، اسی کے پیچھے فرج کا دروازہ کھلنے والا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں بہت سی نعمتیں ہمیں اس وقت ملتی ہیں جب ہم ان کے ملنے کی امید تقریباً چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ کتنے ہی مریض ایسے ہیں جنہوں نے ناامیدی کے لمحوں کے بعد شفا پائی، کتنے ہی طالب علم ایسے ہیں جو ناکامیوں کے بعد کامیاب ہوئے، کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جو شدید اختلافات کے بعد دوبارہ محبت اور سکون کے راستے پر آئے، کتنے ہی افراد ایسے ہیں جنہیں بند دروازوں کے بعد غیر متوقع راستے میسر آئے۔ اس لیے عاقل وہ نہیں جو صرف خوشیوں میں اللہ کا شکر ادا کرے، بلکہ عاقل وہ ہے جو مصیبت میں بھی یہ یقین رکھے کہ میرا رب مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔
اس واقعے کی معنویت صرف فرد کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ اجتماعی اور سماجی سطح پر بھی اس کے گہرے اثرات ہیں۔ قومیں بھی کبھی کبھی مایوسی کے جزیروں میں گھر جاتی ہیں۔ علمی زوال، معاشی کمزوری، اخلاقی انحطاط، تعلیمی پسماندگی، سیاسی بے وزنی اور تہذیبی انتشار کے سبب انہیں لگتا ہے کہ اب سنبھلنا ممکن نہیں۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے امید، علم، عمل، اتحاد اور اللہ پر اعتماد کا دامن تھامے رکھا، وہ مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکل کر عروج کی منزلوں تک پہنچیں۔ اس لیے افراد ہوں یا قومیں، ان کی زندگی میں بقا، ارتقا اور سربلندی کا راستہ امید، یقین، محنت اور توکل ہی سے نکلتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ اس شخص کی نجات اس وقت آئی جب وہ بظاہر ہر طرف سے کٹا ہوا تھا۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ انہی راستوں سے نہیں آتی جن کا ہم تصور کرتے ہیں۔ بعض اوقات جس دروازے پر ہم مسلسل دستک دے رہے ہوتے ہیں، خیر وہاں نہیں ہوتی؛ اور جس سمت ہم نے دیکھا بھی نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ وہاں سے کشادگی بھیج دیتا ہے۔ اسی لیے مؤمن کو دعا کے ساتھ ساتھ رضا اور تفویض کی کیفیت بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔ وہ اللہ سے مانگے بھی، روئے بھی، گڑگڑائے بھی، تدبیر بھی کرے، مگر دل میں یہ آمادگی رکھے کہ میرا رب جس راستے سے چاہے، جس وقت چاہے، جس صورت میں چاہے، میری مدد فرما سکتا ہے۔
اس واقعے کی روشنی میں ہمیں اپنی انفرادی زندگی میں چند عملی اصول اپنانے کی ضرورت ہے۔ پہلا اصول یہ کہ مصیبت کے وقت فوری طور پر مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ دوسرا یہ کہ زبان کو شکوہ، بدگمانی اور ناشکری سے بچائیں۔ تیسرا یہ کہ دعا کو اپنا سب سے مضبوط سہارا بنائیں، کیونکہ دعا بندے کی بے بسی کو رب کی قدرت سے جوڑ دیتی ہے۔ چوتھا یہ کہ اسباب اختیار کرتے رہیں، کیونکہ توکل اسباب کے ساتھ ہوتا ہے، اسباب کے خلاف نہیں۔ پانچواں یہ کہ اپنے دل میں یہ یقین زندہ رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا خزانہ ختم نہیں ہوتا، اس کی رحمت محدود نہیں، اور اس کی مدد کسی وقت بھی آسکتی ہے۔ چھٹا یہ کہ دوسروں کے لیے بھی امید کا پیغام بنیں، کیونکہ بہت سے لوگ اپنی زندگی کے کسی نہ کسی جزیرے میں پھنسے ہوتے ہیں، اور انہیں ایک سچے جملے، ایک مخلص دعا اور ایک حوصلہ افزا لفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔
الغرض، جزیرے میں پھنسے اس شخص کی یہ حکایت ایک زندہ حقیقت کی ترجمان ہے: مایوسی حقیقت نہیں، ایک کیفیت ہے؛ اور امید محض جذبہ نہیں، ایمان کا تقاضا ہے۔ انسان جب خود کو حالات کے نرغے میں گھرا ہوا پائے، جب اسے راستے بند نظر آئیں، جب دل شکستہ ہو، جب آنکھیں اشکبار ہوں، جب زبان پر بے اختیار یہ آ جائے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا، تب اسے اس حکایت کی آواز سننی چاہیے:
عسى الكرب الذي أمسيت فيه يكون وراءه فرج قريب
یعنی: ممکن ہے کہ جس کرب میں تم آج مبتلا ہو، اسی کے پیچھے قریب ہی کشادگی اور نجات تمہاری منتظر ہو۔
پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں اپنے رب کی رحمت پر یقین رکھیں، صبر کو اپنا زادِ راہ بنائیں، دعا کو اپنا سہارا بنائیں، توکل کو اپنے دل کی قوت بنائیں، اور امید کے چراغ کو کبھی بجھنے نہ دیں۔ کیونکہ مؤمن کی شان یہی ہے کہ وہ طوفانوں میں بھی کشتیِ یقین کو ڈوبنے نہیں دیتا، اندھیروں میں بھی روشنی کا انتظار چھوڑتا نہیں، اور آزمائش کے جزیرے میں بھی رحمتِ الٰہی کے ساحل کو اپنی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں اپنی رحمت پر کامل یقین، آزمائشوں میں صبرِ جمیل، نعمتوں میں شکر، مصیبتوں میں استقامت، اور مایوسی کے ہر اندھیرے پر امید کی روشنی غالب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے