कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اعتدالِ اسلام فتنوں کے دور میں نجات کا راستہ

تحریر:محمد عادل ارریاوی

اعتدال اسلام کی روح اور امت مسلمہ کا امتیازی وصف ہے۔ جب تک مسلمان اس عظیم اصول پر قائم رہے وہ اتحاد وقار اور کامیابی سے ہم کنار رہے لیکن جب افراط و تفریط جذباتیت اور غلو نے جگہ لی تو اختلافات فتنوں اور انتشار نے جنم لیا۔ موجودہ حالات میں اسلام کی معتدل تعلیمات کو سمجھنا ان پر عمل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا ہر صاحبِ ایمان کی اہم ذمہ داری ہے۔
یہ بات کسی بھی انصاف پسند اور تھوڑا سا علم رکھنے والے مسلمان سے مخفی اور پوشیدہ نہیں کہ دنیا کے تمام موجودہ اور سابقہ مذاہب کے مقابلے میں دین اسلام کی تمام تعلیمات خواہ بڑی سے بڑی ہوں یا چھوٹی سے چھوٹی اور خواہ عقائد کے شعبے سے متعلق ہوں یا عبادات و معاملات اور معاشرت و اخلاق کے شعبے سے متعلق ہوں جن میں سیاست تعلیم و تبلیغ اور جہاد و قتال سب ہی داخل ہیں وہ تمام کی تمام انتہائی اعتدال کے اصول و قواعد پر مبنی ہیں اور ان کی نظیر اور مثال دنیا کے کسی بھی مذہب میں ملنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔
بلکہ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ دینِ اسلام کو جن اصول و قواعد کی وجہ سے دوسرے مذاہب پر امتیاز حاصل ہے ان میں اعتدال کا اصول اگر سر فہرست نہ ہو تو اس کے اہم ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔
چنانچہ یہ بات آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی دوسرے مذاہب کے مقابلے میں چیلنج کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس دور میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اور خاص طور پر ہمارے ملک ہندوستان کے مسلمانوں کی بڑی تعداد اسلام کے اس اہم اصول کو نظر انداز کر دینے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ طرح طرح کے مسائل و مصائب میں مبتلا ہے بلکہ اسی کے ساتھ وہ دوسرے مذاہب والوں کو اسلام سے متنفر کرنے اور اسلام کے بارے میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کرنے کا بھی سبب بنی ہوئی ہے۔
جس کے نتیجے میں طرح طرح کے اندرونی و بیرونی فتنے جنم لے رہے ہیں اور بے شمار دنیا و آخرت کے فوائد و برکات سے محرومی ان کا مقدر بنی ہوئی ہے بلکہ اب بے اعتدالی کا معاملہ اس حد تک آگے بڑھ گیا اور بگڑ گیا ہے کہ عملی بے اعتدالیوں کا معاملہ تو پیچھے رہ گیا اور بے اعتدالیوں کا مسئلہ نظریات و عقیدہ کے بگاڑ تک پہنچ گیا ہے۔
اور اسی وجہ سے اب اس ماحول میں اعتدال کی تعلیم بلکہ یاد دہانی کرانے والے پر طرح طرح کے الزامات عاید کیے جانے لگے ہیں یہاں تک کہ اس کے دین و ایمان پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور اس کے دین سے تعلق و دین داری پر نہ جانے کیا کیا الزامات عاید کیے جانے لگے ہیں۔
جہاں تک اس بے اعتدالی کے اسباب و عوامل پر غور کیا جاتا ہے تو اس کا بڑا سبب اسلام کی صحیح تعلیمات سے ناواقفیت اور مزید اپنے احتساب اور اصلاح نفس سے غفلت ہے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے یہاں جس شخص کا بھی کسی شعبے سے کچھ رشتہ و تعلق قائم ہو جاتا ہے وہ اس وقت تک چین وسکون سے نہیں بیٹھتا جب تک کہ اس میں بے اعتدالیوں کی انتہا نہ کر دے اور ہر قسم کی حدود کو پامال نہ کر دے۔
کسی بھی شعبے میں ایسے بہت کم لوگ ڈھونڈے سے ملتے ہیں کہ جو کسی شعبے سے وابستہ ہونے کے بعد اعتدال کے اصول پر قائم ہوں۔
جو لوگ سیاست سے وابستہ ہیں وہ سارا دین سیاست کو ہی سمجھتے ہیں اور سیاست کے نام پر اسلام کے کسی قاعدہ وقانون کے پابند نظر نہیں آتے یہاں تک کہ ملکی خزانہ کی لوٹ مار اور اس کے بے دریغ استعمال کو اپنا حق سمجھتے ہیں بلکہ ملکی خزانہ اور املاک کو اپنی ملکیت اور زرخرید لونڈی تصور کرتے ہیں۔
اور یہ لوگ سیاست اور سلطنت کے حصول اور اس کی بقاء اور طوالت کی خاطر جھوٹ بولنے اور دوسرے پر جھوٹے الزام لگانے کو بھی گناہ نہیں سمجھتے وغیرہ وغیرہ۔
جو لوگ تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں ان میں بھی اعتدال کے اصولوں پر قائم رہنے والوں کی کمی محسوس ہوتی ہے ایسے لوگ بکثرت دیکھے گئے ہیں جو تبلیغ کی خاطر بہت سے گناہوں کو روا سمجھنے لگتے ہیں اور تبلیغ کی خاطر وعدہ خلافی کسی کی حق تلفی کو بھی عیب نہیں سمجھتے اور تبلیغی کوائف کو پورا کرنے کی صورت میں اپنے آپ کو دین کے دوسرے اہم کاموں سے مستغنی اور بے نیاز سمجھنے لگتے ہیں اور اس کے مقابلے میں اور دین کے دوسرے اہم شعبوں سے وابستہ خدام کی قیمتی خدمات کو بھی کوئی وقعت واہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے جب کہ بعض حضرات علی الاطلاق اور علی العموم سب مسلمانوں کے لیے مخصوص طرز کی تبلیغ سے وابستہ ہونے کو فرض عین قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح مسلمانوں میں ایک طبقہ وہ بھی ہے جو بلا تحقیق و تفتیش کسی کو کافر و مرتد قرار دینے سے دریغ نہیں کرتا اور فقہائے کرام کی بیان کردہ تاویلات کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتا اور مزید براں کسی کافر و مرتد کے واجب القتل ہونے کے حقیقی مفہوم اور اس کے قیود و شرائط سے بھی واقفیت نہیں رکھتا۔
اس قسم کے اور بھی بے انتہاء منفی اور جذباتی رجحانات پائے جاتے ہیں اور ان کے ( دنیوی واخروی ) نتائج بد بھی اتنے ہیں کہ جو احاطہ شمار سے باہر ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں پورا ملکی نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔
اسی قسم کے منفی و جذباتی رجحانات کے نتیجے میں بے شمار تنظیمیں تحریکیں وجود میں آتی ہیں اور ایک دوسرے کے مد مقابل ہو کر اس طرح اپنا کام کرتی ہیں کہ جس کی وجہ سے آپس میں رسہ کشی بلکہ ایک دوسرے کی کردار کشی بھی ایک طرح سے اس تحریک کا شعار بن کر رہ جاتی ہے۔
دین کے وہ شعبے جو ایک دوسرے کے معاون ورفیق تھے وہ اس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے معاند و مقابل اور فریق محسوس ہونے لگتے ہیں۔
اور جہاں تک غور کرنے سے معلوم ہوا اس قسم کی ذہنیت کوئی ایک آدھ دن کی پیداوار نہیں بلکہ مدت دراز سے خود سر اور خود رو تحریکیں اٹھتے رہنے اور ان کا احتساب اور اصلاح کی کوششیں نہ ہونے سے نوبت یہاں تک پہنچتی ہے۔
دوسری طرف نوجوان غیر تربیت یافتہ خطبا و مقررین اور مقتداؤں نے بھی منفی رجحانات اور جذباتی سوچوں کو ہوا دینے بلکہ ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ معلوم نہیں کہ یہ بے اعتدالیاں اور انتہاء پسندیاں کب تک جاری رہیں گی۔
اسی طرح سوشل میڈیا نے بھی بے اعتدالی کے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بغیر تحقیق کسی خبر کو آگے بڑھا دینا ادھوری معلومات کی بنیاد پر فیصلے صادر کرنا مخالفین کی کردار کشی کرنا سخت اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرنا اور ہر مسئلے پر فوری فتویٰ یا رائے دینا ایک عام روش بنتی جا رہی ہے۔ حالانکہ اسلام نے زبان اور قلم دونوں کے استعمال میں احتیاط دیانت اور جواب دہی کا سبق دیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر مسلمان اپنے نفس کا محاسبہ کرے اپنی نیتوں کا جائزہ لے اور یہ دیکھے کہ کہیں وہ دین کی خدمت کے نام پر حدودِ شریعت سے تجاوز تو نہیں کر رہا۔ کیونکہ کسی نیک مقصد کے لیے بھی ناجائز ذرائع اختیار کرنا شریعت کی نظر میں قابلِ قبول نہیں۔ دین کی حقیقی خدمت وہی ہے جو علمِ صحیح اخلاصِ نیت حسنِ اخلاق اور اعتدال کے ساتھ انجام دی جائے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جو شخص جس شعبے سے بھی وابستہ اور منسلک ہے اس سلسلے میں نیک نیتی خلوص اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ شریعت مطہرہ کی معقول اور پاکیزہ تعلیمات کو ملاحظہ کرے اہلِ علم اکابر فقہاء کی ہدایات سے استفادہ کرے اور اپنے منفی رجحانات اور جذباتی سوچ و فکر کی اصلاح کے لیے تزکیہ نفس کے مستند ماہر مشائخ عظام سے وابستہ ہو کر اپنی تربیت و احتساب کے عمل کو فروغ دے۔
لہٰذا اگر امت اپنے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے جذباتیت تعصب اور انتہاپسندی سے نکل کر قرآن و سنت کی معتدل تعلیمات کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا اکابر اہلِ علم کی راہنمائی کو اختیار کرنا ہوگا اور اختلاف کے باوجود عدل احترام اور حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو اتحاد استحکام اور دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں دینِ اسلام کی صحیح سمجھ اعتدال کی راہ پر ثابت قدمی افراط و تفریط سے حفاظت اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے