कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ظلم کا پیمانہ، جمہوریت کا نوحہ اور اجتماعی ضمیر کا امتحان

The Scale of Oppression, the Lament of Democracy, and the Trial of the Collective Conscience

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)

ہر قوم کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب اس کے اجتماعی شعور، اخلاقی بصیرت اور انصاف پسندی کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔ انہی مواقع پر یہ طے ہوتا ہے کہ قومیں اصولوں کے ساتھ کھڑی ہیں یا صرف اپنے مفادات کے ساتھ۔ ملتوں کی عزّت و وقار اس بات سے متعین نہیں ہوتا کہ وہ صرف اپنے دکھوں پر آنسو بہائیں، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ وہ ہر مظلوم کے درد کو اپنا درد، ہر ناانصافی کو اپنی ذمّہ داری، اور ہر ظلم کو اپنے ضمیر کا سوال سمجھیں۔ ملی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کی شناخت محض ایک مذہبی برادری کی نہیں، بلکہ عدل، حق گوئی، خیر خواہی اور اخلاقی گواہی کی حامل ایک اُمّت کی ہے۔
قرآنِ مجید نے اُمّتِ مسلمہ کو انسانیت کے سامنے حق و انصاف کی گواہ بننے کا جو منصب عطا کیا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان ہر حال میں انصاف کے علم بردار رہیں، خواہ معاملہ اپنے حق میں ہو یا اپنے خلاف، اور خواہ مظلوم کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات، زبان یا نظریاتی گروہ سے ہو۔ انصاف کی یہی آفاقیت ملت کی حقیقی قوت اور اس کی اخلاقی شناخت ہے۔ جب انصاف کا معیار شناختوں کے مطابق بدلنے لگے تو صرف کسی ایک طبقے کے حقوق ہی مجروح نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کا اخلاقی توازن اور جمہوری روح بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
زیرِ نظر مضمون اسی ملی شعور، آئینی احساس اور اخلاقی ذمّہ داری کے تناظر میں اس اہم سوال کا جائزہ لینے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے کہ کیا ہمارا اجتماعی ضمیر ہر ظلم پر یکساں بے چین ہوتا ہے، یا ہم بھی مظلوم کی شناخت دیکھ کر انصاف کا پیمانہ بدل دیتے ہیں؟ اگر ایک مضبوط، باوقار اور منصف ہندوستان ہماری مشترکہ آرزو ہے، تو اس کی بنیاد صرف اسی اصول پر استوار ہو سکتی ہے کہ ظلم، ظلم ہے؛ خواہ وہ کسی کے خلاف ہو، اور انصاف، انصاف ہے؛ خواہ وہ کسی کے حق میں ہو۔
20 جولائی 2026ء کو مظاہرین پر ہونے والے لاٹھی چارج کے بعد ملک کے مختلف حلقوں میں یہ آواز بلند ہوئی کہ "جمہوریت کا قتل ہو گیا”۔ بلاشبہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں پُرامن احتجاج پر طاقت کا غیر ضروری استعمال تشویش کا باعث ہوتا ہے۔ ریاستی طاقت کا استعمال ہمیشہ قانون، انصاف اور انسانی وقار کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن اس موقع پر ایک بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا جمہوریت کا درد صرف اُس وقت محسوس ہوتا ہے جب ظلم کا دائرہ ہمارے اپنے دروازے تک پہنچ جائے؟ یا پھر ایک زندہ عوامی ضمیر وہ ہے جو ہر مظلوم کے لیے یکساں طور پر بے چین ہو؟
جمہوریت صرف انتخابات، حکومتوں کی تبدیلی یا اکثریت کی حکمرانی کا نام نہیں، بلکہ اس کی اصل روح شہری آزادیوں، اختلافِ رائے کے احترام، قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق کے تحفّظ اور ریاستی اداروں کے غیر جانب دار کردار میں مضمر ہے۔ جب شہریوں کو پُرامن احتجاج، اظہارِ رائے اور آئینی اختلاف کے حق سے محروم کیا جاتا ہے تو حکومت کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ اسی لیے کسی بھی عوامی معاشرے میں ریاستی طاقت کے استعمال کو ہمیشہ آئین اور قانون کی حدود میں رہنا چاہیے۔
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ملک کی حالیہ تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے جب ایک مخصوص طبقے، خصوصاً مسلمانوں نے بھی ریاستی کارروائیوں، گرفتاریوں، تشدّد اور سختیوں کا سامنا کیا۔ اس وقت بھی انصاف، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کے بارے میں یہی اصول زیرِ بحث تھے، لیکن ان واقعات پر معاشرے کے مختلف طبقات کا ردِعمل یکساں نہیں تھا۔ انہی یادوں میں 15 دسمبر 2019ء کی وہ رات بھی شامل ہے، جب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کارروائی نے پورے ملک میں ایک شدید بحث کو جنم دیا۔ لائبریری میں موجود طلبہ پر طاقت کے استعمال کی تصاویر اور ویڈیوز نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی ماہرین کو بھی سوال اٹھانے پر مجبور کیا۔ اسی دور میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے واقعات بھی قومی گفتگو کا حصّہ بنے، جہاں طاقت کے استعمال کے طریقۂ کار پر شدید تنقید سامنے آئی۔
ملک کا آئین ہر شہری کو اظہارِ رائے، پُرامن اجتماع اور احتجاج کے بنیادی حقوق عطا کرتا ہے۔ اگرچہ ان حقوق پر قانون کے مطابق معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، لیکن ان پابندیوں کا مقصد شہری آزادیوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ عوامی نظم کو برقرار رکھنا ہے۔ اسی لیے جب بھی ریاستی کارروائی ان بنیادی حقوق کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہے تو اس کا جائزہ صرف سیاسی نہیں بلکہ آئینی زاویے سے بھی لیا جانا چاہیے۔ اسی عرصے میں حجاب پہننے والی طالبات، نوجوان طلبہ، اور احتجاجی مظاہرین کی تصاویر بھی عوامی حافظے کا حصّہ بنیں۔ یہ مناظر صرف چند افراد کی تکلیف نہیں تھے بلکہ اس سوال کی علامت تھے کہ کیا شہری آزادیوں کا معیار سب کے لیے یکساں ہے، یا وہ حالات اور شناخت کے مطابق بدل جاتا ہے؟
شاہین باغ کا احتجاج بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا۔ ایک طرف لاکھوں لوگوں نے اسے شہری مزاحمت اور آئینی احتجاج کی علامت قرار دیا، تو دوسری جانب اس کے بارے میں متعدد الزامات، افواہیں اور منفی بیانیے بھی پھیلائے گئے۔ اس پورے منظرنامے نے یہ واضح کیا کہ سیاسی اختلافات کے زمانے میں اطلاعات، افواہوں اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق کرنا کتنا ضروری ہے۔ شاہین باغ نے ہندوستانی معاشرے میں یہ سوال بھی پیدا کیا کہ احتجاج اور عوامی زندگی کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ اس بحث میں عدالتوں، آئینی ماہرین، سماجی کارکنوں اور مختلف سیاسی حلقوں نے اپنے اپنے زاویۂ نظر پیش کیے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کو مکالمے اور قانون کے ذریعے حل کرنا زیادہ پائیدار راستہ ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قریب فائرنگ کا واقعہ بھی اسی دور کے ان تلخ ابواب میں شامل ہے جس نے عوامی تحفّظ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمّہ داری اور سیاسی ماحول پر کئی سوالات کھڑے کیے۔ ایسے واقعات کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا امتحان ہوتے ہیں، کیونکہ جب تشدّد معمول بن جائے تو اس کی زد میں بالآخر سب آتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو وہ تھا جب اختلافِ رائے نے معاشرے کے اندر ہی تقسیم پیدا کر دی۔ بعض مواقع پر مسلمان خود مختلف سیاسی اور سماجی موقف اختیار کرتے ہوئے ایک دوسرے کے مقابل دکھائی دیے۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا فطری حصّہ ہے، لیکن جب اختلاف نفرت، تحقیر یا ایک دوسرے کے خلاف صف بندی میں تبدیل ہو جائے تو اس کا نقصان پوری برادری اور وسیع تر معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ داخلی تقسیم ہمیشہ بیرونی طاقتوں کو زیادہ مضبوط بناتی ہے۔
قرآنِ مجید اہلِ ایمان کو عدل و انصاف پر ثابت قدم رہنے کی تعلیم دیتا ہے، خواہ معاملہ اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔ "اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے” (المائدہ: 8)۔ یہ اصول صرف مذہبی تعلیم نہیں بلکہ ایک آفاقی اخلاقی معیار بھی ہے، جو ہر معاشرے کو انصاف کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ آج جب لاٹھی چارج کے ایک واقعے کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے تو یہ لمحہ صرف احتجاج کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی ہے۔ اگر واقعی جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ شہری آزادی، قانون کی بالادستی، اظہارِ رائے کی آزادی اور پُرامن احتجاج کے حق کا نام ہے، تو پھر ان اصولوں کا دفاع ہر موقع پر ہونا چاہیے، خواہ متاثر ہونے والا کوئی بھی فرد، طبقہ یا نظریاتی گروہ ہو۔
جمہوریت کا سب سے بڑا المیہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ ظلم کے خلاف نہیں بلکہ مظلوم کی شناخت دیکھ کر اپنا موقف طے کرتے ہیں۔ جب انصاف کو مذہب، ذات، زبان، نظریے یا سیاسی وابستگی کی عینک سے دیکھا جانے لگے تو انصاف اپنی روح کھو دیتا ہے۔ اصول وہی معتبر ہوتے ہیں جو سب پر یکساں لاگو ہوں۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں بنیادی حقوق کی پامالی کو معمول سمجھ لیا گیا، تو اس کے اثرات رفتہ رفتہ پورے معاشرے پر مرتب ہوئے۔ ابتداء میں ظلم کسی ایک طبقے تک محدود دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر اس کا بروقت احتساب نہ ہو تو وہ ریاستی رویّے کا مستقل حصّہ بن جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشرے کسی ایک طبقے پر ہونے والے ظلم کو نظر انداز کر دیتے ہیں تو ظلم وہیں نہیں رکتا۔ وہ رفتہ رفتہ اپنا دائرہ وسیع کرتا ہے اور ایک دن اُن لوگوں کے دروازے پر بھی دستک دیتا ہے جو کبھی خاموش تماشائی تھے۔ اس لیے ہر دور میں اہلِ ضمیر نے یہی سبق دیا ہے کہ انصاف کی حمایت کسی شخص، جماعت یا مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ انصاف ہونے کی بنیاد پر کی جائے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اجتماعی شعور کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط، باوقار اور عوامی ہندوستان چاہتے ہیں تو ہمیں ہر شہری کے بنیادی حقوق کے تحفّظ کو اپنی اجتماعی ذمّہ داری سمجھنا ہوگا۔ ظلم جب بھی ہو، جہاں بھی ہو اور جس کے ساتھ بھی ہو، اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہی ایک زندہ قوم، ایک بیدار معاشرے اور ایک حقیقی جمہوری ضمیر کی پہچان ہے۔
کسی بھی قوم کی اخلاقی عظمت کا معیار یہ نہیں کہ وہ صرف اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق کی پامالی پر بھی اتنی ہی حساس ہو۔ اگر ہم انصاف کو افراد، مذاہب یا سیاسی وابستگیوں میں تقسیم کر دیں تو دراصل ہم انصاف کے تصور کو ہی کمزور کر دیتے ہیں۔ کیونکہ تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ خاموشی کبھی ظلم کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اکثر اسے مزید طاقت بخشتی ہے؛ جب کہ انصاف وہ چراغ ہے جو صرف اسی وقت روشن رہتا ہے جب اس کی روشنی سب کے لیے یکساں ہو۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ عدل صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے مطلوب ہے، اور ظلم صرف اس وقت ظلم نہیں بنتا جب وہ ہمارے خلاف ہو، بلکہ ہر وہ زیادتی جس میں کسی انسان کی عزّت، آزادی یا حق پامال ہو، اللہ کے نزدیک قابلِ مواخذہ ہے۔ اُمّتِ مسلمہ کی ذمّہ داری صرف اپنے مسائل پر احتجاج کرنا نہیں، بلکہ زمین پر انصاف، خیر خواہی اور انسانی وقار کی گواہی دینا بھی ہے۔ یہی وہ منصب ہے جسے قرآنِ مجید نے "شہادتِ علی الناس” سے تعبیر کیا ہے۔ اگر مسلمان بھی انصاف کے معاملے میں گروہی تعصب، سیاسی وابستگی یا وقتی مفادات کو معیار بنا لیں تو وہ اپنی دینی اور اخلاقی ذمّہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ ملی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہر حال میں حق و انصاف کا ساتھ دیں، ظلم کا انکار کریں، اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں، اور معاشرے میں امن، مکالمے اور آئینی انصاف کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
ہماری قوت نہ نفرت میں ہے، نہ انتقام میں، بلکہ اخلاق، صبر، حکمت، عدل اور سچائی میں ہے۔ یہی انبیائے کرام علیہم السلام کا راستہ ہے اور یہی صالحین کی میراث ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی صفوں میں فکری پختگی، اخلاقی استقامت، باہمی اتحاد اور اجتماعی بصیرت کو مضبوط کریں، اور ملک کے ہر مظلوم، ہر محروم اور ہر حق طلب انسان کے ساتھ انصاف کی بنیاد پر کھڑے ہوں۔ یہی ملی غیرت ہے، یہی دینی حمیت ہے، اور یہی ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر کا راستہ ہے جہاں آئین کی بالادستی، انسانی وقار اور عدلِ اجتماعی محض نعرے نہیں بلکہ زندہ حقیقت بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، اس کی پیروی کرنے، باطل کو باطل پہچاننے، اس سے اجتناب کرنے، اور ہر حال میں عدل و انصاف پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے