कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رسولِ رحمتﷺ کے اشکِ وفا

The Tears of the Prophet of Mercy ﷺ for His Devoted Companions

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

اسلام کا تصورِ قیادت محض اقتدار، تدبیر یا عسکری مہارت تک محدود نہیں، بلکہ اس کی بنیاد رحمت، شفقت، محبت، وفاداری اور انسانی ہمدردی پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو "رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” قرار دیا اور آپﷺ کی ذاتِ اقدس کو پوری انسانیت کے لیے رحمت و رأفت کا سرچشمہ بنایا۔ آپﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر گوشہ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ آپﷺ نے انسانوں کے دل جیتے، ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھا، ان کی خوشیوں میں شریک ہوئے اور ان کے غموں کو اپنے قلبِ اطہر میں محسوس فرمایا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم وہ مقدّس جماعت تھی جس نے رسولِ اکرمﷺ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنا مال، اپنی جان، اپنا گھر بار، بلکہ اپنی ہر محبوب چیز اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے رسولﷺ کی محبت پر قربان کر دی۔ یہ صرف ایک جماعت نہ تھی بلکہ ایمان، وفاداری، ایثار اور جاں نثاری کا وہ روشن قافلہ تھا جس نے اسلام کی آبیاری اپنے خون سے کی۔ رسولِ اکرمﷺ بھی اپنے ان وفادار رفقا سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ آپﷺ کے نزدیک ہر صحابی ایک قیمتی امانت تھا، اسی لیے جب ان میں سے کوئی شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوتا تو اگرچہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر کامل رضا رکھتے تھے، لیکن بشری محبت اور قلبِ نبوی کی شفقت آنکھوں کو اشکبار کر دیتی تھی۔
رسولِ رحمتﷺ کے یہ مبارک آنسو کمزوری یا بے صبری کی علامت نہ تھے، بلکہ محبتِ صادق، وفائے کامل، انسانی عظمت اور رحمتِ نبویﷺ کا روشن اظہار تھے۔ ان آنسوؤں نے امت کو یہ ابدی سبق دیا کہ اسلام دل کی سختی کا نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی کا دین ہے؛ ایسا دین جو صبر بھی سکھاتا ہے اور محبت بھی، استقامت بھی عطا کرتا ہے اور احساسِ انسانیت بھی زندہ رکھتا ہے۔ یہی اشکِ وفا درحقیقت سیرتِ نبویﷺ کا وہ درخشاں باب ہیں جو قیادت کو انسانیت، محبت کو وفاداری اور قربانی کو ابدی عظمت عطا کرتے ہیں۔
اسلام کی درخشاں روایات صرف فتوحات، غزوات اور کامیابیوں کی داستان نہیں، بلکہ وہ ایثار، وفا، قربانی اور محبت کی ایک ایسی تابندہ تاریخ بھی ہے جس میں انسانی جذبات اپنی بلند ترین شکل میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ اس تابندہ روایت کا سب سے رقت انگیز اور ایمان افروز پہلو وہ ہے جب اللہ کے آخری رسول حضرت محمدﷺ اپنے جاں نثار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت پر غمگین ہوئے، ان کی جدائی میں آنکھیں نم ہوئیں، اور دلِ مبارک امت کے ان وفادار سپاہیوں کی یاد سے بھر آیا۔ رسول اللہﷺ صرف ایک عظیم رہنما، فاتح یا معلم ہی نہ تھے، بلکہ آپﷺ ایک ایسے شفیق نبی تھے جن کے دل میں اپنے ہر ساتھی کے لیے بے مثال محبت موجزن تھی۔ صحابۂ کرامؓ آپﷺ پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کو سعادت سمجھتے تھے، اور آپﷺ بھی ان کے اخلاص، وفاداری اور قربانی کی قدر فرماتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی اللہ کی راہ میں شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوتا تو اگرچہ آپﷺ شہادت کی فضیلت سے بخوبی آگاہ تھے، مگر بشری محبت کا تقاضا تھا کہ دل مبارک غم سے بھر جاتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔ رسول اللہﷺ کی حیاتِ طیبہ کا یہ پہلو اس غلط تصور کی بھی نفی کرتا ہے کہ صبر کا مطلب احساسات کو ختم کر دینا ہے۔ اسلام نے غم کو فطری جذبہ قرار دیا ہے، مگر اسے شریعت کی حدود میں رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ چنانچہ رسول اکرمﷺ نے اپنے صحابۂ کرامؓ کی شہادت پر غم کا اظہار فرمایا، آنسو بھی بہائے، مگر کبھی صبر، رضا اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف کوئی بات زبان پر نہ لائے۔ یوں آپﷺ نے اُمّت کو یہ سکھایا کہ مؤمن کا دل نرم ہوتا ہے، مگر اس کا ایمان مصیبت میں بھی متزلزل نہیں ہوتا۔
غزوۂ اُحد اس حقیقت کا نہایت دردناک منظر پیش کرتا ہے۔ اس دن اسلام کے ستر جانثار شہید ہوئے، جن میں سید الشہداء حضرت حمزہؓ بھی شامل تھے۔ جب رسول اللہﷺ نے اپنے محبوب چچا حضرت حمزہؓ کا مثالی ایثار اور ان کے جسم پر دشمنوں کے ظلم کے آثار دیکھے تو دل بے حد رنجیدہ ہوا۔ اس منظر نے آپﷺ کو انتہائی غمگین کر دیا۔ یہ غم کسی کمزوری کی علامت نہ تھا، بلکہ محبت، قرابت اور وفاداری کے اس پاکیزہ رشتے کا اظہار تھا جو ایک نبی اور اس کے مخلص ساتھیوں کے درمیان قائم تھا۔
حضرت حمزہؓ کی شہادت نے رسول اللہﷺ کے قلبِ اطہر پر گہرا اثر چھوڑا، کیونکہ وہ صرف آپﷺ کے چچا ہی نہ تھے بلکہ اسلام کے عظیم محافظ اور دعوتِ حق کے مضبوط ستون بھی تھے۔ اس موقع پر رسول اللہﷺ نے ان کے بلند مقام کا ذکر فرمایا اور بعد کے زمانوں میں بھی جب کبھی شہدائے اُحد کا تذکرہ ہوتا، آپﷺ ان کے لیے دعائے مغفرت فرماتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے وفادار ساتھیوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتے تھے۔
اسی طرح غزوۂ مؤتہ میں جب حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت جعفر بن ابی طالبؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ یکے بعد دیگرے شہید ہوئے تو اگرچہ آپﷺ مدینۂ منورہ میں تشریف فرما تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو اس معرکے کے حالات سے باخبر فرمایا۔ آپﷺ نے صحابہؓ کے سامنے ان کی شہادت کی خبر بیان فرمائی، اور آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ خصوصاً حضرت جعفرؓ کی شہادت کے بعد ان کے اہلِ خانہ کی دلجوئی کے لیے آپﷺ بنفسِ نفیس تشریف لے گئے، ان کے بچّوں کو اپنے سینے سے لگایا، شفقت فرمائی اور ان کے لیے دعا کی۔ یہ منظر ایک ایسے نبی کی عظمت کو نمایاں کرتا ہے جو صرف میدانِ جنگ کا قائد نہیں بلکہ ہر غم زدہ دل کا سہارا بھی تھا۔
شہدائے بئرِ معونہ کا سانحہ بھی سیرتِ نبویﷺ کے انتہائی غم انگیز ابواب میں سے ایک ہے۔ قرآن کی تعلیم اور دعوتِ اسلام کے لیے روانہ کیے گئے تقریباً ستر صحابۂ کرامؓ کو دھوکے سے شہید کر دیا گیا۔ اس اندوہناک خبر نے رسول اللہﷺ کو شدید رنج پہنچایا۔ آپﷺ نے مسلسل کئی دنوں تک نمازِ فجر میں ان قاتل قبائل کے ظلم پر دعا فرمائی۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپﷺ اپنے ساتھیوں کی جدائی کو محض ایک جنگی نقصان نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے غم کو اپنے دل میں محسوس کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت سعد بن ربیعؓ، حضرت مصعب بن عمیرؓ، حضرت عبداللہ بن جحشؓ اور دیگر شہدائے اسلام کا ذکر آتا تو رسول اللہﷺ نہایت محبت سے ان کی قربانیوں کو یاد فرماتے۔ ان عظیم نفوس نے اسلام کی بقاء کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا، اور رسول اللہﷺ نے ہمیشہ ان کی وفاداری اور اخلاص کو اُمّت کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔
جب کسی شہید کا جنازہ آپﷺ کے سامنے آتا تو آپﷺ اس کے لیے نہایت محبت، خشوع اور اخلاص کے ساتھ دعا فرماتے۔ آپﷺ شہداء کے اہلِ خانہ کی دلجوئی فرماتے، ان کے بچّوں کی کفالت کا خیال رکھتے اور اُمّت کو یہ تعلیم دیتے کہ شہداء کے ورثا کو کبھی تنہا نہ چھوڑا جائے۔ یوں آپﷺ نے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ اسلام میں شہادت صرف میدانِ جنگ کی عظمت کا نام نہیں بلکہ شہداء کے اہلِ خانہ کے حقوق کی حفاظت بھی ایمان کا تقاضا ہے۔ یہ بھی رسول اللہﷺ کی رحمت کا عظیم مظہر تھا کہ آپﷺ صرف شہداء ہی کے لیے غمگین نہ ہوتے بلکہ ان کے پسماندگان کی دلجوئی کو بھی اپنی ذمّہ داری سمجھتے تھے۔ آپﷺ شہید کے گھر تشریف لے جاتے، اہلِ خانہ کو تسلی دیتے، یتیم بچّوں سے شفقت فرماتے اور امت کو تلقین کرتے کہ شہداء کے اہلِ خانہ کی خبرگیری کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ اس طرزِ عمل نے اسلامی معاشرے میں باہمی ذمّہ داری، اخوت اور اجتماعی ہمدردی کی بنیاد کو مضبوط کیا۔
رسول اللہﷺ کی آنکھوں سے بہنے والے یہ آنسو کمزوری کے آنسو نہ تھے بلکہ رحمت کے آنسو تھے۔ آپﷺ نے خود ارشاد فرمایا کہ آنکھ اشکبار ہوتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، مگر زبان سے وہی بات نکلتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو۔ یہی وہ اعتدال ہے جس نے اسلام کو غم کے اظہار کا پاکیزہ اور متوازن طریقہ عطا کیا۔ ان واقعات سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ رسول اللہﷺ کی قیادت محض احکام دینے تک محدود نہ تھی، بلکہ آپﷺ اپنے ساتھیوں کے دکھ، درد، قربانی اور جدائی کو اپنے دل میں محسوس کرتے تھے۔ یہی شفقت، یہی محبت اور یہی انسان دوستی آپﷺ کے اسوۂ حسنہ کو دنیا کے تمام رہنماؤں سے ممتاز کرتی ہے۔
درحقیقت رسول اللہﷺ کے یہ اشک صرف چند افراد کی جدائی کا غم نہ تھے بلکہ وہ انسانیت کے ان چراغوں کے بجھنے کا احساس بھی تھے جنہوں نے اپنے ایمان، اخلاص اور جانثاری سے اسلام کے آسمان کو روشن کیا تھا۔ یہ آنسو اس بات کا اعلان بھی تھے کہ اسلام اپنے مجاہدوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتا، بلکہ ان کی یاد کو ایمان کی حرارت اور کردار کی استقامت کا سر چشمہ بنا دیتا ہے۔ آج جب ہم شہدائے اسلام کے ان مبارک واقعات کا مطالعہ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ کے آنسو دراصل وفاداری، اخلاص اور قربانی کی عظمت کا اعتراف تھے۔ یہ آنسو امت کو یہ سبق دیتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے والوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاتا، بلکہ ان کی یاد ایمان کو تازگی، کردار کو استقامت اور دلوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے منور کرتی ہے۔
آج بھی جب مسلمان شہدائے اسلام کی زندگیوں کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان صرف عقیدے کا نام نہیں بلکہ قربانی، وفاداری، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر چیز نچھاور کر دینے کا نام ہے۔ رسول اللہﷺ کے مبارک آنسو اسی حقیقت کی دائمی تفسیر ہیں کہ محبت اور صبر ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایمانِ کامل کے دو روشن پہلو ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب رسولﷺ کی محبت، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے احترام، اور ان کی قربانیوں کی صحیح قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں بھی دینِ اسلام کی خدمت میں اخلاص، وفاداری اور استقامت نصیب فرمائے۔ (آمین)
🗓 (07.07.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے