कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی

ہمارے معاشرے کا ایک نہایت ہی دردناک اور دل دہلا دینے والا دل سوز المیہ یہ ہے کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں بیٹیاں شادی کی آس لیے اپنی عمر کا قیمتی حصہ انتظار میں گزار رہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بیس سے پینتیس سال کی عمر کے ایک کروڑ سے زائد لڑکیاں مناسب رشتے کی منتظر ہیں جبکہ ان میں لاکھوں ایسی ہیں جن کی عمر معاشرتی پیمانے کے مطابق شادی کی حد سے آگے نکل چکی ہے۔ اسی طرح لاکھوں بیوائیں بھی موجود ہیں جن کی دوسری شادی نہ صرف ممکن ہے بلکہ شریعت بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے مگر معاشرے کی بے جا رسمیں غلط سوچ اور خود ساختہ معیار ان کی راہ میں دیوار بنے ہوئے ہیں۔
آج رشتہ تلاش کرنے کا انداز اس قدر مادہ پرستانہ اور ظالمانہ ہو چکا ہے کہ لڑکی کی دینداری اخلاق کردار اور تربیت کو پسِ پشت ڈال کر اس کے خاندان دولت رہائش ظاہری معیار اور بے شمار غیر ضروری چیزوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر لڑکی بیوہ ہو تو گویا اس کے لیے دروازے مزید بند کر دیے جاتے ہیں، اور اگر عمر تیس سال سے بڑھ جائے تو اسے بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے چاہے وہ ہر اعتبار سے بہترین کیوں نہ ہو۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہزاروں بیوائیں ایسی بھی ہیں جن کے لیے نہ کوئی مضبوط سرکاری سہارا موجود ہے اور نہ ہی کوئی مؤثر سماجی نظام۔ شوہر کے انتقال کے بعد بعض اوقات انہیں جائیداد کے جائز حق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ انہیں اپنے ہی گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ایک تنہا عورت اپنے بچوں سمیت زندگی کا بوجھ کیسے اٹھائے گی اور کن مشکلات کا سامنا کرے گی۔
رشتوں میں غیر معمولی تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہماری بڑھتی ہوئی مادہ پرستی اور مفاد پرستی بھی ہے۔ آج شرافت حسنِ اخلاق دین داری اور اچھے کردار سے زیادہ بینک بیلنس نوکری بنگلہ گاڑی اور ظاہری آسائشوں کو دیکھا جاتا ہے۔ معمولی معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر بہترین رشتے ٹھکرا دیے جاتے ہیں۔ کبھی یہ اعتراض سامنے آتا ہے کہ لڑکی والوں کا گھر کرائے کا ہے کبھی گلی تنگ ہونے پر ناک بھوں چڑھائی جاتی ہے کبھی علاقے کو بہانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی اس بات پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ خاطر خواہ پروٹوکول نہیں ملا۔
یہ رویے نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ اس بات کی علامت بھی ہیں کہ ہم نے نکاح جیسے مقدس رشتے کو آسان بنانے کے بجائے انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
تعلیم بھی بعض اوقات اس مسئلے کا ایک پہلو بن جاتی ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کی تعلیم یافتہ بیٹی کے لیے اسی معیار کا رشتہ ملے جبکہ دوسری طرف بعض لوگ زیادہ پڑھی لکھی لڑکی کو یہ سوچ کر مسترد کر دیتے ہیں کہ شاید وہ بد مزاج یا نافرمان ہوگی۔ حالانکہ تعلیم انسان کو شعور سمجھ اور بہتر اخلاق عطا کرتی ہے، نہ کہ غرور۔
اگر کوئی تعلیم یافتہ یا ملازمت پیشہ خاتون حالات کے جبر یا معاشرتی ناانصافی کی وجہ سے تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے تو ہمارا معاشرہ اس کی مدد کرنے کے بجائے اس کے کردار پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔ افسوس کہ ہم اس کے دکھ کو سمجھنے کے بجائے اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں حالانکہ اس کی تنہائی کے ذمہ دار بھی اکثر ہم خود ہی ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک اور عجیب تضاد یہ ہے کہ جب اپنی بیٹی کے لیے رشتہ تلاش کیا جاتا ہے تو انسان اچھے اخلاق دین داری اور ذمہ دار لڑکا چاہتا ہے لیکن جب اپنے بیٹے کے لیے بہو ڈھونڈی جاتی ہے تو معیار یکسر بدل جاتا ہے۔ اس وقت خوبصورتی کم عمری دولت اور بے شمار غیر ضروری شرائط سامنے آ جاتی ہیں۔
مزید افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ اگر ایک مرد عمر رسیدہ ہو بیوہ ہو یا کئی بچوں کا باپ بھی ہو تب بھی اس کے لیے کم عمر کنواری لڑکی تلاش کی جاتی ہے جبکہ اسی عمر کی غیر شادی شدہ لڑکی یا بیوہ کو قبول کرنے کے لیے لوگ تیار نہیں ہوتے۔ یہ کھلا ہوا دوہرا معیار ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ذرا ان والدین کے دل کی کیفیت کا تصور کیجیے جن کی بیٹیاں برسوں سے رشتوں کی منتظر ہیں۔ ہر آنے والا دن ان کے لیے نئی امید اور ہر گزرتا ہوا سال نئی بے بسی لے کر آتا ہے۔ وہ اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کی دعائیں کرتے کرتے بوڑھے ہو جاتے ہیں مگر معاشرے کی بے جا رسمیں اور غیر ضروری مطالبات ان کی راہ میں رکاوٹ بنے رہتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نکاح کو آسان بنائیں غیر ضروری رسم و رواج جھوٹی انا مادہ پرستی اور بے بنیاد مطالبات کو ترک کریں بیوہ خواتین اور عمر رسیدہ غیر شادی شدہ خواتین کے ساتھ عزت و احترام کا رویہ اختیار کریں اور ہر انسان کو اس کا جائز مقام دیں۔
یاد رکھیے کسی بیٹی کی عزت اس کی عمر دولت یا ظاہری حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے کردار دین داری اور انسانیت سے ہوتی ہے۔ اگر ہمارا معاشرہ اس حقیقت کو سمجھ لے تو نہ جانے کتنے گھر آباد ہو جائیں کتنی ماؤں کی دعائیں قبول ہوں اور کتنی بیٹیوں کی آنکھوں سے انتظار کے آنسو ہمیشہ کے لیے خشک ہو جائیں۔
یہ مسئلہ کسی ایک گھر ایک خاندان یا چند افراد کا نہیں، بلکہ پوری امت اور پورے معاشرے کا مشترکہ درد ہے۔ جب تک ہم اپنی سوچ اپنے معیار اور اپنے رویوں کو نہیں بدلیں گے تب تک نہ جانے کتنی بیٹیوں کی جوانیاں انتظار کی نذر ہوتی رہیں گی کتنے والدین حسرتوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتے رہیں گے اور کتنے گھر صرف ہماری بے جا شرطوں اور خود ساختہ رسموں کی وجہ سے آباد ہونے سے محروم رہیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نکاح کو آسان کردار کو معیار اور دین کو ترجیح دیں کیونکہ اسی میں فرد خاندان اور معاشرے کی حقیقی فلاح پوشیدہ ہے ۔
اپنے بچوں کی شادیاں جلد ہی کرو کیونکہ جب انسان کو بھوک لگتی ہے اور جب اسے حلال رزق نہیں ملتا تو وہ حرام کھانا شروع کر دیتا ہے نکاح ﷲ کی طرف سے بھیجا ہوا ایک پاک رشتہ ہے شادی ایک ضرورت ہےکسی بھی نوجوان مرد اور عورت کے لئے باپ جہیز جمع کرتے بوڑھا ہو جاتا ہے اور بیٹی تیس سال گھر پر بیٹھی رہ جاتی ہے بیٹا گھر بناتے بناتے 35 سال کا ہو جاتا ہے اور اسی بے وجہ رسم و رواج نے سُنّت نکاح کو مشکل بنا دیا ہے اور زنا کو آسان آج کی نوجوان نسل زنا کی دَل دَل میں پھنستی جارہی ہے ۔خدارا والدین اس بات کو سمجھیں اور اپنے بچوں کا نکاح جلد از جلد اور سادگی سے کریں۔
اللہ تعالیٰ تمام غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں بیوہ خواتین اور ان کے والدین کی پریشانیاں دور فرمائے انہیں نیک صالح اور مناسب رشتے عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو نکاح آسان بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے