कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کارکنانِ تحریکِ اسلامی میں جمود: اسباب، مظاہر اور تدارک

Stagnation Among Workers of the Islamic Movement: Causes, Manifestations, and Remedies

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
(یہ مضمون ماہنامہ "وحدتِ جدید” کے جولائی 2026ء کے شمارے میں شائع ہوا۔)

تحریکیں محض نعروں، جلسوں اور تنظیمی ڈھانچوں سے زندہ نہیں رہتیں؛ ان کی اصل روح وہ کارکن ہوتا ہے جس کے دل میں نصب العین کی آگ روشن ہو، جس کی نگاہ منزل پر ہو، اور جس کے قدم حالات کے تھپیڑوں کے باوجود سفر جاری رکھیں۔ جب یہی کارکن داخلی حرارت کھونے لگے، جب اس کی دعوت میں تاثیر کم ہونے لگے، جب اس کے عمل میں تسلسل باقی نہ رہے، اور جب قربانی کا جذبہ مصلحتوں کے غبار میں دبنے لگے، تو تحریک ایک خاموش جمود کا شکار ہوجاتی ہے۔
یہ جمود اچانک پیدا نہیں ہوتا؛ یہ وقت کے ساتھ دلوں پر اترنے والی ایک کیفیت ہے۔ کبھی یہ تھکن کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے، کبھی بے ذوقی کی صورت میں، کبھی تنظیمی بے روحی کے طور پر، اور کبھی "سب کچھ ہورہا ہے مگر کچھ بھی نہیں ہورہا” کے احساس کی شکل میں۔
آج تحریکِ اسلامی کے حلقوں میں یہ سوال شدّت سے محسوس کیا جارہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں کارکنان میں جو جمود پیدا ہوا ہے، اس کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟ کیا نصب العین نگاہوں سے اوجھل ہوگیا ہے؟ کیا ذمّہ دارانِ تحریک کی گفتگو دلوں میں حرارت پیدا نہیں کر پارہی؟ کیا باطل کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے اہلِ حق کی قوتِ مزاحمت کمزور کردی ہے؟ یا پھر یہ مسئلہ زیادہ تر اندرونی ہے؟ ان سوالات کا سنجیدہ جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
● جمود کیا ہے؟
جمود صرف کام کے رک جانے کا نام نہیں، بلکہ دل کی کیفیت کے سرد پڑ جانے کا نام ہے۔ وہ شخص جو بظاہر تنظیم سے وابستہ ہو مگر اس کی روح تحریک سے کٹ چکی ہو، دراصل جمود کا شکار ہوتا ہے۔ جو کارکن اجتماع میں موجود ہو مگر فکر میں غیر حاضر ہو، جو ذمّہ داری تو نبھا رہا ہو مگر شوقِ عبادت، جذبۂ دعوت اور حرارتِ عمل سے خالی ہو، وہ خاموش زوال کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
تحریکی جمود کی سب سے خطرناک علامت یہ ہے کہ انسان اپنی بے حسی کو محسوس کرنا بھی چھوڑ دے۔ پھر نہ دل میں تڑپ باقی رہتی ہے، نہ اصلاح کی فکر، اور نہ ہی تبدیلی کی خواہش۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے انسان کی تحریکی روح کمزور ہوچکی ہوتی ہے۔
● جمود کے بنیادی اسباب:
1- نصب العین کا نگاہوں سے اوجھل ہو جانا:
تحریکیں اُس وقت تک زندہ، متحرک اور مؤثر رہتی ہیں جب تک کارکن کی نگاہ "منصب” پر نہیں بلکہ "مقصد” پر ہوتی ہے۔ جب نصب العین دل کی دھڑکن بننے کے بجائے صرف کتابوں کی ایک اصطلاح بن جائے تو تحریک کی روح کمزور پڑنے لگتی ہے اور اس کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔ ابتدائی دور کے کارکنان کے سامنے ایک واضح خواب اور بلند مقصد ہوتا تھا:
• اقامتِ دین
• معاشرے کی اصلاح
• انسانیت کی رہنمائی و نجات
• اور اللّٰہ کی رضا کا حصول
یہی خواب اُن کے اندر بے چینی، تڑپ اور مسلسل جدوجہد کا جذبہ پیدا کرتا تھا۔ وہ اپنی نیند، آرام، وقت، مال اور صلاحیتیں سب کچھ اس مقصد کے لیے قربان کر دیتے تھے۔ ان کے نزدیک تحریکی زندگی محض سرگرمی نہیں بلکہ ایک مشن تھی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب تنظیمی سرگرمیاں اصل مقصد پر غالب آنے لگیں، اور تحریکی زندگی روح، فکر اور اخلاص کے بجائے صرف ایک "روٹین” بن کر رہ گئی، تو نصب العین کی چمک دھیرے دھیرے مدھم پڑگئی۔
آج بہت سے کارکنان کام تو کررہے ہیں، مگر اُن کے اندر یہ سوال پوری شدّت کے ساتھ زندہ نہیں رہا کہ "ہم یہ سب کیوں کررہے ہیں؟”۔ جب مقصد نگاہوں سے اوجھل ہو جائے تو عمل باقی رہتا ہے، مگر اس میں حرارت نہیں رہتی؛ ذمّہ داریاں باقی رہتی ہیں، مگر ان میں روح نہیں رہتی۔ یہی کیفیت رفتہ رفتہ تحریکی جمود کو جنم دیتی ہے۔
2- قیادت کی گفتگو میں روح کی کمی:
تاریخ گواہ ہے کہ تحریکیں صرف منصوبوں، پروگراموں اور تنظیمی ڈھانچوں سے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ وہ درد مند، بااخلاص اور پرجوش قیادت کے دم سے اٹھتی اور آگے بڑھتی ہیں۔ ایسی قیادت جو دلوں کو جھنجھوڑ دے، ایمان کو تازگی بخشے، مقصد کے ساتھ وابستگی کو مضبوط کرے، اور قربانی و ایثار کی روح بیدار کردے۔ جب ذمّہ داران کی گفتگو میں حرارتِ ایمان کم ہونے لگے، اور باتیں:
• رسمی انداز اختیار کرلیں،
• محض رپورٹنگ تک محدود ہوجائیں،
• نصیحت اور تربیت کے بجائے صرف انتظامی ہدایات بن کر رہ جائیں،
• اور فکر، روحانیت اور اخلاص کی تاثیر سے خالی ہوجائیں،
تو کارکن آہستہ آہستہ جذباتی اور فکری طور پر تحریک سے دور ہونے لگتا ہے۔
کارکن صرف ہدایات کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ وہ درد، اخلاص اور یقین کا طلبگار ہوتا ہے۔ وہ ایسے الفاظ سننا چاہتا ہے جو اس کے دل میں سوئی ہوئی آگ کو دوبارہ روشن کردیں، اس کے اندر مقصد کی تڑپ پیدا کریں، اور اسے اپنے مشن کے ساتھ نئے عزم کے ساتھ جوڑ دیں۔ تحریک کا کارکن محض "منیج” کیے جانے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ وہ تربیت، توجہ اور روحانی نشوونما کے ذریعے "پروان چڑھنے” کا محتاج ہوتا ہے۔ جب قیادت کی گفتگو سے روح نکل جائے تو تنظیم باقی رہتی ہے، مگر تحریک کی حرارت دھیرے دھیرے سرد پڑنے لگتی ہے۔
3- مسائل کی افراط اور زندگی کی بے رحم رفتار:
موجودہ دور نے انسان کو مسلسل ذہنی دباؤ، بے یقینی اور داخلی تھکن میں مبتلا کر رکھا ہے۔ معاشی مسائل، روزگار کی کشمکش، مہنگائی، سماجی تقاضے، مستقبل کا خوف اور زندگی کی تیز رفتار دوڑ انسان کی روحانی اور فکری توانائی کو آہستہ آہستہ کھا جاتی ہے۔ ایک کارکن جب پورا دن معاشی جدوجہد اور ذہنی دباؤ میں گزار کر گھر لوٹتا ہے تو اکثر اس کے اندر تحریکی فعالیت کے لیے مطلوب تازگی اور توانائی باقی نہیں رہتی۔ نتیجتاً اس کی زندگی میں بتدریج یہ تبدیلیاں پیدا ہونے لگتی ہیں:
• مطالعہ کم ہوجاتا ہے،
• تعلق باللّٰہ کمزور پڑنے لگتا ہے،
• دعوتی ذوق سرد ہوجاتا ہے،
• اور تنظیمی شرکت محض ایک رسمی حاضری بن کر رہ جاتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلسل معاشی اور ذہنی دباؤ انسان کے اندر "بقاء کی نفسیات” پیدا کر دیتا ہے۔ پھر اس کی تمام تر توجہ بڑی دعوتی اور تحریکی جدوجہد کے بجائے صرف اپنی ذاتی زندگی، گھر اور ضروریات کو سنبھالنے تک محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔ جب زندگی کی بے رحم رفتار انسان کو ہر طرف سے گھیر لے تو وہ آہستہ آہستہ اپنے بڑے مقصد سے دور ہونے لگتا ہے۔ اسی کیفیت سے تحریکی جمود جنم لیتا ہے، جہاں انسان وابستہ تو رہتا ہے مگر اس کے اندر حرکت، حرارت اور جدوجہد کی روح کمزور پڑ جاتی ہے۔
4- باطل کا فکری، تہذیبی اور نفسیاتی دباؤ:
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آج باطل صرف سیاسی یا معاشی طاقت کا نام نہیں رہا، بلکہ وہ ایک ہمہ گیر فکری، تہذیبی اور نفسیاتی یلغار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سوشل میڈیا، مادہ پرستی، نفس پرستی، لذت پسندی، کامیابی کے بدلتے ہوئے پیمانے، اور دین بیزار تہذیبی رجحانات نے کارکن کے ذہن، فکر اور قلب پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ آج کا کارکن صرف کسی مخالف حکومت، نظام یا سماج سے برسرِ پیکار نہیں، بلکہ وہ ہر لمحہ:
• موبائل اسکرین کی کشش،
• ذہنی انتشار،
• خواہشات کے طوفان،
• اور فکری و اخلاقی آلودگی
کا سامنا کررہا ہے۔
باطل کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے انسان کی توجہ کو منتشر کردیا ہے۔ انسان بظاہر ہر چیز سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے فکری یکسوئی، روحانی گہرائی اور مقصدی مرکزیت کھوتا جارہا ہے۔ وہ کارکن جو کبھی امت کے درد میں تڑپتا تھا، جو ملت کے مسائل پر بے چین رہتا تھا، آج اطلاعات، تفریحات اور مسلسل مصروفیات کے ہجوم میں اپنی فکری سمت کھوتا جارہا ہے۔ اس کے دل میں مقصد کی آگ تو موجود ہوتی ہے، مگر منتشر توجہ اور تہذیبی دباؤ اس آگ کو بھڑکنے نہیں دیتے۔ یہی مسلسل فکری اور نفسیاتی دباؤ رفتہ رفتہ انسان کے اندر تحریکی حساسیت کو کمزور کردیتا ہے، اور پھر جمود ایک خاموش بیماری کی طرح اس کی شخصیت میں سرایت کرنے لگتا ہے۔
5- اندرونی کمزوریاں — سب سے بڑا سبب:
اگرچہ بیرونی دباؤ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تحریکیں اکثر بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی کمزوریوں سے زیادہ متاثر ہوکر کمزور پڑتی ہیں۔ اصل زوال ہمیشہ اندر سے شروع ہوتا ہے، جب فکر، اخلاق اور تنظیمی مزاج میں بگاڑ پیدا ہونے لگتا ہے۔ تحریک کے اندر جب درج ذیل کمزوریاں جڑ پکڑ لیں تو جمود پیدا ہونا تقریباً ناگزیر ہوجاتا ہے:
• اخلاص کی جگہ نمود و نمائش آنے لگے،
• احتساب کا نظام کمزور پڑ جائے یا عملاً ختم ہوجائے،
• شخصیت پرستی اجتماعی فکر پر غالب آنے لگے،
• مشاورت رسمی ہوکر اپنا اثر کھو دے،
• کارکن کی عزّتِ نفس اور حوصلہ مجروح ہونے لگے،
• اور اختلافات اصلاح کے بجائے دلوں میں دوری پیدا کرنے لگیں۔
ایسے ماحول میں تحریک ایک زندہ فکری و عملی تحریک کے بجائے آہستہ آہستہ ایک انتظامی ڈھانچے میں تبدیل ہونے لگتی ہے، جہاں حرکت تو موجود ہوتی ہے مگر روح مفقود ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات کارکن تنظیم سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ ان رویّوں سے زخمی ہوتا ہے جو اسے اندر سے توڑ دیتے ہیں۔ اسے اصل تھکن کام کی زیادتی سے نہیں ہوتی، بلکہ احساسِ بے قدری اور عدمِ توجہ سے ہوتی ہے۔ جب فرد کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کی کوشش، اس کا اخلاص اور اس کی قربانی کا صحیح ادراک نہیں کیا جارہا، تو اس کے اندر کا جذبہ دھیرے دھیرے سرد پڑنے لگتا ہے۔ یہی کیفیت آخرکار تحریکی جمود کو جنم دیتی ہے، جو بظاہر خاموش ہوتا ہے مگر اندر سے پورے نظامِ فکر کو کمزور کرتا چلا جاتا ہے۔
6- بڑھتی عمر اور جدوجہد کے بدلتے تقاضے:
یہ ایک نہایت اہم مگر عموماً کم زیرِ بحث آنے والا مسئلہ ہے کہ انسان کی عمر کے ساتھ اس کی صلاحیتیں، ترجیحات اور تحریکی کردار بھی بدلتا ہے۔ جوانی کے دور میں انسان کے پاس نسبتاً زیادہ وقت، کم معاشی و سماجی ذمّہ داریاں، بلند جذبہ، اور خطرات مول لینے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرحلے میں جدوجہد زیادہ تیز، بے خوف اور مسلسل نظر آتی ہے۔ لیکن جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، حالات فطری طور پر بدلنے لگتے ہیں:
• معاشی ذمّہ داریاں بڑھ جاتی ہیں،
• بچّوں کی تربیت اور گھریلو تقاضے سامنے آتے ہیں،
• صحت کے مسائل اور جسمانی کمزوری ظاہر ہونے لگتی ہے،
• اور سماجی تعلقات بھی زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
اگر تحریک ان بدلتے ہوئے حالات کو سمجھ کر کارکن کے کردار اور ذمّہ داریوں کی نئی تشکیل نہ کرے تو وہ آہستہ آہستہ خود کو غیر متعلق محسوس کرنے لگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عمر کی اپنی ایک دعوتی زبان اور جدوجہد کا اپنا اسلوب ہوتا ہے۔ تحریک اگر ایک پچاس سالہ تجربہ کار کارکن سے بھی وہی غیر معمولی جسمانی اور وقتی تقاضے کرے جو پچیس سالہ نوجوان سے کیے جاتے ہیں، تو اس کا نتیجہ فطری طور پر تھکن، احساسِ ناکارگی اور رفتہ رفتہ جمود کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس لیے تحریکی نظم میں عمر، حالات اور صلاحیت کے مطابق کرداروں کی متوازن تقسیم نہ صرف کارکن کو فعال رکھتی ہے بلکہ تحریک کو بھی زیادہ پائیدار اور متحرک بناتی ہے۔
7- مالی مصروفیات اور اہلِ خانہ کی ذمّہ داریاں:
یہ دور معاشی عدمِ تحفّظ اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا دور ہے، جہاں اکثر افراد مسلسل مالی دباؤ اور معاشی غیر یقینی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بہت سے کارکن اپنی اولاد کے بہتر مستقبل، گھر کے روزمرّہ اخراجات، تعلیم، علاج، اور دیگر سماجی ضروریات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب تحریک ان حقیقی انسانی اور معاشی مشکلات کو سمجھنے اور ان کے مطابق رویّہ اختیار کرنے میں ناکام رہتی ہے تو کارکن آہستہ آہستہ خود کو تنہاء اور غیر محفوظ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی احساس رفتہ رفتہ اس کے اندر تحریکی فعالیت کو کمزور کرنے لگتا ہے۔
اسی طرح اہلِ خانہ کو نظر انداز کرکے کی جانے والی طویل اور غیر متوازن تحریکی سرگرمیاں بعض اوقات گھریلو سطح پر تناؤ اور بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ اگر گھر کا ماحول تعاون کے بجائے شکایت اور بوجھ کے احساس میں تبدیل ہونے لگے، تو اس کا براہِ راست اثر کارکن کی فکری و عملی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ جب کارکن کے گھر والے تحریک کو ایک مثبت مشن کے بجائے اپنی محرومیوں اور مشکلات کا سبب سمجھنے لگیں تو رفتہ رفتہ خود کارکن کے اندر بھی ایک داخلی کشمکش جنم لینے لگتی ہے، جو اس کے جذبے اور تسلسل کو متاثر کرتی ہے۔
تحریک کی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ ایسا ماحول تشکیل دیا جائے جہاں:
• خاندان بوجھ نہیں بلکہ شریکِ سفر بنے،
• اہلِ خانہ کو بھی تحریکی ماحول میں محبت، عزّت اور شمولیت کا احساس ملے،
• اور کارکن اپنی نجی، خاندانی اور دعوتی زندگی کے درمیان ایک صحت مند توازن محسوس کرے۔
جب یہ توازن قائم رہتا ہے تو کارکن نہ صرف زیادہ مطمئن رہتا ہے بلکہ زیادہ پائیدار اور مؤثر انداز میں اپنی تحریکی ذمّہ داریاں بھی ادا کر پاتا ہے۔
● جمود کا تدارک — نئی روح کیسے پیدا ہو؟:
1- نصب العین کی تجدید:
جمود کے خاتمے کی پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ ہر کارکن کے دل میں مقصدِ حیات کی حرارت دوبارہ زندہ کی جائے۔ جب تک نصب العین محض ایک فکری عنوان یا تنظیمی نعرہ رہے، اس وقت تک حقیقی تحریکی زندگی پیدا نہیں ہوسکتی۔ اقامتِ دین کو صرف ایک نصابی تصور کے طور پر نہیں بلکہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا سب سے بڑا خواب اور سب سے اہم مقصد بنانا ہوگا۔ یہی وہ مرکزِ فکر ہے جو کارکن کے اندر بکھری ہوئی توانائیوں کو ایک سمت دیتا ہے اور اس کی زندگی میں تازگی اور تسلسل پیدا کرتا ہے۔
اس تجدیدِ مقصد کے لیے چند بنیادی امور ناگزیر ہیں:
• قرآنِ مجید سے زندہ، گہرا اور مسلسل تعلق، تاکہ فکر اور دل دونوں منور رہیں،
• سیرتِ نبویﷺ کا مطالعہ بطور عملی نمونہ، تاکہ جدوجہد کا اسلوب واضح ہو،
• تاریخِ دعوت اور اس کے عملی تجربات کا شعور، تاکہ تسلسل اور اعتماد پیدا ہو،
• اور آخرت کی جواب دہی کا مضبوط احساس، تاکہ نیت، عمل اور سمت میں سنجیدگی اور اخلاص باقی رہے۔
جب نصب العین دوبارہ دل کی دھڑکن بن جائے تو محض سرگرمی نہیں رہتی، بلکہ پوری زندگی ایک بامقصد اور مسلسل جدوجہد میں ڈھل جاتی ہے، اور یہی کیفیت جمود کے خاتمے کی اصل بنیاد ہے۔
2- روحانی تربیت کی بحالی:
تحریکیں محض تنظیمی ڈھانچے، اجتماعات اور سرگرمیوں کے سہارے زندہ نہیں رہتیں۔ ان کی حقیقی قوت ہمیشہ اس باطنی کیفیت سے پیدا ہوتی ہے جو دل اور روح کو زندہ رکھتی ہے۔ جب روحانی بنیاد کمزور پڑنے لگتی ہے تو رفتہ رفتہ پوری تحریکی عمارت بھی کمزور ہوجاتی ہے۔ اس لیے تحریکی زندگی میں روحانی تربیت کی بحالی بنیادی ضرورت ہے۔ تہجد، دعا، ذکر، اخلاص اور مضبوط تعلق باللّٰہ وہ عناصر ہیں جن کے بغیر کوئی تحریکی جدوجہد دیرپا، مؤثر اور بامقصد نہیں رہ سکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ روحانی کمزوری صرف فرد کی ذاتی کیفیت نہیں رہتی، بلکہ یہ آہستہ آہستہ پوری تحریکی قوت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب دل کا تعلق کمزور پڑتا ہے تو عمل میں بے رغبتی، نیت میں کمزوری اور جدوجہد میں جمود پیدا ہونے لگتا ہے۔ اس لیے تحریک کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کارکن کی روحانی زندگی کو محض ایک ذاتی معاملہ نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے اجتماعی تربیت کا لازمی اور مسلسل حصّہ بنایا جائے۔
3- کارکن کی عزّتِ نفس کی حفاظت:
تحریکی جمود کے خاتمے کے لیے ایک نہایت بنیادی اصول یہ ہے کہ کارکن کو محض ایک "وسیلہ” یا "ذریعۂ کار” کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ اسے تحریک کا ایک باعزّت، باوقار اور قابلِ قدر حصّہ سمجھا جائے۔ کارکن کی شخصیت اس وقت پروان چڑھتی ہے جب اسے یہ احساس ہو کہ اس کی محنت، اس کا وقت اور اس کی قربانی کا حقیقی ادراک کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس کے ساتھ مسلسل:
• دلجوئی کا رویّہ اختیار کیا جائے،
• درست رہنمائی اور اصلاح کا اہتمام ہو،
• حوصلہ افزائی کے مواقع فراہم کیے جائیں،
• اور اس کی کاوشوں کی بروقت قدردانی کی جائے۔
جب کارکن اپنے ماحول میں خود کو محترم، باوقار اور قابلِ اعتماد محسوس کرتا ہے تو اس کے اندر تعلق، وابستگی اور جذبہ خود بخود تازہ رہتا ہے۔ اس کے برعکس، نظر اندازگی اور بے توجہی رفتہ رفتہ دل میں دوری اور بے دلی پیدا کرتی ہے، جو بالآخر تحریکی جمود کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ لہٰذا وہ تحریک زیادہ زندہ، مضبوط اور پائیدار رہتی ہے جس میں کارکن کی عزّتِ نفس کو محض ایک اخلاقی بات نہیں بلکہ عملی نظام کا حصّہ سمجھا جاتا ہے۔
4- دعوتی اسلوب میں جدت:
تحریکی جمود کے تدارک کے لیے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ دعوتی اسلوب میں تازگی، وسعت اور جدت پیدا کی جائے۔ ہر دور کے اپنے سوالات، اپنی فکری الجھنیں اور اپنی نفسیاتی ترجیحات ہوتی ہیں، اور جو تحریک ان بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر رہے، وہ رفتہ رفتہ اثر پذیری کھو دیتی ہے۔ آج کا دور معلومات، میڈیا اور فکری تنوع کا دور ہے، جہاں نئی نسل مختلف زاویوں سے سوچتی اور سوال کرتی ہے۔ اس لیے محض روایتی اندازِ دعوت کافی نہیں رہتا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ علمی گہرائی، فکری استدلال اور مؤثر ابلاغ بھی ناگزیر ہوچکا ہے۔
کارکن کو آج ایسے دعوتی ماحول کی ضرورت ہے جو اسے:
• مضبوط فکری غذا فراہم کرے،
• دلائل پر مبنی علمی بنیاد دے،
• جدید زبان اور اسلوب سے ہم آہنگ کرے،
• اور دعوت کو تخلیقی اور مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔
جب دعوتی اسلوب میں یہ وسعت اور جدت پیدا ہوتی ہے تو نہ صرف کارکن کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ اس کی تاثیر بھی وسیع ہوجاتی ہے، اور تحریک ایک بار پھر معاشرے کے فکری دھارے میں مؤثر کردار ادا کرنے لگتی ہے۔
5- اجتماعی محبت اور اخوت کی فضا:
تحریکی جمود کے خاتمے کے لیے صرف فکری اور تنظیمی اصلاح کافی نہیں ہوتی، بلکہ ایک زندہ، گرم اور محبت بھری اجتماعی فضا بھی ناگزیر ہے۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بہت سے کارکن نظریاتی اختلاف کی وجہ سے نہیں بلکہ جذباتی تنہائی اور تعلق کی کمزوری کی وجہ سے آہستہ آہستہ دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جہاں دل ایک دوسرے سے جڑے ہوں، وہاں صرف جسمانی موجودگی کافی نہیں ہوتی بلکہ حقیقی وابستگی اور استقامت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن جہاں دلوں کے درمیان فاصلہ بڑھ جائے، وہاں قدم بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔
اس لیے تحریک کو ایک ایسی فکری و عملی برادری میں ڈھلنا چاہیے جہاں:
• باہمی محبت اور خلوص کی فضا ہو،
• حقیقی خیر خواہی اور ہمدردی کا جذبہ موجود ہو،
• اور ہر فرد ایک دوسرے کے دکھ درد، مشکلات اور خوشیوں میں شریک ہو۔
جب اجتماعی زندگی میں یہ اخوت اور محبت کی روح پیدا ہوتی ہے تو کارکن صرف ایک "ذمّہ دار” نہیں رہتا بلکہ ایک "اپنا پن” محسوس کرتا ہے۔ یہی احساس وابستگی جمود کو توڑ کر تحریک میں تازگی، حرکت اور استحکام پیدا کرتا ہے۔
تحریکی جمود کوئی معمولی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ امت کی دعوتی قوت کے کمزور پڑنے کی ایک واضح علامت ہے۔ جب حرکت کے بجائے سکون، اور شعور کے بجائے عادت غالب آنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اندرونی کیفیت میں تبدیلی آچکی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک امید افزا حقیقت ہے کہ ہر جمود کے اندر بیداری کا امکان موجود رہتا ہے، بشرطیکہ تحریک اپنے باطن کا سنجیدگی سے جائزہ لینے اور اصلاح کا حوصلہ پیدا کرے۔
اس کے لیے بنیادی ضرورت یہ ہے کہ:
• مقصدِ حیات کو دوبارہ زندہ اور مرکزی حیثیت دی جائے،
• دلوں میں ایمان کی حرارت اور تعلق باللّٰہ کی تازگی پیدا کی جائے،
• کارکن کو محض ایک ذمّہ دار کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسان اور ساتھی کے طور پر سمجھا جائے،
• اور تحریک کو محض ایک انتظامی تنظیم کے بجائے ایک زندہ، متحرک اور بامعنی فکری و روحانی وجود بنایا جائے۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریکیں عمارتوں، دفاتر اور نظاموں سے نہیں بلکہ جلتے ہوئے دلوں، زندہ شعور اور مسلسل تڑپ رکھنے والی روحوں سے زندہ رہتی ہیں۔
🗓 (29.05.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے