कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انکاؤنٹر کبھی انصاف کا متبادل نہیں

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۔۔۔۔9934933992

جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات، عوام میں عدم تحفظ کے احساس اور انصاف کی سست رفتار فراہمی نے ملک میں ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جہاں بعض اوقات قانون کی راہ طویل محسوس ہونے لگتی ہے اور فوری انتقام کو ہی انصاف کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب کسی مبینہ مجرم کی پولیس انکاؤنٹر میں ہلاکت کی خبر سامنے آتی ہے تو معاشرے کا ایک طبقہ اسے جرائم پر قابو پانے کا مؤثر ذریعہ قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے آئین، قانون اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ یہی بحث گزشتہ ماہ بہار کے ضلع بھوجپور میں بھرت تیواری کی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے بعد ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔
اس واقعے نے صرف پولیس کی کارروائی ہی نہیں بلکہ پورے نظامِ عدل کو بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ اس مرتبہ سوالات صرف حزبِ اختلاف کی جانب سے نہیں اٹھے بلکہ حکمراں اتحاد کے بعض مقامی رہنماؤں نے بھی اس کارروائی پر شبہات ظاہر کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس صورتحال نے ایک بنیادی آئینی سوال کو نمایاں کر دیا کہ کیا ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالتی فیصلے سے پہلے ہی کسی شخص کی زندگی کا خاتمہ کر دے؟ کیا پولیس کی کارروائی عدالتی عمل کا متبادل بن سکتی ہے؟ اور اگر آج یہ اختیار ایک ملزم کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے تو کل کسی بے گناہ کو اس سے محفوظ رکھنے کی ضمانت کیا ہوگی؟
یہ پہلا موقع نہیں کہ بہار یا ملک کے کسی دوسرے حصے میں کسی پولیس انکاؤنٹر پر سوالات اٹھے ہوں۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف ریاستوں سے ایسے متعدد واقعات سامنے آئے جنہیں پولیس نے جوابی کارروائی قرار دیا، مگر بعد کی تحقیقات میں کئی نئے حقائق بھی منظر عام پر آئے۔ کہیں عدالتی جانچ کا حکم دیا گیا، کہیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اعتراضات کیے اور کہیں متاثرہ خاندانوں نے انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس کے باوجود انکاؤنٹر کو جرائم سے نمٹنے کے ایک فوری حل کے طور پر پیش کرنے کا رجحان مسلسل بڑھتا گیا۔
اس سوچ کو فروغ دینے میں سیاست کا کردار بھی کم اہم نہیں رہا۔ گزشتہ چند برسوں میں جب بھی کوئی ہولناک جرم پیش آیا، بعض سیاسی حلقوں نے عدالتی کارروائی کے بجائے فوری انکاؤنٹر، بلڈوزر کارروائی یا موقع پر سزا دینے جیسے نعروں کو عوامی جذبات سے جوڑ دیا۔ سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت بخشی۔ ملزم کی گرفتاری کے چند گھنٹوں کے اندر ہی انکاؤنٹر کے مطالبات سامنے آنے لگتے ہیں، گویا عدالتیں غیر ضروری ادارے اور آئینی تقاضے محض رسمی کارروائیاں ہوں۔ اس طرزِ فکر نے قانون کی حکمرانی کے تصور کو کمزور کیا ہے اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔
بھرت تیواری کے معاملے نے ایک اور حقیقت بھی آشکار کر دی کہ اصولی مؤقف اکثر سیاسی مصلحتوں کے تابع ہو جاتا ہے۔ جب انکاؤنٹر کسی ایسے شخص کا ہو جسے سیاسی یا سماجی طور پر مخالف سمجھا جاتا ہو تو اسے سخت حکمرانی کی علامت قرار دیا جاتا ہے، لیکن جب متاثرہ شخص اپنے ہی سماجی یا سیاسی حلقے سے تعلق رکھتا ہو تو وہی کارروائی فرضی انکاؤنٹر اور حراستی قتل کہلانے لگتی ہے۔ انصاف کا یہ دوہرا معیار کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ قانون کی روح یہی ہے کہ اس کا اطلاق ہر شخص پر یکساں ہو، خواہ اس کی ذات، مذہب، طبقہ یا سیاسی وابستگی کچھ بھی ہو۔
ہندوستان کا آئین ریاست کو لامحدود اختیارات نہیں دیتا۔ آئین کا آرٹیکل 14 ہر شہری کو قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 21 واضح کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی زندگی یا شخصی آزادی سے صرف قانون کے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہی محروم کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محض کسی جرم کا الزام لگ جانے سے کسی شہری کے بنیادی حقوق ختم نہیں ہو جاتے۔ ملزم، عدالت کے فیصلے سے پہلے مجرم نہیں بن جاتا اور نہ ہی ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالتی عمل کو نظرانداز کر کے خود ہی سزا نافذ کر دے۔
اسی اصول کی بنیاد پر دنیا کی تمام جمہوری ریاستوں میں عدالتی نظام کو انصاف کا واحد معتبر ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ پولیس کی ذمہ داری جرم کی روک تھام، ملزم کی گرفتاری، شواہد جمع کرنا اور عدالت کے سامنے مضبوط مقدمہ پیش کرنا ہے، نہ کہ خود فیصلہ صادر کرنا۔ اگر تفتیش، فیصلہ اور سزا تینوں اختیارات ایک ہی ادارے کے ہاتھ میں آ جائیں تو قانون کی حکمرانی کی جگہ طاقت کی حکمرانی قائم ہو جاتی ہے، اور اس کا پہلا نشانہ ہمیشہ عام شہری کے بنیادی حقوق بنتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے بھی متعدد فیصلوں میں اسی آئینی اصول کو پوری وضاحت کے ساتھ دہرایا ہے۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز بنام ریاست مہاراشٹر (2014) کے تاریخی فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ ہر پولیس انکاؤنٹر کی آزادانہ، غیر جانب دار اور شفاف جانچ ناگزیر ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ایسے ہر واقعے میں ایف آئی آر درج کی جائے، مجسٹریٹ انکوائری کرائی جائے، شواہد محفوظ رکھے جائیں، فرانزک جانچ کرائی جائے، ضرورت پڑنے پر آزاد تحقیقاتی ادارے سے تفتیش کرائی جائے اور متعلقہ انسانی حقوق کمیشن کو بھی مطلع کیا جائے۔ ان رہنما اصولوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ اگر پولیس نے واقعی اپنے دفاع میں گولی چلائی ہے تو اس کی صداقت غیر جانب دار تحقیقات سے ثابت ہو، اور اگر اختیارات کا ناجائز استعمال ہوا ہے تو ذمہ دار اہلکار بھی قانون کے مطابق جواب دہ ہوں۔
عدالتِ عظمیٰ نے اوم پرکاش بنام ریاست جھارکھنڈ میں بھی دوٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ فرضی انکاؤنٹر دراصل بے رحمی سے کیا گیا قتل ہے اور اس میں ملوث اہلکار کسی خصوصی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ ان فیصلوں سے یہ اصول مزید مستحکم ہوتا ہے کہ آئین کی بالادستی صرف شہریوں پر ہی نہیں بلکہ ریاستی اداروں پر بھی یکساں طور پر لازم ہے۔
اسی طرح قومی انسانی حقوق کمیشن برسوں سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ پولیس انکاؤنٹر کو محض سرکاری بیان کی بنیاد پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کمیشن کی ہدایات کے مطابق ہر ایسے واقعے کی آزادانہ تفتیش، مجسٹریٹ انکوائری، پوسٹ مارٹم کی ویڈیو ریکارڈنگ، فرانزک شواہد کا تحفظ اور مقتول کے اہلِ خانہ کو قانونی عمل سے باخبر رکھنا ضروری ہے۔ ان رہنما اصولوں کا مقصد پولیس کے اختیارات محدود کرنا نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو مضبوط بنانا ہے۔ شفاف تحقیقات نہ صرف بے گناہوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ دیانت دار پولیس اہلکاروں کو بھی بے بنیاد الزامات سے محفوظ رکھتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ایسی ذہنیت پروان چڑھ رہی ہے جس میں عدالتی فیصلے سے پہلے ہی کسی شخص کو مجرم سمجھ لیا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن مباحث، سوشل میڈیا کی مہمات اور سیاسی بیانات کئی مرتبہ عوامی رائے کو اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جہاں قانونی عمل غیر ضروری اور فوری سزا ہی انصاف محسوس ہونے لگتی ہے۔ حالاں کہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہجوم کا فیصلہ ہمیشہ انصاف پر مبنی نہیں ہوتا۔ اگر عوامی جذبات ہی قانون کا معیار بن جائیں تو پھر کل کسی بے گناہ کو بھی محض شبہے کی بنیاد پر زندگی سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستانی پولیس نہایت دشوار حالات میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔ دہشت گردی، منظم جرائم، اغوا، اسمگلنگ اور مسلح جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں متعدد پولیس اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ ایسے غیر معمولی حالات میں اگر پولیس کو واقعی اپنے دفاع میں گولی چلانا پڑے تو قانون اس کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس استثنائی اختیار کو معمول بنا دینا یا ہر ہلاکت کو بہادری کی علامت بنا کر پیش کرنا قانون کی روح کے منافی ہے۔ اسی لیے ہر انکاؤنٹر کی غیر جانب دارانہ جانچ ناگزیر ہے تاکہ حقیقت جذبات، قیاس آرائیوں یا سرکاری بیانات کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سامنے آئے۔
بھرت تیواری کا معاملہ بھی اسی اصول کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر پولیس کا مؤقف درست ہے تو فرانزک رپورٹ، کال ڈیٹا، موقعِ واردات سے حاصل شدہ شواہد اور آزادانہ تحقیقات اس کی توثیق کریں گی۔ لیکن اگر کسی شخص کو حراست میں لینے کے بعد انکاؤنٹر کی کہانی ترتیب دی گئی ہے تو یہ محض ایک فرد کے حقِ حیات کی پامالی نہیں بلکہ ریاست کے آئینی کردار پر بھی ایک سنگین سوال ہوگا۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ نہ پولیس کو پہلے ہی قصوروار قرار دیا جائے اور نہ ہی اسے تحقیق اور احتساب سے بالاتر سمجھا جائے۔
اس واقعے نے ایک اور اہم حقیقت بھی نمایاں کر دی ہے کہ قانون کی بالادستی کا مطالبہ اصولوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مصلحتوں کے تابع۔ اگر کسی جماعت یا سماجی گروہ کو انکاؤنٹر اس وقت قابلِ قبول لگے جب متاثرہ شخص اس کا مخالف ہو، اور ناقابلِ قبول اس وقت محسوس ہو جب نشانہ اس کے اپنے حلقے کا فرد بن جائے، تو یہ آئین سے وابستگی نہیں بلکہ سیاسی مفاد کی عکاسی ہوگی۔ آئین کی عظمت اسی میں ہے کہ وہ طاقت ور اور کمزور، اکثریت اور اقلیت، دوست اور مخالف—سب کے لیے ایک ہی معیار متعین کرتا ہے۔
درحقیقت انکاؤنٹر کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو بتدریج کمزور کر دیتا ہے۔ جب ریاست خود یہ تاثر دینے لگے کہ عدالتوں کے ذریعے انصاف کا حصول دشوار ہے اور گولی ہی آخری حل ہے تو معاشرے میں قانون کے بجائے طاقت پر یقین بڑھنے لگتا ہے۔ ایسی سوچ جمہوری نظام کو رفتہ رفتہ اس مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں انصاف کی جگہ خوف، دلیل کی جگہ قوت اور آئین کی جگہ شخصی اختیار لے لیتا ہے۔ اس کا نقصان کسی ایک فرد یا ادارے کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ جرائم کا خاتمہ صرف سخت کارروائیوں سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ مضبوط اداروں، مؤثر تفتیش اور بروقت انصاف سے ممکن ہوتا ہے۔ جب تفتیش کمزور ہو، گواہ غیر محفوظ ہوں، مقدمات برسوں تک زیرِ التوا رہیں اور سزا کا عمل غیر معمولی تاخیر کا شکار ہو تو عوام میں بے چینی پیدا ہونا فطری ہے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی مہذب ریاست کی اصل طاقت اس کے اسلحہ خانے میں نہیں بلکہ اس کے آئینی اداروں کی ساکھ میں ہوتی ہے۔ پولیس کا وقار بھی اسی وقت برقرار رہتا ہے جب وہ قانون کی محافظ کے طور پر دیکھی جائے، قانون سے بالاتر قوت کے طور پر نہیں۔ اسی طرح عدلیہ کی عظمت بھی اسی میں ہے کہ ہر ملزم کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہو اور سزا صرف شواہد اور قانون کی بنیاد پر سنائی جائے۔
بھوجپور کا واقعہ خواہ کسی بھی نتیجے پر پہنچے، اس نے ایک بار پھر یہ احساس دلایا ہے کہ ہندوستان جیسے آئینی جمہوری ملک میں انصاف کا راستہ عدالت سے ہو کر گزرتا ہے، پولیس کی بندوق کی نالی سے نہیں۔ اگر ہم واقعی ایک محفوظ، منصفانہ اور قانون پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں تو وقتی جذبات کے بجائے آئین کی دائمی اقدار پر اعتماد کرنا ہوگا۔ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی بنیاد بھی یہی ہے کہ ہر شخص کو یقین ہو کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق اور بلا امتیاز سلوک کیا جائے گا۔
آج ضرورت کسی انکاؤنٹر کلچر کی نہیں بلکہ ایک ایسے مضبوط نظامِ انصاف کی ہے جہاں بے گناہ خوف سے آزاد ہو، مجرم سزا سے نہ بچ سکے، پولیس قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر کارروائی کرے اور عدالتیں بلا تاخیر انصاف فراہم کریں۔ جرائم کے خلاف سختی ضرور ہونی چاہیے، مگر اس سختی کی بنیاد آئین اور قانون ہوں، نہ کہ وقتی عوامی جذبات یا سیاسی مصلحتیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انکاؤنٹر کسی ملزم کا خاتمہ تو کر سکتا ہے، مگر جرم، ناانصافی اور عدالتی کمزوریوں کا علاج نہیں۔ ایک آئینی جمہوریت میں ریاست کی اصل طاقت بندوق کی گولی نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، غیر جانب دار تفتیش اور آزاد عدلیہ ہوتی ہے۔ اگر اس بنیادی اصول سے انحراف کیا جائے تو وقتی طور پر سخت حکمرانی کا تاثر ضرور پیدا ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کی قیمت خود قانون کی حکمرانی کو چکانی پڑتی ہے۔ اس لیے یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ انکاؤنٹر کبھی انصاف کا متبادل نہیں بن سکتا۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے