कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلام اور ماحولیات: جدید ماحولیاتی چیلنجز کا قرآنی و نبوی حل

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

تعالیٰ نے اس کائنات کو بے مثال حکمت، کامل توازن اور نہایت حسین نظم و ضبط کے ساتھ تخلیق فرمایا۔ زمین و آسمان، پہاڑ، سمندر، دریا، جنگلات، نباتات، حیوانات اور فضاؤں کا یہ وسیع و عریض نظام محض انسانی ضرورتوں کی تکمیل کا ذریعہ نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی قدرتِ کاملہ، حکمتِ بالغہ اور ربوبیتِ عامہ کی روشن نشانیاں بھی ہیں۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ کائنات میں غور و فکر کرے، اس کے نظم و توازن کا مشاہدہ کرے اور ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھتے ہوئے ان کی حفاظت کرے۔ چنانچہ اسلام کا تصورِ ماحولیات محض مادی یا سائنسی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر دینی، اخلاقی اور روحانی تصور ہے، جس میں انسان کو زمین کا مالک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا امین، نگران اور خلیفہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ کائناتِ رنگ و بو ربّ کی نشانی ہے
ہر برگِ گل میں جلوۂ حکمت کی کہانی ہے
اسلام کی نگاہ میں زمین کی آبادکاری عبادت، قدرتی وسائل کا اعتدال کے ساتھ استعمال دیانت، ماحول کی پاکیزگی ایمان کا مظہر، اور ہر ایسی کوشش جو مخلوقِ خدا کے لیے نفع بخش ہو، صدقۂ جاریہ شمار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس زمین میں فساد برپا کرنا، قدرتی وسائل کو ضائع کرنا، آلودگی پھیلانا، جنگلات کو تباہ کرنا، پانی اور ہوا کو آلودہ کرنا اور حیاتیاتی نظام کو نقصان پہنچانا نہ صرف سماجی اور اخلاقی جرم ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ عصرِ حاضر میں انسان صنعتی ترقی، سائنسی ایجادات اور معاشی خوش حالی کے باوجود ایسے ماحولیاتی بحرانوں سے دوچار ہے جنہوں نے پوری دنیا کی سلامتی اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ایسے نازک دور میں اسلام کی ابدی تعلیمات انسانیت کے سامنے ایک متوازن، جامع اور پائیدار لائحۂ عمل پیش کرتی ہیں، جو سائنسی ترقی کو اخلاقی ذمّہ داری، معاشی خوش حالی کو اعتدال، اور انسانی ضرورتوں کو فطرت کے تحفّظ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ قرآنِ کریم، سنّتِ نبویﷺ اور اسلامی تہذیب نے صدیوں پہلے وہ اصول عطا کر دیے تھے جو آج ماحولیاتی تحفّظ، پائیدار ترقی اور قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کی بنیاد سمجھے جا رہے ہیں۔ اگر ان تعلیمات کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنایا جائے تو نہ صرف ماحول کو تباہی سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ ایک متوازن، پاکیزہ اور پائیدار انسانی معاشرہ بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
اکیسویں صدی کو اگر سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب اور تکنیکی عروج کی صدی کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا، لیکن اسی کے ساتھ یہ صدی ماحولیاتی بحران، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کی تیز رفتار تباہی، آبی آلودگی، فضائی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، حیاتیاتی تنوع کے خاتمے اور عالمی حدت (Global Warming) جیسے سنگین مسائل کی بھی علامت بن چکی ہے۔ آج انسان نے ترقی کی دوڑ میں قدرتی ماحول کے ساتھ ایسا غیر متوازن رویہ اختیار کیا ہے کہ خود اس کی بقاء خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اقوامِ عالم ماحولیاتی تحفّظ کے لیے کانفرنسیں منعقد کر رہی ہیں، اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں، مگر مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے، کیونکہ جب تک انسان کے اندر اخلاقی احساسِ ذمّہ داری پیدا نہ ہو، صرف قوانین اور منصوبے دیرپا نتائج نہیں دے سکتے۔
وَالسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَۙ۔ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِى الۡمِيۡزَانِ۔ اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی۔ کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ (سورۃ الرحمٰن: 7-8)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو توازن کے اصول پر قائم کیا ہے۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھے، نہ کہ اپنی خواہشات اور بے جا مداخلت سے اسے بگاڑ دے۔ جدید ماحولیات بھی اسی اصول کو "Ecological Balance” کے نام سے تسلیم کرتی ہے۔
اسلام، جو مکمل ضابطۂ حیات ہے، محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام نے چودہ سو سال قبل ماحولیات کے وہ بنیادی اصول پیش کیے جنہیں آج جدید دنیا "پائیدار ترقی” (Sustainable Development)، "قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال” اور "ماحولیاتی انصاف” کے نام سے تعبیر کرتی ہے۔ اسلامی تعلیمات انسان کو زمین کا مالک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نائب (خلیفہ) قرار دیتی ہیں، جس کی ذمّہ داری زمین کی اصلاح، حفاظت اور آبادکاری ہے، نہ کہ اس کی تباہی اور بربادی۔ قرآن مجید میں انسان کو خلیفۃ الارض قرار دیا گیا ہے۔ خلافت کا مطلب اختیار نہیں بلکہ ذمّہ داری ہے۔ انسان کو زمین، پانی، ہوا، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل امانت کے طور پر عطا کیے گئے ہیں۔ اسلامی فقہ کا اصول ہے کہ امانت میں خیانت حرام ہے، اس لیے ماحول کو نقصان پہنچانا بھی امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔
جدید ماحولیاتی بحران کی سب سے بڑی وجہ انسان کا حد سے زیادہ استحصالی رویہ ہے۔ صنعتی فضلہ دریاؤں اور سمندروں میں شامل ہو رہا ہے، کارخانوں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں فضا کو آلودہ کر رہی ہیں، پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال زمین اور سمندری حیات کے لیے مستقل خطرہ بن چکا ہے، جب کہ جنگلات کی بے رحمانہ کٹائی نے موسمی توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔ اسلام ان تمام خرابیوں کی جڑ یعنی اسراف، لالچ اور بے اعتدالی کو ختم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید اعلان کرتا ہے: "کھاؤ، پیو، لیکن اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” (سورۃ الأعراف: 31)۔ یہ آیت صرف کھانے پینے تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال، وسائل کے محتاط استعمال اور فضول خرچی سے اجتناب کا عالمی اصول پیش کرتی ہے۔
اسلام دولت، وسائل اور پیداوار کا مخالف نہیں، بلکہ بے اعتدالی اور غیر ضروری استعمال کا مخالف ہے۔ اسلامی معیشت اعتدال، کفایت شعاری، ذمّہ دارانہ استعمال اور آئندہ نسلوں کے حقوق کو ملحوظ رکھتی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جنہیں آج دنیا Sustainable Development کے نام سے اختیار کر رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) آج پوری دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ بے موسم بارشیں، شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب، گلیشیئرز کا پگھلنا اور سمندری سطح میں اضافہ اس بحران کی واضح علامات ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ محض سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی بحران بھی ہے، کیونکہ جب انسان اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو فطرت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: "خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب” (سورۃ الروم: 41)۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسانی اعمال براہِ راست ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں، لہٰذا اصلاحِ ماحول کا آغاز اصلاحِ انسان سے ہونا چاہیے۔ آج عالمی سائنسی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ کاربن کے بے تحاشا اخراج، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال نے موسمیاتی تبدیلی کو شدید تر کر دیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسلام نے صدیوں پہلے اسراف، فساد فی الارض، ظلم اور قدرتی وسائل کے ضیاع سے منع کر کے انہی خطرات کی اخلاقی بنیادوں کی اصلاح کر دی تھی۔ اس طرح اسلامی تعلیمات اور جدید ماحولیاتی سائنس ایک دوسرے کی تائید کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں شجرکاری کو نہایت عظیم نیکی قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو، اور وہ اسے لگا سکتا ہو، تو ضرور لگا دے”۔ صحیح البخاری کی یہ حدیث اس حقیقت کی نمائندگی کرتی ہے کہ اسلام میں ماحول کی حفاظت وقتی یا موسمی مہم نہیں بلکہ مستقل عبادت اور انسانی ذمّہ داری ہے۔ درخت نہ صرف آکسیجن فراہم کرتے ہیں بلکہ بارشوں، موسمی توازن، زمینی زرخیزی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفّظ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں باغات، کنویں، چشمے، مسافروں کے لیے سایہ دار درخت اور عوامی چراگاہیں وقف کی جاتی تھیں۔ یہ ادارہ صرف رفاہی نہیں بلکہ ماحولیاتی تحفّظ کا بھی بہترین نمونہ تھا۔ اس روایت کو جدید دور میں دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔
اسلام پانی کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیتا ہے اور اس کے ضیاع سے منع کرتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے بہتے ہوئے دریا کے کنارے بھی وضو میں پانی کا اسراف کرنے سے روکا (صحیح مسلم)۔ آج جب کہ دنیا پانی کی شدید قلّت کا سامنا کر رہی ہے، یہ تعلیم جدید آبی پالیسیوں کے لیے بھی قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ اسی طرح اسلام جانوروں، پرندوں اور دیگر مخلوقات کے حقوق کا بھی محافظ ہے۔ شریعت میں جانوروں کو بلاوجہ تکلیف دینا، ان کے مسکن تباہ کرنا یا محض تفریح کی خاطر شکار کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام صرف انسانی حقوق کا نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کے حقوق کا دین ہے۔ اسلام تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی امت قرار دیتا ہے۔ کسی نسل کا بلاوجہ خاتمہ، جنگلات کی تباہی یا قدرتی مساکن کو ختم کرنا صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ اخلاقی جرم بھی ہے۔ حیاتیاتی تنوع کا تحفّظ دراصل اللہ کی تخلیق کے احترام کا تقاضا ہے۔
جدید دور میں پلاسٹک کی آلودگی، الیکٹرانک کچرا، صنعتی فضلہ اور کیمیائی مادوں کا بے قابو استعمال ماحول کے لیے خطرناک بن چکا ہے۔ اسلام کا اصولِ "لا ضرر ولا ضرار”۔ نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ۔ (سنن ابن ماجہ)۔ ان تمام مسائل کے حل کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ہر وہ عمل جو انسان، حیوان، نباتات یا ماحول کے لیے نقصان دہ ہو، اسلامی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ ماحولیاتی تحفّظ صرف حکومتوں یا بین الاقوامی اداروں کی ذمّہ داری نہیں بلکہ ہر فرد، ہر خاندان، ہر تعلیمی ادارے، ہر مسجد اور ہر سماجی تنظیم کی مشترکہ ذمّہ داری ہے۔ مساجد میں ماحولیاتی شعور اجاگر کیا جائے، مدارس اور اسکولوں میں ماحولیات کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ پڑھایا جائے، شجرکاری کی اجتماعی مہمات چلائی جائیں، پانی اور بجلی کے ضیاع کو روکا جائے، صفائی کو اجتماعی ثقافت بنایا جائے اور وسائل کے استعمال میں اعتدال کو فروغ دیا جائے۔
ہر مسلمان سال میں کم از کم چند درخت لگانے کا اہتمام کرے۔
پانی اور بجلی کے استعمال میں اعتدال اختیار کرے۔
پلاسٹک کے استعمال کو کم کرے۔
مساجد اور مدارس میں ماحولیات سے متعلق آگاہی پیدا کی جائے۔
صفائی کو دینی فریضہ سمجھ کر اپنایا جائے۔
قدرتی وسائل کو آئندہ نسلوں کی امانت تصور کیا جائے۔
ماحولیاتی قوانین کی پاسداری کو دینی ذمّہ داری سمجھا جائے۔
مختصراً یہ کہ جدید ماحولیاتی بحران کا مستقل اور دیرپا حل صرف سائنسی ترقی میں نہیں بلکہ اخلاقی و روحانی اصلاح میں مضمر ہے۔ اسلام انسان کے دل میں جواب دہی، امانت داری، اعتدال، رحم، صفائی اور ذمّہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے، اور یہی وہ اقدار ہیں جو زمین کو دوبارہ سرسبز، متوازن اور محفوظ بنا سکتی ہیں۔ اگر مسلمان اپنی دینی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصّہ بنا لیں تو وہ نہ صرف اپنے معاشرے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ماحولیاتی تحفّظ کا ایک مثالی نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔ اسلام کا پیغام واضح ہے کہ زمین اللہ کی امانت ہے، اور اس امانت کی حفاظت ہی انسان کی حقیقی کامیابی اور عبادت ہے۔
زمیں خدا کی امانت ہے، یاد رکھ اے بشر
اسے سنوار کے رکھنا ہی بندگی کا سفر
🗓 (01.07.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے