कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بریگزٹ کے 10 سال بعد برطانیہ کا سیاسی بحران

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

بریگزٹ کے دس سال گزرنے کے بعد برطانیہ آج ایک گہرے سیاسی بحران، معاشی مایوسی، قومی تقسیم اور بے چینی کا شکار نظر آ رہا ہے۔یہ بحران نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی طور پر بھی ایک بڑی تبدیلی کا عکاس ہے جہاں اقتداراعلیٰ، قوم پرستی اور لبرل انٹرنیشنلزم جیسے سیاسی مفکرین کے تصورات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ 23 جون 2016 کو برطانوی عوام نے تاریخی ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔ اسے ’’کنٹرول واپس لینے‘‘،’’برطانیہ کو برطانویوں کے لیے واپس لانے‘‘ اور خودمختاری کی بحالی کا نعرہ دیا گیا تھا۔ مگر اب 2026 میں، دس سال بعد، یہ فیصلہ برطانیہ کے لیے ایک ’’کھوئے ہوئے عشر‘‘ ثابت ہوا ہے۔ سیاسی عدم استحکام عروج پر ہے، معیشت پر بریگزٹ کے منفی اثرات روز بروز واضح ہو رہے ہیں، عوام میں پچھتاوے کی لہر دوڑ رہی ہے اور قومی اتحاد ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں کیئر سٹارمر کے استعفیٰ کے بعد برطانیہ ایک بار پھر نئی قیادت کی تلاش میں ہے، جو بریگزٹ کے بعد کا ساتواں وزیر اعظم ہوگا۔ برطانیہ کے سیاسی مفکرین جیسے ایڈمنڈ برک، جان لاک اور جدید دور کے یوگیندر یادو اور سنجے ہیگڑے جیسے تجزیہ کاروں نے بریگزٹ کو قوم پرستی اور لبرلزم کے درمیان ٹکراؤ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق بریگزٹ نے قومی خودمختاری کے جذبات کو ابھارا تو ضرور مگر اس نے عالمی تعاون، معاشی استحکام اور لبرل اقدار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ برک کی روایتی قوم پرستی اور لاک کی انفرادی آزادی کے تصورات آج برطانیہ میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں جو اس بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔
بریگزٹ(Brexit) کا لفظ برطانیہ (Britain)اور خروج (Exit)سے ملا کر بنایا گیا ہے، جس کا مطلب ہے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی۔ برطانیہ 1973 سے یورپی یونین کا رکن تھا، مگر وقت کے ساتھ یورپی قوانین، فیصلوں اور آزاد نقل و حرکت پر شدید اعتراضات بڑھتے گئے۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ برطانیہ اپنی خودمختاری کھو رہا ہے، یورپی یونین سے بڑی تعداد میں تارکین وطن آ رہے ہیں جو مقامی روزگار اور سہولیات پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اور برطانیہ یورپی یونین کو زیادہ پیسہ دے رہا ہے جبکہ مناسب فائدہ نہیں مل رہا۔ 2016 کے ریفرنڈم میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عوام سے براہ راست رائے طلب کی۔ سوال یہ تھا کہ کیا برطانیہ کو یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے۔ نتائج حیران کن تھے Leave یعنی ہٹ جانا ‘نے 51.9 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ Remain 48.1 (ساتھ رہنا) فیصد پر رہ گیا۔ ریفرنڈم کے فوراً بعد ڈیوڈ کیمرون نے استعفیٰ دے دیا کیونکہ وہ خود Remain کیمپین کا حصہ تھے اور Leave کی جیت کے بعد ان کے لیے برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ کرنے کا عمل چلانا ممکن نہیں تھا۔
برطانیہ کی تاریخ ایک شاندار داستان ہے۔ قدیم برطانوی جزائر میں رومی، اینگلو سیکسن، وائکنگ اور نارمن فتوحات کے بعد جدید برطانیہ کی بنیاد پڑی۔ 1707 کے ایکٹ آف یونین سے انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز کا اتحاد ہوا اور برطانیہ کی عظیم سلطنت وجود میں آئی۔ صنعتی انقلاب نے برطانیہ کو دنیا کی پہلی صنعتی طاقت بنایا۔ برطانوی سلطنت ایک زمانے میں دنیا کے بڑے حصے پر پھیلی ہوئی تھی جسے ’’سورج کبھی غروب نہیں ہوتا‘‘ کہا جاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی برطانیہ نے یورپی تعاون کا حصہ بن کر استحکام پایا۔ 1973 میں یورپی معاشی برادری کا رکن بننے سے لے کر 1993 کے Maastricht Treaty تک یورپی یونین کا حصہ رہا۔ مگر وقت کے ساتھ یورپی یونین کے قوانین، فیصلوں اور آزاد نقل و حرکت پر شدید اعتراضات بڑھتے گئے۔
یورپی یونین کی بنیاد دوسری عالمی جنگ کے بعد امن اور معاشی تعاون کے لیے رکھی گئی تھی۔ 1957 کے Rome Treaty سے شروع ہونے والا یہ عمل آہستہ آہستہ یورپی معاشی برادری بن گیا اور 1993 میں Maastricht Treaty کے ذریعے مکمل یورپی یونین وجود میں آیا۔ اس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان آزاد تجارت، مشترکہ کرنسی (یورو)، آزاد نقل و حرکت اور سیاسی تعاون تھا۔ یورپی یونین نے یورپ کو طویل عرصے تک امن اور ترقی دی، مگر بعض ممالک میں اس کی بڑھتی ہوئی طاقت اور قومی خودمختاری پر مداخلت کے خلاف تحریک بھی پیدا ہوئی۔ برطانیہ اسی تنازع کا شکار ہوا اور آخر کار بریگزٹ کا فیصلہ کر لیا۔
برطانیہ کی حکومت پارلیمانی جمہوریت پر مبنی ہے۔ بادشاہ سربراہ مملکت ہے مگر حقیقی طاقت وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ برطانوی نظام ’’ویسٹ منسٹر ماڈل‘‘ کہلاتا ہے جس میں House of Commons اور House of Lords شامل ہیں۔ یہ نظام صدیوں کی جدوجہد اور ارتقاء کا نتیجہ ہے جو قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار پر قائم ہے۔ بریگزٹ نے اسی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیاتھا ۔علیحدگی کا عمل بہت پیچیدہ اور طویل ثابت ہوا۔ کئی سال کی مذاکرات، سیاسی لڑائیوں اور انتخابات کے بعد 31 جنوری 2020 کو برطانیہ نے باضابطہ طور پر یورپی یونین چھوڑ دی۔ بورس جانسن کی قیادت میں Withdrawal Agreement طے پایا اور برطانیہ یورپی سنگل مارکیٹ اور کسٹم یونین سے الگ ہو گیا۔ شمالی آئر لینڈ پروٹوکول کا تنازع بریگزٹ کا سب سے حساس اور پیچیدہ پہلو رہا ہے۔ برطانیہ یورپی یونین سے نکل گیا مگر شمالی آئر لینڈ میں یورپی قوانین کی جزوی پابندی جاری رکھی گئی تاکہ آئر لینڈ جزیرے پر سخت سرحد نہ بنے۔ یہ پروٹوکول آج بھی بڑا تنازع ہے کیونکہ اس کی وجہ سے شمالی آئر لینڈ میں سامان کی نقل و حرکت پیچیدہ ہو گئی ہے، کاروباری لاگت بڑھی ہے اور مقامی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی طور پر بھی حساس ہے کیونکہ یہ برطانیہ کی وحدت کو چیلنج کرتا ہے اور آئر لینڈ ری پبلک کے ساتھ تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔
بریگزٹ کے حامیوں نے عوام کو یقین دلایا تھا کہ علیحدگی کے بعد برطانیہ آزاد تجارت کے نئے معاہدے کرے گا، ریگولیشنز کم ہوں گی، امیگریشن پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گا اور برطانیہ عالمی سطح پر ایک آزاد اور طاقتور ملک کے طور پر ابھرے گا۔ مگر دس سال بعد حقیقت بالکل مختلف نکل آئی۔ ماہرین کے مطابق بریگزٹ کی وجہ سے برطانیہ کی جی ڈی پی 4 سے 8 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی، یورپی یونین کے ساتھ تجارت شدید متاثر ہوئی، پونڈ کی قدر گر گئی، مختلف شعبوں میں مزدوروں کی شدید کمی پیدا ہوئی اور نئے تجارت معاہدے بھی متوقع نتائج نہ دے سکے۔ مہنگائی، رہائش کا بحران اور معاشی سست روی نے عام شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ متعدد سروے بتاتے ہیں کہ اب 50 سے 60 فیصد برطانوی شہری بریگزٹ کو غلطی سمجھتے ہیں اور یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات یا واپسی کی خواہش رکھتے ہیں۔
برطانیہ کی آبادی تقریباً 6.8 کروڑ کے قریب ہے جو یورپ کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں سے ایک ہے۔ آبادی میں تیزی سے تنوع بڑھ رہا ہے، خاص طور پر لندن جیسے بڑے شہروں میں جہاں مختلف نسلوں، مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ رہتے ہیں۔ بریگزٹ کے بعد امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے غیر یورپی ممالک سے آنے والے تارکین وطن میں اضافہ ہوا ہے، مگر یورپی مزدوروں کی کمی نے صحت، زراعت اور تعمیرات جیسے شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ برطانیہ کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے مگر عمر رسیدہ افراد کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے سوشل سیکورٹی، پنشن اور صحت کے شعبے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یہ آبادیاتی تبدیلیاں بریگزٹ کی پالیسیوں سے جڑی ہوئی ہیں اور معاشی نشوونما کو متاثر کر رہی ہیں۔
سیاسی طور پر برطانیہ میں ناقابل یقین عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کی شکست کے بعد استعفیٰ دیا۔ تھریسا مے Brexit Deal پاس نہ کرا سکیں تو استعفیٰ دیا۔ بورس جانسن نے Deal پاس کروایا مگر پارٹی اندرونی تنازعات اور پارٹی گیٹ اسکینڈل کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔ لز ٹرس کی معاشی پالیسیاں ناکام ہوئیں تو صرف 49 دن بعد استعفیٰ دیا۔ رشی سونک نے معاشی استحکام کی کوشش کی مگر الیکشن ہار گئے۔ کیئر سٹارمر نے لیبر کی بڑی جیت کے بعد حکومت سنبھالی مگر مقامی انتخابات میں ناکامی اور پارٹی اندرونی دباؤ کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اب اینڈی برنہیم یا کوئی نیا لیڈر سامنے آ رہا ہے۔ یہ مسلسل قیادت کی تبدیلی کسی بھی جدید جمہوریت کے لیے غیر معمولی ہے۔
موجودہ معاشی پالیسیاں بریگزٹ کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش ہیں۔ حکومت معاشی استحکام، سرمایہ کاری کو فروغ دینے، انفراسٹرکچر کی ترقی اور ٹیکس اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم بریگزٹ کی وجہ سے یورپی مارکیٹ تک رسائی محدود ہونے کی وجہ سے پالیسیاں محدود ہیں۔ نئی قیادت ممکنہ طور پر یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعاون بڑھانے اور ٹریڈ بیریئرز کم کرنے کی طرف جا سکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ قریبی معاشی تعلقات نہ بحال کرے تو طویل مدتی بحالی مشکل ہو گی۔
بریگزٹ نے برطانیہ کو سماجی طور پر بھی تقسیم کر دیا ہے۔ خاندانوں، دوستوں اور معاشرے میں تقسیم نظر آتی ہے۔ عالمی سطح پر برطانیہ کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں۔ کیا یہ مسائل صرف بریگزٹ کی وجہ سے ہیں؟ یہ سوال اہم ہے۔ بریگزٹ یقیناً برطانیہ کی موجودہ مشکلات کا بڑا سبب ہے، مگر یہ واحد وجہ نہیں۔ عالمی سطح پر کورونا وبا، یوکرین جنگ، توانائی کا بحران اور عالمی مہنگائی نے بھی برطانیہ کو متاثر کیا ہے۔ تاہم ماہرین کا اتفاق ہے کہ بریگزٹ نے ان تمام مسائل کو مزید شدید بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آگے کیا ہونا چاہیے؟ یوگیندر یادو جیسے تجزیہ کاروں کی طرح بہت سے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ برطانیہ کو یورپی یونین کے ساتھ قریبی معاشی تعاون بڑھانا چاہیے، امیگریشن پالیسیوں کو لچکدار بنانا چاہیے، شمالی آئر لینڈ کے تنازع کو حل کرنے کے لیے نئے معاہدے کرنے چاہیئے اور طویل مدتی معاشی بحالی کے لیے انفراسٹرکچر اور تعلیم پر زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ کچھ تجاویز یہ بھی ہیں کہ برطانیہ کو یورپی سنگل مارکیٹ کے کچھ حصوں میں واپس آنا چاہیے تاکہ تجارت بڑھے اور مزدوروں کی کمی دور ہو۔
اب نئے قائدین کے سامنے بڑا چیلنج ہے کہ وہ معاشی بحالی، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد بحال کریں۔ کچھ تجزیہ کار یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعاون کی طرف واپسی کی تجویز دے رہے ہیں، مگر یہ سیاسی طور پر انتہائی حساس فیصلہ ہے۔ بریگزٹ کے حامی اب بھی طویل مدتی فوائد کی امید رکھتے ہیں، مگر موجودہ شواہد اس کی تائید نہیں کرتے۔ دس سال بعد برطانیہ ایک ایسے بحران میں گھرا ہوا ہے جو صرف معاشی نہیں بلکہ قومی شناخت، اتحاد اور مستقبل کے اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ یہ برطانیہ کے لیے ایک بڑا سبق ہے کہ بڑے فیصلے جذبات اور نعروں کی بجائے حقیقت پسندانہ تجزیے، سوچے سمجھے منصوبہ بندی اور عوامی فلاح پر مبنی ہونے چاہئیں۔ برطانوی عوام اور سیاست دان دونوں اس کھوئے ہوئے عشر سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں، مگر یہ راستہ آسان نہیں ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے