कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یورپی اسلامی ملک البانیا: ملحدانہ جبر سے امن اور انسان دوستی کے مستقبل تک

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

وہ برفانی دوپہر، جب تیرانا کے اسکندر بیگ اسکوائر میں ایتھم بے مسجد کے بند دروازے 23 برس بعد کھلے، آج اسے پینتیس برس گزر چکے ہیں؛ مگر اس لمحے کی اہمیت وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی، بلکہ البانیا کی روحانی بیداری کے اس سنگم کو جتنا ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، اس کی گہرائی اتنی ہی ہمارے سامنے کھلتی جاتی ہے۔ وہ دروازے، جو 1967 میں اینور ہوجا کے حکم نامے کے بعد بند کیے گئے تھے، جب 18 جنوری 1991 کو وا ہوئے تو ہزاروں البانویوں کے آنسوؤں نے برف کو پگھلا دیا۔ آج 1 جولائی 2026 کو جب ہم اس تاریخی لمحے کو یاد کرتے ہیں، تو ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا وہ آنسو صرف ماضی سے رہائی کا پیش خیمہ تھے، یا انہوں نے ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں؟ ایک ایسا البانیا جو مذہبی آزادی کے نئے افق پر کھڑا ہے، مگر ساتھ ہی اپنی شناخت، خودمختاری اور روایات کو نئے چیلنجوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
پندرہویں صدی میں عثمانی سلطنت کے زیرِ سایہ البانیا میں اسلام کی آمد صرف تلوار کی مرہونِ منت نہ تھی، بلکہ اس نے تجارت، تصوف اور روحانی تبادلوں کی راہوں سے مقامی ثقافت میں جڑیں پھیلائیں۔ اس سلسلے میں بکتاشیہ صوفی سلسلے کا کردار سب سے نمایاں ہے، جنہوں نے اپنی رحمدلانہ تعلیمات، موسیقی، شاعری اور انسان دوستی کے ذریعے البانیوں کے دلوں میں اسلام کو اس طرح بسایا کہ مذہب تلوار کا نشان نہیں، بلکہ روح کی تسکین کا ذریعہ بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی البانیا میں تصوف کی گونج سنائی دیتی ہے، اور بکتاشیہ سلسلہ نہ صرف ایک مذہبی جماعت ہے بلکہ البانی قوم پرستی اور ثقافتی شناخت کا ایک لازمی جزو ہے، جس نے 1930 میں ترکی سے تیرانا منتقل ہو کر ایک عالمی مرکز قائم کیا۔ اس سلسلے کی تعلیمات میں عورت و مرد کی برابری، ہر مذہب کا احترام اور عقل کو ایمان کا درجہ دینا شامل ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہوں نے البانیا کو یورپ کا سب سے روادار مسلم ملک بنایا، اور جس کی روشنی میں آج بھی 115,000 سے زائد مرید اس سلسلے سے وابستہ ہیں۔
دو برس قبل، ستمبر 2024 میں، جب وزیر اعظم ایڈی راما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اعلان کیا کہ تیرانا میں بکتاشیہ کے مرکز کو ویٹیکن کی طرز پر ایک خود مختار ریاست کا درجہ دیا جائے گا، تو دنیا بھر میں اس پر بحث چھڑ گئی۔ آج 1 جولائی 2026 کو اس منصوبے کی عملی پیشرفت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ قانونی اور آئینی رکاوٹوں نے اسے مکمل طور پر عملی شکل نہیں دی، مگر البانیا کی پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں ایک خصوصی قانونی فریم ورک تیار کر لیا ہے، جو بکتاشیہ مرکز کو ایک خاص انتظامی خودمختاری فراہم کرتا ہے بغیر اسے مکمل ریاستی درجہ دیے؛ اور یہ ایک دانشمندانہ سمجھوتہ ہے جس نے البانیا کی سیکولر شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس صوفی ورثے کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا ہے۔ ترکی میں موجود بکتاشیہ رہنماؤں کے ابتدائی تحفظات بھی دو سالوں میں ختم ہو گئے ہیں، اور اب البانیا کا بکتاشیہ مرکز ایک بین الاقوامی ثقافتی اور روحانی علامت کے طور پر ابھرا ہے، جو ہر سال ہزاروں زائرین کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہ اقدام درحقیقت البانیا کی مذہبی رواداری کو ایک نیا معیار عطا کر گیا ہے، جسے پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے۔
اسی طرح اکتوبر 2024 میں نمازگاہ مسجد کا افتتاح، جو ترکی کی مالی امداد سے تعمیر ہوئی اور بلقان کی سب سے بڑی مساجد میں شمار ہوتی ہے، آج 2026 میں محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ البانیا اور ترکی کے تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں اس مسجد نے نہ صرف ہزاروں نمازیوں کو جگہ دی ہے، بلکہ یہ بین المذاہب مکالموں کا مرکز بھی بن چکی ہے، جہاں مسلمان، مسیحی اور بکتاشیہ رہنما اکٹھے ہو کر امن اور مشترکہ اقدار پر گفتگو کرتے ہیں۔ ترکی کی جانب سے فراہم کیے گئے فوجی ڈرونز نے البانیا کی دفاعی صلاحیتوں کو تقویت دی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ اسٹریٹجک تعاون کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ آج البانیا اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں ایک طرف ترکی کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، تو دوسری طرف یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات ہیں، جو 2026 تک نمایاں طور پر آگے بڑھ چکے ہیں، اور البانیا کو امید ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں وہ یورپی خاندان کا مکمل رکن بن جائے گا۔
لیکن البانیا کی مذہبی تصویر کو دیکھیں تو 2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار آج بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں: 45.86 فیصد سنی، 4.81 فیصد بکتاشیہ، اور 30 فیصد سے زائد افراد جو کسی مذہب سے وابستہ نہیں یا جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ وہی خلا ہے جسے ہوجا کی ملحدانہ پالیسیوں نے پیدا کیا تھا، مگر گزشتہ دو برسوں میں البانیا کی تعلیمی اور ثقافتی پالیسیوں نے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔ خاص طور پر بکتاشیہ سلسلے کی تعلیمات کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے تاکہ نوجوان نسل کو تصوف کی برداشت، عقل پروری اور انسان دوستی سے روشناس کرایا جا سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو البانیا کو شدت پسندی کے خطرے سے بھی بچا سکتا ہے، جس کی جھلک ہم 2012 کے بعد شام اور عراق جانے والے البانوی جنگجوؤں کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ آج 2026 میں البانیا کی سیکیورٹی ایجنسیاں اس سلسلے میں زیادہ چوکس ہیں اور مذہبی شدت پسندی میں ملوث ہونے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ بکتاشیہ صوفی سلسلے کا امن اور رواداری کا پیغام ہے، جو نوجوانوں کو ایک پرکشش روحانی متبادل فراہم کرتا ہے۔
اس رواداری کی روشن ترین مثال البانیا کا "بیسا” ہے؛ وہ ضابطۂ اخلاق جس نے دوسری جنگ عظیم میں البانیا کو یہودیوں کے لیے پناہ گاہ بنا دیا تھا۔ آج 2026 میں یہ روایت محض ایک تاریخی ورثہ نہیں، بلکہ البانیا کی قومی شناخت کا زندہ جزو ہے، جسے حکومت اور سول سوسائٹی نے بین المذاہب ہم آہنگی کے پروگراموں کے ذریعے فروغ دیا ہے۔ اس روایت کی جڑیں بکتاشیہ تصوف میں ملتی ہیں، جہاں ہر انسان کو، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو، عزت اور حفاظت کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج 68 البانویوں کو "ید واشیم” کا اعزاز حاصل ہے، اور البانیا کو پوری دنیا میں مذہبی رواداری کے لیے ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
انہی نوجوانوں کی طرف دیکھیں تو آج 1 جولائی 2026 کو وہ تیرانا کے اسکندر بیگ اسکوائر کے کافی ہاؤسز میں بیٹھے یورپی یونین کے ویزا فارم بھر رہے ہیں۔ گزشتہ بارہ برسوں میں البانیا کی 15 فیصد آبادی بیرونِ ملک ہجرت کر چکی ہے، مگر گزشتہ دو برسوں میں اس ہجرت کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے، کیونکہ معاشی اصلاحات اور یورپی یونین میں شمولیت کا وقت قریب آنے سے نوجوانوں کو اندرونِ ملک مواقع فراہم ہوئے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق 2026 میں معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ رک گیا ہے، جو ایک امید کی کرن ہے؛ حالانکہ یہ سفر ابھی طویل ہے اور البانیا کو اپنی تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ اس کی نئی نسل وطن کو چھوڑ کر جانے کے بجائے اسے آباد کرے۔
اس سب کے درمیان، جب آج ہم اسکندر بیگ اسکوائر میں کھڑے ہیں، تو ہمیں ایک طرف ایتھم بے مسجد نظر آتی ہے، جو اب محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک عجائب گھر اور ثقافتی مرکز بھی ہے؛ دوسری طرف نمازگاہ مسجد اپنے چار میناروں کے ساتھ بلقان کی فضا میں ایک نیا نشان بن چکی ہے، اور ایک کونے میں بکتاشیہ تکیہ اپنی خودمختار حیثیت کے ساتھ ایک روحانی ریاست کا مینیچر ہے۔ ان سب کے درمیان وہ نوجوان ہیں، جنہوں نے کبھی اذان نہیں سنی تھی، مگر آج وہ اپنی روایات کے بارے میں جاننے کے لیے زیادہ بے چین ہیں، کیونکہ اسکولوں میں تصوف اور البانی رواداری کے بارے میں پڑھایا جا رہا ہے۔ وہ اپنے بزرگوں کی طرح اس برف میں سجدہ نہیں کرتے، مگر وہ اپنی شناخت کو ایک نئے انداز میں تلاش کر رہے ہیں؛ ایک ایسی شناخت جو مذہب کو سیاست سے الگ رکھتی ہے، مگر اخلاقیات، انسان دوستی اور رواداری کو اپنی زندگی کا حصہ بناتی ہے۔
وہ بوڑھا آدمی جو 1991 میں ایتھم بے مسجد کے سامنے رویا تھا، شاید آج اس دنیا میں نہیں، مگر اس کی دعا البانیا کی فضا میں گونج رہی ہے۔ 1 جولائی 2026 کو جب ہم اس منظر کا تصور کرتے ہیں، تو ہمیں یقین ہوتا ہے کہ البانیا ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں اس کی صوفی روایات، اس کا بیسا اور اس کی سیکولر ریاست ایک نیا توازن پیدا کریں گے؛ ایک ایسا توازن جو نہ تو ماضی کے جبر کی طرف لوٹتا ہے، نہ موجودہ الجھنوں میں کھو جاتا ہے، بلکہ ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھتا ہے جہاں مسجد، کلیسا اور تکیہ سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں، اور جہاں البانی نوجوان اپنی جڑوں کو پہچانتے ہوئے دنیا میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔ یہ البانیا کا سفر ہے، جو برف سے شروع ہوا تھا اور آج ایک نئی بہار کی طرف گامزن ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے