कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

محرم الحرام عظمت و حرمت اور پیغام عمل

تحریر:ڈاکٹر محمد سعیداللہ ندوی
رابطہ: 8175818019

اسلامی سن ہجری 1448ھ کا آغاز ماہِ محرم الحرام سے ہو چکا ہے۔ یہ مہینہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہونے کے ساتھ ساتھ عظمت، حرمت، فضیلت اور برکت کے اعتبار سے نہایت ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں بعض مہینے خصوصی تقدس اور اہمیت کے حامل قرار دیے گئے ہیں اور ماہِ محرم انہی بابرکت مہینوں میں شامل ہے۔ اسلامی تقویم کی ابتدا اسی مہینے سے ہوتی ہے، اس لیے اس کا استقبال صرف ایک نئے سال کی آمد نہیں بلکہ ایمان، احتساب، خود اصلاح اور دینی شعور کی تجدید کا موقع بھی ہے۔
ہجری تقویم کی بنیاد رسول اکرم ؐکی عظیم ہجرت پر رکھی گئی، جو انسانی تاریخ کے عظیم ترین انقلابات میں سے ایک ہے۔ اگرچہ ہجرت کا واقعہ خود ماہِ ربیع الاول میں پیش آیا، لیکن اسلامی ریاست کے نظم اور امت کی اجتماعی زندگی کے اعتبار سے حضرت عمر فاروق ؓکے عہد میں محرم کو اسلامی سال کا نقطۂ آغاز قرار دیا گیا۔ یہ انتخاب اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ مسلمان کی زندگی کا ہر نیا سال مقصد، قربانی اور اللہ کی رضا کے جذبے سے وابستہ ہونا چاہیے۔افسوس کے ساتھ یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ آج بہت سے مسلمان اپنی دینی تاریخ اور اسلامی تقویم سے عملی طور پر دور ہوتے جارہے ہیں۔ انہیں شمسی تاریخ، مہینوں کے نام اور عالمی کیلنڈر کے تمام مراحل یاد ہوتے ہیں، لیکن اسلامی مہینوں کے نام، ان کی ترتیب اور ان کی دینی اہمیت سے واقفیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورت حال ہمارے اجتماعی فکری رجحان پر غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے۔ اسلامی مہینوں کا علم صرف عبادات کے لیے نہیں بلکہ اپنی تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔دنیا کے مختلف معاشروں میں نئے سال کے استقبال کے اپنے اپنے انداز ہیں، لیکن اسلام نے نئے سال کے آغاز کو شور و غوغا، فضول خرچی یا غیر ضروری رسومات کے بجائے دعا، ذکر، احتساب اور خیر کے ساتھ جوڑا ہے۔ جب نیا مہینہ شروع ہو تو چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا اور مسنون دعا پڑھنا سنت ہے۔ یہی اسلامی تہذیب کی وہ خوبصورتی ہے جو انسان کو ظاہری جشن سے نکال کر باطنی اصلاح کی طرف لے جاتی ہے۔
ماہِ محرم ان چار مہینوں میں شامل ہے جنہیں قرآن کریم نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے جن میں چار حرمت والے ہیں۔ ان مہینوں میں ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب شامل ہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ان مہینوں میں نیکیوں کا اجر زیادہ اور گناہوں کی سنگینی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے محرم کو عبادت، تقویٰ، اصلاحِ نفس اور خیر کے اعمال کے لیے خاص اہمیت حاصل ہے۔احادیث مبارکہ میں محرم کو ’شہر اللہ‘ یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ مہینے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہونا اس کے خصوصی شرف اور فضیلت کی علامت ہے۔ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔ اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مہینہ عبادت اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہے۔محرم الحرام کا سب سے نمایاں دن یومِ عاشورہ ہے۔ تاریخِ اسلام میں اس دن کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ متعدد انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کے واقعات کے حوالے سے یہ دن امت کے لیے یاد دہانی اور سبق کا ذریعہ رہا ہے۔ صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ ؑور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات ملنے پر رسول ؐ نے عاشورہ کے روزے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام سے ہماری نسبت زیادہ قوی ہے۔
عاشورہ کے روزے کی فضیلت کے بارے میں احادیث میں وارد ہوا ہے کہ اس کے ذریعے گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کی معافی کی امید رکھی جاتی ہے۔ رسول اللہؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہود سے امتیاز قائم رکھنے کے لیے عاشورہ کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھا جائے۔ اسی لیے نو اور دس یا دس اور گیارہ محرم کے روزے رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ماہِ محرم کی عظمت کا ایک اور پہلو تاریخ اسلام کا وہ دردناک مگر تابناک باب ہے جو کربلا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دس محرم کو نواسہ رسولؐ، سیدنا امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے حق، عدل، استقامت اور دینی اقدار کے تحفظ کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ واقعہ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ اصول، کردار، صبر اور ظلم کے سامنے نہ جھکنے کا دائمی پیغام ہے۔ امام حسینؓ نے امت کو یہ تعلیم دی کہ ایمان اور حق کے معاملے میں مصلحت سے زیادہ اصول کی اہمیت ہے۔
تاہم اس موقع پر یہ بھی ضروری ہے کہ محرم کے حوالے سے جذبات اور عقیدت کے ساتھ ساتھ شریعت کی حدود اور اعتدال کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ اسلام نے نہ تو غلو کی تعلیم دی اور نہ ایسی رسومات کی اجازت دی جو دین کی اصل روح سے دور لے جائیں۔ لہٰذا اس مہینے میں ہونے والی بدعات، غیر شرعی رسوم، بے اصل روایات اور ایسے اعمال سے اجتناب ضروری ہے جن کی بنیاد قرآن و سنت میں موجود نہیں۔محرم ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہر نیا سال محاسبہ نفس کا موقع ہے۔ انسان اپنے گزشتہ اعمال کا جائزہ لے، اپنی کوتاہیوں پر ندامت اختیار کرے، اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لیے بہتر زندگی کا عزم کرے۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اس لیے اصلاح کا آغاز دوسروں پر تنقید سے نہیں بلکہ اپنی ذات سے ہونا چاہیے۔آج ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی مختلف اخلاقی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے۔ نفرت، حسد، باہمی رقابت، بے اعتمادی اور اخلاقی کمزوریوں نے معاشرتی سکون کو متاثر کیا ہے۔ اسلامی سال کا آغاز ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف کریں، رشتوں کو مضبوط بنائیں، خیر خواہی کو فروغ دیں اور اخلاق حسنہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔محرم الحرام کا پیغام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی کی تعمیر ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسلمان کی اصل شناخت اس کے ایمان، کردار، علم، عبادت اور انسانیت سے وابستگی میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اسلامی سال کے آغاز کو حقیقی معنوں میں اصلاح اور خیر کا ذریعہ بنا لیں تو یقیناہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ نیا اسلامی سال امت مسلمہ کے لیے خیر، امن، اتحاد اور ترقی کا سال بنے۔ ہمیں محرم الحرام کی عظمت و حرمت کو صحیح معنوں میں سمجھنے، سنت کے مطابق عمل کرنے، باہمی محبت اور اخوت کو فروغ دینے اور دین اسلام کی حقیقی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے