कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مولوی محمد ایوب، _ حمد و نعت کا ایک خاموش چراغ

تحریر: تابش ردولوی

اودھ کی سرزمین خصوصاً ردولی صدیوں سے علم و ادب، تہذیب و شرافت اور شعر و سخن کی دل آویز روایتوں کی امین رہی ہے۔ اس خطۂ زرخیز نے جہاں علماء، ادباء اور صوفیہ کو جنم دیا، وہیں ایسے شعراء بھی پیدا کیے جن کے کلام میں عقیدت و محبت کی خوشبو نسلوں تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ انہی باکمال شخصیات میں ایک نام مولوی محمد ایوب مرحوم کا بھی ہے، جنہوں نے اپنی سادہ مگر اثر آفریں نعتیہ شاعری کے ذریعے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن کی۔
محلہ مرزاپور، ردولی کے ایک معزز زمیندار گھرانے میں 1929ء میں آنکھ کھولنے والے مولوی محمد ایوب مرحوم نے ابتدائی تعلیم رنگون میں حاصل کی۔ بعد ازاں مخدومیہ اسکول، موجودہ نیشنل ہائر سکنڈری اسکول، ردولی میں تعلیم پائی جہاں ماسٹر حبیب الرحمن مرحوم اور مرتضیٰ حسین مرحوم جیسے اساتذہ کی علمی و اخلاقی تربیت نے ان کی شخصیت کو جلا بخشی۔ تعلیم کے بعد کچھ عرصہ محکمہ مال میں لیکھپال کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، مگر فطرت میں علم دوستی اس قدر رچی بسی تھی کہ بعد میں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔
شاعری سے انہیں ابتدا ہی سے شغف تھا۔ سخن کی اصلاح معروف شاعر یوسف اثر ردولوی سے لی، جس کے بعد ان کے شعری ذوق میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ اگرچہ انہوں نے غزلیں بھی کہیں، لیکن ان کا اصل میدان نعتیہ شاعری تھا۔ حضور اقدس ﷺ کی ذاتِ گرامی سے والہانہ محبت ان کے مزاج کا بنیادی وصف تھی۔ یہی سبب ہے کہ ان کی نعتوں میں تصنع یا لفظی بازی گری نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے ابھرنے والی سچی عقیدت کی حرارت محسوس ہوتی ہے۔
مولوی محمد ایوب مرحوم کے یہاں عشقِ رسول ﷺ محض ایک موضوع نہیں بلکہ ایک کامل طرزِ حیات کے طور پر جلوہ گر نظر آتا ہے۔ وہ محبتِ مصطفیٰ ﷺ کو دنیا و آخرت کی اصل کامیابی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں
حاصل اس شخص کو کونین کی دولت ہو جائے
جس کو سرکارِ دو عالم سے محبت ہو جائے
یہ شعر ان کے ایمانی شعور اور روحانی وابستگی کا آئینہ دار ہے۔ اسی طرح غلامانِ مصطفیٰ ﷺ کی نجات و بخشش کے یقین کو وہ بڑے والہانہ انداز میں یوں بیان کرتے ہیں
ہر غلام ان کا نہ کیوں داخلِ جنت ہو جائے
شافعِ حشر کو جب اذنِ شفاعت ہو جائے
ان کے کلام میں اتباعِ سنت اور اطاعتِ رسول ﷺ کا درس بھی پوری وضاحت کے ساتھ ملتا ہے۔ ان کے نزدیک محبت کا دعویٰ اسی وقت معتبر ہے جب انسان اپنی زندگی کو تعلیماتِ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھال لے۔ اس حقیقت کو وہ نہایت سادگی مگر اثر انگیزی کے ساتھ یوں بیان کرتے ہیں
دعوائے محبت میں یقیناً ہے وہ صادق
جو آپ کے احکام کا جویا نظر آئے
ان کے اشعار میں عقیدت و ادب کی وہ کیفیت جا بجا محسوس ہوتی ہے جو سچے عاشقانِ رسول ﷺ کا خاصہ ہے
جھک جائیں نہ کیوں فرطِ عقیدت سے جبینیں
سرکار کا جب نقشِ کفِ پا نظر آئے
اور درود و سلام کی روح پرور فضا ملاحظہ ہو
زباں پر ادھر آیا صلی علیٰ
ادھر آپ تک یہ خبر ہو گئی
یہ اشعار محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ عشق و ادب کی ایک روحانی فضا کو جنم دیتے ہیں۔
مولوی محمد ایوب مرحوم عقیدۂ ختمِ نبوت کے بھی سچے ترجمان تھے۔ دین میں کسی قسم کی کمی بیشی کے قائل نہ تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں
ہے فرمانِ اکملتُ لکم دینکم کا
نہ اب دیں میں ہم بیش و کم چاہتے ہیں
ان کے یہاں عقیدہ، محبت اور شریعت ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں، اور یہی ان کی نعتیہ شاعری کا امتیاز ہے۔
ان کا مجموعۂ نعت “گلہائے نعت” ان کے قلبی جذبات، عشقِ رسول ﷺ اور فکری وابستگی کا حسین آئینہ ہے۔ اس میں شامل کلام سادگی، وارفتگی اور ادبِ مصطفوی ﷺ کی روشن مثال ہے۔ یہ مجموعہ محض نعتوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ محبت و عقیدت کے ایسے خوش رنگ پھولوں کا گلدستہ ہے جس کی خوشبو اہلِ دل کو دیر تک اپنے حصار میں لیے رہتی ہے۔
مولوی محمد ایوب مرحوم نے شہرت و نمود سے بے نیاز ہو کر علم، ادب اور عشقِ رسول ﷺ کی خدمت کی۔ ان کی شخصیت میں انکساری، سادگی اور خلوص نمایاں تھا۔ وہ محفلوں کے شاعر کم اور دلوں کے شاعر زیادہ تھے۔ ان کا کلام سننے والا محسوس کرتا ہے کہ یہ اشعار زبان سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلے ہیں۔
18 مئی 2002ء کو یہ عاشقِ رسول ﷺ اس دارِ فانی سے رخصت ہو کر دارِ بقا کی طرف کوچ کرگئے، مگر اپنے پیچھے محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے معطر ایسا شعری سرمایہ چھوڑ گئے جو آج بھی اہلِ ذوق کے قلوب کو گرما دیتا ہے۔ ان کی نعتیں دراصل عقیدت کے وہ چراغ ہیں جن کی روشنی وقت گزرنے کے ساتھ مدھم نہیں ہوتی بلکہ مزید تابناک محسوس ہوتی ہے۔
مولوی محمد ایوب مرحوم ان خوش نصیب شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو عشقِ رسول ﷺ کے نور سے منور کیا اور اپنی شاعری کو بھی اسی نسبتِ مقدس سے دوام بخشا۔ یقیناً ایسے لوگ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کے الفاظ، ان کی محبت اور ان کی خوشبو ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے