कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلمانوں نے جنگ آزادی میں 290 سال تک اپنی قربانی پیش کیں

تحریر:مفتی محمد شاکر حسین رحمانی
استاذ : جامعہ عربیہ سراج العلوم راجیو نگر منڈولی دہلی 93
7453052819

جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے 24ستمبر 1599 کو ملک ہندوستان کے ساحلوں پر قدم رکھا لیکن اس وقت مغلیہ حکومت کے مستحکم ہونے کی وجہ سے اپنے مقصد فاسد میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ مگر اس کے بعد جب دور جہانگیر آیا تو ایسٹ انڈیا کمپنی اس کے دوسرے بیٹے شاہ خرم سے تجارت کی اجازت لے کر1601 ء میں ہندوستان میں داخل ہوا اور اپنی شاطرانہ و عیارانہ چالبازی سے ہندوستان کے چپے چپے پر تن کے گورے مگرمن کے کالے انگریزوں نے قبضہ کرنا شروع کر دیا اور یہاں کے مالک بن بیٹھے تو تقریبا ڈیڑھ سو سال کے بعد 1757ء میں سب سے پہلے نواب سراج الدولہ نے انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور جام شہادت نوش کیا اور یہ بغاوت کا سلسلہ مسلسل چلتا رہا چنانچہ 1799 میں شیر میسور ٹیپو سلطان نے سرنگا پٹنم میں جام شہادت نوش کیا ۔ جن کے نعش پر کھڑے ہو کر انگریز فاتح لارڈ ہارس نے فخر کے ساتھ یہ اعلان کیا تھا۔ کہ آج سے یہ ہندوستان ہماراہے اس کے بعد 1803 میں انگریزی فوج فاتح بن کر دہلی میں داخل ہوئی اور بادشاہ وقت ” شاہ عالم ثانی” سے جبرا یہ معاہدہ لکھوایا کہ ” خلق خدا کی ، ملک بادشاہ سلامت کا؛ اور حکم کمپنی بہادر کا "جب انگریز نے جبرا یہ معاہدہ تحریر کروایا تو اس وقت شاہ عبد العزیز نے ہندوستان کو دارالحرب ہونے کا فتوی دیا اور 1831 ء میں بالا کوٹ کی پہاڑی میں جام شہادت نوش کئے پھر اس کے بعد علماء نے دوبارہ 1857ء میں جہاد کا فتوی دیا اور اسی 1857 میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی قیادت میں، مولانا قاسم نانوتوی ، رشید احمد گنگوہی اور حافظ ضامن شہد رحمہم اللہ نے شاملی کے میدان میں انگریزوں سے مقابلہ کیا۔ بالا خرانگریز نے 20 ستمبر 1857 کو لال قلعہ پر اپنا جھنڈا گاڑ د یا لیکن علماء مسلسل جدوجہد میں لگے رہے اور 30 مئی 1866 میں دیو بند میں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی۔
جو کہ آگے چل کر ایشیاء کی عظیم دینی در سنگاہ بن گئی اسی کے ایک فرزند محمود حسن دیوبندی المعروف شیخ الہند نے تحریک ریشمی رومال کامشن چلایا اور دوسری طرف 1911ءمیں کلکتہ میں رہ کر مولانا ابوالکلام آزاد نے "الہلال "اخبار جاری کرکے جہاد کی سور پھونکی ء1915 میں تحریک ریشمی رومال چلی 1916 میں ہندو مسلم اتحاد ہوا ۔ 1917 میں گاندھی جی نے بہار کی سرز مین چمپارن میں ڈانڈی مارچ اور نمک ستیہ گرہ تحریک چلای اور 1919 ء میں دہلی میں جمیعۃ الانصار کے نام سے ایک تنظیم قائم ہوئی جس کے پہلے صدر مفنی کفایت الله صاحب منتخب ہوئے 1920 ء میں حضرت شیخ الہند نے ترک موالات کا فتوی دیا جسے بانی امارت شریعہ بہار اڑیسہ جھاڑ کھند مولانا ابو المحاسن سجاد بہاری نے ترتیب دے کر جمعیت کے پلیٹ فارم سے شائع کیا ۔ اور 1921 ء میں مولانا حسین احمد مدنی نے کراچی میں جرات مندانہ یہ اعلان کیا کہ گورنمنٹ برطانیہ کی اعانت و ملازمت حرام ہے ۔ 1922ء میں انگریزوں نے ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی۔ اور 1926 ء میں کلکتہ کے اجلاس میں مکمل آزادی کی قرارداد منظور ہوئی ۔ 1932ء میں انگریزوں نے نن کو اپر یش مومنٹ کے تحت امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کو قید کر کے سہارنپور کی جیل میں بند کر دیا۔ 1936 میں ہندوستان میں پہلا عمومی انتخاب ہوا جس میں جمیعت العلماء کے پلیٹ فارم سے ” مسلم اینڈ پینڈٹ پارٹی "اکی طرف سے حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحب رکن منتخب ہوئے 1942ء میں انگریزوں ہندوستان چھوڑ و تحریک چلی بالآخر برٹس حکومت گھنٹے ٹیکنے پر مجبور ہوئی اور پندرہ اگست 1947 کو یہ ملک انگریز کے شکنجے سے آزاد ہوا

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے