कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اُردو نظم کا ایک اور مجاز —–” تابش ردولوی ‘

تحریر:محمد ابوبکر
اسسٹنٹ پروفیسر
ریسرچ اسکالر مونگیر یونیورسٹی مونگیر

“اردو کی کہانی، اردو کی زبانی” ایک خوب صورت فکری اور تہذیبی نظم ہے جس کے خالق ایم۔ ایچ۔ تابش ردولوی صاحب ہیں۔ تابش ردولوی صاحب اردو ادب کے اُن ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت، زبان کی لطافت، تہذیبی شعور اور فکری گہرائی کو اپنی شاعری میں یکجا کیا۔ ان کی شاعری میں اردو زبان سے محبت، اس کے تاریخی سفر کا شعور اور اس کی تہذیبی عظمت کا احساس نمایاں نظر آتا ہے۔
یہ نظم دراصل اردو زبان کی خودنوشت معلوم ہوتی ہے۔ شاعر نے اردو زبان کو ایک جیتی جاگتی ہستی کی صورت میں پیش کیا ہے جو اپنے ماضی، ارتقاء، خدمات اور تہذیبی کردار کو خود بیان کرتی ہے۔ نظم کا انداز نہایت سادہ، رواں اور دل نشین ہے، لیکن اس کے اندر تاریخ، تہذیب، لسانیات اور قومی یکجہتی کے کئی پہلو پوشیدہ ہیں۔
نظم کی شروعات کچھ اس طرح سے ہوتی ہے :-
مجھ کو ادنیٰ سمجھ کر نہ احسان کر
میرے اسلاف کی کچھ تو پہچان کر
۔
آریوں کے شکم سے میں پیدا ہوئی
بہمنی دور میں کچھ ہویدا ہوئی
۔
ہند کے ریگزاروں نے پالا مجھے
اپنے گیتوں میں خسرو نے ڈھالا مجھے
۔
سب سے رکھتی ہوں میں ایک جیسا لگاؤ
شاہِ اعلیٰ ہو یا ہو کوئی رام راؤ
۔
تابش ردولوی نے اس نظم کو محض اشعار کا مجموعہ نہیں بنایا بلکہ اسے ایک تاریخی اور تہذیبی دستاویز کی شکل دی ہے۔ انہوں نے اردو زبان کے سفر کو مختلف ادوار سے جوڑ کر پیش کیئے ہیں۔
شاعر نے بتایا ہے کہ اردو مختلف قوموں، تہذیبوں اور زبانوں کے میل جول سے وجود میں آئی۔ وہ اشارہ کرتے ہیں کہ اردو نے لشکروں، بازاروں، درباروں اور عوامی زندگی میں پروان چڑھ کر ایک مستقل زبان کی شکل اختیار کی۔ اشعار ملاحظہ فرمائیں :-
میرے نزدیک کیا شاہ اور کیا فقیر
راہ میں کوئی انور ملا یا نظیر
۔
جو ملا سب کو یک رنگ کرتی چلی
اِک نیا سب میں آہنگ بھرتی چلی
۔
یہ انداز قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اردو کسی ایک قوم یا علاقے کی زبان نہیں بلکہ مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔
تابش ردولوی کی سب سے بڑی فنی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اردو زبان کو ایک انسان کی طرح بولنے والا کردار بنا دیا ہے۔ نظم میں اردو خود اپنا تعارف کراتی ہے، اپنی تاریخ سناتی ہے اور اپنی خدمات بیان کرتی ہے۔
اس تکنیک کو ادبی اصطلاح میں تشخیص (Personification) کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے بے جان چیز کو جاندار بنا کر پیش کیا جاتا ہے-
نظم میں شاعر نے اردو کی ترقی میں حصہ لینے والے مختلف بزرگوں اور ادبی شخصیات کی طرف اشارے کیے ہیں۔ اس سے نظم محض جذباتی اظہار نہیں رہتی بلکہ اردو ادب کی تاریخ سے بھی وابستہ ہو جاتی ہے۔
تابش ردولوی نے بڑی مہارت سے تاریخ اور شاعری کو ایک ساتھ جوڑا ہے۔
نظم میں یہ تصور ابھرتا ہے کہ اردو مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ شاعر اردو کو اتحاد، محبت اور باہمی احترام کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ شعر دیکھیں :-
مذہبی اختلافات سے دُور ہُوں
میں ہی چکبست ہُوں ، میں ہی مہجور ہُوں
یہ پہلو تابش ردولوی کی وسیع النظری اور تہذیبی شعور کا عکاس ہے۔
تابش رودولوی نے نظم کو سجانے کے لیے کئی ادبی خصوصیات اختیار کی ہیں:
سادہ اور عام فہم زبان-
رواں اور مترنم انداز-
تاریخی شعور-
تشبیہات اور استعارات-
شخصیت نگاری-
تہذیبی علامتوں کا استعمال-
ان تمام عناصر نے نظم کو نہ صرف ادبی حسن عطا کیا بلکہ اسے تعلیمی اور فکری اعتبار سے بھی اہم بنا دیا۔
تابش ردولوی اردو زبان کے سچے عاشق ہیں۔ ان کی شاعری میں اردو کی شیرینی، تہذیب اور ادبی وقار بار بار نمایاں ہوتا ہے۔ ناقدین کے مطابق وہ کلاسیکی اردو روایت کے اہم نمائندہ شاعر ہیں اور زبان کے محاسن سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔
اس نظم میں بھی وہ اردو کو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ، ایک تاریخی امانت اور ایک قومی سرمایہ قرار دیتے ہیں۔
اگر تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ نظم اردو زبان کی تاریخ کو شعری پیرائے میں بیان کرنے کی کامیاب کوشش ہے۔ تابش ردولوی صاحب نے تحقیق، تاریخ اور شاعری کو اس خوبی سے یکجا کیا ہے کہ قاری بیک وقت لطفِ ادب بھی حاصل کرتا ہے اور اردو کے ارتقائی سفر سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔
نظم کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ اس میں جذباتیت کے ساتھ ساتھ تاریخی شعور بھی موجود ہے۔ شاعر نے اردو کی عظمت بیان کرتے ہوئے مبالغہ آرائی سے گریز کیا ہے اور اس کی حقیقی تہذیبی حیثیت کو نمایاں کیا ہے۔ شاعر نے نظم کا اختتام بھی بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ کیا ہے ‘-
خون بن کر رگ و پے میں بہتی ہوں میں
آج کل فکرِ تابش میں رہتی ہُوں میں
۔
ناز فرمائے مجھ پر زمین و زماں
میں ہوں اُردو زباں ، میں ہُوں اُردو زباں
۔
“اردو کی کہانی، اردو کی زبانی” تابش ردولوی کی فکری بصیرت، ادبی مہارت اور اردو سے والہانہ محبت کا بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے اردو زبان کی تاریخ، تہذیب، وسعت اور خدمات کو نہایت خوبصورتی سے شعری قالب میں ڈھال کر اس نظم کو ایک یادگار ادبی تخلیق بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظم صرف ایک ادبی شاہکار نہیں بلکہ اردو زبان کے تہذیبی سفر کا منظوم آئینہ بھی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close