कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلم معاشرے میں اولڈ ایج ہوم کا بڑھتا کلچر

یہ کیسی دھوپ میں سائے نے مجھ کو چھوڑ دیا

تحریر:سید سرفراز احمد

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اس روۓ زمین پر ایک مسلمان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت و مرتبہ کے بعد والدین اس کے لیئے سب سے عزیز ہوتے ہیں۔لیکن بنیادی طور پر یہ تقاضا تب ہی مکمل ہوسکتا ہے جب تک وہ اپنے سے ذیادہ ان کو عزیز نہ جانیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ والدین سے محبت اور مرتبہ صرف قول سے نہیں بلکہ عمل سے کر دکھانے کا نام ہے۔ ورنہ بلند بانگ دعوۓ کرنا اور محبتوں کا اظہار کرنا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ بلکہ ان سب میں مثبت کردار ہی سب سے اہم ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:اور آپ کے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم سوائے اس کے کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں آپ کے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے (اف تک) نہ کہو اور نہ ہی انہیں جھڑکیں، اور ان سے با ادب بات کہو۔(سورہ بنی اسرائیل، 23) ایسے ہی حضورﷺ نے فرمایا: والدین تمہاری جنت اور جہنم ہیں(یعنی والدین کی خدمت سے انسان جنت حاصل کرتا ہے،اور ان کی نافرمانی جنت سے محروم کر دیتی ہے)سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 3662۔ مذکورہ قرآن کی آیت اور حضورﷺ کی حدیث یہ درس دیتے ہیں کہ والدین کا مقام اور مرتبہ کتنا عظیم ہے۔
لیکن مادہ پرست کے اس دور میں انسان نے اپنے والدین کی خدمت کو عبادت کے بجاۓ بوجھ سمجھ رکھا ہے۔ جو والدین بچپن سے بچے کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتے ہیں۔ جو اس کی تعلیم و تربیت کا پورا انتظام کرتے ہیں۔ جو خود اپنی بھوک و پیاس کو چھپا کر اس کی خواہشات کو پورا کرتے ہیں۔ اس کو زرا سا بھی کانٹا چبھ جاۓ تو والدین کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ ماں جو اس کو نو ماہ تک اپنے پیٹ کی تکالیف برداشت کرتے ہوۓ اس کو جنم دیتی ہے۔ اس کے زرا سا خوف کھا جانے سے وہ اپنے سینے سے لپیٹ لیتی ہے۔ جب بچہ بھوک و پیاس سے رو اٹھنے لگتا ہے تو ماں تڑپتی ہوئی سب کام کاج چھوڑ کر اپنے بچے کی بھوک و پیاس مٹانے میں مصروف ہوجاتی ہے۔ وہ باپ جو نہ دھوپ دیکھتا ہے نہ بارش، بلکہ وہ تپتی دھوپ اور بارش میں بھیگتا ہوا اپنی اولاد کے لیئے ہر لمحہ دوڑ و دھوپ کرتا ہے۔اور جب تھکا ہوا گھر پہنچتا ہے تو وہی بچوں کو دیکھ کر دنیا کے سارے غم پیچھے چھوڑ کر اپنے بچوں کی محبت میں مشغول ہوجاتا ہے۔ جس کی مہربانی اور شفقت بھرے ساۓ سے یہ بچے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن یہی بچے جب وقت کے ساتھ ساتھ بڑے ہونے لگتے ہیں تو ان ہی والدین کو وہ محبت کے بدلے جھڑک کر بات کرتے ہیں۔ ان کی ضروریات اور خواہشات سے انھیں گٹھن ہونے لگتی ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ جب والدین بوڑھی عمر میں پہنچ جاتے ہیں تو ان ہی بچوں کو یہ شفقت بھرا سایہ بوجھ لگنے لگتا ہے۔ اور بالآخر نوبت یہاں تک آ پہنچتی ہے کہ یہی بچے اپنے بوڑھے والدین کو گھر میں رہنے کے لیئے جگہ اور کھانے کے لیئے دو وقت کا کھانا بھی نہیں دے سکتے۔ خدمت کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ پھر انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔
ان ہی وجوہات کو جاننے اور اس کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں انسان نے جتنی ترقی کرلی ہے وہ سب انسانی عیش و عشرت کی خاطر ہے۔ خاص طور پر مغربی کلچر کو مسلم معاشرے نے ترقی کے نام پر اپنے فرائض اور اپنی زمہ داریوں سے پیچھا چھڑانے کے لیئے اپنے اوپر حاوی کرلیا ہے۔ آج سے دس بارہ سال قبل تک مسلم معاشرے میں "اولڈ ایج ہوم” کا تصور نہ کے برابر تھا۔ لیکن گذرتے وقت اور ترقی کے نام پر "اولڈ ایج ہوم” نے مسلم معاشرے میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ حالاں کہ اسلام میں اولڈ ایج ہوم کا کوئی تصور کہیں نہیں ملتا۔ پھر کیا وجوہات رہی کہ اولڈ ایج ہوم نے مسلم معاشرے میں اپنی مضبوط جگہ بنالی ہے؟ سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہیئے کہ اولڈ ایج ہوم کی ابتداء قرون وسطیٰ کے یورپ میں المز ہاؤس کے نام سےشروع کیا گیا۔ جو بنیادی طور پر مغربی کلچر کا جدید تصور ہے۔
گویا کہ مسلم معاشرے میں اولڈ ایج ہوم کا تصور مغربی تہذیب وثقافت کی مرہون منت ہے۔ آیئے ہمارے ملک میں اس اولڈ ایج ہوم کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں۔ تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ یہ گھناؤنا تصور کیسے ہندوستان اور پھر مسلمانوں میں پہنچا۔ Friend in need society of madras کی سرپرستی میں سن 1882 ء میں کلکتہ میں پہلی مرتبہ ناداروں اور بے یارومددگار بزرگوں کے لیے مذکورہ بالا تنظیم کی زیر قیادت ایک ہاسٹل کا انتظام کیا گیا تھا۔ لیکن باقاعدہ مستقل اولڈ ایج ہوم کا آغاز ریاست کیرالا کے علاقے تروشور میں سن 1911ء کوچن کے بادشاہ راجہ ورما کی سرپرستی ہوا تھا۔ جو راجہ ورما اولڈ ایج ہوم کے نام سے موسوم تھا۔ اولڈ ایج ہوم کی ضرورت اس وقت اس لیے پیش آئی کہ اس وقت معمر وعمر رسیدہ لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔ لیکن یہ مغربی کلچر پہلے ہندوستان میں قائم ہوا۔ اور پھر مسلم معاشرے کا حصہ بنا۔زرائع کے مطابق 2023 میں مرکزی حکومت کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں 1,658 اولڈ ایج ہومس کو مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت برقرار رکھا جا رہا ہے۔ یہ سرکاری اعداد ہیں جو رجسٹرڈ شدہ ہیں۔ غیر رجسٹرڈ شدہ اولڈ ایج ہومس کی تعداد سینکڑوں میں ملے گی۔ دن بہ دن اس اولڈ ایج ہومس کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ اولاد اپنے والدین کو گھر میں رکھنا پسند نہیں کرتی۔اور نہ ہی ان کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔اگر یہ معاملہ ملک کے دیگر مذاہب میں ہوں تو یہ ان کے اپنے مذاہب کا مسئلہ ہے۔ لیکن بات جب مسلم معاشرے کی کریں گے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے کے سماجی و فلاحی ادارے یا این جی اوز کو اولڈ ایج ہومس کھولنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟
بوڑھی عمر میں الدین کو گھر سے بے دخل کرنے کے ایسے کئی واقعات رونما ہورہے ہیں۔ کہیں جائداد اپنے نام کرلے کر تو کہیں درد ناک ازیتیں دی جاتی ہے۔ ایسے میں بوڑھے والدین گھر میں رہنا کیوں پسند کریں گے۔ اور ایسی اولاد کی طرف سے شائد اسی لیئے ایسا کیا جاتا ہے کہ وہ گھر چھوڑ کر کہیں چلے جائیں۔ ایسے میں بے یار و مددگار کئی معمرین میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ جس کے بعد مسلم معاشرے میں ان کی دیکھ بھال کے لیئے اولڈ ایج ہوم کھولے جارہے ہیں۔ یہ اولڈ ایج ہوم مسلم معاشرے میں اس لیئے بھی کھولے جارہے ہیں کہ اگر یہ بے یار و مددگار غیر مسلم اولڈ ایج ہوم جائیں گے تو کفر و ارتدار کا شکار ہونے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔اسی اندیشے کی وجہ سے مسلم معاشرے میں اولڈ ایج ہومس کھولے جارہے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ نئی نسل ترقی کے نام پر مغربی کلچر کو اپنا رہی ہے۔ اور اسلامی تعلیمات کو فراموش کر رہی ہے۔ مغربی کلچر کو اپنانے والے افراد گھر میں کتا پالنا اور اس کی پرورش کرنا جانتے ہیں لیکن جو والدین پیدا کرنے سے لے کر قابل بناتے ہیں انھیں در در بھٹکتا چھوڑ دیتے ہیں۔اس کی اہم وجہ یہی ہے کہ اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کا ہونا یا جانتے بوجھتے قصداً ایسا کرنا، ایسا وہی اولاد کرسکتی ہے جنھیں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے نہ محبت ہے اور نہ ہی اللہ کا کوئی خوف ہے۔ کیا ایسی سرکش اولاد اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کو نہیں جانتی کہ اللہ نے واضح طور پر قرآن میں فرمایا کہ انھیں اُف تک نہ کہو اندازہ کریں جن والدین کو اُف تک نہ کہنے کی سخت ہدایت دی جارہی ہے اور آج ہمارے مسلم معاشرے میں والدین کے ساتھ کیسا سلوک کیا جارہا ہے؟ جس کا آۓ دن ہم کئی کئی واقعات سنتے اور مشاہدہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ والدین کی عظمت کا اللہ کے رسولﷺ کی اس حدیث بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: "کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟” انھوں نے کہا: "جی ہاں” آپ ﷺ نے فرمایا "تو جاؤ اور ان ہی کی خدمت میں جہاد (یعنی ان کی دیکھ بھال) کرو۔
آخری سوال یہ اٹھتا ہے کہ مسلم معاشرے میں اولڈ ایج ہوم کے بڑھتے کلچر کو کیسے روکا جاۓ؟
مسلم معاشرے میں اولڈ ایج ہوم کے بڑھتے ہوئے رجحان کو صرف تنقید سے نہیں بلکہ مضبوط خاندانی نظام، سماجی اور دینی اقدار کو فروغ دے کر روکا جا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق مساجد، اجتماعات اور تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر مسلسل گفتگو ہونی چاہیے تاکہ نئی نسل والدین کی خدمت کو نہ صرف خدمت سمجھے بلکہ ان کے اندر اس اصول کو بٹھایا جاۓ کہ والدین کی خدمت کو وہ عبادت سمجھے۔ ہر والدین کو چاہیئے کہ اپنی اولاد کو بچپن سے بزرگوں کی صحبت اختیار کرنے اور ان کی خدمت و احترام کرنے کی تربیت دی جاۓ۔ والدین یا بزرگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے، انہیں فیصلوں میں شامل کیا جائے اور بچوں کی تربیت میں ان کا کردار برقرار رکھا جائے تاکہ وہ خود کو غیر ضروری محسوس نہ کریں۔ جمعہ کے خطبات میں ایسے مسائل پر بھی گفتگو ہونی چاہیئے۔ کیوں یہ رجحان ابھی شہروں اور اطراف و اکناف تک باقی ہے۔ کیا پتہ یہ رجحان اضلاع تک بھی پہنچ جاۓ۔ ہر فرد کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ وہ صالح مسلم معاشرے کی تشکیل اور مثالی خداندان کی تعمیر میں اپنی اپنی حصہ داری کو شامل کرتے ہوۓ اس خطرناک مغربی کلچر کا تدارک کریں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
یہ کیسی دھوپ میں سائے نے مجھ کو چھوڑ دیا
میں گھر سے نکلا تو بچوں نے راستہ موڑ دیا
عجب یہ شہر ہے، پتھر کے لوگ بستے ہیں
بٹھا کے گھر میں، پرندوں کو قید کرتے ہیں

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے