कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سی جے پی ‘مسائل کے حل کی امید یا رخ موڑنے کی سیاست؟

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

ہندوستان کی سیاست میں مئی 2026 کے وسط میں ایک عجیب اور دلچسپ موڑ آیا جب چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے بے روزگار نوجوانوں کو’’کاکروچ‘‘اور’’سماج کے پریسائٹس‘‘کہہ کر توہین آمیز بیان دیا۔ اس بیان نے نہ صرف آئین کی روح کو چھوا بلکہ بنیادی حقوق کے تحفظ پر بھی سوالات اٹھائے۔ بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم ابھیجیت دُپکے نے اس توہین کو الٹا استعمال کرتے ہوئے 16 مئی 2026 کو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی بنیاد رکھی۔ صرف تین ہفتوں میں یہ ایک آن لائن مذاق سے نکل کر لاکھوں نوجوانوں کی آواز بن چکی ہے جو تعلیمی بدعنوانی، بے روزگاری اور سسٹم کی ناکامی کے خلاف سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ابھیجیت دُپکے، جو سابقہ عام آدمی پارٹی کے ڈیجیٹل کمیونیکیشنز اسٹریٹجسٹ رہے ہیں، نے X پر ایک سادہ سوال پوچھا:’’اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو؟’’ہزاروں غصے بھرے جوابات نے انہیں گوگل فارم اور ویب سائٹ بنانے پر مجبور کیا۔ ’’کاکروچ عوام کی پارٹی‘‘یہ نام خود عدالتی بیان کی توہین سے نکلا مگر اب لچک، بقا اور سسٹم کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ کاکروچ کی علامت اکثر’’زہر کھا کر بھی زندہ رہنا‘‘یا’’چھپ کر نکلنا‘‘ سے جوڑا جاتا ہے، اور CJP نے اسے بالکل اسی طرح اپنایا کہ سسٹم کی توہین کو مزاحمت میں بدل دیا۔
میمز نے اس تحریک کو وائرل بنایا۔ انٹرنیٹ کی زبان میں طنز، طعنے اور حقیقت کو چند تصاویر اور کیپشنز میں سمیٹنے والے یہ میمز AI جنریٹڈ کاکروچ ماسکوٹ، طنزیہ پوسٹرز اور وائرل ویڈیوز کی شکل میں پھیلے۔ جنریشن Z، یعنی 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے نوجوان، جو بے روزگاری، امتحانات میںبدعنوانی اور مستقبل کے عدم یقین سے تنگ آ چکے ہیں، اس زبان کو فوراً اپناتے چلے گئے۔ وہ روایتی سیاست پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ سوشل میڈیا پر طنز کے ذریعے اپنا احتجاج کر رہے ہیں۔تاریخی طورپر دیکھیں تو ملک میں طلبہ یونینز اور تحریکوں کا کردار آئینی جدوجہد کا اہم حصہ رہا ہے۔ آزادی کی تحریک میں طلبہ نے بڑا حصہ لیا۔ آزادی کے بعد 1970 کی دہائی میں نو نرمان اندولن اور جے پی موومنٹ نے طلبہ کو مرکزی طاقت بنایا، جس نے حکومتوں کی تبدیلی کا باعث بنا۔ 2011 میں انڈیا اگینسٹ کرپشن (IAC) کی تحریک نے ایک نیا باب کھولا۔ انا ہزارے کی قیادت میں یہ تحریک بڑی کرپشن اسکینڈلز کے خلاف اٹھی، جس نے جن لوک پال بل کا مطالبہ کیا ایک آئینی اصلاح جو عوامی جوابدہی کو مضبوط کرتی۔ اس تحریک نے لاکھوں نوجوانوں کو سڑکوں پر لایا اور آخر کار عام آدمی پارٹی (AAP) کی بنیاد رکھی، جو کرپشن کے خلاف عوامی آواز بن کر دہلی اور پنجاب میں حکومت بنا ئی ہے۔ عالمی سطح پر بھی طلبہ تحریکوں نے بڑی تبدیلیاں لائی ہیں۔ فرانس کی 1968 کی طلبہ تحریک نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا، جس نے نہ صرف تعلیمی اصلاحات بلکہ سماجی اور ثقافتی انقلاب کا باعث بن کر صدر ڈیگول کی حکومت کو شدید دباؤ میں ڈالا۔ چیلی میں طلبہ کی 2011 کی تحریک نے مفت تعلیم کا مطالبہ کیا اور بالآخر حکومت کی تعلیمی پالیسیاں تبدیل کر دیں۔ جنوبی افریقہ کی FeesMustFall# تحریک نے 2015-2016 میں یونیورسٹی فیسوں کے خلاف احتجاج کیا جس نے حکومت کو فیسوں میں ریلیف دینے پر مجبور کیا اور نوجوانوں کی سیاسی طاقت کو اجاگر کیا۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ طلبہ جب منظم ہوں تو وہ قومی سیاست کی سمت بدل سکتے ہیں۔ان تحریکوں کے نتائج ملے جلے رہے ۔کبھی حکومتوں کی تبدیلی، کبھی پالیسیوں میں ردوبدل وغیرہ۔ مگر ایک بات واضح رہی کہ جب عوام کے مسائل کو اجاگر کیا جائے تو آئینی جمہوریت کو نئی طاقت ملتی ہے۔ آج CJP روایتی طلبہ یونینز سے الگ، غیر جانبدار اور طنزیہ انداز میں اسی آئینی خلا کو پر کر رہی ہے جو پارٹی لائن کی وجہ سے خالی رہ گیا تھا۔ یہ تعلیم کو بنیادی حق (آرٹیکل 21-A) قرار دیتے ہوئے شفاف امتحانات اور نوجوانوں کے مستقبل کی ضمانت کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اس تحریک کو2026 NEET-UG اسکینڈل نے مزید تقویت بخشی۔ مئی میں ہونے والے اس امتحان (22 لاکھ سے زائد طلبہ) میں بڑا پیپر لیک ہوا، راجستھان کے سیکر میں’’گیس پیپر‘‘ گردش کر رہا تھا جس کے سوالات اصل پیپر سے ملتے تھے۔ NTA نے 12 مئی کو امتحان منسوخ کر دیا، CBI تفتیش جاری ہے اور 21 جون کو ری ٹیسٹ کا اعلان ہوا۔ کئی طلبہ خودکشی کر چکے، جس نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر پیدا کر دی۔ CJP نے تعلیم کے وزیر دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مانگا اور اسے آئینی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ملک میں نوجوانوں کے مسائل میں خاص طور پر روزگار کی کمی شدید مسئلہ ہے۔ مارچ 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 15.2 فیصد ہے، جبکہ خواتین نوجوانوں میں 17.7 فیصد۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تقریباً 40 فیصد گریجویٹس بے روزگار ہیں۔ ہر سال تقریباً 50 لاکھ گریجویٹس پیدا ہوتے ہیں مگر معیشت صرف 28 لاکھ نوکریاں فراہم کر پاتی ہے۔ مہنگائی، صحت کی سہولیات کی کمی، دیہی اور شہری علاقوں میں عدم مساوات، اور تعلیمی نظام کی بنیادی خرابیاں مسلسل چھپائے جا رہے ہیں۔ حکومت بڑی بڑی معاشی کامیابیوں کی بات کرتی ہے مگر عوام کے روزمرہ مسائل کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ایک رخ دیکھیں تو CJP انہی فراموش شدہ مسائل کو جنتا کے سامنے لا رہی ہے اور انہیں آئینی حقوق کی روشنی میں اجاگر کر رہی ہے۔
6 جون 2026 کوابھیجیت دُپکے دہلی پہنچے اور جنتر منتر پر ہزاروں (بعض رپورٹس کے مطابق 6 سے 7 ہزار) نوجوانوں نے کاکروچ ماسکس پہن کر احتجاج کیا۔ یہ تحریک اب آن لائن سے آف لائن کی طرف جا رہی ہے اور ملک بھر کے حل طلب مسائل کو آئینی فریم ورک میں سامنے لا رہی ہے۔ احتجاج کے دوران ابھیجیت دُپکے نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی خود نوشت (یا ان کی تحریروں کا مجموعہ) ہاتھ میں اٹھا کر آئینی اقدار کی یاد دلائی۔ CJP نے وزیر تعلیم کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر استعفیٰ نہ دیا تو احتجاج ملک بھر میں پھیلا دیا جائے گا۔ احتجاج پرامن رہا، البتہ کچھ لوگوں کو احتیاطی طور پر گرفتار کیا گیا۔تاہم CJP پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں اور BJP حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک مکمل طور پر خودمختار نہیں بلکہ اپوزیشن (خاص طور پر AAP) سے منسلک ہے، کیونکہ بانی ابھیجیت دُپکے AAP کے سابق ڈیجیٹل اسٹریٹجسٹ رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ یہ صرف آن لائن تھیٹر اور ڈیجیٹل سیاست ہے جو حقیقی حل پیش نہیں کرتی۔ کچھ ماہرین اسے’’عارضی وائرل فینومینون‘‘قرار دیتے ہیں جس میں واضح منشور، طویل مدتی حکمت عملی اور آف لائن ڈھانچہ کی کمی ہے۔ INDIA الائنس (اپوزیشن اتحاد) کی طرف سے بھی اس کی براہ راست حمایت نہیں دیکھی جا رہی، شاید اس لیے کہ وہ اسے ایک آزاد تحریک سمجھتے ہیں یا اسے اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ اسےAAP کا پروجیکٹ نہ کہا جائے۔
ایک دلچسپ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ تحریک اگلے انتخابات کی کوئی چال تو نہیں ہے؟ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ BJP کی جانب سے یا اس کے حامیوں کی طرف سے ایسے مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے تاکہ اصل حل طلب مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری، فارم قوانین کی باقیات، اور علاقائی عدم استحکام سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ الیکشن کے قریب نوجوانوں کی ناراضگی کو طنزیہ اور ڈیجیٹل شکل دے کر اسے کنٹرول کیا جا رہا ہو۔ مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ نوجوانوں کی سیاسی شراکت داری کی ایک نئی امید بن سکتی ہے۔ جین Zکی بڑی تعداد پہلی بار سیاست میں دلچسپی لے رہی ہے، جو جمہوریت کے لیے مثبت ہے۔ اگر CJP حقیقی اصلاحات کا مطالبہ جاری رکھے تو یہ روایتی پارٹیوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ممتا بنرجی سمیت INDIA الائنس کی اہم میٹنگز جاری ہیں، جہاں اپوزیشن پارٹیاں 2029 کے انتخابات کے لیے متحدہ حکمت عملی پر غور کر رہی ہیں۔ ایسے میں ایک طنزیہ اور نوجوانوں پر مبنی تحریک کو سامنے لانا اپوزیشن اتحاد کو کمزور کرنے، اس کی توجہ تقسیم کرنے اور ایک مضبوط متبادل سیاسی قوت کے ابھرنے کو روکنے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ BJP اس سے فائدہ اٹھا کر نوجوان ووٹ بینک کو تقسیم کر سکتی ہے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹا سکتی ہے۔
حالیہ برسوں میں بی جے پی نے پارلیمنٹ میں کئی اہم بل آسانی سے منظور کرائے ہیں جن میں جن وشواس)ترمیم( بل 2026، انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ )ترمیم( بل، سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز )جنرل( ایڈمنسٹریشن) بل، انسولونسی اینڈ بینکرسپسی کوڈ )ترمیم( بل اور اپروپری ایشن بل شامل ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ CJP کی تحریک نوجوانوں کے غصے کو ایک طنزیہ چینل کی طرف موڑ کر حکومت کو موقع فراہم کر رہی ہے کہ وہ ان بلز اور دیگر اہم منصوبوں)جیسے ڈیلیمٹیشن اور ویمن ریزرویشن سے متعلق آئینی ترامیم(کو کم احتجاج اور توجہ کے ساتھ پاس کرا سکے، جس سے بی جے پی کو اگلے انتخابات میں سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔مبصرین کے مطابق اگر CJP کو ہوا دی جا رہی ہے تو یہ ایکclever diversion tacticہے، جس سے INDIA الائنس کی اندرونی اتحاد کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں اور ممتا بنرجی جیسی لیڈرز کی متحدہ محاذ کی تیاریوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ اس سے اپوزیشن کی بجائے نوجوانوں کا غصہ ایک غیر سنجیدہ طنزیہ چینل کی طرف موڑ دیا جا رہا ہے۔
بحرکیف مستقبل کے بارے میں ماہرین کے خیالات تقسیم شدہ ہیں۔ کچھ اسے Gen Z کی حقیقی آواز قرار دیتے ہیں جو AAP اور IAC کی یاد دلاتی ہے اور کہتے ہیں کہ اگر یہ منظم ہوئی تو نوجوانوں کی سیاست میں بڑی آئینی تبدیلی لا سکتی ہے۔ لیکن آف لائن پائیداری، فنڈنگ اور ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے جلد ختم ہو سکتی ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ BJP کی براہ راست مد مقابل نہیں بن سکتی، تاہم یہ تعلیمی پالیسیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ کانگریس یا دیگر اپوزیشن کو بالواسطہ فائدہ ہو سکتا ہے، مگر CJP خود کو آزاد رکھنے پر زور دے رہی ہے۔ چیلنجز بھی کم نہیں۔ ابھیجیت دُپکے کو دھمکیاں ملیں، اکاؤنٹس ہیک ہوئے اور میڈیا کوریج محدود رہی۔ پھر بھی یہ تحریک ہندوستانی سیاست میں یادگار مثال بن رہی ہے کہ طنز بھی طاقتور ہتھیار ہو سکتا ہے۔ جب سسٹم نوجوانوں کو کاکروچ کہے تو وہ کاکروچ بن کر ہی نظام کو آئینی اصولوں کی روشنی میں چیلنج کریں گے۔ آیا یہ عارضی غصہ رہے گا یا مستقل سیاسی طاقت بن جائے گا، آنے والا وقت بتائے گا۔ مگر اس نے ایک بات ضرور ثابت کر دی ہے کہ آج کا نوجوان خاموش نہیں رہنا چاہتا۔ قارئین خود فیصلہ کریں کہ یہ امید کی کرن ہے یا صرف میمز کی سیاست ، مگر اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ آئین کی بنیادی روح ’ عوامی خودمختاری اور نوجوانوں کی آواز‘ کی حفاظت کا معاملہ ہے۔یہ تحریک ہندوستان کی نوجوان نسل کی بیداری کی علامت بنتی جا رہی ہے، جو نہ صرف موجودہ مسائل بلکہ سسٹم کی بنیادی اصلاح کا مطالبہ کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کا دائرہ کار اور اثر مزید واضح ہو جائے گا۔لیکن حال کا مطالبہ یہ ہے کہ روزگارکاپیچیدہ مسئلہ حل ہوجائے۔ اور ملک کے نوجوان کسی سیاسی جماعت کی کٹ پتلی نہ بنے!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے