कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آخر مساجد ہی کیوں نشانے پر ہیں

تحریر:محمد عادل ارریاوی

کبھی کبھی کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جو زبان سے زیادہ دل میں جنم لیتے ہیں۔ جتنا ان کے بارے میں سوچا جائے اتنا ہی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آج انہی سوالات میں سے ایک سوال میرے ذہن میں بار بار گردش کرتا ہے کہ آخر مساجد ہی کیوں نشانے پر ہیں؟
جب بھی کسی مسجد کا نام سامنے آتا ہے تو کہیں نہ کہیں یہ دعویٰ کردیا جاتا ہے کہ اس کے نیچے مندر تھا مورتی تھی یا کوئی اور مذہبی آثار موجود تھے۔ ایک مسجد کے بعد دوسری مسجد ایک شہر کے بعد دوسرا شہر گویا یہ سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ایسے میں ایک عام مسلمان کے دل میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا اس پورے ملک میں صرف مساجد ہی ایسی عمارتیں ہیں جن پر اعتراض کیا جاسکتا ہے؟
مسجد مسلمانوں کے لیے صرف عبادت کی جگہ نہیں ہوتی بلکہ وہ ان کے ایمان تہذیب تاریخ اور شناخت کی علامت بھی ہوتی ہے۔ مسجد کی اذان میں ایک مسلمان اپنے رب کی پکار سنتا ہے مسجد کی دیواروں میں اسے اپنے بزرگوں کی عبادتوں کی خوشبو محسوس ہوتی ہے اور مسجد کے صحن میں اسے روحانی سکون نصیب ہوتا ہے۔ جب انہی مساجد کو بار بار تنازعات کا موضوع بنایا جاتا ہے تو اس سے مسلمانوں کے دل زخمی ہوتے ہیں۔
سب سے زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ بعض لوگ مسلمانوں کو اس ملک میں اجنبی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ سرزمین جتنی دوسروں کی ہے اتنی ہی مسلمانوں کی بھی ہے۔ ہمارے آباء و اجداد نے اسی مٹی میں آنکھ کھولی اسی مٹی پر زندگی گزاری اور اسی مٹی میں دفن ہوئے۔ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ ان قربانیوں کی گواہ ہے جو مسلمانوں اور علماءِ کرام نے اس ملک کے لیے پیش کیں۔ ان قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
اگر کسی کو کسی تاریخی مسئلے پر اختلاف ہے تو اس کا حل عدالت تحقیق اور انصاف کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے نہ کہ نفرت اور اشتعال کے ذریعے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہ اپنے اختلافات کو بڑھاتا رہے بلکہ اس کی پہچان یہ ہے کہ وہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرے۔
آج اس بات کی ضرورت ہے کہ نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیا جائے تعصب کے بجائے انصاف کو ترجیح دی جائے اور ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے اعتماد اور بھائی چارے کی فضا قائم کی جائے۔ کیونکہ وطن نفرت سے نہیں بنتے وطن محبت قربانی عدل اور باہمی احترام سے مضبوط ہوتے ہیں۔
ہم مسلمان ہیں ہمیں اپنے رب پر بھروسہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ عزت و ذلت کا مالک صرف اللہ ربّ العزت ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں آزمائشیں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں مسلمان صبر حکمت اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑتا۔ ہمارا یقین ہے کہ ظلم وقتی ہوسکتا ہے لیکن انصاف اور سچائی ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔
اللہ ربّ العزت ہمارے وطن کو امن کا گہوارہ بنائے دلوں سے نفرتوں کو دور فرمائے سب کو انصاف اور اعتدال کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ایک دوسرے کے حقوق اور جذبات کا احترام کرنے والا معاشرہ نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے