कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بچیوں کی تربیت ہمارے معاشرے کی ناگزیر ضرورت

تحریر: سید صداقت علی ندوی
(امام مسجد اقصی گنگا نگر آکولہ)
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

صنف نازک کائنات کے حسین و خوبصورت شاہکاروں میں سےایک ہے جس کی لچک نرمی وملاطفت دلوں کوموہ لینے اور ذہنوں کو مسخر کرنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے گویا اقبال علیہ الرحمہ کے الفاظ میں
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزو دروں
لیکن افسوس کہ آج معاشرے کی ظالمانہ تقسیم نے اسے صرف ہوس کی تسکین کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اس کے نازک وپرعزم بازوؤں کوآزادی نسواں کے نام پر خودساختہ بوجھ ڈھونے اور خاتون خانہ کے بجائے حیا کی چادر کھینچ کراسے شمع محفل بننے پر مجبور کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ذات جو ہمارے سماجی و معاشرتی اصلاح کا حقیقی ذریعہ تھی اسے صحیح تربیت سے جو اسلامی و انسانی معاشرے کی اہم و بنیادی ضروریات میں سے ہے۔جس کے بغیر انسانی نسل کی اصلاح وتربیت کاتصور ہی محال ہے۔ کہیں اعلیٰ تعلیم کے نام پر تو کہیں خاندانی جبر اور اسے اپنے اوپر بوجھ سمجھنےکی وجہ سے محروم کیا جارہاہے۔ اسی کا فقدان اب ہمارے خاندانی تانے بانے بکھیرنے میں اہم رول ادا کررہا ہے۔جس کی وجہ سے آپسی رساکشی، عداوت، کینہ و بغض جیسی مہلک بیماریوں نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا، قطع رحمی اور آپسی بائیکاٹ نے اس کے شیرازے کو منتشر کردیا ہے۔یہی نہیں بلکہ شوہر و بیوی کے درمیان جو الفت ومحبت ہونی چاہیے تھی وہ بھی مفقود ہوتی جارہی ہے جو بالآخر طلاق وخلع کے واقعات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ گویا
یہ سب کچھ خاتون خانہ میں تربیت کی کمی اور اس کےغیر ذمہ دارانہ رویہ کے باعث وقوع پذیر ہونے والی برائیوں کا نتیجہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بچی کی تربیت اور اس کو تہذیب سکھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس کو خدا کا عطیہ سمجھیں۔ لڑکی کی پیدائش پر ناک بھوں چڑھانا، دل شکستہ ہونا یہ جہاں ناشکری ہے وہیں خداۓ علیم و کریم کی عطا کردہ نعمتوں کی توہین بھی ہے۔
حدیث میں ہے کہ، جب کسی کے یہاں بیٹی پیداہوتی ہے توخدا اس کے ہاں فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں : "اے گھروالو! تم پر سلامتی ہو”۔ وہ بیٹی کو اپنے پروں کے ساۓ میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہتے ہیں، "یہ کمزور جان ہے، جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خداکی مدد اس کے شامل حال رہے گی”۔ (طبرانی) نیز ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ جس نے تین لڑکیوں یا بہنوں کی سرپرستی کی انھیں تعلیم و تہذیب سکھائی اور ان کے ساتھ رحم کا سلوک کیا تو ایسے شخص کے لیے خدا نے جنت واجب فرمادی-کسی شخص نے پوچھا،”اگر دو ہی ہوں تو”؟ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا، "اس کا بھی یہی صلہ ہے”۔
اسی لیے جہاں ہم اس بات کو ضروری سمجھتے ہیں کہ ہماری بچی تعلیم یافتہ ہو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سنجیدگی و اعلیٰ اخلاق وبلند کرداری کا حسین پیکر بھی ہو. نیز وفاداری، سلیقہ شعاری ، شکر گذاری،خوش گفتاری، نرم خوئی اور فرمانبرداری میں اپنی مثال آپ ہو۔ جو صفائی، سلیقہ مندی اور آرائش و زیبائش کے ہنرسے خوب واقف ہو۔ یہی وہ اعلیٰ قدریں اور خوبیاں ہیں جن کا کسی خاتون میں پایا جانا اس کے نیک ہونے کی علامت ہے۔ کیونکہ اللہ کےرسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ، "مومن کے لیے خوف خدا کے بعد سب سے زیادہ مفید اور باعث خیرو نعمت وہ نیک بیوی ہے کہ جب وہ اسے کسی کام کا کہے تو وہ خوش دلی سے انجام دے اور جب وہ اس پر نگاہ ڈالے تو وہ اس کو خوش کردے۔ اور جب وہ اس کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو وہ اس کی قسم پوری کردے اور جب وہ کہیں چلا جاۓ تو وہ اس کے پیچھے اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے اور شوہر کے مال واسباب کی نگرانی میں شوہر کی خیر خواہ ووفادار رہے”۔ (ابن ماجہ )
یہ حقیقت ہے کہ صاف ستھرا گھر ،قرینے سے سجی ہوئی چیزیں اور بناؤ سنگھار کی ہوئی بیوی کی مسکراہٹ سے نہ صرف گھریلو زندگی پیار ومحبت اور خیر و برکت سے مالا مال ہوتی ہے بلکہ ایک خاتون کے لیے اپنی عاقبت بنانے اور خدا کو خوش رکھنے کا بھی یہی ذریعہ ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم نہایت ہی سوز دل کے ساتھ معاشرے کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ان تمام عملی تدبیروں کو اپنائیں جو لڑکیوں کی تربیت کے لیے ضروری ہیں اور خوب لگن کے ساتھ ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔ خداۓ رحمن و رحیم کی ذات سے امید ہے کہ وہ والدین کی پرسوز دعائیں ضائع نہیں فرماۓ گا ان شاءاللہ۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے