कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سیاست کے ’یو ٹرن‘ اور انقلابیوں کا ’ری چارج‘ پلان

از قلم: اسماء جبین فلک

سیاست واقعی کمال فن ہے؛ یہاں اصول اتنی تیزی سے بدلتے ہیں جتنی تیزی سے ہم موبائل کا ڈیٹا آن آف کرتے ہیں، اور نظریات ایسے اپڈیٹ ہوتے ہیں جیسے ایپس بغیر پوچھے خود ہی اپڈیٹ ہو جائیں فرق صرف یہ ہے کہ ایپس کبھی کبھی بہتر ہو جاتی ہیں، مگر سیاستدان؟ خیر، وہ تو بس “بگ فکس” کے نام پر نئے بگز لے آتے ہیں۔ ابھی کل تک ہمارے چڈھا صاحب عوام کے دکھوں کے ایمبیسیڈر بنے ہوئے تھے، ایسے درد بھرے بیانات دے رہے تھے کہ لگتا تھا جیسے ہر ڈیلیوری بوائے کا بیگ انہوں نے خود اپنے کندھوں پر اٹھایا ہو، مگر آج وہ ایسے غائب ہوئے جیسے فری وائی فائی کا سگنل بارش میں۔
کل تک وہ 28 دن کے ری چارج کے خلاف ایسے برسرِ پیکار تھے جیسے یہ کوئی عالمی سازش ہو، اور آج خود ہی 5 سالہ پلان کا حصہ بن کر ایسی خاموشی اختیار کر لی ہے جیسے موبائل کو سائلنٹ پر رکھ کر چارجنگ پر لگا دیا ہوبس فرق یہ ہے کہ موبائل تو چارج ہو جاتا ہے، عوام کا صبر نہیں۔ عوام نے بھی کیا خوب دل لگایا تھا ان تقریروں سے، ہر جملہ ایسا لگتا تھا جیسے ابھی انقلاب دروازے پر دستک دے گا، مگر دروازہ کھولا تو سامنے دوسری پارٹی کا استقبالیہ بینر لگا ہوا تھا۔
سیاست میں اب انقلاب نہیں آتا، انقلاب “شفٹ” ہوتا ہےجیسے کرائے کے گھر بدلتے ہیں، بس ایڈریس بدل جاتا ہے، فرنیچر وہی رہتا ہے، اور وعدے تو ویسے ہی خالی ڈبوں کی طرح ادھر اُدھر پڑے رہتے ہیں۔ چڈھا صاحب نے بھی یہی کیا؛ پہلے عوام کے دل میں گھر بنایا، پھر اکثریت کے حساب سے نیا پلاٹ خرید لیا، اور پرانا مکان کرائے پر چھوڑ دیاکرایہ بھی ایسا جو کبھی وصول نہیں ہوتا۔
ہم جیسے عام لوگ اب بھی 28 دن کے ری چارج پر زندگی گزار رہے ہیں، ہر مہینے سوچتے ہیں کہ اس بار شاید 30 دن پورے ہو جائیں گے، مگر کمپنی ہو یا حکومت، دونوں کو ہماری امیدوں سے زیادہ ہماری عادتوں پر بھروسہ ہےہم شور مچاتے ہیں، پھر ری چارج کروا لیتے ہیں، وہ وعدے کرتے ہیں، پھر پارٹی بدل لیتے ہیں۔ سب کچھ چلتا رہتا ہے، بس فرق یہ ہے کہ ہمارا بیلنس ختم ہوتا ہے اور ان کا بیلنس بڑھتا رہتا ہے۔
کل تک جو مہنگائی پر آنسو بہا رہے تھے، آج وہی بجٹ کے حق میں تالیاں بجا رہے ہیں؛ کل تک جو پٹرول کی قیمتوں پر احتجاج کر رہے تھے، آج وہی قافلے کے ساتھ ایسی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں جن میں پٹرول نہیں، پاور جلتی ہے۔ اور ہم؟ ہم اب بھی پمپ پر کھڑے یہ حساب لگا رہے ہیں کہ فل ٹینک کرائیں یا آدھا، کیونکہ مکمل امیدیں تو ہم پہلے ہی کھو چکے ہیں۔
یہ سیاستدان بھی عجیب ہیں نا جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو عوام کے دل کی آواز بن جاتے ہیں، اور جب حکومت میں آتے ہیں تو عوام کو “سمجھدار” بننے کا مشورہ دینے لگتے ہیں یعنی جب ہم چیخیں تو انقلاب، اور جب وہ خاموش ہوں تو استحکام۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے استاد خود کلاس میں دیر سے آئے اور طلبہ کو وقت کی پابندی پر لیکچر دے دےبات تو سچ ہے، مگر دل کو نہیں لگتی۔
چڈھا صاحب کا یہ یو ٹرن بھی کوئی عام یو ٹرن نہیں تھا یہ ایسا یو ٹرن تھا جو گوگل میپس بھی نہ دکھا سکےکیونکہ یہاں راستہ نہیں، ارادہ بدلتا ہے، اور ارادہ بھی ایسا جو موسم سے زیادہ جلدی بدل جائے۔ کل تک وہ عوام کے ساتھ کھڑے تھے، آج عوام ان کے ساتھ کھڑی ہےفرق صرف یہ ہے کہ وہ آگے بڑھ گئے اور عوام وہیں کھڑی رہ گئی۔
سیاست میں وفاداری اب ایک “پری پیڈ پلان” بن چکی ہےمدت ختم ہوئی، تو نیا پیکج لے لیا؛ نظریات اب “ڈیٹا پیک” ہیں جتنا فائدہ ملا، اتنا استعمال کیا، پھر ختم۔ اور ہم جیسے لوگ؟ ہم پوسٹ پیڈ بل کی طرح ہر مہینے حیران رہ جاتے ہیں کہ آخر اتنا خرچ ہوا کہاں۔
اب تو لگتا ہے کہ سیاستدانوں کے لیے بھی کوئی “کیش بیک آفر” چل رہی ہےپارٹی بدلو، پاور پاؤ وعدے بدلو، عہدہ پاؤاور اگر عوام سوال کرے تو اسے ہی قصوروار ٹھہرا دو کہ تم نے ہمیں سمجھا ہی غلط تھا۔ واقعی، ہم نے غلطی کی ہم نے تقریروں کو سچ سمجھ لیا، ہم نے نعروں کو نیت سمجھ لیا، اور ہم نے وعدوں کو حقیقت مان لیا۔
سچ تو یہ ہے کہ آج کا انقلابی وہ نہیں جو سڑکوں پر نعرے لگائے، بلکہ وہ ہے جو ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر صحیح وقت پر صحیح پارٹی کا دروازہ کھٹکھٹائےیہی اصل “ری چارج پلان” ہے، جہاں ایک بٹن دباؤ اور طاقت کی بیٹری فل۔ اور عوام؟ وہ اب بھی پاور سیونگ موڈ پر ہے، کبھی کبھار چمکتی ہے، پھر بجھ جاتی ہے۔
ہمیں بھی اب سمجھ آ گئی ہے کہ سیاست میں مستقل کچھ نہیں ہوتانہ دشمنی، نہ دوستی، نہ وعدے، نہ اصول؛ سب کچھ عارضی ہے، بس مفاد مستقل ہے۔ اور مفاد بھی ایسا جو نہ ختم ہونے والا ڈیٹا پلان ہو، جس کی رفتار کبھی سست نہیں ہوتی، چاہے عوام کی رفتار رک جائے۔
اگر ہمیں واقعی انقلاب چاہئے ہیں تو تقریروں کے ساؤنڈ ایفیکٹس سے باہر نکلنا ہوگا، نعروں کے فلٹر ہٹا کر حقیقت کو دیکھنا ہوگا اور ان چہروں کو پہچاننا پڑے گا جو ہر موسم میں ایک جیسے نہیں رہتےکیونکہ یہ ’یو ٹرن‘ والے انقلابی وہی ہیں جو کل آپ کے ساتھ کھڑے تھے، آج آپ کے سامنے ہیں، اور کل کسی اور کے ساتھ ہوں گے۔ اور ہم؟ ہم پھر بھی 28 دن کے ری چارج پر گزارا کر رہے ہوں گے، اگلے مہینے کی امید کے ساتھ کیونکہ امید ہی وہ واحد چیز ہے جو ابھی تک فری ہے، ورنہ باقی سب تو سبسکرپشن پر چلا گیا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے