कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ڈیجیٹل دور میں بچوں کے عقائد کا تحفظ ایک سنجیدہ فکر

خامہ بکف :محمد عادل ارریاوی
8235703061

یہ ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ ہے جس پر آج کے دور میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے جدید ٹیکنالوجی خصوصاً موبائل فون اور سوشل میڈیا نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے وہیں اس کے کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جو ہماری نئی نسل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں خاص طور پر دینی اعتبار سے۔
آج کل اکثر والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے نام پر موبائل فون فراہم کر دیتے ہیں بظاہر یہ ایک مثبت قدم معلوم ہوتا ہے کیونکہ آن لائن تعلیم تحقیق اور معلومات تک رسائی آسان ہو جاتی ہے لیکن کیا واقعی بچے اس سہولت کو صرف تعلیم کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اکثر بچے اس کا بڑا حصہ غیر ضروری یا نقصان دہ سرگرمیوں میں گزار دیتے ہیں جیسے سوشل میڈیا ویڈیوز بیانات اور مختلف غیر مصدقہ مواد دیکھنا۔
خاص طور پر جب بات دین کی ہو تو معاملہ اور بھی نازک ہو جاتا ہے اسکول کالج اور یونیورسٹی کے بہت سے طلبہ و طالبات ایسے ہیں جنہیں دین کی بنیادی اور مستند تعلیم حاصل نہیں ہوتی ایسے میں وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک یوٹیوب وغیرہ سے دینی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں اصل مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جو شخص دین کے بارے میں بات کر رہا ہے وہ کون ہے اس کا علم کتنا مستند ہے وہ کس مسلک یا نظریے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی باتیں قرآن و سنت کے مطابق ہیں یا نہیں۔
سوشل میڈیا پر ہر شخص کو بولنے کی آزادی ہے لیکن ہر بولنے والا مستند عالم دین نہیں ہوتا کچھ لوگ صرف شہرت فالوورز یا مالی فائدے کے لیے دینی موضوعات پر بات کرتے ہیں اور بعض اوقات ایسی باتیں بھی پھیلاتے ہیں جو حقیقت سے دور یا گمراہ کن ہوتی ہیں اس کا براہ راست اثر سننے والوں خاص طور پر نوجوانوں کے ذہنوں پر پڑتا ہے۔ نتیجتاً ان کے عقائد میں کمزوری آ سکتی ہے شکوک و شبہات پیدا ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات وہ دین سے دوری یا انکار کی طرف بھی جا سکتے ہیں معاملہ ملحد اور مرتد تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ صورتحال والدین کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے صرف بچوں کو موبائل دینا کافی نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں کس کو سن رہے ہیں اور ان کی سوچ کس سمت جا رہی ہے۔ بچوں کی دینی تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ نگرانی رہنمائی اور صحیح ماحول فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ وہ کھل کر بات کر سکیں ان کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں
انہیں مستند اور قابل اعتماد علماء کی طرف رہنمائی دیں گھر میں دینی ماحول پیدا کریں اور بچوں کو ایسے اداروں یا مکاتب سے جوڑیں جہاں انہیں صحیح اور متوازن دینی تعلیم مل سکے
اسی طرح نوجوانوں کو بھی خود یہ شعور حاصل کرنا چاہیے کہ دین کوئی عام موضوع نہیں جسے ہر کسی سے سیکھ لیا جائے۔ دین سیکھنے کے لیے معتبر اساتذہ مستند کتابیں اور قابل اعتماد ادارے ضروری ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نئی نسل ہمارے مستقبل کی نمائندہ ہے اگر ہم نے آج ان کی صحیح رہنمائی نہ کی تو کل ہمیں اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے انہیں دین کی سچی سمجھ نصیب کرے اور ہمیں ہر طرح کی گمراہی سے محفوظ رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے