कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

صبرِ یعقوبؑ اور یقینِ یوسفؑ: امید کا ابدی پیغام

The Patience of Yaqub and the Conviction of Yusuf: An Eternal Message of Hope

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسانی زندگی آزمائش، صبر، امید اور یقین کا ایک مسلسل سفر ہے۔ دنیا کی یہ حیات کبھی راحتوں کا گلشن بن جاتی ہے اور کبھی غموں اور پریشانیوں کا صحرا۔ انسان اپنی محدود عقل اور کمزور بصیرت کے ساتھ بسا اوقات حالات کے ظاہری رخ کو دیکھ کر مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے، مگر ایمان کی روشنی اسے یہ سبق دیتی ہے کہ اس کائنات کا نظام ایک ایسی ذات کے ہاتھ میں ہے جو نہ صرف بندوں کے حال سے پوری طرح واقف ہے بلکہ ان کے دکھوں، آنسوؤں اور دعاؤں کو بھی اپنی رحمت کے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
سورۂ الشرح میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا”
اور سورۂ یوسف میں ارشاد ہوتا ہے:”لَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ”
یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام انسان کو مایوسی نہیں بلکہ امید، حوصلے اور یقین کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیمات کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ مشکلات اور آزمائشیں کبھی دائمی نہیں ہوتیں۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ضرور ہے، مگر انہیں بے سہارا نہیں چھوڑتا۔ وہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی رکھتا ہے، ہر اندھیرے کے بعد روشنی پیدا کرتا ہے، اور ہر صبر کے بعد اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔
اسی لیے اسلام میں صبر کو محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کی روح قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں انبیائے کرامؑ کے واقعات صرف تاریخی روایات نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے لیے ہدایت، حکمت اور تسلی کے زندہ سرچشمے ہیں۔ انہی میں حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کا واقعہ اپنی معنویت، تاثیر اور روحانی پیغام کے اعتبار سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ واقعہ دکھ، جدائی، سازش، قید، صبر، دعا اور امید کے مراحل سے گزرتے ہوئے بالآخر کامیابی اور وصال کی ایسی جامع تصویر پیش کرتا ہے، جو ہر دور کے انسان کے دل میں حوصلہ، یقین اور رجائیت کی نئی روشنی پیدا کرتی ہے۔
حضرت یعقوبؑ کے آنسو ہمیں صبر کا مفہوم سمجھاتے ہیں، اور حضرت یوسفؑ کی آزمائشیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اللّٰہ کی تدبیر انسانی تدبیروں سے کہیں بلند اور حکمت سے بھرپور ہوتی ہے۔ ایک طرف باپ کی بے مثال استقامت ہے، دوسری طرف بیٹے کا عظیم کردار، پاکیزگی، عفو و درگزر اور توکل۔ یہی وجہ ہے کہ سورۂ یوسف کو قرآن نے "أحسن القصص” یعنی بہترین قصّہ قرار دیا ہے، کیونکہ اس میں زندگی کے ہر دکھ کا مداوا اور ہر دل شکستہ انسان کے لیے امید کا پیغام پوشیدہ ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کے واقعات کی روشنی میں صبر، امید اور یقین کی انہی درخشاں حقیقتوں کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ آج کا مضطرب انسان یہ جان سکے کہ اگر دل میں ایمان زندہ ہو، دعا کا رشتہ قائم ہو، اور اللّٰہ کی رحمت پر یقین باقی رہے، تو کوئی آزمائش دائمی نہیں رہتی اور رحمتِ الٰہی ایک نہ ایک دن ضرور راستہ کھول دیتی ہے۔
یہ محض ایک خوبصورت کہانی نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی ہمہ جہت رہنمائی ہے۔ اس میں نفسیاتی تربیت کا ایسا گہرا پہلو موجود ہے جو انسان کو دکھ، صدمے اور محرومی کے عالم میں بھی حوصلہ اور توازن عطاء کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ اخلاقی رہنمائی کا ایک روشن مینار ہے، جو کردار کی پاکیزگی، عفو و درگزر اور اعلیٰ اقدار کی تعلیم دیتا ہے۔ مزید برآں، یہ تدبیرِ الٰہی کی ایک عملی مثال ہے، جو یہ حقیقت آشکار کرتی ہے کہ اللہ کی حکمت انسانی سوچ سے کہیں بلند اور زیادہ وسیع ہے، اور وہ ناممکن دکھائی دینے والے حالات میں بھی بہترین راستے پیدا کر دیتا ہے۔
زندگی ہمیشہ ایک ہی کیفیت پر قائم نہیں رہتی۔ کبھی خوشیوں کے چراغ روشن ہوتے ہیں، کبھی آزمائشوں کی طویل رات انسان کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ بعض اوقات حالات اس قدر بھاری محسوس ہوتے ہیں کہ دل کی زمین پر اداسی کی دھند اتر آتی ہے، راستے بند دکھائی دیتے ہیں، دعائیں خاموش محسوس ہوتی ہیں اور انتظار کی گھڑیاں صدیوں پر محیط لگنے لگتی ہیں۔ مگر یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ایمان انسان کے ہاتھ میں چراغ بن کر آتا ہے اور اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ اندھیری رات خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سحر کا طلوع یقینی ہے۔ قرآنِ مجید میں حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کا واقعہ محض ایک تاریخی داستان نہیں، بلکہ صبر، امید، یقین اور توکل کی ایسی لازوال تفسیر ہے جو ہر دور کے انسان کو زندگی جینے کا حوصلہ عطاء کرتی ہے۔ یہ قصّہ ہمیں سکھاتا ہے کہ آزمائشیں اللّٰہ کی ناراضی کی علامت نہیں ہوتیں، بلکہ بسا اوقات یہی آزمائشیں انسان کو بلندیوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
حضرت یوسفؑ کی زندگی پر نگاہ ڈالیے۔ ایک معصوم بچّہ، جسے اپنے ہی بھائی حسد کی آگ میں جل کر کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔ باپ سے جدائی، غلامی کی زندگی، تہمت، قید خانہ، تنہائی اور مسلسل آزمائشیں؛ بظاہر ہر دروازہ بند نظر آتا ہے۔ اگر انسان صرف ظاہری حالات کو دیکھے تو شاید یہی سمجھے کہ اب اس زندگی میں راحت کا کوئی امکان باقی نہیں۔ مگر قدرت کا نظام انسانی اندازوں سے کہیں بلند ہوتا ہے۔ وہی کنواں عزّت کی ابتداء بن جاتا ہے، وہی قید خانہ اقتدار کی راہ ہموار کرتا ہے، اور وہی یوسفؑ جو کبھی غلام بنا کر بازار میں بیچے گئے تھے، ایک دن مصر کے خزانوں کے نگہبان بن جاتے ہیں۔ یہی حقیقت انسان کو امید دیتی ہے کہ اللّٰہ کی تدبیر ہمیشہ انسان کی سوچ سے زیادہ وسیع اور بہتر ہوتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان جس چیز کو اپنی تباہی سمجھ رہا ہوتا ہے، دراصل وہی اس کی تعمیر کا مقدمہ ہوتی ہے۔ زندگی کے بعض زخم بعد میں رحمت کے دروازے ثابت ہوتے ہیں۔
حضرت یوسفؑ کی سیرتِ مبارکہ میں کردار کی بلندی کے کئی روشن پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔ زلیخا کے واقعے میں آپؑ کی عفت و پاکیزگی اس امر کی گواہ ہے کہ شدید آزمائش کے باوجود انہوں نے اپنے نفس پر قابو رکھا اور تقویٰ کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ اسی طرح جب اقتدار اور اختیار حاصل ہوا تو بھائیوں کے ساتھ عفو و درگزر کا ایسا بے مثال مظاہرہ کیا کہ انتقام کے بجائے معافی کو ترجیح دی، جو اعلیٰ اخلاق کا عظیم نمونہ ہے۔ مزید برآں، مصر کے معاشی نظام کو سنبھالتے ہوئے آپؑ نے غیر معمولی حکمت، بصیرت اور تدبر کا ثبوت دیا، جس سے نہ صرف ایک بڑے بحران سے قوم کو بچایا بلکہ ایک مثالی قیادت کی عملی تصویر بھی پیش کی۔
دوسری طرف حضرت یعقوبؑ کا کردار صبر و استقامت کی معراج ہے۔ ایک باپ جس کا لختِ جگر برسوں اس سے جدا کر دیا گیا، جس کی آنکھیں غم سے سفید ہو گئیں، مگر اس کے دل میں امید کا چراغ بجھنے نہ پایا۔ قرآن ان کے صبر کو "صبرٌ جمیل” کہتا ہے۔ ایسا صبر جس میں شکوہ نہیں، مایوسی نہیں، بلکہ خاموش یقین اور اللّٰہ پر کامل اعتماد ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق صبر محض ایک کیفیت نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت عملی رویہ ہے، جس کی تین بنیادی اقسام بیان کی گئی ہیں۔ پہلی قسم اطاعت پر صبر ہے، یعنی اللّٰہ کے احکام پر ثابت قدمی کے ساتھ عمل کرنا، خواہ اس میں مشقت ہی کیوں نہ ہو۔ دوسری قسم گناہوں سے بچنے پر صبر ہے، یعنی نفس کی خواہشات کے مقابلے میں ڈٹ جانا اور برائی سے خود کو محفوظ رکھنا۔ تیسری اور اعلیٰ قسم مصیبت پر صبر ہے، جس کا عملی نمونہ حضرت یعقوبؑ کی زندگی میں نظر آتا ہے، جنہوں نے شدید ترین غم اور جدائی کے باوجود نہ شکوہ کیا اور نہ امید کا دامن چھوڑا، بلکہ "صبرٌ جمیل” کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
حضرت یعقوبؑ نے حالات کی سختی کے باوجود اپنے ربّ سے امید کا رشتہ منقطع نہیں ہونے دیا۔ وہ فرماتے ہیں: "اللّٰہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللّٰہ کی رحمت سے صرف کافر ہی ناامید ہوتے ہیں۔” یہ جملہ دراصل ہر غمزدہ انسان کے لیے پیغامِ حیات ہے۔ مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ ٹوٹ کر بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔ اس کے دل میں یقین باقی رہتا ہے کہ جس ربّ نے آج آزمائش لکھی ہے، وہی کل آسانی بھی عطاء کرے گا۔ حضرت یعقوبؑ کی زندگی صبر اور رجوع الی اللّٰہ کی ایک بے مثال تصویر پیش کرتی ہے۔ شدید غم اور طویل جدائی کے باوجود انہوں نے کبھی مایوسی کو اپنے دل میں جگہ نہ دی، بلکہ ہر حال میں اپنے ربّ ہی کی طرف متوجہ رہے۔ ان کے اسی گہرے تعلقِ مع اللّٰہ کا اظہار اس دعا میں ہوتا ہے "إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ”۔ یعنی میں اپنے دل کا درد اور اپنا غم صرف اللّٰہ کے سامنے ہی پیش کرتا ہوں۔ یہ جملہ دراصل اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ مومن اپنی تکلیفوں کا شکوہ لوگوں سے نہیں بلکہ اپنے ربّ سے کرتا ہے، اور اسی میں اسے سکون، امید اور حوصلہ ملتا ہے۔
انسانی زندگی میں ایسے بے شمار لمحے آتے ہیں جب انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ کبھی رزق کی تنگی، کبھی بیماری، کبھی اپنوں کی بے رخی، کبھی ناکامیوں کا بوجھ، کبھی دل کے ٹوٹنے کی اذیت؛ یہ سب انسان کے حوصلے کو کمزور کرنے لگتے ہیں۔ مگر قرآن کا پیغام یہی ہے کہ آزمائش دائمی نہیں ہوتی۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تکلیف میں چھوڑ نہیں دیتا۔ ہر رات کے بعد صبح ہے، ہر آنسو کے بعد مسکراہٹ ہے، اور ہر صبر کے بعد راحت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر محض خاموشی کا نام نہیں، بلکہ امید کے ساتھ ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ صبر یہ ہے کہ انسان حالات کے اندھیروں میں بھی اللّٰہ کی حکمت پر یقین قائم رکھے۔ وہ دعا کرتا رہے، کوشش کرتا رہے، اور دل میں یہ یقین زندہ رکھے کہ اللّٰہ اس کی فریاد سن رہا ہے، چاہے جواب آنے میں دیر ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت یوسفؑ کے واقعے میں ایک لطیف حقیقت یہ بھی پوشیدہ ہے کہ اللّٰہ جب اپنے بندے کے لیے بھلائی کا فیصلہ فرماتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ بھائیوں کی سازش، بازار کی غلامی، قید کی دیواریں! کوئی چیز یوسفؑ کو اس مقام تک پہنچنے سے نہ روک سکی جو اللّٰہ نے ان کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔ یہی یقین انسان کو مایوسی سے بچاتا ہے۔ اگر راستے بند نظر آئیں تب بھی ربّ کی رحمت کے دروازے بند نہیں ہوتے۔ زندگی میں بعض اوقات انسان جلدی نتیجہ چاہتا ہے، مگر اللّٰہ کی حکمت اپنے وقت پر کام کرتی ہے۔ یوسفؑ کی جدائی ایک دن یا ایک سال کی نہیں تھی، بلکہ برسوں پر محیط تھی۔ مگر جب وصال کا وقت آیا تو ایسا آیا کہ ماضی کے سارے غم خوشیوں میں بدل گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰہ کی عطاء جب آتی ہے تو وہ انسان کے صبر کے زخموں پر ایسی رحمت رکھ دیتی ہے کہ انسان ماضی کی تکلیفوں کو بھی معنی خیز محسوس کرنے لگتا ہے۔
آج کے دور کا انسان بے چینی، اضطراب اور مایوسی کا شکار ہے۔ مادّی ترقی کے باوجود دل سکون سے محروم ہیں۔ ایسے میں حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ امید کا تعلق حالات سے نہیں بلکہ اللہ سے ہوتا ہے۔ اگر انسان کا تعلق اپنے ربّ سے مضبوط ہو تو اندھیروں میں بھی روشنی باقی رہتی ہے۔ لہٰذا جب زندگی کے کچھ دن بہت بھاری گزریں، جب دل پر غموں کے بادل چھا جائیں، جب دعائیں تاخیر کا شکار محسوس ہوں، تب حضرت یعقوبؑ کے صبر کو یاد کیجیے اور حضرت یوسفؑ کی آزمائشوں کو نگاہ میں رکھیے۔ یہ یقین دل میں تازہ رکھیے کہ جس ربّ نے کنویں کو تختِ اقتدار تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا، وہی آج کی مشکلات کو بھی آنے والی آسانیوں کا مقدمہ بنا سکتا ہے۔
آج کا انسان بظاہر ترقی اور سہولتوں کے دور میں جی رہا ہے، مگر اس کے باطن میں بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی مسلسل مصروفیت نے ذہنی سکون کو متاثر کیا ہے، جہاں موازنہ، دکھاوا اور غیر حقیقی معیارِ زندگی انسان کو اندر سے بے چین کر دیتے ہیں۔ دوسری جانب معاشی دباؤ نے زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جس کے باعث انسان ہر وقت فکر اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خاندانی ٹوٹ پھوٹ نے جذباتی سہارا بھی کمزور کر دیا ہے، جس سے انسان خود کو تنہاء اور غیر محفوظ محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں صبر، امید اور اللّٰہ پر یقین ہی وہ سہارا ہیں جو انسان کو اندرونی سکون اور استحکام عطاء کر سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی تنہاء نہیں چھوڑتا۔ وہ ضرور آزماتا ہے، مگر ہر آزمائش کے ساتھ آسانی کے دروازے بھی کھول دیتا ہے۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ امید کا چراغ بجھنے نہ دے، صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھے، اور کامل یقین کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف رجوع کرتا رہے۔ کیونکہ تاریخِ انسانیت کا یہ اٹل اصول ہے کہ صبر کی رات جتنی بھی طویل ہو، بالآخر رحمت کی روشن صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ "اللّٰہ تعالیٰ ہمیں صبرِ یعقوبؑ اور یقینِ یوسفؑ عطاء فرمائے، اور ہماری آزمائشوں کو بھی اپنی رحمت کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔”
🗓 (29.04.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے