कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عاپ ارکانِ راجیہ سبھا کا بی جے پی میں انضمام: آئینی جواز یا جمہوری اقدار کا امتحان؟

از قلم:ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد
رابطہ۔9934933992

ہندوستانی جمہوریت کی ساخت ہمیشہ سے تنوع، تکثیریت اور سیاسی مقابلہ آرائی کے اصولوں پر استوار رہی ہے، مگر حالیہ سیاسی پیش رفت نے اس توازن کو ایک بار پھر بحث کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سات ارکانِ راجیہ سبھا، جن میں سرِفہرست راگھو چڈھا، ہربھجن سنگھ، سندیپ پاٹھک، وکرم جیت سنگھ ساہنی اور سواتی مالیوال شامل ہیں، کا بھارتیہ جنتا پارٹی میں انضمام نہ صرف ایک غیر معمولی سیاسی واقعہ ہے بلکہ اس نے آئینی، اخلاقی اور جمہوری سطح پر کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعہ محض چند افراد کی سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کا نہیں بلکہ اس کے اثرات قومی سیاست کے پورے منظرنامے پر مرتب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
پارلیمانی عددیات کے زاویہ سے دیکھا جائے تو اس انضمام نے حکمراں جماعت اور اس کے اتحادیوں کو واضح برتری فراہم کی ہے۔ راجیہ سبھا میں عددی قوت کا بڑھنا محض ایک علامتی کامیابی نہیں بلکہ اس کا براہِ راست اثر قانون سازی کے عمل پر پڑتا ہے۔ ایک مضبوط اکثریت کے ساتھ حکومت متنازع بلوں کو بھی نسبتاً آسانی سے منظور کرا سکتی ہے، جس سے اپوزیشن کے کردار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس انضمام نے نہ صرف ایک جماعت کو مضبوط کیا ہے بلکہ پارلیمانی توازن کو بھی متاثر کیا ہے۔
تاہم، اس تمام پیش رفت کا سب سے اہم پہلو اس کی آئینی حیثیت ہے۔ ہندوستانی آئین کا دسویں شیڈول، جو انسدادِ انحراف قانون کے طور پر جانا جاتا ہے، اس طرح کے معاملات کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی جماعت کے دو تہائی ارکان اجتماعی طور پر کسی دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں تو اسے انضمام تصور کیا جاتا ہے اور وہ نااہلی سے بچ سکتے ہیں۔ بظاہر یہی قانونی بنیاد اس معاملے میں اختیار کی گئی ہے، لیکن یہاں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئینی دفعات کا یہ استعمال اس کی اصل روح کے مطابق ہے یا محض ایک قانونی سہولت سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے؟
جمہوریت صرف قوانین کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک اخلاقی عہد بھی ہے جس میں عوامی مینڈیٹ کا احترام بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ووٹر کسی امیدوار کو منتخب کرتا ہے تو وہ اس کی جماعت، نظریہ اور منشور کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔ اگر یہی نمائندے بعد میں اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل کر لیں تو یہ عمل عوامی اعتماد کے لیے ایک دھچکہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے انضمام کو محض قانونی دائرے میں رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اس کے جمہوری اثرات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔
اسی تناظر میں معروف ماہرِ قانون اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل کا موقف خصوصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ انہوں نے متعدد مواقع پر اس امر کی جانب توجہ دلائی ہے کہ انسدادِ انحراف قانون کی موجودہ شکل اپنے مقصد سے جزوی طور پر منحرف ہو چکی ہے، جہاں اجتماعی انضمام کی شق کو اکثر ایک تکنیکی راستے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق آئین کی روح کا تقاضہ یہ ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو محض عددی اکثریت کی بنیاد پر تبدیل نہ ہونے دیا جائے بلکہ اس کے لیے اخلاقی اور نظریاتی جواز بھی ضروری ہو۔ سبل کا یہ استدلال دراصل اس وسیع تر بحث کو تقویت دیتا ہے کہ آیا موجودہ قانونی ڈھانچہ جمہوری اصولوں کی حقیقی حفاظت کر پا رہا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب سنجے سنگھ، جو کہ عام آدمی پارٹی کے سرکردہ رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ ہیں، نے اس پیش رفت پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اجتماعی انضمام دراصل عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہیں اور یہ رجحان سیاست کو نظریاتی بنیادوں سے ہٹا کر محض اقتدار کے کھیل تک محدود کر دیتا ہے۔ سنجے سنگھ کے مطابق اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو عوام کا اعتماد پارلیمانی نظام سے متزلزل ہو سکتا ہے، جو کسی بھی جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں۔ انہوں نے اس انضمام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کے عمومی ردِعمل میں بھی یہی تشویش جھلکتی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اس طرح کے انضمام محض اتفاقی یا نظریاتی نہیں بلکہ ان کے پس منظر میں سیاسی دباؤ اور طاقت کے استعمال کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ان الزامات کی تصدیق ایک پیچیدہ عمل ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسے واقعات عوام کے ذہن میں نہ صرف شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں بلکہ جمہوری نظام کی شفافیت پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
دوسری جانب حکمراں جماعت کا موقف اس کے برعکس ہے۔ اس کے مطابق یہ انضمام ارکان کا ذاتی اور نظریاتی فیصلہ ہے، جو انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت اور ترجیحات کی بنیاد پر کیا ہے۔ بی جے پی کے رہنما اسے جمہوری عمل کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر منتخب نمائندے کو اپنی سیاسی راہ متعین کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ دلیل اپنی جگہ قابلِ غور ہے، مگر جب ایسے فیصلے ایک مخصوص وقت اور مخصوص حالات میں اجتماعی طور پر سامنے آئیں تو ان کے پس منظر پر سوال اٹھنا لازمی ہو جاتا ہے۔
اس معاملہ کا ایک اہم پہلو علاقائی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے، خصوصاً پنجاب کے تناظر میں۔ چونکہ انضمام کرنے والے بیشتر ارکان اسی صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یہ اقدام آنے والے انتخابات کے پیش نظر ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اگر یہ اندیشہ درست ہے تو پھر یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں عوامی مفاد کو مقدم رکھ رہی ہیں یا محض انتخابی فائدے کے لیے اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں۔
مزید برآں، ہندوستانی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جماعتی انحراف اور انضمام کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مختلف ریاستوں میں منتخب حکومتوں کا بدلنا، ارکانِ اسمبلی کا اچانک وفاداریاں تبدیل کرنا اور ان معاملات پر عدالتوں میں قانونی جنگیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آئینی ڈھانچے میں موجود خلا کو بار بار استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ عدالتیں اس سلسلے میں رہنمائی فراہم کرتی رہی ہیں، لیکن ایک جامع اصلاح کی ضرورت مسلسل محسوس کی جا رہی ہے تاکہ جمہوری نظام اپنی اصل روح کے مطابق چل سکے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ راجیہ سبھا کے صدرنشین کی جانب سے اس انضمام کو منظوری دینا کس حد تک ایک رسمی عمل تھا اور کس حد تک اس میں صوابدیدی پہلو شامل تھا۔ آئینی عہدوں پر فائز شخصیات سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف قانون کی پاسداری کریں بلکہ اس کی روح کو بھی مدنظر رکھیں۔ اگر ایسے فیصلے محض تکنیکی بنیادوں پر کیے جائیں تو اس سے آئینی اداروں کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
جمہوری نظام میں اپوزیشن کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف حکومت کی پالیسیوں پر نظر رکھتی ہے بلکہ عوام کے مختلف طبقات کی آواز بھی ایوان تک پہنچاتی ہے۔ اگر اپوزیشن مسلسل کمزور ہوتی جائے تو جمہوری توازن بگڑ سکتا ہے اور اختیارات کا ارتکاز ایک ہی جماعت کے ہاتھوں میں آ سکتا ہے۔ اس تناظر میں حالیہ انضمام کو محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ جمہوری توازن کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عوامی سطح پر بھی اس پیش رفت کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ووٹرز کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا ان کا دیا گیا مینڈیٹ محفوظ ہے یا نہیں۔ اگر منتخب نمائندے اپنی جماعتیں تبدیل کرتے رہیں تو ووٹنگ کا عمل اپنی معنویت کھو سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو جمہوریت کے مستقبل کے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔
اس پورے پس منظر میں میڈیا اور عوامی بیانیہ کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں سیاسی واقعات فوری طور پر عوامی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں، جہاں ہر اقدام نہ صرف آئینی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے بلکہ عوامی رائے عامہ کی عدالت میں بھی اس کا احتساب ہوتا ہے۔ اگر عوام کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ سیاسی فیصلے شفاف نہیں ہیں یا ان کے پس منظر میں خفیہ مفادات کارفرما ہیں تو جمہوریت کی بنیادیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔
ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ راگھو چڈھا اور ان کے ساتھیوں کا بی جے پی میں انضمام ایک ایسا واقعہ ہے جو ہندوستانی سیاست کے کئی پہلوؤں کو بیک وقت اجاگر کرتا ہے۔ یہ نہ صرف آئینی تشریحات کا امتحان ہے بلکہ جمہوری اقدار کی سچائی کو بھی پرکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر اس موقع پر سنجیدہ غور و فکر اور اصلاح کی کوشش نہ کی گئی تو مستقبل میں ایسے واقعات مزید پیچیدہ صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جمہوریت کی اصل طاقت صرف انتخابات میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں مضمر ہوتی ہے جو عوام اپنے نمائندوں پر کرتے ہیں۔ اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو آئینی ڈھانچہ بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضہ ہے کہ قانون، اخلاق اور عوامی مینڈیٹ کے درمیان ایک ایسا توازن قائم کیا جائے جو نہ صرف آئینی طور پر مضبوط ہو بلکہ جمہوری اقدار کے بھی عین مطابق ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہندوستانی جمہوریت کو مستحکم، معتبر اور پائیدار بنا سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے