कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تعلیم اور سماج اسلامی و سماجی تناظر میں نئی راہیں

از قلم: محمود علی لیکچرر

موجودہ دور میں تعلیم اور سماج کا رشتہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور اہم ہو چکا ہے۔ ایک طرف سائنسی ترقی اور عالمی رابطوں نے انسانی شعور کو وسعت دی ہے، تو دوسری طرف سماجی انتشار، فرقہ واریت اور فکری الجھنوں نے معاشرے کو کمزور بھی کیا ہے۔ ایسے نازک حالات میں ایک متوازن معتدل اور بصیرت افروز فکر کی ضرورت ہے جو تعلیم سماج اور دین کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر سکے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے تعلیم کا مقصد محض معلومات کا حصول نہیں بلکہ انسان کی ہمہ جہتی تربیت ہے جس میں اخلاق، کردار برداشت اور سماجی ذمہ داری شامل ہیں۔ مگر افسوس کہ آج ہم نے تعلیم کو صرف روزگار کے حصول تک محدود کر دیا ہے جس کے نتیجے میں سماجی شعور کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم فروعی (جزوی) مسائل میں الجھنے کے بجائے بنیادی اور اجتماعی مسائل پر توجہ دیں۔ فرقہ وارانہ بحثیں اور غیر ضروری مذہبی مناظرے نہ صرف وقت کا ضیاع ہیں بلکہ نئی نسل کے ذہنوں میں الجھن اور دوری پیدا کرتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے مباحث سے دور رکھیں اور ان میں وسعتِ نظر اور برداشت پیدا کریں۔
اسلامی شعار کی اصل روح سختی نہیں بلکہ اعتدال اور لچک میں ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات کے مطابق حکمت صبر اور نرم رویہ اختیار کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ سماجی اور نفسیاتی اعتبار سے بھی لچکدار رویہ (flexibility) انسان کو بہتر فیصلے کرنے اور مختلف حالات میں خود کو ڈھالنے کے قابل بناتا ہے۔
آج کے دور میں سائنسی و سماجی شعور پیدا کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ تعلیم کو ایسا ہونا چاہیے جو سوال کرنے، تحقیق کرنے اور حقیقت کو سمجھنے کا جذبہ پیدا کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی یعنی رشتوں کو جوڑنا اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔
جدید دنیا میں سول سوسائٹی (Civil Society) کا کردار بھی اہم ہو چکا ہے، جہاں افراد اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے معاشرے کی بہتری میں حصہ لیتے ہیں۔ ہمیں اپنے معاشرے میں بھی ایسے اداروں اور رویوں کو فروغ دینا ہوگا جو تعلیم کو عام کریں، کمزور طبقات کی مدد کریں اور سماجی انصاف کو یقینی بنائیں۔
تعلیم کو عام کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب تک معاشرے کا ہر فرد تعلیم سے آراستہ نہیں ہوگا، نہ تو شعور پیدا ہوگا اور نہ ہی ترقی ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جماعتی اور فرقہ وارانہ تفرقوں سے دور رہنا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ تقسیم شدہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔
انفرادی ترقی پر زور دینا بھی ضروری ہے، کیونکہ ایک مضبوط فرد ہی مضبوط معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے وقت کی قدر کرنے اور حالات کے مطابق خود کو بدلنے کا ہنر سیکھنا چاہیے۔ یہی سفارتکاری کا فن ہے یعنی مشکل حالات میں حکمت اور تدبر سے کام لینا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ تعلیم سماج اور دین کے درمیان توازن قائم کیے بغیر ہم ایک صحت مند معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو صحیح رہنمائی دی، انہیں وسعتِ نظر برداشت سائنسی شعور اور اخلاقی اقدار سے آراستہ کیا، تو یقیناً ہمارا معاشرہ ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
ختم شد

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے