कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسجد اقصی میں سحر انگیز اذان خاموش،قبلہ اول کے موذن شیخ ناجی القزاز نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا

مقبوضہ بیت المقدس:20؍اپریل:الشیخ ناجی القزاز کی 66 برس کی عمر میں وفات مقبوضہ بیت المقدس کے مذہبی منظر نامے کے لیے ایک بہت بڑا خسارہ ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کی کئی دہائیاں مسجد اقصی کے جوار میں گزاریں جہاں ان کی سحر انگیز آواز سنہ 1970 کی دہائی کے اواخر سے اذان کی پکار کے ساتھ جڑی رہی اور وہ حرم قدسی کے میناروں سے بلند ہونے والی ان نمایاں ترین آوازوں میں سے ایک کے طور پر نمازیوں کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔شیخ ناجی القزاز قدیم شہر کے محلے باب السلسلہ میں پیدا ہوئے جو مسجد اقصی سے محض چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، ان کی پرورش ایک ایسے مذہبی اور روحانی ماحول میں ہوئی جس نے ان کی زندگی کے سفر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔انہوں نے مرکزاطلاعات فلسطین کو دیے گئے اپنے ایک گذشتہ بیان میں کہا تھا کہ میری پرورش قدیم شہر کے محلے باب السلسلہ میں ہوئی جو قبلہ اول سے صرف چند میٹر دور ہے، میں نے مسجد کے قریب ہی واقع العمریہ سکول میں تعلیم حاصل کی، میرا بچپن ایک ایسے مذہبی اور روحانی ماحول میں گزرا جہاں مسجد اقصی ہر سمت سے میرے احاطے میں تھی۔شیخ ناجی القزاز نے سنہ 1978 میں بہت کم عمری میں بطور موذن اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کیا، وہ اس قدیم خاندانی روایت کا حصہ بنے جو القزاز خاندان کی پہچان ہے، یہ وہ مقدس خاندان ہے جو نسل در نسل مسجد اقصی میں اذان دینے کے اعزاز کے لیے تاریخی طور پر مشہور ہے۔اپنی زندگی کی پہلی اذان کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ بچپن سے ہی میں اپنے دادا عبدالسلام القزاز کے ساتھ مسجد اقصی میں اذان کے لیے جایا کرتا تھا، اس یادگار دن میرے دادا نزلہ و زکام میں مبتلا تھے اور ان کی آواز صاف نہیں نکل رہی تھی، چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ میں اذان دیتا ہوں، جب میں نے عصر کی اذان دی تو میرے پورے وجود پر ایک عجیب سی لرزہ طاری ہو گئی، اذان ختم کرنے کے بعد جب میں گھر کی طرف نکلا تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ آج میرے ساتھ کیا عظیم واقعہ پیش آیا ہے، اس دن کے بعد سے پچھلے پینتیس سالوں سے میں مسجد اقصی میں اذان دے رہا ہوں اور لوگوں کو نماز کے لیے پکار رہا ہوں۔اپنے طویل سفر کے دوران اذان ان کے لیے محض ایک ملازمت نہیں تھی بلکہ یہ اس مقام کی قدسیت اور اس سے گہری وابستگی کا روزانہ کی بنیاد پر اظہار کرنے والا ایک مقدس پیغام تھا، کیونکہ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو صدیوں سے اس ورثے کا امین ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ القزاز خاندان دہائیوں سے مسجد اقصی میں اذان دینے کے اس ورثے کو نسل در نسل منتقل کر رہا ہے، ہمارے پاس ایک عثمانی فرمان موجود ہے جس کے تحت اذان کی یہ خدمت القزاز خاندان کے لیے وقف ہے، تقریبا 700 سال قبل محمد القزاز اپنی خوبصورت آواز کی بنا پر ریاست عثمانیہ کے شہر مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تشریف لائے تھے تاکہ مسجد اقصی میں موذن کے فرائض انجام دیں اور ہم انہی کی نسل سے ہیں، ہم انہی کے گھر میں رہتے ہیں جو القزاز خاندان کے لیے وقف ہے اور محمد القزاز مامن اللہ نامی قبرستان میں مدفون ہیں۔اس خاندانی وراثت کے تسلسل کی تصدیق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ آواز اور اذان کا اعزاز وراثت میں پایا ہے، میرے دادا نے یہ ورثہ میرے والد کو منتقل کیا لیکن وہ اسے جاری نہ رکھ سکے، پھر یہ سعادت مجھے ملی اور اب میں نے یہ اپنے بیٹے فراس کو منتقل کر دی ہے جس کی اذان کی صلاحیت کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں نے اسے تلاوتِ قرآن کرتے ہوئے سنا۔شیخ ناجی القزاز کی رحلت سے مسجد اقصی اپنی ایک مانوس اور روحانی آواز سے محروم ہو گئی ہے، لیکن ان کی اذان کی گونج جو دہائیوں تک قبلہ اول کے در و دیوار سے ٹکراتی رہی، اس مقام اور وہاں آنے والوں کے حافظے میں ہمیشہ نقش رہے گی اور عالمِ اسلام کی اس اہم ترین مذہبی علامت کے ساتھ ان کی وابستگی اور طویل خدمات کی گواہی دیتی رہے گی۔مسجد اقصی کے امور کے ماہر ڈاکٹر عبداللہ معروف نے شیخ ناجی القزاز کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی ان پر رحم فرمائے، ان کی مغفرت کرے اور انہیں صالحین میں قبول فرمائے۔انہوں نے ہمارے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان کے لیے یہی اعزاز کافی ہے کہ ان کی اذان لوگوں کے ذہنوں میں مسجد اقصی مبارک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور یہی اصل اور حقیقی شرف ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے