कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ڈاکٹر سمیع اللہ خان عزم و اخلاص کی تابندہ مثال اور تعلیمی قیادت کا روشن نام

تحریر: محمد سعید ندوی
(فاطمہ ہائی اسکول پربھنی )
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

شہر پربھنی کی علمی و فکری فضا میں اگر کسی نام کی بازگشت مسلسل سنائی دیتی ہے تو وہ ڈاکٹر سمیع اللہ خان کا نام ہے—ایک ایسی ہمہ جہت، باوقار اور باکردار شخصیت، جس نے اپنے عزمِ صمیم، اصول پسندی اور بے لوث خدمات کے ذریعے نہ صرف تعلیمی ادارے قائم کیے بلکہ ایک زندہ و بیدار تعلیمی تحریک کی بنیاد بھی رکھی۔
اسی مبارک سفر کا نقطۂ آغاز سن *1987** میں اس وقت ہوا جب محدود وسائل، نامساعد حالات اور وسائل کی شدید کمی کے باوجود محض 7 طلبہ پر مشتمل ایک چھوٹی سی درسگاہ شہر پربھنی کے پسماندہ علاقے رحمت نگر میں قائم کی گئی۔ بظاہر یہ ایک معمولی شروعات تھی، مگر درحقیقت یہ ایک عظیم خواب کی تعبیر کا پہلا قدم تھا—ایسا خواب جس میں جہالت کے اندھیروں کو علم کی روشنی سے بدلنے اور محروم طبقات کو تعلیمی شعور سے آراستہ کرنے کا عزم شامل تھا۔
وقت کے ساتھ یہ ننھا سا چراغ ایک درخشاں چراغاں میں تبدیل ہو گیا۔ آج فیض العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کی مختلف شاخیں شہر کے متعدد علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف علمی پیاس بجھا رہے ہیں بلکہ ایک مہذب، باشعور اور باکردار معاشرے کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہزاروں تشنگانِ علم اس چشمۂ فیض سے سیراب ہو کر اپنی زندگیاں سنوار رہے ہیں۔
حال ہی میں حکومتِ مہاراشٹر کی جانب سے ریاست بھر کے تعلیمی اداروں کا ایک جامع اور ہمہ گیر جائزہ *SQAFF* (School Quality Assessment and Assurance Framework) کے تحت لیا گیا، جس میں ایک لاکھ چھبیس ہزار سے زائد اسکولوں نے شرکت کی۔ ایسے وسیع پیمانے کے مسابقتی عمل میں منتخب اداروں کو A+ درجہ سے نوازا جانا دراصل تعلیمی معیار، نظم و نسق اور تدریسی فضیلت کا سرکاری اعتراف ہے۔
یہ امر نہایت باعثِ فخر ہے کہ فیض العلوم پرائمری اسکول کو اس باوقار جائزے میں A+ مقام عطا کیا گیا۔ یہ کامیابی کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ ایک فکر، ایک وژن اور ایک مسلسل، مخلصانہ جدوجہد کی تابناک کامیابی ہے۔
اس شاندار کامیابی کے پسِ منظر میں ڈاکٹر سمیع اللہ خان کی غیر معمولی بصیرت، استقامت اور اصول پسندی کارفرما ہے۔ آپ کی شخصیت بے باکی، جرأتِ اظہار اور دیانت داری کا حسین امتزاج ہے۔ آپ ہر مقام پر حق و صداقت کے علمبردار نظر آتے ہیں۔ مصلحتوں سے بالاتر ہو کر اصولوں کی پاسداری کرنا آپ کا امتیاز ہے، اور یہی وصف آپ کو ایک منفرد اور مثالی قائد بناتا ہے۔
آپ کی اس کامیاب جدوجہد میں آپ کی شریکِ حیات، *محترمہ انیس* صدیقی صاحبہ سابقہ صدر معلمہ فیض العلوم پرائمری سکول و چیئر پرسن فیض العلوم ایجوکیشن سوسائٹی موجودہ کی رفاقت بھی ایک درخشاں باب ہے۔ انہوں نے نہ صرف ایک معلمہ بلکہ ایک مخلص رفیقۂ کار کے طور پر ادارے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تدریسی خدمات اور انتظامی بصیرت نے فیض کی بنیادوں کو مضبوط بنایا۔
اسی طرح آپ کے قابل فرزندان—جناب * *محمد ثناء اللہ خان* (پرنسپل، فاطمہ ہائی اسکول و جونیئر کالج) اور جناب *محمد صفی اللہ خان** (صدر مدرس، فیض العلوم پرائمری اسکول)نے اپنے والد کے مشن کو خلوص، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا۔اور بڑی ناسپاسی ہوگی اس موقع پر *محترمہ طالعہ* *پٹیل صاحبہ* پرنسپل فاطمہ سائنس جونیئر کالج کا تذکرہ نہ کیا جائے ۔اپ اپنی قابلیت اور حسن انتظامیہ کی بدولت اثر و رسوخ رکھتی ہے . ان حضرات کی مسلسل کاوشیں ادارے کے استحکام اور ترقی میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔
یہ اعزاز دراصل پورے فیض کیمپس کی اجتماعی جدوجہد کا ثمر ہے، جہاں تدریسی و غیر تدریسی عملے پر مشتمل ایک سو دس سے زائد افراد اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ سبھی ڈاکٹر سمیع اللہ خان کی شبانہ روز محنت، دور اندیشی اور تعلیمی لگن کا عملی ثبوت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے صرف ادارے قائم نہیں کیے بلکہ انسان سازی کا ایک مکمل نظام قائم کیا ہے، جہاں علم کے ساتھ کردار سازی کو بھی یکساں اہمیت حاصل ہے۔
بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر سمیع اللہ خان اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ ان کی قیادت میں فیض العلوم ایجوکیشن سوسائٹی ایک فعال، زندہ اور ہمہ گیر تعلیمی تحریک بن چکی ہے، جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
حکومتِ مہاراشٹر کی جانب سے عطا کردہ A+ درجہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ فیض العلوم نہ صرف تعلیمی معیار میں ممتاز ہے بلکہ نظم و نسق، تربیت اور وژن کے اعتبار سے بھی ایک مثالی ادارہ ہے۔ یہ اعزاز اس بات کا اعلان ہے کہ مخلص قیادت، مسلسل محنت اور اصول پسندی کے ساتھ انجام دیا گیا کام بالآخر اپنی پہچان خود قائم کر لیتا ہے۔
ڈاکٹر سمیع اللہ خان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب نیت خالص، مقصد بلند اور راستہ اصولوں پر مبنی ہو تو کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے۔ وہ محض ایک منتظم یا معلم نہیں بلکہ ایک عہد ساز شخصیت ہیں—جن کی مثال آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے