कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایمان کیسے مکمل ہو؟

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: الطہور شطر الایمان، الصبر نصف الایمان، النکاح نصف الایمان۔ جو درست معاشرہ اور نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مکمل دستور کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ محض الفاظ کی ادائیگی ہی نہیں بلکہ یہ زندگیوں کو چینج کرنے اور ایک پاک صاف اور شفاف معاشرہ کو تشکیل دینے کا درس دیتا ہے۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب اسلام میں پاکی اور صاف صفائی کو آدھا ایمان قرار دیا ہے۔ اور باقی آدھا ایمان کیا ہے؟ جسم کی صاف صفائی کے ساتھ روح اور نفس کی بھی پاکیزگی ضروری ہے۔ جس طرح ہم زندگی گزارنے کے لیے غذا کا استعمال کرتے ہیں، اسی طرح جسم (purification of soul) روح کی پاکیزگی ضروری ہے، جس سے ہم آدھا ایمان تکمیل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں زندگی کے ہر شعبہ اور معاشرہ کو بھی صاف و شفاف رکھنا ہے۔ صاف صفائی اور پاکیزہ رہ کر ہم جب آدھا ایمان مکمل کرتے ہیں تو بقیہ آدھا ایمان اپنے اعمال صالحہ کے ذریعہ تکمیل کرنا ہے، جس میں تہذیب و ثقافت، اخلاقیات، اور لوگوں کے تئیں ہمدردی، نرم گفتاری، اور ادب و لحاظ کو ملحوظ رکھنا اسلام کی پہلی تعلیم و تربیت ہے۔ جب ہم حدیث کے مطابق جسم کے ساتھ اپنی روحانی کیفیت اور اس کو پاک و صاف رکھیں گے تو ہماری فکر لوگوں کے تئیں مثبت اور نفع بخش ثابت ہوں گی۔ اسلام اعتدال کی راہ سکھاتا ہے، اسلام ایک صاف ستھرا مذہب ہے۔ ان اللہ جمیل و یحب الجمال۔ اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ جمال و خوبصورتی یعنی صاف و شفافیت کے ساتھ سوچ اور فکر کو بھی نکھارنا ضروری ہے۔ اگر جسم صاف ہو، اور خیالات پراگندہ ہوں تو آدمی کے اندر (Positive thinking) منفی خیالات کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ یہ ایسے ہی ہوگا جیسے تعلیم یافتہ جاہل۔ علم تو ہو لیکن علم پر عمل نہ ہو، جیسے ایک حمار پر کتب لادنے سے کوئی فائدہ نہیں، بس ایسے ہی جسم کی صفائی ہو، لیکن روح میں نفاست اور پاکیزگی نہ ہو تو بیکار ہے۔ قرآن کریم نے بھی اس بات پر توجہ مرکوز کی ہے۔ قد افلح من تزکی، یعنی کامیابی اور کامرانی کا سبب نفس کو پراگندہ خیالات سے دور رکھنا ہے۔ کامیابی اسی کے لیے مقدر ہے، جس نے نفس کو پاک و صاف رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت صرف دو قدم دور ہے، ایک یہ کہ آپ پہلا قدم نفس پر رکھو یعنی نفس کی بیجا خواہشات سے اجتناب کریں، تو یقیناً آپ کا دوسرا قدم جنت میں ہوگا۔ صبر کی بھی بڑی اہمیت اور افادیت ہے، چنانچہ اس ضمن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر کرنا بھی آدھا ایمان کے مترادف ہے۔ خدائے برتر کا ارشاد ہے: اللہ کی عطا پر شکر گزاری کرو گے تو یقیناً اللہ نعمتوں میں اضافہ کرے گا۔ اور ناشکری اور بے صبری سزا کا موجب اور سبب ہوگی۔ اللہ کی آزمائشوں اور اس کے امتحان میں صبر مطلوب ہے، اور یقیناً صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ کی مدد کو طلب کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ چنانچہ اللہ نے رمضان کے ایک مہینہ کے روزے فرض کیے ہیں۔ جس میں مسلمان کم و بیش 14 گھنٹے کا روزہ رکھتا ہے، اللہ کا مقصد یہ نہیں کہ تم دن بھر بھوکے رہو، اس بھوک اور پیاس میں اوروں کی بھوک اور پیاس، اوروں کی تنگ دستی اور مفلوک الحالی، اور دکھ و درد کو سمجھنے اور احساس کو بیدار کرنے کے لیے اللہ نے روزوں کو فرضیت کا درجہ دیا ہے۔ جو اسلام کا ایک بڑا شعار اور طرۂ امتیاز ہے۔ حدیث میں ہے: ما أُعطي أحد عطاءً خیرًا وأوسع من الصبر، یعنی کسی کو بھی صبر بہتر اور وسیع ترین کوئی چیز نہیں دی گئی۔ اسلام نے ہمیں بہت سارے معاملات اور بہت سارے پہلوؤں پر صبر اور (firmness) استقامت کی تلقین اور حکم دیا ہے۔ جس سے ہم اپنا آدھا ایمان یقیناً مکمل کرتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ اور بھی بقیہ آدھا دین مکمل کرنے کے لیے اسلام کے (message) پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ صبر یہ نہیں کہ آپ برائی کو ہوتے ہوئے دیکھیں اور صبر کریں۔ اخلاق کو پامال کیا جا رہا ہو، اور آپ سکوت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ برائیوں کو فروغ دیا جا رہا ہو، اور آپ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انسانیت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے، اور آپ کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ یاد رکھیے یہ سکوت، یہ خاموشی اور یہ صبر وبالِ جان اور عند اللہ سزا کا مستحق ہے۔ اسی ضمن میں ایک حدیث ہے، جس کا مفہوم ہے: اگر کوئی برائی یا فحاشی ہوتے ہوئے دیکھیں، تو اس کو چاہیے کہ ہاتھ سے روکیں، یا پھر زبان سے (Advise) نصیحت کریں، یہ نہیں کر سکتا تو پھر دل میں برا سمجھیں۔ یہاں صبر، خاموشی اور سکوت گونگے ابلیس کے برابر ہے جو برائی کو برائی نہیں کہتا۔ جن پہلوؤں میں اور زندگی کے جن شعبوں میں ہم صبر اور شکر کر کے آدھا ایمان تو مکمل کرتے ہیں، وہیں ہمیں برائیوں، فحاشی، اور انسانیت سوز حرکتوں کے خلاف آواز اٹھانے، اور اسلام کی دعوتِ سخن دینے پر ہی ہم اپنا بقیہ ایمان کی تکمیل کر سکتے ہیں نہ کہ یہاں صبر اور خاموشی سے۔ اسی طرح اسلام میں نکاح کو اہمیت اور افادیت کا حامل سمجھا گیا ہے۔ اور نکاح کو حدیث کے الفاظ میں آدھا ایمان کہا گیا ہے۔ اور نکاح ایک مقدس ترین عمل ہے۔ جس سے ایک بہترین معاشرہ کی تکمیل اور تشکیل ہوتی ہے۔ جس طرح ہم نکاح کرنے کے بعد حدیث کے الفاظ کے مطابق، النکاح نصف الایمان۔ یعنی نکاح کے بعد آدمی آدھا ایمان مکمل کرتا ہے۔ اب اس کو چاہیے کہ بقیہ آدھا ایمان مکمل کر لیں۔ وہ آدھا ایمان کیا ہے؟ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ساتھ، نکاح کے بعد والی زندگی میں ایک اچھا معاشرہ اور اچھی تہذیب و ثقافت کی تشکیل اور بیوی کے حقوق کی ادائیگی ہے۔ اور بیوی کے لیے ایک بہترین شوہر ثابت ہو۔ جو ایک خوشحال زندگی مطلوب ہے۔ اور یہی نہیں مرد کے ذمہ ہے کہ وہ اہل خانہ کی کفالت کریں، اور اولاد کو دین کی تعلیم کے ساتھ اخلاقی تعلیم سے آراستہ کریں۔ جس کو حدیث کے الفاظ عبادت اور ثواب قرار دیا گیا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے