कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تجوید کے فقہی احکام و ضروری مسائل

تحریر: ابو خالد بن ناظر الدین
کریم گنج، آسام
رابطہ نمبر: 8638836434

تجوید کے ساتھ تلاوت: اہمیت اور فقہی احکام:
علم ایک ایسا آسمانی نور ہے، جو ہر دور میں انسانیت کی رہنمائی کا ذریعہ رہا ہے۔ عقل و شعور کی بیداری، فکرو نظر کی روشنی اور روحانی ترقی کی بنیاد علم ہی پر استوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے جب نزول کی ابتدا فرمائی، تو سب سے پہلے جس حقیقت کو اُجاگر کیا، وہ "علم” ہی تھا۔ ارشاد ہوا:”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ”(العلق: 1)
پڑھ! اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔
یہ آیت نہ صرف وحی کا نقطۂ آغاز ہے بلکہ اسلامی نظامِ فکر میں تعلیم و تعلم کی اولین اہمیت پر بھی دلالت کرتی ہے۔ قلم و قرطاس سے وابستگی اور الفاظ و معانی کی پہچان، انسان کو اپنے خالق کی معرفت تک پہنچاتی ہے۔ ہر وہ علم جو نافع ہو، درحقیقت اللہ کا نور ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ایسی علم سے پناہ مانگی جو فائدہ نہ دے، جیسا کہ دعا میں وارد ہے:”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ”
(مسلم، باب فی الأدعیہ، حدیث: 2722)
فن تجوید: قرآن فہمی کی بنیاد:
علوم و فنون کی وسعتوں میں علم تجوید کو ایک خاص مقام حاصل ہے، کیونکہ اس کا رشتہ بلاواسطہ قرآن مجید سے ہے۔ قرآن کے الفاظ، حروف، مخارج اور ادائیگی کے طریقے، سب تجوید کے دائرہ میں آتے ہیں۔ چنانچہ تجوید کا سیکھنا اور اس پر عمل کرنا نہ صرف افضل عبادت ہے بلکہ قرآن کی درست تلاوت کے لیے شرطِ لازم بھی ہے۔
علامہ ابن الجزریؒ (م: 833ھ) جنہیں علم قراءت و تجوید میں سند کی حیثیت حاصل ہے، فرماتے ہیں:
والأخذُ بالتجويدِ حتمٌ لازمٌ
مَنْ لَمْ يُجَوِّدِ القرآنَ آثمُ
(مقدمة الجزریة)
یعنی تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا واجب اور لازم ہے، اور جو شخص تجوید کے بغیر قرآن کی تلاوت کرتا ہے، وہ گنہگار ہے۔
قرآن کا نزول تجوید کے ساتھ:
قرآنِ کریم صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہر ہر حرف اور ہر ہر صوت الٰہی ترتیب کے ساتھ نازل ہوئی ہے۔ اس ترتیب و صوتی جمال کا تحفظ علمِ تجوید کے ذریعے ممکن ہے۔ ابن الجزریؒ فرماتے ہیں: لِأَنَّهُ بِهِ الإِلَهُ أَنْزَلَا
وَهَكَذَا مِنْهُ إِلَيْنَا وَصَلَا
یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن کريم تجوید کے ساتھ نازل فرمایا، اور اسی تجوید کے ساتھ قرآن ہم تک متواتر پہنچا۔
امام جزریؒ مزید وضاحت فرماتے ہیں:
"وذلك واجبٌ على من يقدر عليه، لأن الله تعالى أنزل به كتابه المجيد، ووصل من نبيه صلى الله عليه وسلم متواترًا بالتجويد”(الموسوی العقبیۃ: 4/179)
جو شخص تجوید سیکھنے کی استطاعت رکھتا ہے، اس پر تجوید سیکھنا واجب ہے، کیونکہ اللہ نے اپنا کلام اسی انداز سے نازل فرمایا اور نبی کریم ﷺ سے لے کر آج تک تواتر کے ساتھ اسی تجوید کے ساتھ منتقل ہوا۔
علم تجوید: سماعت و مشافہہ کی روایت:
تجوید صرف کتابی مطالعہ سے حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ وہ علم ہے جس کے لیے اہلِ فن کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ اصولِ قراءت میں واضح کیا گیا:”الأخذ عن الشيوخ بالسماع منهم أو القراءة بحضرتهم”
(الموسوی التقویہ: 10/178)
یعنی اس علم کا حصول براہِ راست مشائخ سے سن کر یا ان کے سامنے قرآن پڑھ کر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قراء حضرات اپنی سندِ قراءت میں اپنے مشائخ کے اسمائے گرامی کو تسلسل کے ساتھ بیان کرتے ہیں، یہاں تک کہ سند نبی کریم ﷺ سے جا ملتی ہے۔
فقہی احکام: تجوید کا حکم:
علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص حروفِ قرآن کی ادائیگی میں اس قدر خلل ڈالے کہ معنی میں تبدیلی آ جائے، تو وہ گناہگار ہے، بلکہ بعض صورتوں میں اس کی تلاوت ناجائز بھی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ حسنِ اداء کے بارے میں کہا گیا:”حُسن الأداء فرضٌ في القراءة، ويجب على القارئ أن يتلو القرآنَ حقَّ تلاوته” (النشر في القراءات: 1/211)
قرآن کی تلاوت کے وقت حروف کی صحیح اور خوبصورت ادائیگی فرض ہے، اور قاری پر واجب ہے کہ وہ قرآن کو اسی طرح پڑھے جیسا کہ اس کے پڑھنے کا حق ہے۔
قرآن کریم کی تلاوت بغیر تجوید کے گویا ایک عظیم امانت میں خیانت ہے۔ جس کلام کو اللہ تعالیٰ نے جبرئیلِ امین کے واسطے سے تجوید کے ساتھ نازل فرمایا، اسے درست تلفظ اور صحیح قواعد کے ساتھ پڑھنا ہر قاری کا فریضہ ہے۔ یہی وہ علم ہے جو دلوں میں قرآن کی حلاوت پیدا کرتا ہے، سمع و بصر کو ایمان کی روشنی سے منور کرتا ہے، اور قیامت کے دن شفاعت کا ذریعہ بنتا ہے۔
تجوید اور ترتیل کی قرآنی بنیادیں، علمی تعریفیں اور فقہی احکام.
آیتِ کریمہ کا حکم: ’’ورتل القرآن ترتیلاً‘‘
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:”وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا” (المزمل: 4) یعنی: "قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔”
یہ مختصر مگر نہایت جامع حکم، تلاوتِ قرآن کی روح، اسلوب، اور معیار کا تعین کرتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر اور مفہوم کی وضاحت صحابۂ کرامؓ اور ائمۂ تفسیر نے جس انداز سے کی ہے، وہ علم تجوید کی اہمیت اور اس کے واجب ہونے پر نہایت روشن دلیل ہے۔
حضرت علیؓ کا بیان:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں:”التجوید الحروف ومعرفة الوقوف”
یعنی: ترتیل کا مطلب ہے حروف کی درست ادائیگی اور وقف کے مقامات کی معرفت۔
(النشر في القراءات: 1/209)
علامہ جرجانیؒ کی تعریف:
اسی مفہوم کو علامہ سید شریف جرجانیؒ نے ان الفاظ میں بیان کیا:”الترتيل: رعاية مخارج الحروف وحفظ الوقوف” (التعریفات: ص 57)
یعنی: ترتیل یہ ہے کہ حروف کے مخارج کا لحاظ کیا جائے اور وقف کے مقامات کی حفاظت کی جائے۔
مفسرین کی تفاسیر:
علامہ نسفیؒ نے "مدارک التنزیل” میں آیتِ بالا کی تفسیر یوں فرمائی:”اِقرَأْ على تؤدةٍ بتبيين الحروفِ وحفظِ الوقوفِ وإشباعِ الحركات” (مدارک التنزیل: 3/556)
یعنی: قرآن کو اطمینان اور ٹھہراؤ سے پڑھو، حروف کی وضاحت کے ساتھ، وقف کی رعایت کرتے ہوئے، اور حرکات کو ان کا پورا حق دے کر۔
اسی طرح تفسیر کبیر میں کہا گیا:
"أي بَيِّنْهُ تَبْيِينًا، والتَّبْيِينُ لا يَتِمُّ بِأَنْ يُعَجِّلَ في القُرْآنِ، إِنَّما يَتِمُّ بِأَنْ يُبَيِّنَ جَميعَ الحُروفِ ويُوفِّيَ حَقَّهَا مِن الإِشْبَاعِ” (تفسیر کبیر: 30/797)
یعنی: قرآن کو وضاحت کے ساتھ پڑھو، اور یہ وضاحت صرف جلدی سے پڑھنے سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ اس وقت مکمل ہوتی ہے جب تمام حروف کو ان کے حقوق کے ساتھ ادا کیا جائے۔
ترتیل کی تکمیل: تجوید کا عملی نفاذ:
ان تمام تشریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ ترتیل اس وقت مکمل ہوتی ہے جب:
حروف کی ادائیگی ان کے مخارج و صفات کے مطابق ہو؛
وقف و وصل کے مقامات کی رعایت کی جائے؛
اور حرکات و سکنات، مد و قصر، غنہ و قلقلہ جیسے اجزاء کی درست ادائیگی ہو۔
قرآن کی تلاوت میں پائی جانے والی غلطیاں:
علماء تجوید اور فقہاء کرام نے تلاوت میں پائی جانے والی غلطیوں کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے:
لحن جلی (واضح غلطی):
یہ وہ غلطی ہے جس میں کسی حرف کو اس کے اصلی مخرج سے ہٹا دیا جائے، یا ایسی حرکت دی جائے جو اصل کے خلاف ہو۔ مثلاً:
حاء کی جگہ ہاء، یا قاف کی جگہ کاف پڑھنا؛
زبر کو زیر یا پیش سے بدل دینا؛
یا کسی حرف کو ساکن کر دینا۔
اس قسم کی غلطی کو لحن جلی کہا جاتا ہے، اور یہ قرآن کی تلاوت میں حرام ہے۔ اہلِ علم فرماتے ہیں: "وهو يكون في مبنى الكلمة كتبديل حرفٍ بآخر، أو في حركتها بتبديلها إلى حركةٍ أخرى أو سكونٍ، سواءٌ تغيّر المعنى أم لم يتغيّر، وهذا النوعُ يحرُمُ على من هو قادرٌ على تلافيه”
(الموسوعة الفقهية: 10/181)
لحن خفی (پوشیدہ غلطی):
یہ وہ غلطی ہے جو تلاوت کی خوبصورتی اور صحت کو متاثر کرتی ہے، لیکن اس سے معنی میں کوئی واضح تغیر واقع نہیں ہوتا۔ جیسے:
مد کو معمول سے زیادہ کھینچنا؛
غنہ، ترقیق، تفخیم یا قلقلہ میں کوتاہی؛
حرکات میں اس قدر زیادتی کہ فتحہ "الف” بن جائے یا ضمہ "واو”۔
ایسی صورت میں، اگر جان بوجھ کر غلط پڑھا جائے تو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور وعید کا اندیشہ ہے، جیسا کہ نہایۃ القول المفید میں ہے:
"أما اللحن الخفي فهو خطأ يطرأ على اللفظ، فيخل بعرف القراءة ولا يخل بالمعنى، وسُمي خفياً لأنه يختص بمعرفته علماء القرآن وأهل التجويد… بل فيه خوف العتاب والتهديد”
(نهایۃ القول المفید، الموسوعة الفقهية: 10/182)
تجوید کے درجات: واجب اور مستحب:
شیخ ملا علی قاریؒ تحریر فرماتے ہیں: "أن مخارج الحروف وصفاتها معتبرة في لغة العرب، فينبغي أن تُراعى جميعُ قواعدهم وجوباً فيما يتغير به المبنى ويفسد المعنى، واستحباباً فيما يُحسِّنُ به اللفظُ ويُستحسَن به النطقُ حال الأداء” (الموسوعة الفقهية: 10/179)
یعنی: الفاظ کے بگاڑ اور معنی کے فساد کو روکنے والی تجویدی قواعد کی رعایت واجب ہے، اور حُسنِ تلاوت اور تزئینِ لفظ کے لیے جو قواعد ہیں، وہ مستحب ہیں۔
نماز میں قراءت کی غلطیاں: فقہی تحقیقات
نماز میں تلاوت کے دوران اگر کوئی تجویدی یا نحوی غلطی واقع ہو جائے تو اس کے فقہی اثرات درج ذیل صورتوں میں بیان کیے گئے ہیں:
اگر غلطی سے معنی میں کوئی واضح تبدیلی نہ ہو
نماز فاسد نہیں ہوگی، مثلاً:
"الغُراب” کی جگہ "الغُبار” پڑھ دیا، یا
معمولی تغیر ہو جس سے عقیدہ متاثر نہ ہو۔
اگر غلطی سے ایسا تغیر ہو جائے جو کفر تک لے جائے
جیسے: "وعصى آدم ربَّه” میں *”آدمِ” (زیر) اور "رَبُّهُ” (پیش) کر دے؛
متقدمین کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے گی،
لیکن متاخرین کے نزدیک، اگر جان بوجھ کر نہ ہو تو فاسد نہیں، کیونکہ اکثر لوگ اعراب سے ناواقف ہوتے ہیں۔ (شامی: 2/393)
مد، سکون، تشدید میں غلطی
اگرچہ معنی بدل جائے، نماز فاسد نہیں ہوتی۔
(الدر المختار: 2/395)
ایک آیت کے بدلے دوسری آیت کا استعمال
اگر وقف کر کے پڑھا تو نماز فاسد نہیں ہوگی؛
اگر بغیر وقف کے وصل کیا اور معنی فاحش طور پر بدلا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ (فتاویٰ ہندیہ: 1/1080)
5. کلمات کی تبدیلی جس سے بڑا معنیٰ تغیر ہو
6. "فاعلین” کی جگہ "نافلین”,
"فی حجیم” کی جگہ "فی جنۃ”,
"أشقی” کی جگہ "أتقی”
یہ سب صورتیں اگر معنی میں صریح تغیر پیدا کریں، تو نماز فاسد ہو جائے گی۔
(عالمگیری: 1/11)
قرآن کی تلاوت محض لسانی عمل نہیں، بلکہ ایک روحانی، قلبی اور فکری عمل ہے۔ تجوید، ترتیل، اور تبیین صرف الفاظ کی درستگی نہیں بلکہ معنی کی حفاظت اور اللہ کے کلام کی عزت و عظمت کا مظہر ہے۔
جس طرح قرآن کو بغیر وضو چھونا جائز نہیں، اسی طرح تجوید سے عاری تلاوت، قرآن کے مقامِ نزول سے انحراف ہے۔ فقہی احکام، اصولِ تجوید، اور روایاتِ قراءت سب اس پر متفق ہیں کہ:
"من لم يُجَوِّد القرآن فقد أخطأ في التلاوة، وخالف أمر الله، وأعرض عن سُنّة نبيّه، وكان من الغافلين.”
تلاوتِ قرآن میں تجوید و ترتیل کی رعایت: فقہی جزئیات اور علمی تنبیہات
فقہی تفصیلات: لحن، غلطیاں، اور نماز کی صحت و فساد:
قرآنِ کریم کی تلاوت میں تجوید کی رعایت محض حسنِ قراءت کا ذوقی پہلو نہیں بلکہ یہ ایک شرعی تقاضا ہے، خصوصاً نماز میں اس کی قراءت ہو۔ فقہاء کرام نے قرآنی تلاوت میں پائی جانے والی ممکنہ غلطیوں کو متعدد اقسام میں تقسیم کیا ہے، جن کا اثر نماز کی صحت و فساد پر پڑتا ہے۔ ان میں سے چند اہم اور نازک مسائل درج ذیل ہیں:
کلمہ کی تبدیلی سے کفریہ معنی کا صدور
اگر کوئی شخص قرآن کی ایسی آیت کو اس انداز سے پڑھے کہ معنی میں کفریہ مفہوم پیدا ہو جائے، جیسے "إنا كنا غافلين” کو "إنا كنا فاعلين” کے بجائے پڑھ دے، تو فقہائے کرام، بالخصوص امام ابو یوسفؒ کے صحیح قول کے مطابق نماز فاسد ہو جائے گی، کیونکہ یہ معنوی تحریف ہے جو کفر تک لے جاتی ہے۔ (فتاویٰ ہندیہ: 1/80، شامی: 2/394)
حرف کی تبدیلی اور اس کے فقہی اثرات:
اگر ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدل دیا گیا، اور اس سے معنی میں فرق نہ آیا، جیسے "المسلمون” کی جگہ "المسلمین”, تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔
لیکن اگر "صالحات” کو "طالحات” کہہ دیا، یعنی طا اور صاد کے فرق سے معنی بالکل بدل گیا، تو نماز فاسد ہو جائے گی۔
البتہ جن حروف میں امتیاز بہ آسانی ممکن نہ ہو، جیسے:
صاد اور سین،
ضاد اور ظاء،
طا اور تا،
ان کے درمیان اگر غلطی غیر اختیاری ہو، تو اکثر مشائخ کے نزدیک نماز فاسد نہ ہوگی۔ اگر جان بوجھ کر بدلا تو قاضی ابو الحسنؒ کے مطابق نماز فاسد ہو جائے گی، اور اگر بے ساختہ یا عدمِ تمیز کی وجہ سے ہوا ہو تو نماز باقی رہے گی۔
(فتاویٰ ہندیہ: 1/79، شامی: 2/394)
کسی حرف یا کلمہ کا اضافہ:
اگر قرآن کی تلاوت میں کسی حرف یا کلمہ کا اضافہ ہوا، مگر معنی میں فرق نہ آیا، جیسے "ونهى عن المنكر” کے ساتھ "وله” کا اضافہ، تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔
لیکن اگر اضافہ سے معنی تبدیل ہو گیا، جیسے "مثاني” کو "مثانين”, یا "وزرابي” کو "وزرابيب”, تو نماز باطل ہو جائے گی، کیونکہ معنی بدلنے سے کلامِ الٰہی کی تحریف لازم آتی ہے۔
(عالمگیری: 1/79، شامی: 2/394)
کسی حرف یا کلمہ کا حذف:
اگر کوئی حرف یا کلمہ چھوٹ جائے اور معنی متاثر نہ ہو، جیسے "لقد جاءهم رسلنا بالبينات” میں تاء گر جائے، تو نماز درست رہے گی۔
لیکن اگر کسی اہم کلمہ کا حذف ایسا ہو کہ مفہوم بدل جائے، مثلاً "لا يؤمنون” میں "لا” حذف کر دیا جائے، یا "على الكافرين غير يسير” میں "غیر” چھوڑ دیا جائے، تو نماز فاسد ہو جائے گی۔
البتہ اگر حذف عربی لغت کے معروف اسلوب ایجاز یا ترخیم کے تحت ہو، جیسے:
"ونادوا يا مال” کی جگہ "ونادوا يا مالك”,
تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔
(فتاویٰ ہندیہ: 1/79، شامی: 2/396)
تکرارِ کلمہ:
اگر کوئی کلمہ بلا قصد مکرر ہو گیا، جیسے "رب رب العالمين”, اور اس سے معنی نہ بدلا، تو نماز درست ہے۔
لیکن اگر ارادۃً اضافت کی نیت سے دہرا دیا، تو یہ عمل تحریف شمار ہوگا اور نہ صرف نماز فاسد ہو گی بلکہ فقہاء کے نزدیک کفر بھی لازم آتا ہے۔
(شامی: 2/397)
علم تجوید: فرض کفایہ اور فرض عین:
علم تجوید کا سیکھنا اور سکھانا شریعت میں فرض کفایہ ہے، جیسا کہ نهایۃ القول المفید میں صراحت کے ساتھ آیا: "لا خلاف في أن الاشتغال بعلم التجويد فرض كفاية”
اور اس علم کے وہ اصول جن سے لحن جلی اور لحن خفی سے بچا جا سکے، ان کا جاننا ہر فرد کے لیے فرض عین ہے، کیونکہ یہی ضوابط نماز کی درستگی اور قرآن کی حرمت کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔
عصری صورت حال: علمی بیداری اور عملی کوتاہی:
اس میں شک نہیں کہ گزشتہ چند دہائیوں میں حفظِ قرآن، تجوید، اور دینی تعلیم کے رجحان میں عمومی اضافہ ہوا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض مدارس اور دینی مراکز میں تجوید و قراءت کی تدریس کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو ہونی چاہیے۔ اس غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کو صحیح پڑھنے والے اہلِ فن کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نمازِ تراویح اور تیز قراءت کا رجحان:
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ رمضان المبارک کی راتوں میں بعض حفاظِ کرام تراویح میں قرآنِ کریم کو اس قدر تیز رفتاری سے پڑھتے ہیں کہ نہ صرف سامعین کے لیے سمجھنا دشوار ہوتا ہے، بلکہ تجوید و ترتیل کے اصول بھی پامال ہو جاتے ہیں۔ ایسے حفاظ و ائمہ کرام کے لیے یہ تنبیہ بے حد ضروری ہے کہ:
تجوید کی رعایت کرنا شرعی ذمہ داری ہے:
امام، مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: "الإمام ضامن”
لہٰذا ائمہ و قراء کو چاہیے کہ قرآنی تلاوت کو محض "اختتام” تک پہنچانے کی نہیں بلکہ "ادائے امانت” کی نیت سے پڑھیں، تاکہ ان پر رب کا فضل ہو اور مقتدیوں کی نماز بھی مقبول ہو۔
آخر میں ذمہ دار علماء، ائمہ، مدارس و جامعات کے منتظمین اور قراء کرام سے دردمندانہ اپیل ہے کہ علم تجوید اور اس کی عملی رعایت کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیں۔ یہ فن نہ صرف قرآنی خدمت ہے، بلکہ نماز، دین، عقیدہ اور امت کی روحانی حفاظت کی ضمانت بھی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے