कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ کے مریض دوا کو ترستے، زندگی دم توڑ رہی ہے، محاصرے میں سسکتی انسانیت کا نوحہ

غزہ :6؍جولائی:بیس سال سے شوگر جیسے خاموش قاتل کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے بزرگ فلسطینی ابو احمد البنا آج بے بسی، محرومی اور اذیت کا زندہ استعارہ ہیں۔ ان کی زندگی اب روزانہ کی بنیاد پر انسولین کے انجیکشنز سے جڑی ہوئی ہے، لیکن وہ دوا جو ان کی سانسوں کی ڈور ہے، قابض اسرائیل کے سنگدل محاصرے کی نذر ہو چکی ہے۔یہ سفیدریش نحیف و نزارجسم جو کبھی ایک نرس تھا اب خود ایک بے بس مریض ہے۔ وہ کہتا ہیکہشوگر سے لڑنا نہیں، اس کو سمجھنا ہوتا ہے، لیکن جب دوا چھن جائے، تو مرض قاتل بن جاتا ہے۔ابو احمد کا جسم لمحہ بہ لمحہ ٹوٹ رہا ہے۔ انگلیوں کی پوروں سے لمس کا احساس چھن گیا ہے، پاں کی حرکت بے قابو ہو گئی ہے، آنکھوں کی بینائی ماند پڑتی جا رہی ہے اور دل ہر دن یہ سوال دہراتا ہے کہ زندہ کیوں ہوں؟ وہ وٹامن بی اور اعصابی دواں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ محض گولیاں نہیں، یہ ان کی زندگی کی رسی ہیں جو اب ہاتھ سے چھوٹ چکی ہے۔محاصرہ صرف دواں کو نہیں روکتا، یہ زندگی کی رمق کو بھی بند کر دیتا ہے۔ رفح سے بیت حانون تک کوئی دوا خانہ ایسا نہیں جہاں سے دائمی بیماریوں کے مریضوں کو سکھ کا سانس ملے۔ قابض اسرائیل کے سنہ2023 سے مسلط کردہ محاصرے نے دوا، غذا، پانی، روشنی، ہر امید چھین لی ہے۔ابو احمد نے پچھلے 21 مہینوں میں بیس کلو وزن کھو دیا ہے۔ اب وہ چل سکتے ہیں، نہ کام کر سکتے ہیں۔ دن بھر بھوک، کمزوری اور انسولین کی غیرموجودگی میں شوگر کا لیول خطرناک حد تک گر جاتا ہے۔ شدید تھکن، پسینہ اور نقاہت کی حالت میں وہ زندگی اور موت کے درمیان معلق ہو جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں "یہ سب کچھ صرف میرے ساتھ نہیں غزہ کے ہر مریض کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہم وقت پر کھا نہیں سکتے، دوا میسر نہیں اور انسولین جو کہ خون میں شکر کو جذب کرنے کا ذریعہ ہے، وہ بھی خواب بن چکی ہے۔مرکز المیزان کے مطابق غزہ میں 3 لاکھ 50 ہزار افراد دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جنہیں مسلسل اور حساس طبی دیکھ بھال درکار ہے۔ ان میں 71 ہزار سے زائد صرف شوگر کے مریض ہیں۔ لیکن یہاں ہر روز زندگی کا چراغ ایک ایک کر کے گل ہو رہا ہے۔
دوا ایک، مرض ہزار
ناصر ایوب ایک اور زندہ لاش، دل کے مرض اور بلند فشار خون میں مبتلا ہیں۔ ان کے دو بیٹے بھی اسی عذاب کا شکار ہیں۔ ایک بیٹا صرف پندرہ برس کا ہے، جنگ کے پہلے سال ہی اس میں بیماری کی تشخیص ہوئی۔ وہ گلوگیر آواز میں کہتے ہیں کہ "جب میں نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے میں یہ مرض دیکھا میرا دل بیٹھ گیا۔ یہ بیماری میری صحت چاٹ گئی ہے، اب میرے بچوں کا جسم نوچنے آئی ہے۔ناصر کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی جانب سے فراہم کردہ دوا سب کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں۔ "کسی کو فائدہ دیتی ہے، کسی کو نقصان۔ اور فارمیسیاں تو اب خالی صندوق بن چکی ہیں جہاں امید بھی نہیں جا سکتی۔ان کا کہنا ہے کہ کنسرواور ڈبہ بند خوراک نے بلڈ پریشر کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ "ہم نے دوا کی تلاش چھوڑ دی ہے، بس موت کا انتظار باقی ہے۔
حاملہ عورتیں، زخمی، بچے. سب سسک رہے ہیں
غزہ کی وزارت صحت چیخ چیخ کر دہائی دے رہی ہے کہ ہسپتالوں میں دوائیں ختم ہو چکی ہیں اور قابض اسرائیل دواں کی فراہمی بند کر کے ایک نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مریض، بچے، بزرگ، مائیں سب بے یار و مددگار ہیں۔وزارت کے شعبہ ادویات کے مطابق ہسپتالوں میں 47 فیصد ادویات ختم ہو چکی ہیں۔ طبی آلات اور سامان کی قلت 65 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریضوں کے لیے دوا ہے، نہ علاج، نہ سکون۔
بچوں کی انسولین تک میسر نہیں
ڈاکٹر بسام زقوت کے مطابق اب بعض دوائیں مکمل طور پر ناپید ہو چکی ہیں۔ بچوں کے لیے انسولین، دل کی دوائیں، وٹامن بی، خون پتلا کرنے والی گولیاں، حاملہ خواتین کے لیے آئرن سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔اعصابی مریض، زخموں کے درد سے تڑپتے لوگ، وہ جن کے ہاتھ پاں کاٹ دیے گئے رات بھر جاگتے ہیں۔ نیند آتی ہے، نہ سکون، صرف درد ہے اور ایک نہ ختم ہونے والی اذیت۔زقوت کہتے ہیں "اب مریض دوا کے بغیر جیتے ہیں، یا شاید مرتے ہیں۔ خوراک اور دوا کے بغیر یہ بیماری اب ناقابلِ واپسی بن چکی ہے۔ جنہیں بچایا جا سکتا تھا، وہ بھی دائمی مریض بن چکے ہیں۔
قابض اسرائیل کی وحشیانہ پالیسی، نسل کشی کی طرف بڑھتا ہوا قدم
غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے بتایا کہ 229 قسم کی دوائیں مکمل ختم ہو چکی ہیں۔ 597 اقسام کا طبی سامان بھی دستیاب نہیں رہا۔ کینسر خون کی بیماریاں، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق دوائیں، ویکسینز سب ختم۔صرف 58 اقسام کی دوائیں چند دن کی مہمان ہیں۔ اور جب یہ بھی ختم ہو جائیں گی، تو شاید دوا کی جگہ صرف کفن باقی رہ جائے گا۔طبی سامان میں دل کی جراحی، ہڈیوں کے آپریشن، آنکھوں کے علاج، گردے کی صفائی اور ایمرجنسی کی اشیا میں 99 سے 10 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔ گویا ہر طرف چیخ، کراہ، اور بے بسی کا راج ہے۔یہ صرف دوا کی قلت نہیں، انسانیت کی اجتماعی موت ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے