कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دوڑ

تحریر:خان آفرین فاطمہ
ریسرچ سکالر
اورنگ آباد مہاراشٹر

صبح کے آٹھ بجے تھے اور شہر نے آنکھیں اس طرح ملیں جیسے نیند سے جاگنے کا دل بالکل نہ ہو۔ مگر شور ایسا کہ جسے خاموشی یہاں کبھی تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمرہ، بی ایس سی کی طالبہ تھی ۔
آج کالج جانے میں بہت دیر ہوں رہی ہے میمی آپ نے مجھے جلدی کیوں نہیں اٹھایا؟؟؟؟؟؟
نمرہ بڑبڑاھی
کالج کے لیے تیار ہو کر اس طرح بس اسٹاپ کی طرف بھاگی جیسے فزکس کا پیپر دینے جا رہی ہو اور وہ بھی بغیر تیاری کے۔ ایک ہاتھ میں موبائل، دوسرے میں آدھا کھایا سینڈوچ، اور کانوں میں نئے نئے لگوائے ہوئے ائیر پوڈز۔
راستے میں ایک ضعیف خاتون، عرفِ محلہ "دادی واکر والی”، لاٹھی تھامے سڑک پار کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ وہ جب بھی چلتی تھیں، لگتا تھا جیسے دنیا کی سب سے سست لو مووی چل رہی ہو۔ نمرہ نے ایک لمحے کو رکنے کا سوچا، پھر پیچھے سے آتی موٹر سائیکل نے ہارن مار کر ایسا ڈرایا جیسے گاڑی نہیں، ٹرین آ رہی ہو۔
اور تیزی سے نکل گئی۔
اسی سڑک کے کونے پر جمیل عرف "پالش بابا” بیٹھا تھا۔ اُس کا ماننا تھا کہ جوتے چمکانے سے قسمت بھی چمکتی ہے، اگر چمکنے پر آئے تو۔ ایک نابینا بزرگ آئے، لاٹھی ٹکا کر بولے،
بیٹا، سڑک پار کرا دے؟”
جمیل نے اک نظر ان پر ڈالی، پھر گاہکوں کی لائن پر۔ دل میں حساب لگایا: "ایک بزرگ، پانچ جوتے… قسمت کل بھی چمک سکتی ہے!”
بولا، "بابا جی، ابھی رش ہے۔
بزرگ نے چھڑی آگے کی اور چل دیے، جبکہ جمیل نے اگلا جوتا ایسے چمکایا جیسے کوئی قیمتی پتھر ۔‌‌۔
اسی شہر میں عمر تھا—کار میں بیٹھا، آفس کے لیے نکلنے والا، جو ہر روز قسم کھاتا تھا کہ آج سکون سے نکلے گا، لیکن سگنل پر آ کر ایسے پھنستا تھا جیسے مچھلی جال میں۔ فون کان پر، آنکھ گھڑی پر، اور زبان شکایتوں پر۔
ایک بچہ اچانک سڑک پر آیا، عمر نے بریک ماری۔ دل کانپ گیا، کار بھی۔ شیشہ نیچے کر کے چلایا،
اندھا ہے کیا؟ بھاگو یہاں سے!”
بچہ کانپ گیا، اور ایسے بھاگا جیسے اولمپک کا دوڑ رہا ہو۔
شام کو نمرہ گھر پہنچی۔ ماں نے خبر سنائی،
بیٹا، دادی واکر والی آج سڑک پار کرتے ہوئے… بس، اللہ کو پیاری ہو گئیں۔”
نمرہ کا سینڈوچ حلق میں اٹک گیا!!!!!!
آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ‌!!!!
ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں:
تیز رفتار زندگی کے سبب شہر میں انسانیت کی رفتار صفر ہو چکی ہے۔ نابینا شخص کا حادثہ، اور بچے پر نفسیاتی اثرات۔ مگر شہر کے لوگوں کو فرصت نہیں۔”

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے