कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یکساں سول کوڈ: آئینی تقاضا یا سیاسی ایجنڈا؟

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۔۔9934933992

ہندوستان کی جمہوری سیاست میں بعض موضوعات ایسے ہوتے ہیں جو وقتاً فوقتاً انتخابی منظرنامے پر اس شدت کے ساتھ ابھرتے ہیں کہ وہ ملک کے بنیادی مسائل پر بھی غالب آ جاتے ہیں۔ یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code) انہی موضوعات میں سے ایک ہے، جس نے گزشتہ چند برسوں میں آئینی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل کی ہے۔ حالیہ دنوں مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کی جانب سے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے عزم نے اس بحث کو نئی توانائی عطا کی ہے۔ حکومت اسے آئین کے آرٹیکل 44 کی تکمیل، صنفی مساوات اور قانونی یکسانیت کی سمت ایک تاریخی پیش رفت قرار دے رہی ہے، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ صرف قانونی اصلاح کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی موضوع بھی ہے جسے انتخابی سیاست میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
یہ بحث ایسے وقت میں زور پکڑ رہی ہے جب ملک بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے معاشی بحران، تعلیمی پسماندگی، صحت کی ناکافی سہولتوں اور معاشی ناہمواری جیسے سنگین مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا واقعی یکساں سول کوڈ آج ہندوستان کی سب سے بڑی آئینی ضرورت ہے، یا پھر یہ ایک ایسا سیاسی بیانیہ بن چکا ہے جس کے ذریعے عوامی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا کر ایک حساس سماجی موضوع کی طرف مرکوز کی جا رہی ہے؟
اس سوال کا جواب سیاسی جذبات یا جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر آئین، عدالتی نظائر، دستور ساز اسمبلی کی بحثوں اور ہندوستان کے تکثیری سماجی ڈھانچے کی روشنی میں تلاش کرنا ہوگا۔ ہندوستان کی بنیاد مذہبی یا ثقافتی یکسانیت پر نہیں بلکہ تنوع پر استوار ہے۔ مختلف مذاہب، زبانیں، تہذیبیں اور روایات اس ملک کی اجتماعی شناخت کا حصہ ہیں۔ آئین سازوں نے اسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسا دستور مرتب کیا جس میں مساوات اور مذہبی آزادی کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ باہم مربوط اقدار کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اسی لیے یکساں سول کوڈ کی بحث صرف قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ مذہبی آزادی، آئینی توازن اور قومی ہم آہنگی سے بھی تعلق رکھتی ہے۔
یکساں سول کوڈ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور نان و نفقہ جیسے عائلی معاملات میں مذہب کی بنیاد پر الگ الگ قوانین کے بجائے تمام شہریوں پر ایک ہی قانون نافذ ہو۔ اس تصور کا آئینی حوالہ آرٹیکل 44 ہے، جو ریاست کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ مناسب حالات میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی کوشش کرے۔ تاہم یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ آرٹیکل 44 بنیادی حقوق میں شامل نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس آرٹیکل 25 مذہبی آزادی، آرٹیکل 26 مذہبی اداروں کے انتظامی حقوق اور آرٹیکل 29 و 30 اقلیتوں کی ثقافتی اور تعلیمی شناخت کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ چنانچہ آئین کا تقاضا یہی ہے کہ ان تمام دفعات کو ایک دوسرے کی روشنی میں سمجھا جائے، نہ کہ کسی ایک دفعہ کو بنیاد بنا کر باقی آئینی ضمانتوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔
دستور ساز اسمبلی کی کارروائی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ یکساں سول کوڈ کا سوال آزادی کے بعد بھی اتفاقِ رائے کا حامل نہیں تھا۔ کے۔ ایم۔ منشی اور بعض دوسرے اراکین کا خیال تھا کہ ایک جدید جمہوری ریاست کو بالآخر مشترک عائلی قانون کی طرف پیش رفت کرنی چاہیے، جبکہ مسلم اراکین، خصوصاً محمد اسماعیل، اس بات پر زور دیتے تھے کہ شخصی قوانین مذہبی آزادی کا حصہ ہیں اور ان میں زبردستی مداخلت آئین کی روح سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے بھی نہایت متوازن موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ ریاست کے پاس قانون سازی کا اختیار ہوگا، لیکن کسی بھی اصلاح کو عوامی قبولیت اور سماجی آمادگی کے بغیر نافذ کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔ یہی تاریخی حقیقت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ آرٹیکل 44 کو بنیادی حقوق کے بجائے رہنما اصولوں میں شامل کیا گیا تاکہ مستقبل میں حالات کے مطابق اس پر غور کیا جا سکے۔
آج کی سیاسی بحث میں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس تاریخی پس منظر کا ذکر بہت کم ہوتا ہے۔ عوام کے سامنے اکثر یہ تاثر پیش کیا جاتا ہے کہ یکساں سول کوڈ نافذ ہوتے ہی تمام قانونی پیچیدگیاں اور سماجی ناانصافیاں ختم ہو جائیں گی، حالانکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر ریاست کا اصل مقصد مساوات قائم کرنا ہے تو یہ سوال بھی ناگزیر ہے کہ کیا ملک میں سب کے لیے یکساں تعلیمی نظام، معیاری طبی سہولتیں، مساوی معاشی مواقع اور بروقت انصاف کی ضمانت موجود ہے؟ جب بنیادی شہری سہولتوں میں ہی نمایاں فرق برقرار ہے تو صرف شخصی قوانین کو مساوات کا پیمانہ قرار دینا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
یکساں سول کوڈ کے حامی حلقے عموماً سپریم کورٹ کے چند اہم فیصلوں کا حوالہ دیتے ہیں، لیکن ان فیصلوں کا صحیح قانونی تناظر بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔ 1985 کے شاہ بانو مقدمے میں عدالتِ عظمیٰ نے مطلقہ مسلم خاتون کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے آرٹیکل 44 کا حوالہ ضرور دیا، مگر حکومت کو یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوئی ہدایت نہیں دی۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے مسلم ویمن (پروٹیکشن آف رائٹس آن ڈائیورس) ایکٹ، 1986 منظور کیا، جس سے یہ اصول مزید واضح ہوا کہ قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے اور عدالتیں آئینی تشریح کے ذریعے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
اسی طرح 1995 کے سرلا مدگل مقدمے میں عدالت نے مذہب تبدیل کرکے دوسری شادی کے رجحان پر تشویش ظاہر کی اور مختلف شخصی قوانین کے درمیان موجود تضادات کی نشاندہی کی، لیکن وہاں بھی پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار کو بنیادی اہمیت دی گئی۔ بعد ازاں سائرہ بانو مقدمے میں سپریم کورٹ نے ایک مجلس میں تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا، تاہم اس فیصلے کو پورے مسلم پرسنل لا کے خاتمے یا یکساں سول کوڈ کے لازمی نفاذ سے جوڑنا درست قانونی تعبیر نہیں ہوگی۔ ان تمام فیصلوں کا مجموعی پیغام یہی ہے کہ اصلاحات کی گنجائش موجود ہے، لیکن ان کا راستہ آئینی تقاضوں، قانون سازی اور سماجی قبولیت سے ہو کر گزرتا ہے۔
اگر یکساں سول کوڈ کا مقصد واقعی تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون نافذ کرنا ہے تو پھر ایک بنیادی سوال خود اس تصور کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اتراکھنڈ میں نافذ کیے گئے یکساں سول کوڈ میں بعض قبائلی برادریوں کو اس کے دائرۂ کار سے باہر رکھا گیا ہے، جبکہ آئین کی چھٹی جدول کے تحت شمال مشرق کی متعدد ریاستوں کے قبائل کو بھی اپنے روایتی قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ اگر قانون کی بنیاد واقعی مساوات اور یکسانیت ہے تو پھر مختلف طبقات کے لیے الگ الگ استثنا کی گنجائش کیوں رکھی گئی؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا اب تک کوئی واضح اور ہمہ گیر جواب سامنے نہیں آسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں استثنا شروع ہوتا ہے، وہاں "یکسانیت” کا تصور بھی بحث طلب ہو جاتا ہے۔
اسی لیے یکساں سول کوڈ کی بحث کو محض اکثریت اور اقلیت کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے آئین کی مجموعی روح کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ قانون کی اصل طاقت اس کے غیر جانب دارانہ اطلاق اور عوامی اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے، نہ کہ اس کے انتخابی استعمال میں۔ اگر کسی قانون کے نفاذ سے ملک کے کسی طبقے میں اپنی مذہبی یا ثقافتی شناخت کے بارے میں خدشات پیدا ہوتے ہیں تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خدشات کو سنجیدگی سے سنے اور مکالمے کے ذریعے اعتماد بحال کرے۔
مغربی بنگال میں نئی حکومت کی جانب سے یکساں سول کوڈ کو ترجیحی ایجنڈے میں شامل کیے جانے کے بعد یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور آئینی یکسانیت کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا، لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ملک اس وقت بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے معاشی بحران، صنعتی سست روی، تعلیمی ابتری اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری جیسے سنگین مسائل سے بھی دوچار ہے۔ ایسے حالات میں عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا ان مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ یکساں سول کوڈ کو بھی اسی درجے کی فوری ترجیح حاصل ہونی چاہیے؟
یہ بھی درست ہے کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی شخصی قانون میں ایسا پہلو موجود ہو جو آئین کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو تو اس پر غور اور اصلاح ہونی چاہیے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ کیا اصلاح کا واحد راستہ یکساں سول کوڈ ہی ہے، یا مختلف شخصی قوانین میں متعلقہ برادریوں کی مشاورت، عدالتی رہنمائی اور پارلیمانی قانون سازی کے ذریعے بھی مطلوبہ تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں؟ ہندوستان کا قانونی اور سماجی تجربہ دوسری رائے کی تائید کرتا ہے۔
یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ شخصی قوانین صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہیں۔ ہندو، عیسائی، پارسی اور دیگر مذہبی برادریوں کے اپنے عائلی قوانین بھی موجود ہیں، جن میں مختلف ادوار میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ ہندو کوڈ بل کی منظوری بھی طویل بحث، شدید سیاسی اختلاف اور وسیع سماجی مشاورت کے بعد ممکن ہو سکی تھی۔ اس تاریخی تجربے سے یہی سبق ملتا ہے کہ پائیدار اصلاحات وہی ہوتی ہیں جو سماجی قبولیت کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں، نہ کہ محض قانونی قوت کے ذریعے نافذ کر دی جائیں۔
اس پورے مباحثے میں ایک بنیادی سوال مسلسل اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر ریاست کا مقصد حقیقی مساوات قائم کرنا ہے تو کیا مساوات کا دائرہ صرف شخصی قوانین تک محدود رہنا چاہیے؟ آج بھی ملک کے کروڑوں شہری معیاری تعلیم، بہتر طبی سہولت، صاف پینے کے پانی، باوقار روزگار، فوری انصاف اور سماجی تحفظ جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان ترقی کا فرق مسلسل بڑھ رہا ہے، نوجوان روزگار کے بحران سے دوچار ہیں، کسان معاشی دباؤ جھیل رہے ہیں اور متوسط طبقہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کیا یکساں سول کوڈ ان مسائل کا کوئی براہِ راست حل فراہم کرتا ہے یا پھر یہ ایک ایسا سیاسی موضوع بن چکا ہے جو ہر انتخاب کے ساتھ ازسرِ نو زندہ ہو جاتا ہے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یکساں سول کوڈ پر بحث نہیں ہونی چاہیے یا اصلاحات کی ضرورت سے انکار کیا جائے۔ جمہوری معاشرے میں ہر آئینی مسئلے پر سنجیدہ، شائستہ اور مدلل بحث ہونی چاہیے۔ لیکن اس بحث کی بنیاد سیاسی نعرے، انتخابی مصلحت یا مذہبی جذبات نہیں بلکہ آئینی دیانت، قانونی استدلال اور سماجی حقیقت ہونی چاہیے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کی قوت سمجھنا ہی ایک بالغ نظر معاشرے کی علامت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، اپوزیشن، آئینی ماہرین، قانون دان، خواتین کی نمائندہ تنظیمیں، مذہبی رہنما اور سول سوسائٹی اس حساس موضوع پر کھلے ذہن کے ساتھ بامعنی مکالمہ کریں۔ قانون سازی کا عمل اعتماد، شفافیت اور اتفاقِ رائے پر استوار ہونا چاہیے۔ ہندوستان جیسے متنوع معاشرے میں وہی قانون پائیدار ثابت ہوتا ہے جو صرف پارلیمنٹ کی منظوری ہی نہیں بلکہ عوام کا اعتماد بھی حاصل کرے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سوال یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا نہیں بلکہ اس کے طریقۂ کار، آئینی جواز اور سماجی قبولیت کا بھی ہے۔ اگر اس کا مقصد واقعی انصاف، مساوات اور خواتین کے حقوق کا تحفظ ہے تو اس کے لیے سب سے مؤثر راستہ آئینی مکالمہ، وسیع عوامی مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے ہے، نہ کہ سیاسی کشمکش یا انتخابی صف بندی۔ لیکن اگر یہ موضوع ہر انتخاب میں عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے، مذہبی تقسیم کو گہرا کرنے یا سیاسی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنتا رہا تو یہ خدشہ برقرار رہے گا کہ یکساں سول کوڈ اپنی آئینی اہمیت سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی اور انتخابی ہتھیار کے طور پر دیکھا جاتا رہے گا۔
ہندوستان کی جمہوریت کی اصل طاقت اس کے آئین، اس کی تکثیری شناخت اور مختلف طبقات کے درمیان قائم باہمی اعتماد میں مضمر ہے۔ یہی اعتماد کسی بھی قانون کی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔ اس لیے ہر ایسی اصلاح، جو کروڑوں شہریوں کی مذہبی، سماجی اور خاندانی زندگی سے براہِ راست متعلق ہو، اسے سیاسی عجلت کے بجائے آئینی بصیرت، سماجی حساسیت اور قومی مفاد کے وسیع تر تناظر میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ یہی راستہ نہ صرف آئین کے وقار کے مطابق ہے بلکہ ہندوستان کی جمہوری روح کا بھی حقیقی تقاضا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے