कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیوں؟ کیا؟ اور کیسے:قسط :2

از : ظفر ہاشمی ندوی
سابق فیملی کونسلر دبئی کورٹ
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

پہلی قسط میں ہم سب نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انسانوں کے ہر عمل کو کیوں اور کیا کے لحاظ سے سمجھنے اور عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ مسلمان کا ہر عمل قرآن و حدیث کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
آج تیسرے سوال (کیسے) کو سمجھنے اور عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس سوال کا انتہائی مختصر اور بے حد مناسب جواب (کلمہ طیبہ کے دوسرے حصہ محمد رسول اللہ) صلی اللہ علیہ و سلم میں چھپا ہوا ہے۔
تفصیل اس مختصر جواب کی یہ ہے کہ ایک مسلمان کے سارے اعمال دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ پہلا حصہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنا ہے اور دوسرا حصہ سارے بندوں کے حقوق ادا کرنا ہے۔
اب کسی مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ زبان سے محمد رسول اللہ کہے مگر عمل میں کسی اور کی عادت، تہذیب اور چال چلن اختیار کرے۔ مثال کے طور پر غیروں کی طرح حلال حرام کی پروا کیے بغیر کھائے پیے، ان کی طرح فیشن کے نام پر غیر اسلامی کپڑے پہنے، برتھ ڈے منائے، ڈانس کرے، اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو پردہ نہ کرائے اور شرمناک کپڑے پہنائے اور بے غیرتی کی حد یہ ہے کہ فیشن کے نام پر وہ بھی خوش اور آپ بھی خوش۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة۔ اے ایمان والو! تمہارے لیے اللہ کا رسول بہترین نمونہ ہے۔ یہاں اسوہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے کسی کے ہر عمل کو سامنے رکھ کر خود ویسا ہی عمل کرنا۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک زندگی میں کافروں سے لے کر ہر مسلمان تک کا ہر حق ادا کیا ہے۔ اور ہم مسلمان خونی رشتوں کے حقوق ادا نہیں کر پاتے ہیں تو دوسرے مسلمانوں اور کافر انسانوں کا کیا حق ادا کریں گے۔ اللہ اور رسول کے بعد انسانوں میں سب سے پہلے ماں باپ کا حق ہے پھر ان سے متعلق تمام رشتہ داروں کا، پھر سگے بھائی و بہنوں کا، پھر بیوی بچوں کا، پھر پڑوسیوں کا، پھر محلہ والوں کا، پھر شہر کے تمام انسانوں کا اور اس طرح آگے بڑھتے بڑھتے دنیا کے تمام مسلمانوں اور غیر مسلموں کا۔
بدقسمتی سے ہر مسلمان نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کرنے میں ناکام ہے اور انسانوں کی دنیا میں صرف خود غرض بنا ہوا ہے۔
ان تمام باتوں کی روشنی میں قرآن و حدیث کی نیچے دی گئی ہدایات کو پڑھیے اور اس ترازو میں اپنے آپ کو تولتے رہیے تاکہ مفت کی جنت کے دھوکے سے بچ سکیں:
حلال و حرام: سورۂ مائدہ آیت نمبر 3:
تم پر حرام کیا گیا ہے مردہ جانور اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے نام کے علاوہ کسی اور کا نام لے کر ذبح کیا جائے اور چوٹ لگنے سے مرنے والا جانور اور جو گر کر مر جائے اور جو کسی کے سینگ لگنے سے مر جائے اور جس جانور کو درندہ کھا کر چھوڑ دے سوائے اس جانور کے جسے تم ذبح کر دو، وہ جانور بھی حرام ہے جو بتوں کے نام پر ہو (اس میں کسی زندہ مردہ پیر یا بڑے سے بڑے صوفی کا نام بھی شامل ہے)۔ یعنی اللہ رب العزت کے نام کے علاوہ کسی کا نام لے کر ذبح کرنا حرام ہے۔
سود لینا اور دینا: سورۂ بقرہ آیت نمبر 275، 276:
جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ ایسے ہیں جیسے وہ شخص جس پر شیطان سوار ہو چکا ہو۔ یہ اس وجہ سے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تجارت کرنا سود کی طرح ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس تک اس کے رب کی نصیحت پہنچ گئی اور وہ اس غلط کام سے رک گیا تو جو پہلے ہو چکا، وہ اس کے لیے ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اور جو پھر بھی وہی کرے گا تو ایسے لوگ ہی جہنمی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ سود کو برباد کر دیتا ہے اور تجارت کو بڑھاتا رہتا ہے۔
اچھے کاموں کا حکم: سورۂ نحل آیت نمبر 90، 91:
بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے انصاف کرنے کا، احسان کا، رشتہ داروں کا حق ادا کرنے کا۔ اور بے حیائی اور ہر برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ تمہیں نصیحت کر رہا ہے تاکہ تم اس پر عمل کرو۔
اور جب اللہ سے عہد کرو (یعنی اس کے نام سے قسم کھاؤ) تو اسے پورا کرو، کیونکہ تم نے اس عہد پر اللہ کو گیارنٹر بنایا ہے۔
دوستی اور دشمنی:
اس دن (قیامت) آپس میں انتہائی گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے تقویٰ کی بنیاد پر دوستی کرنے والے۔ (سورۂ زخرف آیت: 67)
نیکی اور برائی برابر نہیں ہے۔ تم برائی کا جواب بہتر سے بہتر طریقے سے دو تو جس شخص کے ساتھ تمہاری دشمنی ہے وہ تمہارا گہرا دوست بن جائے گا۔ (سورۂ حم السجدہ آیت: 34)
سورۂ مائدہ آیت نمبر 51:
اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں سے جو بھی ان سے گہری دوستی رکھے گا وہ انہی میں شمار ہو گا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے