कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کھانے میں بے اعتدالی صحت سے کھلواڑ

تحریر:محمد عادل ارریاوی

صحت اللہ ربّ العزت کی عظیم نعمت ہے مگر انسان اپنی بعض غلط عادتوں کے ذریعے خود ہی اس نعمت کی ناقدری کرتا ہے۔ انہی عادتوں میں سے ایک بسیار خوری بھی ہے جو انسان کو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کردیتی ہے۔
طبی اور میڈیکل کے بنیادی اصولوں سے یہ بات ثابت ہے کہ بسیار خوری یعنی ضرورت سے زیادہ کھانے کی عادت مختلف امراض و بیماریوں کا بہت بڑا سبب ہے۔
اور آج کل یہ سبب بہت عام ہے، بلکہ اب تو یہ بات سب کو معلوم ہے کہ کھانے پینے کا کاروبار اس زمانے میں بڑی کمائی کا ذریعہ خیال کیا جاتا ہے، چنانچہ راستوں اور بازاروں وغیرہ میں جگہ جگہ کھانے پینے کے ہوٹل دکان اور ریڑھیوں کا سلسلہ دوسرے شعبوں سے کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے اور جب سے کھانے پینے کی اشیاء اور چیزوں میں تنوع بڑھا ہے، اس وقت سے یہ سلسلہ زیادہ ترقی کر گیا ہے۔
اور تعجب اس بات پر ہے کہ بیماریوں کے اس اہم سبب کی طرف عام طور پر توجہ نہیں کی جاتی جب کہ اس سبب سے پیدا شدہ بیماریوں اور امراض کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ زندگی میں مختلف مسائل و مصائب اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ ساتھ ہی اس سبب کے نتیجے میں پیدا شدہ امراض کے علاج و معالجے پر بھی بہت سا پیسہ اور قیمتی دولت اور وقت کو خرچ کرنا پڑتا ہے۔
گویا کہ پہلے تو بسیار خوری کی خاطر مال و دولت کو خرچ کیا جاتا ہے، پھر اس کے نتیجے میں پیدا شده امراض و بیماریوں کی وجہ سے تکلیف اٹھائی جاتی ہے، اور پھر اس کے علاج و معالجہ پر مال و دولت کو خرچ کرنا پڑتا ہے، اور وقت کا ضیاع الگ لازم آتا ہے۔
اور اگر شروع سے ہی بسیار خوری کے بجائے کم خوری یعنی اعتدال کے ساتھ کھانے پینے کی طرف توجہ کی جائے تو اس قسم کے بے شمار مسائل و مصائب سے نجات حاصل ہو جائے۔ یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر انسان کو صرف وہی رزق حاصل ہوگا جو اس کے مقدر میں ہے اگر چہ وہ اعتدال کے ساتھ ہو، یا اعتدال کے بغیر ہو، پس حرص و ہوس میں ضرورت سے زیادہ کھانے کی کوشش مناسب نہیں۔
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب کسی دعوت یا تقریب میں کھانے کا موقع ملتا ہے تو وہ اپنی بھوک اور ضرورت کا خیال کیے بغیر خوب شکم سیر ہوکر کھاتے ہیں، بلکہ بعض اوقات اس قدر زیادہ کھا لیتے ہیں کہ بعد میں طبیعت خراب ہوجاتی ہے اور مختلف جسمانی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالاں کہ کھانے میں اعتدال کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورت کے مطابق کھائے نہ کہ صرف دعوت میں طرح طرح کے کھانے دیکھ کر مالِ مفت دلِ بےرحم سوچ کر اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے۔
خلاصہ یہ کہ کھانے پینے کے سلسلے میں بوقتِ ضرورت اور بقدر ضرورت کے اصول پر عمل کرنا چاہیے، جس میں دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی اور مختلف بیماریوں وامراض سے حفاظت پائی جاتی ہے۔
بہر حال ہمیں چاہیے کہ کھانے پینے میں اعتدال کو اپنا شعار بنائیں دعوتوں اور تقریبات میں بھی نفس کی خواہشات کے بجائے اپنی ضرورت کا خیال رکھیں کیوں کہ چند لمحوں کی لذت کے لیے اپنی صحت کو داؤ پر لگانا دانش مندی نہیں پاگل پن ہے ۔ صحت کی حفاظت بے اعتدالی سے بچنے میں ہے، اور دانائی اسی میں ہے کہ انسان کھائے بھی مگر ضرورت کے مطابق۔
اللہ ربّ العزت ہمیں عمل کی توفیق دے صحیح سمجھ دے آمین یارب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے