कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

زندگی سفر ہے ، منزل نہیں

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

زندگی ایک ایسا سفر ہے، جس کی منزل دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں طے ہے۔ لوگ صرف دنیا کی کامیابی کو منزل سمجھتے ہیں،نوکری یا کوئ عہدہ مل جاے تو منزل سمجھتے، ہیں، شادی بیاہ یا عالی شان گھر تعمیر کردیں تو آخری منزل مقصود سمجھتے ہیں۔ لیکن آدمی کو نوکری مل جاے تو بھی سفر جاری رہتا ہے، عالی شان گھر تعمیر ہوجاے تو سفر جاری ہے۔ اور شادی بیاہ ہوجاے تو بھی سفر جاری ہے۔ یعنی زندگی رکتی نہیں چلتے ہی رہتی ہے۔ دنیا کی منزل یا ٹہراو قرآن کے مطابق ایک دن یا پھر آدھے دن کے برابر ہے۔ انسان کا عالی شان مکان جو عارضی اور مختصر وقت کے لیے ہے ، تعمیر کے لیے مہینوں لگ جاتے ہیں۔ اور انسان کی آخری منزل جہاں اس کو ہمیشہ رہنا ہے، مختصر سے وقت میں تعمیر ہوجاتا ہے۔ اور پھر انسان کی آخری منزل قبر سے شروع ہوتی ہے۔ اور آخرت کے اس سفر میں کامیابی کامرانی اور فلاح کے لیے ، اور حقیقی منزل مقصود تک پہونچنے کے لیے حقوق اللہ، تعلق مع اللہ، حقوق العباد، پیغمبر اسلام کے طریقوں پر عمل، عاجزی، ہمدردی ، انسیت، اخلاقی اقدار ،اور سب سے اہم یہ کہ اللہ کی رضاء کا پروانہ ساتھ ہو ، جب آپ اس فانی دنیا کو الوداع کہیں۔ جو انسان کی کامیابی کا ضامن اور زاد آخرت ہے۔ یہ زندگی مختصر بھی نہیں ، لیکن اس کو کامیاب ترین بنانے کے لیے اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ زندگی کتنی ہے قرآن کے اس مفہوم سے پتہ چلتا ہے۔ جب اللہ کافروں اور نافرمانوں سے سوال کریگا کہ آپ دنیا میں کتنا وقت گزارے ہو۔ تو کہ اٹھینگے ایک دن یا پھر آدھا دن۔ اللہ نے اصحاب کہف کو بھی ایک غار میں طویل مدت تک سلایا ہے، اور جب وہ بیدار ہوے تو آپس میں یہی گفت و شنید کرنے لگے کہ ہم غار میں ایک دن یا اس سے کم سوے تھے جبکہ وہ طویل مدت تک سوتے رہے، یہاں تک کہ اس دوران کئ سلطنتیں اور حکومتیں تبدیل ہوئیں اور یہ غار میں سوتے رہے، جنہیں اصحاب کہف کہتے ہیں ایک حدیث میں ہے، جس کو عبد اللہ ابن مسعود نے روایت کیا ہے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر آرام فرما رہے تھے، جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو دیکھا کہ جسم پر چٹائی کے نشانات پڑ چکے تھے۔ صحابہ نے عرض کیا۔آپ کہتے تو ہم آپ کے لیے نرم بستر کا نظم کرتے ،پیغمبر اسلام نے فرمایا۔میرا دنیا سے کیا تعلق؟ دنیا میں اس طرح رہنا ہے جیسے ایک درخت کی چھاؤں کچھ دیر آرام کرلیں اور پھر چل دیں ۔ پھر مزید تاکید کے لیے ایک اور حدیث ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔دنیا میں اس طرح رہو جیسے کہ آپ ایک اجنبی ہو ۔اور مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ جس کا مفہوم یہ ہے ۔دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے ،اور کافر کے لیے جنت ۔ اب ہم اگر ان تین احادیث پر غور و فکر کریں تو ہمیں ہماری حقیقت دنیا کی حقیقت اور آخرت کی صداقت ہم پر آشکارا ہوتی ہے ۔ دنیا مومن کے لیے قید خانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ،آپ تکالیف اور مصائب میں مبتلا ہوں، اللہ اس دنیا میں مومن کو بھی رزق عطا کر رہا ہے، اور کافر کو بھی رزق عطا کررہاہے۔ رزق کے معاملہ میں دونوں یکساں نظر آتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ اس کو ہم اس مثال سے بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں۔ طوطے کو بھی پنجرہ میں روٹی دی جاتی ہے، اور چوہے کو بھی پنجرہ میں روٹی دی جاتی ہے۔ طوطے کو روٹی اس لیے دی جاتی ہے کہ اس کے لیے غزہ بنے ، اور چوہے کو اس لیے روٹی دی جاتی ہے کہ وہ پنجرہ میں مارا جاے ، یا پکڑا جاے۔ اسی ضمن میں ایک حدیث ہے کہ مومن ایک بل سے دوبارہ ڈسا نہیں جاتا۔ چناں چہ اس کا لب لباب یہ ہے کہ آپ دنیا میں اللہ کے قوانین اور اس کی پاسداری کریں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے آشنائی ہو ، پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ میرا دنیا سے کیا تعلق ایک شجر کے سائے کے مانند زندگی ہے ۔لیکن آج اگر ہم غور کریں تو ہم کتنی مادیت پسندی کی طرف مائل اور راغب جس سے ہم اللہ کی یاد سے غافل ہیں ۔بہلول دانا ایک نیک اور اللہ والے تھے، ایک شخص نے ان کی ٹوپی اتار کر بھاگا، بہلول دانا نے بغیر کسی شور کے سیدھا قبرستان گئے۔ اور وہاں جاکر بیٹھ گئے۔ لوگوں نے کہا کہ وہ شخص آپ کی ٹوپی لیکر بازار میں بھاگا ہے۔ اور آپ قبرستان میں بیٹھے ہیں۔ بہلول دانا نے بہت ہی حکمت بھرا اور معنی خیز جواب دیا کہ کتنی ہی دوڑ کیوں نہ لگاتا ہو، ایک دن اس کو اس آخری منزل قبرستان میں آنا ہی ہے۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کی زندگی کی حقیقت کیا ہے، جو وہ مال و اسباب ، جھوٹی شہرت، نام و نہاد، فرضی شان و شوکت کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ اور زندگی کا مختصر سفر طے کررہا ہے۔ دنیا ایک دل ربا اور گلیمر ہے۔ اور ہمیں وہ بار بار اکساتی ہے کہ اس گلیمر اور خوبصورتی کی طرف تیزی سے آنے کی دعوت سخن دیتی ہے ۔ لیکن وہ ایک صحرائ ریت کے مانند یے۔ جو دور سے ہمیں چمکتے ہوے پانی کی تصویر پیش کرتی ہے۔ اور جب وہاں جاے تو پانی نہیں بلکہ چمکتی ہوئ ریت نظر آتی ہے۔ جو ایک سراب اور دھوکہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔ دنیا کی زندگی صرف کھیل و تماشہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور ایک حدیث کے الفاظ ہیں،دنیا ایک مردار شئ ہے ، اور اسکی طرف دوڑنے والے اسکو ناجائز طریقوں سے طلب کرنے والے کلاب کے مانند ہے۔ یقینا مذکورہ قرآن کے مفہوم اورپیغمبر اسلام کی حدیث سے دنیا کی حقیقت کتنی ادنی ہے ہم پر آشکارہ ہوتی ہے۔ دنیا کی اس زندگی اور امتحان میں انسانی ضرورتوں اور حاجات کے لیے دنیا کو مومنوں کے لیے پیدا کیا ہے۔جو ایک متعینہ وقت کے لیے ہے۔ اور مومنوں کو آخرت کے لیے پیدا کیا ہے۔ جو ہماری آخری منزل ہے۔ بخاری شریف کی حدیث جس کا مفہوم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اصل زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے۔ لیکن آج کا انسان مادیت پسندی ،خود نمائ، اور سستی شہرت اور گلیمر کی طرف دوڑ رہا ہے۔ اور اسی کو کامیابی کا ضامن سمجھ رہا ہے۔ آخرت کی منزل کو نظر انداز کر رہا ہے۔ چناں چہ اللہ رب العزت نے انسان کو خبردار کیا ہے۔ ومن اعرض ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا نحشرہ یوم القیامۃ اعمی۔ فرمایا جو میری نصیحت اور ذکر سے اعراض کریگا، تو اسکی زندگی دنیا میں اجیرن ہوجاے گی، اور یہی نہیں بلکہ روز قیامت اسکو اندھا اٹھایا جاے گا۔ بس خداے برتر نے دنیا کی زندگی میں ایک ایسا امتحان رکھا جس کی کامیابی جنت ملنے کا سبب اور ناکامی میں جہنم ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے